ہمارا خیال ہے کہ
ابن سعید بھائی کی جس بات کو احباب نے مزاح سمجھا، بالکل درست تھی۔
الف عین صاحب کی رائے بھی اسی کے موافق ہے۔
وارث بھائی نے ناصرؔ کا جو شعر نقل کیا ہے وہ ایک استثنائی مثال ہے۔ بلکہ پورے طور پر استثنائی بھی نہیں۔ ہواؤں کی سرسراہٹ سنائی دینے سے خاموشی کا جو تاثر ابھرتا ہے غالباً اس کی ترجمانی شاعر کا مقصود تھی جو بہت حد ہو گئی۔
سناٹے، ویرانی یا خالی پن کے احساس کو اردو میں بھائیں بھائیں کرنا ہی کہا جاتا ہے۔ سائیں سائیں کی صوتیات اس لفظ کے معانی میں سرسراہٹ کا عنصر شامل ہونے کی کافی دلیل ہے۔