محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 11:24 صبح
استادِ محترم کی شفقت ،
چھوٹے بھائی کی رہنمائی اور آپ احباب کی دعاؤں کے ساتھ ایک اور تک بندی پیشِ خدمت ہے:
اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
خطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میں
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میں
یہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائی
بتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میں
زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے مجھ سے خلوص
کہ اپنی قوم کا بھولا ہوا سبق ہوں میں
جو ذرّے ذرّے کو روشن کرے، وہ تابشِؔ صبح
افق پہ شام کو پھیلی ہوئی شفق ہوں میں
٭٭٭
محمد عظیم الدین — مئی 2، 2017 11:26 صبح
زبردست تابش بھائی۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 2، 2017 11:27 صبح
بہت داد قبول ہو صاحب۔ کیا اچھی غزل ہے
ربیع م — مئی 2، 2017 11:29 صبح
بہت سی داد
اگرچہ۔ داد وتحسین کے آداب سے ناواقف ہوں!
بہرحال بہت ہی عمدہ
ماشاءاللہ
عاطف ملک — مئی 2، 2017 11:37 صبح
استادِ محترم کی شفقت ،
چھوٹے بھائی کی رہنمائی اور آپ احباب کی دعاؤں کے ساتھ ایک اور تک بندی پیشِ خدمت ہے:
اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
خطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میں
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میں
یہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائی
بتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میں
زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے مجھ سے خلوص
کہ اپنی قوم کا بھولا ہوا سبق ہوں میں
جو ذرّے ذرّے کو روشن کرے، وہ تابشِؔ صبح
افق پہ شام کو پھیلی ہوئی شفق ہوں میں
٭٭٭
سبھی شعر بہت خوبصورت ہیں ماشااللہ۔
زبردست۔
بہت سی دعائیں آپ کیلیے۔
اللہ کرے کہ آپ ایسے ہی بلکہ اس سے بھی اچھا لکھتے رہیں

محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 12:02 شام
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 12:03 شام
بہت داد قبول ہو صاحب۔ کیا اچھی غزل ہے
شکریہ خلیل بھائی. آپ کی داد سے بہت حوصلہ ملا ہے.

محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 12:04 شام
بہت سی داد
اگرچہ۔ داد وتحسین کے آداب سے ناواقف ہوں!
بہرحال بہت ہی عمدہ
ماشاءاللہ
چار طرح سے داد تو آپ نے دے ہی دی ہے.

جزاک اللہ
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 12:04 شام
سبھی شعر بہت خوبصورت ہیں ماشااللہ۔
زبردست۔
بہت سی دعائیں آپ کیلیے۔
اللہ کرے کہ آپ ایسے ہی بلکہ اس سے بھی اچھا لکھتے رہیں
آمین. جزاک اللہ عاطف بھائی.

محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 2، 2017 12:08 شام
عمدہ غزل ہے اور خوبصورت اشعار سماع باندھ رہے ہیں۔ماشاءاللہ
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 1:26 شام
عمدہ غزل ہے اور خوبصورت اشعار سماع باندھ رہے ہیں۔ماشاءاللہ
جزاک اللہ عدنان بھائی.
راحیل فاروق — مئی 2، 2017 3:00 شام
بہت اچھے، تابشؔ بھائی۔ آزادؔ کا الزام ہے کہ میرؔ سے کسی نے کہا تھا کہ نام کے ساتھ میر مت لگاؤ۔ رفتہ رفتہ سید ہو جاؤ گے۔ ہمیں بھی بڑے دنوں سے آپ کے تیور کچھ اور معلوم ہو رہے تھے۔ اب دیکھ رہے ہیں کہ آپ بھی رفتہ رفتہ شاعر ہو ہی گئے۔
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میں
واہ واہ واہ۔
اگرچہ۔ داد وتحسین کے آداب سے ناواقف ہوں!
یوٹیوب پر کوئی مشاعرہ دیکھ لیں، حضور۔ کورس تو اب ہوتا نہیں!
خوبصورت اشعار سماع باندھ رہے ہیں۔
ہائیں؟
ہمیں کیوں نہیں سنائی دیا؟
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 2، 2017 3:05 شام
ہائیں؟
ہمیں کیوں نہیں سنائی دیا؟
میں نے تو محسوس کیا ۔

اے خان — مئی 2، 2017 3:38 شام
واہ تابش بھائی.
اتنی اچھی غزل،
مجھے پہلے سے یقین تھا کہ آپ شاعر ہیں. لیکن آج یقین پختہ ہوگیا کہ آپ اعلی شاعر ہیں. آپ کی غزل پڑھ کر بہت خوشی ہوئی. اللہ زور قلم اور زیادہ کرے.☺☺☺☺
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 5:10 شام
بہت اچھے، تابشؔ بھائی۔ آزادؔ کا الزام ہے کہ میرؔ سے کسی نے کہا تھا کہ نام کے ساتھ میر مت لگاؤ۔ رفتہ رفتہ سید ہو جاؤ گے۔ ہمیں بھی بڑے دنوں سے آپ کے تیور کچھ اور معلوم ہو رہے تھے۔ اب دیکھ رہے ہیں کہ آپ بھی رفتہ رفتہ شاعر ہو ہی گئے۔
پنکھا پہلے ہی کافی تیز چل رہا ہے. مزید تیز نہ کریں. کہیں اڑ نہ جاؤں.



ربیع م — مئی 2، 2017 5:12 شام
پنکھا پہلے ہی کافی تیز چل رہا ہے. مزید تیز نہ کریں. کہیں اڑ نہ جاؤں.
کس نسخہ پر عمل کر کے وزن اتنا کم کیا بھیا؟!
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 5:13 شام
واہ تابش بھائی.
اتنی اچھی غزل،
مجھے پہلے سے یقین تھا کہ آپ شاعر ہیں. لیکن آج یقین پختہ ہوگیا کہ آپ اعلی شاعر ہیں. آپ کی غزل پڑھ کر بہت خوشی ہوئی. اللہ زور قلم اور زیادہ کرے.☺☺☺☺
آمین. میرے سے پہلے ہی یقین تھا؟
یہ اعلیٰ والے میں میٹھا تھوڑا زیادہ ہو گیا ہے.
اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے. آمین.
بہت شکریہ
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 5:14 شام
کس نسخہ پر عمل کر کے وزن اتنا کم کیا بھیا؟!
بھائی یہ پھونکیں میرے وزن اور حیثیت سے بڑھ کر ہیں.
با ادب — مئی 2، 2017 5:22 شام
یہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائی
بتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میں
کیا کیفیت بیان کی ہے. راہ حق پہ چلنے والوں کو کانٹوں پہ گزرنا پڑتا ہے.
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا.
آپکی غزل نے اتنے دنوں سے دل پہ چھایا غبار دھو ڈالا ہے. لگتا تھا حق کی بات کرنے والے رہے ہی نہیں. جزاک اللہ
با ادب — مئی 2، 2017 5:28 شام
اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
خطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میں
یہ اشعار نہ جانے کتنی بار دہرائے میں نے.
بہت اعلیٰ تابش صاحب. اللہ ان خوبصورت خیالات میں مزید برکت دے. اب جب کہ میرا اردو محفل سے جی اچاٹ ہونے لگا تھا آپکی غزل نے وہ کلفت مٹا دی.