ظہیر بھائی۔ اب دیکھیے۔ یہ کیسا ہے؟
اسیرِ عشق ہے اور مبتلائے ہجر ہے طاؤس
لیے پھرتا ہے اپنی پشت پر داغوں کا گل دستہ
بہت خوب فرخ بھائی!! کیا بات ہے !! اب درست ہوگیا ۔
خوب جناب
کیا مطلب

ماشاءاللہ بھائی عمدہ لاجواب
نہیں بالکل نہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی
بہت خوب۔۔۔