فرخ منظور کی تک بندیاں

فرخ منظور — اپریل 13، 2017 11:53 صبح
اُسی کے ہجر کا شاید یہ طاؤس بھی ستایا ہے
لیے پھرتا ہے اپنی پشت پر داغوں کا گل دستہ
واہ! بہت خوب فرخ بھائی!! کیا اچھا خیال ہے! بالکل نئی بات کی ہے!
پہلے مصرع میں وزن کا چھوٹا سا نقص آرہا ہے ۔ اسے ایک نظر دیکھ لیجئے تو شعر چمک جائے گا ۔

ظہیر بھائی۔ اب دیکھیے۔ یہ کیسا ہے؟
اسیرِ عشق ہے اور مبتلائے ہجر ہے طاؤس
لیے پھرتا ہے اپنی پشت پر داغوں کا گل دستہ
ظہیراحمدظہیر — مئی 4، 2017 3:56 صبح
ظہیر بھائی۔ اب دیکھیے۔ یہ کیسا ہے؟
اسیرِ عشق ہے اور مبتلائے ہجر ہے طاؤس
لیے پھرتا ہے اپنی پشت پر داغوں کا گل دستہ
بہت خوب فرخ بھائی!! کیا بات ہے !! اب درست ہوگیا ۔
فرخ منظور — مئی 4، 2017 6:43 صبح
بہت خوب فرخ بھائی!! کیا بات ہے !! اب درست ہوگیا ۔

بہت شکریہ۔ خوش رہیے۔
فرخ منظور — جون 22، 2017 4:21 شام
وہ مسکرائیں تو کتنے غلام کر ڈالیں
جو کھولیں زلفیں تو دنیا میں شام کر ڈالیں
(فرخ منظور)
فرخ منظور — جون 25، 2017 10:27 شام
ہلالِ عید کو دیکھا تو یوں گمان ہوا
ملی ہے ہم کو جو کھوئی تھی مے کدے کی کلید
(فرخ منظور) فارسی شعر سے متاثر ہو کر کہا گیا
فرخ منظور — جولائی 19، 2017 7:14 صبح
نشہ وصال کا ہم کو نہ اس قدر ہو جائے
فراق ہو کہ طبیعت تو کچھ سنبھل جائے
(فرخ منظور)
فرحان محمد خان — جولائی 19، 2017 7:53 صبح
نشہ وصال کا ہم کو نہ اس قدر ہو جائے
فراق ہو کہ طبیعت تو کچھ سنبھل جائے
(فرخ منظور)
خوب جناب
فرخ منظور — جولائی 19، 2017 8:04 صبح

بہت شکریہ جناب!
فرخ منظور — جولائی 20، 2017 11:08 صبح
ہم تماشائیِ دیر و حرم و دار بھی ہیں
ہم سخن فہم بھی غالبؔ کے طرف دار بھی ہیں
(فرخ منظور)
مژگان نم — جولائی 20، 2017 11:23 صبح
خواہشیں کیوں لہو میں پلتی ہیں
جسم کی موت سے جو ٹلتی ہیں
کیا مطلب :question:
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 20، 2017 11:23 صبح
ہم تماشائیِ دیر و حرم و دار بھی ہیں
ہم سخن فہم بھی غالبؔ کے طرف دار بھی ہیں
(فرخ منظور)
ماشاءاللہ بھائی عمدہ لاجواب
فرخ منظور — جولائی 20، 2017 11:45 صبح

میرا خیال ہے کہ میں نے کوئی مشکل لفظ استعمال نہیں کیا۔ :)
فرخ منظور — جولائی 20، 2017 11:45 صبح
ماشاءاللہ بھائی عمدہ لاجواب

بہت عنایت عدنان اکبری صاحب! خوش رہیے۔
مژگان نم — جولائی 20، 2017 11:47 صبح
میرا خیال ہے کہ میں نے کوئی مشکل لفظ استعمال نہیں کیا
نہیں بالکل نہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی
فرخ منظور — جولائی 20، 2017 3:13 شام
نہیں بالکل نہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی

یعنی خواہشیں آخر کیوں انسان پالتا ہے؟ اور انسان کی خواہشات صرف موت ہی ختم کرتی ہے ورنہ انسان کی خواہشات جاری رہتی ہیں۔
فرخ منظور — جولائی 20، 2017 3:15 شام
ہم تماشائیِ دیر و حرم و دار بھی ہیں
ہم تو منصور بھی مجنون بھی فرہاد بھی ہیں
(فرخ منظور)
مژگان نم — جولائی 20، 2017 3:38 شام
یعنی خواہشیں آخر کیوں انسان پالتا ہے؟ اور انسان کی خواہشات صرف موت ہی ختم کرتی ہے ورنہ انسان کی خواہشات جاری رہتی ہیں۔
سہی
فرخ منظور — اگست 31، 2017 5:18 شام
زیست احساس نہیں، شوق نہیں، درد نہیں
صرف انفاس کی ترتیب کا افسانہ ہے
(ساحرؔ کےشعر میں تصرف کیا گیا)
عائشہ صدیقہ — اگست 31، 2017 5:21 شام
زیست احساس نہیں، شوق نہیں، درد نہیں
صرف انفاس کی ترتیب کا افسانہ ہے
(ساحرؔ کےشعر میں تصرف کیا گیا)
بہت خوب۔۔۔
فرخ منظور — اگست 31، 2017 5:56 شام

بہت عنایت۔ آداب عرض ہے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B1%D8%AE-%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.91213/page-4