آپ کی مندرجہ بالا باتوں سے بڑا حوصلہ ملتا ہے ۔۔۔میں آسی صاحب کا مضمون پڑھوں یا نہ پڑھوں خلیل بھائی کی ہدایات پر عمل کروں یا نہ کروں عروض اور بحروں کی بحروں میں غوطہ زن ہو ں یا نہ ہوں ۔۔مگر مجھ میں ایک شاعر پوری آب و تاب سے موجود ہے ۔۔۔
ابھی کل ہی تو بات ہے کہ اکمل زیدی بھائی نے اس لڑی میں اپنا " منظوما" پیش کیا تھا لیکن چند ہی گھنٹوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا اور یارانِ خوش مزاج نے مراسلوں کے ڈھیر لگادییے۔ اس ڈھیر میں اساتذہ کی چند قیمتی آراء بھی دب کر رہ گئیں۔ اس صورتِ حال میں جب کی اساتذہ اپنی رائے دے چکے، ہم اپنی صلاح کو " دخل در معقولات" گردانتے ہیں، البتہ اساتذہ کی آراء سے پہلے موقع غنیمت جان کر اپنی صلاح دے بیٹھتے ہیں۔
یہاں ہرچند کہ اساتذہ کی آراء آچکیں اور ہمارے لب سل گئے، اتمامِ حجت کے لیے عرض ہے کہ ہمت نہ ہاریں اور کوشش جاری رکھیں۔ البتہ فاعلاتن فاعلات کے چکر میں ابھی نہ پڑیں۔ پہلے بحر اور وزن کو سمجھ لیجیے۔ آپ نے جس بحر کا نام لکھا یعنی
"متقارب مثمن اثرم مقبوض"
اسے پڑھ کر ہمیں تو مارے دہشت کے قبض ہوچلا تھا۔
ہاں اگر اس مرتبہ بھی بحر سمجھ نہ آئے تو اس کوشش کا کسی اور صنف سخن میں اظہار کردیجیے۔ اتنے خوبصورت خیال کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
مثلاً ہماری صلاح ملاحظہ فرمائیے۔ نثری نظم:
اس جہان میں
جہاں لذتیں کئی درجے طے کرتی ہیں
بس ایک حقیقت کا پتہ لفظوں سے ہی چلتا ہے
اور کچھ نہیں تو کیفیت کا ترجمہ ہی ہو جاتا ہے
وہ جسم جو مٹی تھا مٹی میں مل گیا
لیکن لفظوں کو بقائے دوام حاصل ہوا
قوتِ گویائی تو اُسی کی دین ہے
اور اُسی کے دربار سے یہ الفاظ عطا ہوتے ہیں
جو مردہ ذہن کو جلا بخشتے ہیں۔