ایویں ایک سوال ذہن میں تو سوچا کہ پوچھ لیں عامر بھیا سے۔
کیا بھابی سے گفتگو کے دوران کبھی ایسا ہوا کہ آپ بھابی کی زبان میں انھیں اپنی بات نہ سمجھا پا رہے ہوں ۔ اشاروں میں بھی اپنا مفہوم بیان نہ کر پائیں تو ایسے میں بھابی جی تنک کر بولیں
کتنی بے وقوف تھی میں جو تم سے شادی کر لی۔
ایسے میں آپ کا رد عمل جاننے کے خواہشمند ہیں۔
الحمداللہ شروع ہی سے زبان پر تو تھوڑا بہت عبور حاصل رہا ہے البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ بالخصوص بیگمات کے لیے ہے یہ جملہ( مائیں بہنیں ماورا ہیں) کہ ان کو سمجھانا اور بھینس کے آگے بین بجانا ایک سا ہے۔ محترمہ قابل صد احترام پروین شاکر صاحبہ نے مستورات کے لیے ایک شعر کہا تھا جسے میں بیگمات کی نذر کرتا ہوں کہ
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
مجھ سے پوچھتی تو میں کہتا محترمہ عمر بھر کی چاہت سے بھی نہیں کھلتیں
بیگم کا تو معلوم نہیں کہ کیا کہتی ہیں البتہ بے وقوف مت کہیے گا وگرنہ آپ کا تو کچھ نہیں بگڑنا میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
میرے دل سے یہ صدا ضرور آتی ہے کہ اپنے ہی پائوں پہ کلہاڑی مار بیٹھے میاں
اے کیڑی بلا دے پلے پڑ گے آں