ادارہ مدیرانِ انٹرویو سے درخواست کرتے ہیں کہ فوراً سے بیشتر عرفان سعید بھائی انٹرویو لیا جائے-
بندے دی مجبوری سمجھنی چائدی اے-
بندے دی مجبوری سمجھنی چائدی اے-
اس وقت تو ٹیم کو ہنگامی بنیادوں پر اٹھانا پڑے گا۔
جی بہتر یہی ہے کہ ایک انٹرویو کے مکمل اختتام پر ہی اگلا انٹرویو لیا جائے۔
مذاق ایک طرف رکھتے ہوئے، کل ساری رات خواب میں اردو محفل کے انٹرویو کے جوابات چلتے رہے۔ صبح اٹھا تو انٹرویو کی اجازت کی خوشگوار حیرت ہوئی۔ پوری زندگی کبھی انٹرویو نہیں دیا۔ گھر میں تفتیش روز ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں میری فطری طفلانہ عجلت پر درگزر فرمائیں۔
مذاق کو اگر ایک طرف نہ رکھا جائے تو کیا جواب ہو گا۔
شش و پنج میں ڈال دیا تابش بھائی۔
اے "ادارہ" کیتھے وے۔ میں نوکری کرنی اے۔ چھیتی دسو
ممکنہ فیصلوں میں انٹرویو کا فیصلہ بھی تھا
جس مراسلے کا آپ نے اقتباس لیا ہے یہ پڑھنے کے بعد ہم نے بھی سونے کا ارادہ ترک کر کے ان کے لیے ابھی لڑی بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ہم ورڈ پر ابھی لکھ رہے تھے کہ یہ اطلا ع نامہ موصول ہوا
ہم بھی واقعی ابھی لڑی بنانے لگے تھے آپ کے اس مراسلے کے بعد۔
مذاق مذاق میں کی جانے والی فقرے بازی میں یکایک خلافِ توقع آپ حضرات نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ادارے کے انتہائی ضروری استفسار کا جواب قلم بند کرنے کے بعد صرف اتنی رعایت دیں کہ ابھی نصف شب سے زیادہ کا وقت ہے فن لینڈ میں۔ صرف دو گھنٹے بعد سحری کے لیے اٹھنا ہے۔ کل جیسے ہی فراغت میسر آئی ان سوالات کے جوابات ارسال کر دوں گا۔ شب بخیر۔
اوہ!!! کیوں بیمار رہتے ہیں بھائی؟ خیریت تو ہے؟