ہاہاہاہاہا۔
آہ بھیا بس کیا بتائیں ۔
ہاہاہاہاہا۔
اب ق سے قینچی تو نہیں چل رہی؟
بس کبھی کبھی چ سے چپل چل جاتی ہے ۔
استغفراللہ
اور ق سے قبول قبول قبول ہو گیا؟
قبول کرکے پ سے پھس گیا۔
آہ جو دل سے نکلے۔۔۔۔وغیرہ
پھنس میں ن بھی پھنسا ہوا کرتا تھا
آہ فغان سے اب کیا حاصل ہے ۔
وہ ہنس کے نون کی طرح بس "ہس" کے رہ گیا۔
جی جی۔ اب تو ۔۔ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
عدنان بھائی شاید اب پی ٹی آئی میں ہیں، تو ن ہر جگہ سے نکال کر رہیں گے۔
اور آپ ہر سے ر کو کیوں نکال رہے ہیں
روزہ ہے۔
پھر تو وزہ ہوگا
رے سے رفیقِ حیات نے تنگ کیا ہوگا، بدلہ "ہر" سے لے لیا۔
زمین وآسمان کا فرق ہے۔
سید عمران بھائی! تشریح درکار ہے۔
ترجی دیں گے تو لاعمل ہی رہیں گے۔
آج شارح بقلم خود حیران و پریشان ہے کہ موصوف مراسلہ نگار روزے کی شدت کے باعث عالم غشی میں کیا کہنے کی کوشش کرنا چاہ رہے ہیں...