جی یہی کہتے ہیں لیکن آپ نے میٹا فزکس کی بجائے صرف "فزکس" لکھ دیا، زمین و آسمان زیر و زبر ہو جاتے ہیں
جی یہی کہتے ہیں لیکن آپ نے میٹا فزکس کی بجائے صرف "فزکس" لکھ دیا، زمین و آسمان زیر و زبر ہو جاتے ہیں
جی میں کونسا ابھی "فوت" ہو گیا ہوں، شوق بھی سلامت ہے سو چوتھی کوشش پھر کر لیں گے
صورتِ دیگر میں چانس بڑھ کر سترہ اٹھارہ گنا ہو جاتا ہے

ہمتِ مرداں مددِ خدا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
اب تو میں کرکٹ ٹیسٹ میچ کی بات بھی کروں تو لوگوں کو لگتا ہے کہ آئی سی سی نے چار اننگزوں والا ٹیسٹ میچ بھی شروع کر دیا
اب یا تو چار کو skip کرنا شروع کر دیں یا پھر 'ویکھی جائے گی' کا نعرہ لگا کر چار کے حصول کے لیے جُت جائیں۔
دیکھ تو رہا ہوں چوہدری صاحب زیست کے زیر و بم اور میرا نعرہ سنتے سنتے آپ کی سماعت پر بھی خراشیں ،ہو سکتا ہے آ گئی ہوں، اور جُتا بھی ہوا ہوںوقت کے کولہو میں، باقی چار کو سکپ کرنا تو بس "چار "زندہ ۔۔۔۔۔۔۔ والا معاملہ ہے
اردو محفل میں خوش آمدید!
ابھی تک ان دونوں کے مابین فرق سے لا علم ہوں۔۔۔اس لیے شاید ایسا لکھ دیا ہے ۔ فزکس تو جانتی ہوں پر یہ میٹا فزکس کیا ہے؟
فزکس طبیعات ہے اور معروف سائنسی علم ہے۔
یہ خوش آئند ہو یا نہ ہو۔۔ لیکن نام یا نیم پلیٹ کچھ تاثر پیدا کرتی ہے۔
جی آپ نے درست فرمایا کہ میٹا فزکس فلسفے کی ایک شاخ ہے لیکن اس کو فزکس نہیں کہتے، بلکہ جیسا کہ اوپر لکھا کہ جب ارسطو کی تمام تحاریر کو مرتب کیا جا رہا تھا تو ایڈیٹر کو کچھ ایسے متفرق مضمون ملے جس کو اُس نے فزکس کی تحاریر کے بعد ایڈیشن میں رکھا اور خود سے اس حصے کو میٹا فزکس کا نام دے دیا یعنی وہ حصہ یا تحاریر جو فزکس کی تحاریر کے بعد ہیں یعنی میٹا فزکس، میٹا بمطلب بعد۔ ظاہر اس سے فزکس اور میٹا فزکس میں کوئی مماثلت نہیں ہے بس کتاب میں اس کی جگہ کے حساب سے نام رکھ دیا۔ مثال کے طور پر حصہ نمبر 6 فزکس، حصہ نمبر 7 میٹا فزکس یعنی فزکس کے بعد والی تحاریر۔ فلسفے کی کئی ایک شاخیں ہیں جن کے اپنے اپنے علیحدہ نام ہیں اسی طرح ایک شاخ کا نام میٹا فزکس ہے اور میٹا فزکس کو فلسفے میں پڑھا پڑھایا جاتا ہے نہ کہ فزکس مضمون میں۔، ارسطو خود ایسی تحایر کو "فرسٹ فلاسفی" کہتا تھا (بقول وکی پیڈیا) ارسطو کے بعد ایڈیٹر نے میٹا فزکس کا نام دے دیا لیکن نام سے نفسِ مضمون پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
لیکن آپ کا تعارف پڑھ کے یقین ہو چلا آپ میری دوست نہیں
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/la-alma.89654/page-4