کالج میں طرح مصرع ملا تھا۔ "اب ڈھونڈ شہر بھر میں کوئی جاگتا ہؤا"
اِس غزل پہ مجھے پہلا انعام ملا تھا۔ نظروں میں لئے پیاس کسے آنکھتا ہؤا سڑکوں پہ بہت رات گئے جاگتا ہؤا اُس لب کی خامشی بھی تھی کچھ بولتی ہوئی اُس آنکھ کا کاجل بھی تھا کچھ سوچتا ہؤا چادر چڑھا رہے تھے مزاروں پہ لوگ کچھ
فٹ پاتھ پہ پڑا تھا کوئی کانپتا ہؤا یارب تری اذان کے صدقے تو ہُوں مگر
"اب ڈھونڈ شہر بھر میں کوئی جاگتا ہؤا" لا تیسرا جہاں مری تسکین کے لئے
دونوں جہاں سے جا رہا ہوں بھاگتا ہؤا اب ذہن بھی تو ہم نے کہیں رہن رکھ دیے
اب تم کو نہ ملے گا کوئی سوچتا ہؤا میں جان جان کے بھی مناتا نہیں اُسے
اچھا لگا ہمیشہ مجھے روٹھتا ہؤا جو میں خفا ہؤا تو مناتا گیا مجھے
پاؤں میں باندھ پائل کوئی ناچتا ہؤا وقتِ جفا بھی آنکھ میں آنسو تھا یار کے
میں پیار میں بھی جیت گیا ہارتا ہؤا اُس بے خودی کے پیچھے کوئی راز تھا ضرور
کل بات بات پہ تھا وہ کچھ چونکتا ہؤا زلفیں سیاہ فام تھیں اور اُس پہ مستزاد
کجلا تمہاری آنکھ میں وہ پھیلتا ہؤا
بہت توانائی ہے آپ کے لہجے میں۔ کلاسیکی ادب کا مطالعہ رہا ہو گا۔
دوسری جانب نئے ادب کے اثرات معدوم ہیں۔ لگتا ہے پروین شاکر سے بالکل متاثر نہیں ہوئیں آپ۔
عبدالقیوم چوہدری — فروری 21، 2016 6:49 شام
یارب تری اذان کے صدقے تو ہُوں مگر
"اب ڈھونڈ شہر بھر میں کوئی جاگتا ہؤا"
۔۔۔
وا وا۔
کب کی بات ہے ویسے ؟
بہت توانائی ہے آپ کے لہجے میں۔ کلاسیکی ادب کا مطالعہ رہا ہو گا۔
دوسری جانب نئے ادب کے اثرات معدوم ہیں۔ لگتا ہے پروین شاکر سے بالکل متاثر نہیں ہوئیں آپ۔
کالج میں طرح مصرع ملا تھا۔ "اب ڈھونڈ شہر بھر میں کوئی جاگتا ہؤا" چادر چڑھا رہے تھے مزاروں پہ لوگ کچھ
فٹ پاتھ پہ پڑا تھا کوئی کانپتا ہؤا لا تیسرا جہاں مری تسکین کے لئے
دونوں جہاں سے جا رہا ہوں بھاگتا ہؤا وقتِ جفا بھی آنکھ میں آنسو تھا یار کے
میں پیار میں بھی جیت گیا ہارتا ہؤا ا
انعام ملنے پر بہت بہت مبارکباد ۔۔۔
اور عمدہ خیالات پر ڈھیروں داد۔۔۔۔۔
اور میرے دل کی باتیں لکھنے پر ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔ یوں تو ساری غزل ہی عمدہ اور اچھوتے خیالات کا مرقع ہے۔۔۔مگر مندرجہ بالا تین اشعار خاص طور پر اعلٰی ترین محسوس ہوئے۔۔۔۔!!!
صائمہ۔ مجھے اب اتنا یاد ہے کہ مطلع نہیں بن پا رہا تھا۔تلاش کرنے کے لئے کسی ایسی ترکیب کی تلاش تھی،سو خود ایجاد کر لی۔ شاید ہو بھی تو پتہ نہیں۔
تب ہی تو کہا کہ تُک۔۔۔بندی ہوں۔