اِصلاحِ سخن
ابھی تک 6426 موضوع محفوظ ہوئے ہیں
" حسن کیا ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
" درسِ محبت " ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
" فوزیہ عظیم " ۔۔۔۔ نظم برائے اصلاح
"احسان کی رسی"
"اشک بن کر" اساتذہ کی توجہ کا طالب
"ایک دعا" -- نظم اصلاح کے لیئے
"ایک ملاقات کا قصہ" ۔۔۔۔۔۔ آزاد نظم برائے اصلاح
"بھلا بھی دو راقم وہ قصے پرانے" کی تقطیع۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
"تشنہ یاد" -- ایک نظم اصلاح کے لیے
"تماشائے محبت"
"جانِ من" ہیں ہم جو اُن کے ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
"خاک پر جو نگیں دیکھا ہے" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"خلائی اڑان" ---- ایک نظم اصلاح کے لئیے۔
"ریگزاروں کی ریت چھانتا ہوں" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"غزل" برائے اصلاح
"غم دل کے سفینے میں چھپا رکھا ہے" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"مجھے عشق نہیں، مجھے پیار نہیں "برائے اصلاح
"مرے خدا !مجھے اک اور زندگی دے دے" کی طرح پر میری اک آزاد نظم
"نوید بہار" نظم اصلاح کے لئے -
"نہ" کو دو حرفی یعنی "نا" باندھنا
"وداع کا ایک پل" حقیقت سے سر گرفتہ ایک بالکل تازہ نظم
"چمن کو سینچ کر مالی نے رنگوں کی دکاں رکھ دی" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"کج کلاہی کچھ نہیں ہے ہم نشیں کے سامنے" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"کڑی ہے دھوپ، سایہ بھی نہیں ہے" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)
"کیا عجیب موسم ہے" برائے تنقید پیش ہے
''آئنو جب کوئی تصویر دکھانا اب کے'' تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے
''ستارے '' ایک نظم لکھی ہے، اصلاح کی درخواست کرتا ہوں
''چل تجھے خواب کی بستی سے چرا لاتا ہوں'' ایک غزل آپ کی توجہ اور اصلاح کے لئیے
''ہو اس بات میں یا پھر اس بات میں ۔
( حسرتوں کے چراغ ) برائے اصلاح
( اردو محفل ) میری پہلی غزل
( برائے اصلاح )یہ بد نصیب شرافت میں مرنے والاہے
(ایک زمین میں دو غزلیں) ---------- مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفا
(رہیں گے نقش آئندہ زمانے تک )
(چلے گا جہاں میں نِظام تیرا ) برائے اصلاح
***برائے اصلاح***
1 خیال 1 شعر
10- غزل برائے اصلاح
12-غزل برائے اصلاح
13- غزل برائے اصلاح
14-سلام (بحضورِ حسین عالی مقام ) برائے اصلاح
15-غزل برائے اصلاح
: ایک نظم، '' عورت ہونا'' اصلاح کے لئے پیش ہے
Assignment 1
Assignment 2
Assignment 3
Assignment 4
B
Ghazal
Nihilism
braye rehnmai
just a little something to say to someone special :) - please make corrections where required.. than
something light for corrections and suggestions - thank you!
{ برائے اصلاح : تمہارے نام کے ہر حرف سے محبت ہے }
{ برائے اصلاح }
{ برائے اصلاح }
ª!ª ہماری بھی اصلاح ہوجائے ª!ª
آ جاتا ہے دل محبت سے باز کبھی کبھی... برائے اصلاح
آ کے مرے تُو سامنے مجھ سے نگاہیں چار کر---برائے اصلاح
آ ، پھر سے کریں اپنے وطن کے لیے کوشش (اصلاح مطلوب ہے)
آ آ کے چھیڑے ہیں ہمیں اکثر وہ خواب میں -- اصلاح کے لئے
آ کے بیٹھو پاس میرے روٹھ کر کیوں جا رہے ہو---برائے اصلاح
آؤ آواز کی رفتار سے ہم چل کہ کہیں
آؤ اک بات کرتے ہیں
آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں
آئینہ خوب جو دنیا کو دِکھایا جاتا--------------برائے اصلاح
آباد مومنوں سے سارا جہاں ہے پھر بھی ------برائے اصلاح
آتشِ سوز ِجگر میں اب وہ شدت ہی نہیں
آتی ہے یاد مجھ کو ہر اک جو بات گزری----برائے اصلاح
آتے ہی رہتے ہیں اکثر اُن کے ساتھ پرانے دوست۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
آج آنکھوں سے مری اس نے ملائی آنکھیں-----برائے اصلاح
آج اس نے ہے محبّت سے پکارا مجھ کو------برائے اصلاح
آج بچپن کی طرح وہ جو ہمارا ہوتا
آج بھی کرتے ہیں تجھ سے پیار ہم
آج محفل میں تمہاری ہم بنے ہیں اجنبی----برائے اصلاح
آج ہم سے وہ ملے ہیں جیسے ٹھہرے اجنبی
آج یادیں تمہاری جو آنے لگیں
آج بھولی ہوئی یاد پھر یاد آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تاروں کی حسیں سیج تلے مجھ کو بلا - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
آج تک میری چاہت نہیں ہوسکا برائے اصلاح
آج جب گزرا ایک چوراہے سے (ایک آزاد نظم برائے اصلاح)
آج سے میں بھی سیاسی ہوگیا
آج قاصد پیام لایا ہے
آج ملنے نہیں آیا میری شرافت ہے خطا معاف تجھے دیکھنا عبادت ہے براہے اصلاح
آج موسم اداس لگتا ہے
آج نہیں کل ہو جانا ہے غزل نمبر 180 شاعر امین شارؔق
آج پھر دل اداس ہے یا رو--- غزل برائے اصلاح
آج کا اقبال دے ، فردا کی بھی خیرات دے (حمد)
آج کا دن نہ سہی، کل تو بدل سکتے ہیں ۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیئے
آج ہے یومِ شاعری اے دوست
آخری خواہش بھی سینے سے نکال آتا ہوں میں؟
آداب
آداب
آداب
آداب یہ ایک تازہ ترین تک بندی ھے آپ دیکھ لیجئیے۔۔۔۔۔۔
آدم کے ساتھ حوّا بھی اُتری تھی کل یہاں
آدمی ہی آدمی کے درد کا درمان ہے---برائے اصلاح
آدمی کو بس ذرا ہشیار ہونا چاہیے
آرزو
آرزو دھوکہ نہ دے اے جستجو دھوکہ نہ دے
آرزوئے وصال مت کیجے
آرمی پبلک اسکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی کے شہدا کے نام.
آزاد غزل
آزاد نظم
آزاد نظم ( چلے آؤ)
آزاد نظم (تمنا ) - 17 جون-2023
آزاد نظم (دِیا)
آزاد نظم (ریگِ رواں)
آزاد نظم (سنو اک بات کہنی ہے)
آزاد نظم (میں کون ہوں)
آزاد نظم برائے اصلاح
آزادنظم
آزادی۔ ایک نظم شتر مرغ کے نام
آسان قومی ترانہ (بچوں کے لیے)
آستادِ گرامی، ایک نئی کاوش، آپ کی راہنمائی کی منتظر ہے
آسماں بھی اب زمیں پر آ گیا
آشعار براے اصلاح
آقا حسین کے ہیں، مدینہ حسین کا۔غزل۔منقبت 190 شاعر امین شارؔق
آم کھانے کے تین طریقے
آمد برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ سوچتی ہے کون مرے گھر آیا
آن لائن عروض سیکھئے
آن پڑی اے دل مشکل ہے غزل نمبر 53 شاعر امین شارؔق
آنسوکوئی آنکھ سے چھلکا ہے کیا، تم کہو ۔۔۔۔ اصلاح طلب
آنکھ ضبطِ خمار جانے جاں ایک تازہ بہار جانے جاں
آنکھ پر پہرے بیٹھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی ....برائے اصلاح
آنکھوں سے بات دل کی چھپائی نہ جا سکی----برائے اصلاح
آنکھوں میں آنسوں بھرا دریا لیے ہوئے (اصلاح اصلاح اصلاح)
آنکھوں میں انتظار کی شمعیں جلا کے رکھ
آنکھوں ہی آنکھوں میں بات ہوجاتی ہے کبھی سرشام ہی ملاقات ہوجاتی ہے
آنکھیں لہو لہو ہیں ، ہے ہر خواب تار تار ۔۔ ۔۔ برائے اصلاح
آنکھیں کھول اے مسلمان بیدار ہو
آپ اتنی تو کبھی مجھ پہ عنایت کرتے----برائے اصلاح
آپ کی توجہ کا طالب ایک شعر
آپ بے کل دکھائی دیتے ہیں غزل نمبر 65 شاعر امین شارؔق
آپ کا پیار ہے جو کچھ بھی ہے (بحر خفیف)
آپ کو اس سے ہے کیا؟
آپ کی آنکھیں ۔ برائے اصلاح
آپ کی تنقیدی نظر کا منتظر۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ اور ایک شعر اصلاح کے لئے
آپکی مدد کا منتظر۔۔۔
آگ میں جلتے مکانوں کا دھواں دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
آہ ...! راحتؔ اندوری (قطعات)
آیا خیال تیرا دل میں بہار بن کر---------برائے اصلاح
آیا ہوں در پہ تیرے یا رب ہوں اک سوالی----برائے اصلاح
آیا ہوں تیرے در پر ، بن کر گدا میں تیرا--- برائے اصلاح
آیا ہے یار میرا ، دل کو مرے لبھانے---برائے اصلاح
آیک غزل برائے اصلاح و تبصرہ،'' آخرش درد بلا خیز نے پھر آن لیا''
ا صلا ح کی غرض سے اک غزل پیشِ خدمت ہے
ا صلاح سخن: ’اے ہلالِ شبِ گریۂ نیم جاں‘
اب تک ہیں یاد ہم کو ان کی سبھی وفائیں
اب کسی کی یاد میں آنسو بہانا سیکھ لو---برائے اصلاح
اب آؤ غمِ حیات مانگیں
اب آنکھ کو نہ لذّت غم کی سزا ملے۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے
اب اتنی زیست بھاری ہے
اب اِدھر کو جو آ نکلتا ہے۔ برائے اصلاح
اب بھی غرور یار مکمل نہیں گیا غزل نمبر 93 شاعر امین شارؔق
اب تجھے چھوڑ کر کدھر جاؤں
اب تو جیتے ہیں مر بھی سکتے تھے
اب تو دل میں کوئی آرزو ہی نہیں
اب تو فرقت میں اطمینان سا ہے
اب تو لکھنا محال لگتا ہے (برائے اصلاح)
اب تو نئے سفر کی شروعات ہو گئی
اب جی میں ہے کچھ ایسا ، خود ہی سے مکر جائیں
اب دوائیں اثر نہیں کرتی
اب زرِ جوہر پندار ٹھکانے سے لگا
اب طبیعت میں خمار آئے تو کیسے آئے
اب مجھے زخم لگا کر وہ مسیحا نہ بنے
اب مجھے کچھ بھی نہیں ہونا ہے
اب کوئی آئینہ دیکھا نہیں جاتا
اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا
اب کوئی چاند نہ جگنو نہ ستارا جاناں برائے اصلاح
اب کے پیمانِ محبت کے وفا ہونے تک
ابتدائی اشعار : برائے تبصرہ و رائے دہی
ابتدائے شوق ہے اور انتہائے آرزو
ابد کی وحشت سے اُوب کر اب، فنا کی ساعت میں آ گیا ہوں ! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
ابر برسا نہ ہی کرم برسا
ابو لائے کمپیوٹر (نظم)
ابھی تو میں جوان ہوں(برائے اصلاح )
ابھی ابھی مرے دل میں ترا خیال آیا ۔۔ برائے اصلاح
ابھی اتار کے کاندھوں سے رکھی ہے تھکن
ابھی امکان میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عارف عزیز
ابھی ہمنوا ابھی اجنبی ۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
اتنا تو اپنی قوم پہ احسان کیجئے
اتنا بھی آسان نہیں
اتنی بے کار رات لگتی ہے
اتنی پریوں میں وہ ہی جاناں ہے (برائے تنقید و اصلاح)
اتنی یادیں ہیں کہ ڈر جائیں گے ۔۔۔۔
اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے (اصلاح چاہے)
اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے ۔۔۔! میری پہلی نظٍم برائے اصلاح و تنقید
اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر
اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی
احباب کی خدمت میں چھوٹی سی کوشش !
احباب دانش سے اصلاح کی درخواست
احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے
احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے
احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے
احباب سے ایک مشورہ درکار ہے؟
احتراماََ گر مجھے شاعر نہیں مانا گیا
احساس زیاں۔۔۔۔۔برائے اصلاح
احساسِ کمتری۔۔۔۔برائے اصلاح
احسان کے بدلے میں تو احسان ملے گا
احسان (ماخوذ از حکایاتِ سعدی) از محمد خلیل الرحمٰن
احمد فراز کی زمین پہ۔ ایک غزل برائے اصلاح
احمد ندیم قاسمی کے ایک شعر کی تقطیع
احمدؔ وَلی ، ابن الوَلی، فخرِ زَماں، روشن جبیں
احوال ِغریباں ہے کہ سوزِ رواں ہے
اخلاص کی ثروت دے کردار کی رفعت دے
اخلاق کے سبق سے انجان ہو گیا ہے
ادب جس کو کہیے وہ اسلام ہے ۔
ادھر آئیے حضور!
ادھورا پیار
ادھوری غزل
اذانِ حق برائے اصلاح
ارتقا
اردو ادب کی اصطلاحات
اردو میں مستعمل تمام بحور کے نام بمعہ ارکان چاہئیں؟
اردو کی زبانیں (قطعہ)
اردو کے رواجوں پہ عمل کرنا تھا ہم کو
اردومیں لفظ "یوم " کی جمع کس طرح کی جائے۔
ارشد خان خٹک کی شاعری برائے اصلاح
ارشد خان کی شاعری برائے اصلاح
ارضِ وطن پہ خوں کے، دریا بہا رہے ہیں
ارکان کے زحافات پر اختلاف
ارے یہ وسعتیں، ہم تنگئی داماں میں رکھتے ہیں - غزل برائے اصلاح
از قلم خود
ازل نے کی ابد کی جستجو مقامِ ھو تلک
اس بات کو سمجھ لے اچھی طرح زمانہ
اس روگِ محبّت میں یہ کام تو ہونا تھا
اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا---برائے اصلاح
اس کی مجھے نگائیں پیغام دے رہیں ہیں----برائے اصلاح
اس کی نگاہِ ناز میں کتنا غرور ہے
اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں
اس حقیر کی طرف سے شان حضور میں ایک نذرانہ ، ؛؛ کچھ مانگتا نہیں ہے، شفاعت ہی چاہئے؛؛
اس دفعہ کو ٹوٹ کہ بکھرا
اس دل میں تیری یاد کا طوفان رہے گا (براے اصلاح و تنقید)
اس دور میں اگر مَیں گناہوں سے بچ گیا
اس رات نے مڑ كر ديكھا تھا
اس رباعی کی تشریح فرمادیں حضرات
اس سے مرا جو عہد و پیمان ہو گیا ہے
اس شعر کی تقطیع کیا ہوگی ؟
اس شوخ کے چہرے پر ہر جلوہ بلا کا تھا۔ برائے اصلاح
اس عنوان پر کوئ نظم ہے؟
اس غزل پہ نظر کیجیے سب احباب اور رائے کا اظہار کریں
اس غزل کی اصلاح درکار ہے۔۔۔۔۔
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس غزل کی اصلاح فرمائیں
اس قدر زندگی بے ثمر تو نہیں ۔۔۔ برائے تنقید
اس قدر زندگی سے دور ہوئے
اس ماہِ رحمت کے وسیلے یا رب (برائے اصلاح)
اس مطلع کی اصلاح درکار
اس مطلع کی اصلاح فرمائیں
اس نثری غزل کی اصلاح فرمائیں
اس نظم کی اصلاح فرمائیں
اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا
اس نے چہرہ اگر دکھایا تو ؟ ------- غزل براہ اصلاح
اس وقت ہمسفر مری تنہائیاں بھی ہیں
اس کا بحر کونسا ہے
اس کو سب کچھ مذاق لگتا ہے (برائے اصلاح)
اس کو غزل میںلکھا چاند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
اس کی نظروں کو بھی آواز کا جادو آئے!۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
اس کے لہجے سے ہی ظاہر تھی عداوت اس کی
اس گردش ادوار سے واقف ہے تو
اساتذہ اصلاح و رہنمائی فرما دیں ۔
اساتذہ اصلاح و رہنمائی فرما دیں ۔۔
اساتذہ ذرا مہربانی کریں ہم پر ہماری اصلاح کریں
اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ۔ '' پڑی ہے کن کے پہلو میں مری بھی التجا محسؔن''
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست
اساتذہ سے ایک سوال
اساتذہ سے ایک سوال اراکین کی بابت
اساتذہ سے ایک سوال!!
اساتذہ نظرِ کرم فرمائیں
اساتذہ کرام ! براہ کرم اصلاح فرما دیجے
اساتذہ کرام اصلاح کیجیے
اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی درخواست ہے(شکیل احمد خان)
اساتذہ کرام سے اصلاح اور احباب سے آراء کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)
اساتذہ کرام سے اصلاح کا متمنی نوآزمودہ شاعر
اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست اور احباب سے خیال آرائی کی اپیل!
اساتذہ کرام سے اِصلاح کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)
اساتذہ کرام سے ایک سوال؟؟
اساتذہ کرام غزل کی اصلاح فرما دیں
اساتذہ کرام کی خدمت میں اصلاح کے لیے ایک اور غزل پیش کرنے کی جسارت
اساتذہ کرام کی خدمت میں اصلاح کے لیے ایک اور غزل پیش کرنے کی جسارت
اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''
اساتذہ کی توجہ!!!!
اساتذہ کی خدمت میں ایک سوال
اساتذہ کی خدمت میں:’ خدا ہے ترا اور ہم بھی ترے ہیں‘
اساتذہ کی راہنمائی درکار ہے
اساتذہ کی نظر کرم درکار ہے فاعلن
استادانِ گرامی کی خدمت میں ایک عرض
استادِ محترم الف عین صاحب۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
استادِ محترم سے گزارش ہے کہ اصلاح فرمائیں
استادِ محترم نظرِ عنایت فرمائیں
استقامت اور دعا (قطعہ)
اسد كى هے غزل کوئی تو میر کی زبان ہے
اسد یوسف
اسی ایک غزل کے ساتھ دوبارہ حاضر ھوں تمام اساتذہ سے درخواست ھے کے مدد کریں.۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
اسی دنیا کو جب میں نے اک بحرِ بیکراں سمجھا ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
اسے دیکھا اسے چاہا اسے پایا اسے کھویا---برائے اصلاح
اسے دیکھنا تو نصیب تھا ۔۔۔ برائے اصلاح و تبصرہ
اسے چپکے چپکے پڑھا کرو ۔۔۔۔ طرحی غزل ۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
اسے چھوڑ نے سے وفا ہار جاتی ۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب
اشعار برائے اصلاح"مفاہمت کا بہت ذکر تھا کتابوں میں"
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح
اشعار برائے اصلاح (ہر حقیقت خیال تھا پہلے)
اشعار برائے اصلاح و تنقید۔ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
اشعار برائے اصلاح ۔۔متفرق اشعار۔ ساگر
اشعار برائے اصلاح ۔۔متفرق اشعار۔ ساگر ۔ ۔ ۔ایک کوشش
اشعار برائے شدید تنقید.........
اشعار برائےاصلاح فعلن فعولن فعلن فعولن
اشعار پر رہنمائی چاہیے: از : محمد بلال اعظم
اشعار کی اصلاح
اشعار کی اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
اشعار کی اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
اشعار کی اصلاح مطلوب ھھ
اشک گردوں سے روانی سیکھیں
اشکِ غم بہتے ہیں یادِ رفتگاں میں اور بھی غزل نمبر 118 شاعر امین شارؔق
اصحاب علم کی توجہ اصلاح کے لئے،'' جو مسلم تیری بندے ہیں، تو ذلت میں رضا کیوں ہے ''
اصلا ح فرمائیں فعلن فعولن فعلن فعولن
اصلاح
اصلاح
اصلاح
اصلاح
اصلاح
اصلاح
اصلاح ایک سورج سے اندھیرے نہیں مٹنے والے
اصلاح : اسی کو عیاں اور نہاں دیکھتا ہوں
اصلاح : بتاؤں میں کیسے کہ تیری کمی ہے
اصلاح : جلوۂ یار ہے ، شیشۂ ناب میں
اصلاح : حاضر ہوا تھا لیے کہ شکایت ترے لیے
اصلاح : حسن دے شرار دے، شاہد و شراب دے (غزل)
اصلاح : قرآن ہے تیری جبیں (نعت فخر موجوداتﷺ)
اصلاح اور بے لاگ تنقعید درکار ہے
اصلاح برائے اشعار
اصلاح برائے غزل
اصلاح براہِ کرم!
اصلاح بہ اندازۂ ناپختگیِ ما؛ در ہر دو جہان نیست
اصلاح درکار "فاعلاتن مفاعلن فِعْلن"
اصلاح درکار برائے غزل
اصلاح درکار برائے غزل
اصلاح درکار ھے ---- از طاہر جاوید
اصلاح درکار ھے۔
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے
اصلاح درکار ہے ( بیٹھے بیٹھے شام کے بعد)
اصلاح درکار ہے (ھزج مسدس)
اصلاح درکار ہے ایک اور غزل کی
اصلاح درکار ہے برائے غزل
اصلاح درکار ہے شکریہ
اصلاح درکار ہے(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)
اصلاح درکار ہے۔
اصلاح درکار ہے۔
اصلاح درکار"" فاعلاتن فَعِلن فاعلاتن فَعِلن""
اصلاح درکار""فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن""
اصلاح درکار"فاعلاتن مفاعیلن مفاعیلن"
اصلاح درکار.. دل پہ اک حالت تھی طاری چھوڑ دی
اصلاح سخن
اصلاح سخن
اصلاح سخن
اصلاح سخن بتانٍ عجم پر فدا ہوگئے تم ؟
اصلاح سخن --- مسافر نہ گھبرا , مزے لے سفر کے --- محمد اظہر نذیر
اصلاح سخن :
اصلاح سخن : ایک چھوٹی سی ناکام کوشش، اساتذہ کی خدمت میں (ریختہ بھی کرے رشک تم پہ صنم )
اصلاح سخن : یہ عشوہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
اصلاح سخن : یہی سطوت غزنوی ہے مری جاں
اصلاح سخن : ’’بفرما تا سکوں آید بیک دل روحِ حیراں را ‘‘
اصلاح سخن : ایک مطلع دو شعر اساتذہ سخن کی خدمت میں !
اصلاح سخن : برائے تنقید (غزل)
اصلاح سخن : برائے تنقید (غزل) تجھ کو دلبر، خمار میں دیکھا
اصلاح سخن : برائے تنقید (غزل) ’’نہ کیجے ذرا غم ،اگر وہ خفا ہے ‘‘
اصلاح سخن : جشن کی یہ گھڑی ، ہو مبارک تجھ
اصلاح سخن : فرشتہ نہیں میں ، خدا بھی نہیں تو
اصلاح سخن : چار مصرعے :
اصلاح سخن : ’’ترے خالِ مشکیں پہ بخشوں یہ دہلی‘‘
اصلاح سخن ، تجدید اشاعت، نظرثانی کے بعد ایک بار پھر اساتذہ کی خدمت میں:
اصلاح سخن ،اساتذہ کی خدمت میں، ناصر کاظمی کی زمین میں: رشک شاعری ہے تو !
اصلاح سخن اور برائے نقد و تبصرہ
اصلاح سخن میں ہم نے کیا سیکھا
اصلاح سخن ۔۔۔۔۔۔ چند تجاویز
اصلاح سخن:
اصلاح سخن: معجزہ ہوگئی چشم نرگس تری
اصلاح سخن: آخرش میں انہیں، ناخدا کیوں کروں؟
اصلاح سخن: آمدِ دلربا ، مرحبا مرحبا (اساتذہ کی خدمت میں )
اصلاح سخن: دِیا چاہتوں کا، جلایاکروتم
اصلاح سخن: عید کی ہرخوشی ہو مبارک تجھے
اصلاح سخن: چار مصرعے:
اصلاح سخن، اصل غزل اساتذہ سخن کے لیے
اصلاح شاعری
اصلاح شعر
اصلاح طلب
اصلاح طلب
اصلاح طلب
اصلاح طلب اشعار
اصلاح طلب اشعار
اصلاح طلب ایک اور غزل
اصلاح طلب ایک اور غزل۔۔۔۔
اصلاح طلب ایک اور کلام
اصلاح طلب غزل
اصلاح طلب غزل
اصلاح طلب غزل ۔۔۔
اصلاح طلب ہے!!!
اصلاح طلب۔۔۔۔
اصلاح غزل
اصلاح فرما دیں اساتذہ
اصلاح فرما دیں۔ فعولن
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں
اصلاح فرمائیں: ایک بلبل قفس میں جو چہکی ہے آج
اصلاح فرمائیں۔۔۔
اصلاح فرمائیں۔۔۔
اصلاح فرمائیے
اصلاح فرمائیے۔ ہیں زندگی کے راز تو پوشیدہ تہِ خاک
اصلاح فرمائے براہِ کرم
اصلاح فرمائے۔2
اصلاح فرماویں یا تنقید۔ خاکسار کو خوشی ہوگی،شاکر ہوگا
اصلاح فرمایے
اصلاح قافیہ
اصلاح مطلوب ہے۔ فعولن
اصلاح نظم
اصلاح و تبصرہ
اصلاح و تنقید کی درخواست
اصلاح و تنقید کی گزارش۔۔۔(غزل)
اصلاح و رہنمائی
اصلاح و مشورہ
اصلاح و مشورہ
اصلاح و نقد
اصلاح و نقد
اصلاح و نقد : اساتذہ کی خدمت میں: از فاخر
اصلاح و نقد : نغمہء فطرت سوزاں تو سنادو مطرب !!
اصلاح و نقد،اے جان عالم ،روشن نگاہے
اصلاح چاہتے ہیں
اصلاح چاہیئے
اصلاح چاہیے
اصلاح کا طالب : تذکرہ درد ، آہ و زاری ہے
اصلاح کا ظالب
اصلاح کا متمنی ہوں کوئی دوست مدد فرما دیں
اصلاح کا کلام
اصلاح کر دیں کیا میں نے کوشش اچھی کی ہے ؟؟؟؟
اصلاح کر کے راہنمائی طلب ہے۔
اصلاح کر کے راہنمائی فرمائیں
اصلاح کر کے ممنون فرماویں
اصلاح کردیں
اصلاح کردیں۔
اصلاح کریں
اصلاح کریں
اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
اصلاح کی امید میں
اصلاح کی انتظار
اصلاح کی درخواست
اصلاح کی درخواست
اصلاح کی درخواست
اصلاح کی درخواست
اصلاح کی درخواست - پھر بھی مسکراتے ہو ؟
اصلاح کی درخواست ہے
اصلاح کی درخواست ہے
اصلاح کی درخواست ہے
اصلاح کی درخواست ہے
اصلاح کی درخواست ہے ۔
اصلاح کی درخواست،'' تصور تھا تو پھر تصویر بنتے دیر کیا لگتی
اصلاح کی درخواست۔۔۔
اصلاح کی شدید ضرورت ہے
اصلاح کی گزارش
اصلاح کی گزارش
اصلاح کی گزارش
اصلاح کی گزارش : نظم بعنوان: وادئ کشمیر
اصلاح کی گزارش۔ غزل
اصلاح کی گزارش۔نظم( عنوان: سکوت)
اصلاح کیجئیے
اصلاح کیجئے
اصلاح کیجئے اس بات کی... شکریہ :)
اصلاح کیجئے:اجڑا ہوا چمن ہوں ، مجھے یاد کیجئے
اصلاح کیجیئے،
اصلاح کیجیئے۔۔۔
اصلاح کیجیے احباب شکریہ!
اصلاح کیلئے
اصلاح کیلئے
اصلاح کیلئے
اصلاح کے لئے
اصلاح کے لئے - اسیر ِ نار دیکھا ہے
اصلاح کے لئے - ذرا بیٹھ تو مرے روبرو تجھے اشک اشک اتار لوں
اصلاح کے لئے - زمیں پر چاند اترا آسمانوں سے
اصلاح کے لئے : اقبال بیاں پھر کیسے ہو
اصلاح کے لئے : ولولے ضروری ہیں
اصلاح کے لئے ایک تازہ غزل
اصلاح کے لئے ۔۔۔ نظم ۔۔۔ سببِ سفر
اصلاح کے لئے ۔۔۔ نظم ۔۔۔ مجھے لے چلو
اصلاح کے لئے ۔۔۔۔ "لطف ہے ستانے میں"
اصلاح کے لئے ۔۔۔۔۔۔ شعر کہنے کی ریاضت کر لوں
اصلاح کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل اور آج
اصلاح کے لیے
اصلاح کے لیے
اصلاح کے لیے ایک غزل
اصلاح کے لیے ایک غزل پیش خدمت ہے۔
اصلاح کے لیے غزل
اصلاح کے لیے غزل پیش ہے
اصلاح کے لیے مدد درکار ہے ------ سید جاوید اقبال
اصلاح کے لیے پیش کرتا ہوں
اصلاح کے متمنی اس لڑی کا مطالعہ ضرور کریں
اصلاح کےلئے ایک اور غزل
اصلاحِ سخن : میں گریز پا ہوں، نقشِ پا بھی : محمد بلال اعظم
اصلاحِ سخن " وہ خاک ہو گئے ان کا نشاں نہیں ملتا "
اصلاحِ سخن - خمارِ عشق و محبت اتر گیا کیسے
اصلاحِ سخن : لہجے کو تیرے دیکھا یہ حاجت نہیں رہی
اصلاحِ سخن : ہم اس کا رنج نہ کرتے اگر تو کیا کرتے:
اصلاحِ سخن :جس کو رنج والم نے گھیرا ہے
اصلاحِ سخن اور عروض سائٹ
اصلاحِ سخن: خواب ہو جائیں گے ہم یا پھر گماں ہوجائیں گے،
اصلاحِ سخن: وہ آخری لمحے
اصلاحِ شعر و شاعری
اصلاحِ شعر و شاعری
اصلاحِ شعر و شاعری
اصلاحِ غزل
اصلاح۔۔رہنمائی اور نہ جانے کیا کیا کچھ چاہیے۔۔۔۔۔۔
اصلاح۔۔۔
اصول تقطیع
اصولِ شاعری کے حوالے سے چند سوال۔۔۔؟
اضافت کی زیر اور ہمزہ کا دردِسر
اضطراب
اعتزاز احسن
اعجاز عبید صاحب کے نام ۔ ایک غزل برائے اصلاح
افسوس ماہِ رحمت رمضان جارہا ہے غزل نمبر 47 شاعر امین شارؔق
افق پر خون سے ضبطِ فغاں لکھا ہوا ہے
اقبال ؒ! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
اقبال کی زمین میں
اقبال کی فارسی رُباعی کا ترجمہ
اقبال کے شاہین دیوانے ہو گئے
اقبال کےایک شعر کی تقطیع
اقرارِ تمنا ہے نہ انکارِ تمنا
اقصیٰ کے فرزندوں کے نام
التجا (نظم)
الجھا ہے دل نگری میں ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
الجھنوں میں گھِر گئے کیوں؟
السلامُ علیکم! اُردو فورم پر میری یہ پہلی غزل ہے اور آپ کی اصلاح چاہیے..
الف عين (انڈیا ) اور دیگر اساتذہ سخن کی خدمت میں:
الف عین صاحب میری غزل دیکھئے نا
الفاظ بھى زنده هيں جذبات بھى زنده هيں
الفاظ بھی سادہ سے، مری بات بھی سادہ سی
الفاظ کی تقطیع کر دیں
الفت میں تری ہم نے دنیا کو بھلایا ہے
الفت میں تری ہم نے زمانے کو بھلایا
الفت میں تری ہم نے زمانے کو بھلایا
الفت کا دیپ تیرے دل میں جلا دیا ہے-------برائے اصلاح
الفت ، خلوص ، پیار ہے موسم بہار کا
الفت بھری شراب کا اک مے کدا ہیں ہم
اللہ تو عطا کر رحمت شبِ قدر کی غزل نمبر 48 شاعر امین شارؔق
اللہ کی رحمت اتری ہےسارے گھر میں چھائی خوشیاں
اللہ کی قدرت سے بشر چاند پہ پہنچا غزل نمبر 76 شاعر امین شارؔق
اللہ کے نزدیک جن کی شان بڑھتی جاتی ہے غزل نمبر 109 شاعر امین شارؔق
الواداعی بوسہ
الوداع پیارے گھر :: نظم:: از محمد خلیل الرحمٰن
الوداعی نظم (گریجوایٹ ہونے پر کالج سے رخصت ہوتے ہوئے)
الگ الگ نظر آئے چمن چمن یارو! برائے اصلاح
امانت ہے تیری مری جان یا رب
امریکا کی سیر۔ پہلا دن۔ آمد از محمد خلیل الرحمٰن
امید
ان سے بڑھ کر کسی کو بھی چاہا نہیں
ان سے وفا نہ مانگو جن میں وفا نہیں ہے
ان کو حقیقتوں کا کچھ بھی پتا نہیں ہے
ان کو دیکھا تو دل کو وہ بھانے لگے----برائے اصلاح
ان کی روش ہمیشہ رہتی ہے جارحانہ
ان کی محفل میں نہ جاتے تو نہ رسوا ہوتے-----برائے اصلاح
ان ابابیلوں کے جیسے پر دیئے جائیں ہمیں : غزل برائے اصلاح
ان اشعار پر اساتذہ کی رائے درکار ہے
ان ہی کے کردار اعلیٰ ہوتےہیں (اصلاح طلب)
انا کی جنگ تھی جھکنے کا تو سوال نہ تھا
اناڑی شاعر کی تصیح فرما دیں۔۔۔۔۔۔ناتجربہ کار شاعر
انتہا کی انتہا ہونے لگی ہے۔۔۔برائے اصلاح
اندھیری شب کی قسمت میں سحر ہونے لگی ہے کیا
اندھیرے تھے مگر ایسے نہیں تھے (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
اندھے بچھو
انس کا وزن کیا ہو گیا ۔۔
انسانیت
انشاء جی کی مشہور غزل ”ہم رات بہت روئے ، بہت آہ و فغاں کی“ کی پیروڈی
انہیں حقارت سے دیکھنا کیا جو تیرے در پر پڑے ہوئے ہیں ۔۔ برائے اصلاح
اور کیا لکھوں؟
اور کیا ہوگا
اوزان کی بحث۔۔۔۔۔۔
اوزانِ رباعی کے دو قاعدے
اُجڑے اِس دل کی بات کرتے ہیں غزل نمبر 42 شاعر امین شارؔق
اُداس زِیست میں کچھ لوگ با کمال ملے غزل نمبر 186 شاعر امین شارؔق
اُداس لمحے
اُردو
اُردُو محفل میں اِصلاح ِغزل
اُس سے باتیں ہزار کرتا (برائے اصلاح )
اُس نے ہاتھوں میںمرے ایسے سما دی آنکھیں
اُس کا اقرار محبت ہے مروت اُس کی
اُس کے آنے کی کوئی لے کے خبر آیا ہے
اُستاد جی، شعر لکھنا واقئی مشکل کام ہے، دیکیے تو ذرا
اُفق اُفق سجا کرےنگر نگرپھرا کرے
اُمید سحر ہے ابھی کوئی
اُن سے عرضِ تمنا کریں بھی تو کیا (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
اُن کی صورت گُلاب جیسی ہے غزل نمبر 107 شاعر امین شارؔق
اُن کے پہلو سے جو اُٹھا ہو گا - برائے اصلاح
اِس ہجر کے دریا کی، رَوانی ہو ذرا کم۔۔۔ ایک غزل اصلاح کے لئے
اِصلاح درکار ہے
اِصلاح کے لئے
اِک طرفہ ہی سہی (اصلاح طلب
اِک ناکام کوشش!
اِک چہرہ کھوگیا ہے : برائے اصلاح
اِک ہے اپنے حُسن میں یکتا گُلاب غزل نمبر 120 شاعر امین شارؔق
آج اک دلربا شخص راستے میں مل گیا
آو مل کر یہ بات سوچیں!!!
آوارگی
اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے۔۔۔۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ
اٹھانے کو یہ دل چاہے ترا ہر ناز بارش میں۔۔۔ غزل برائے اصلاح
اپنا بھی اس جہاں میں کوئی تو یار ہوتا----برائے اصلاح
اپنا جو اعتبار ہے کھونے نہ دیجئے----برائے اصلاح
اپنا غلام ہم کو اس فوج نے بنایا
اپنا اسے سمجھو ، مگر اپنا ہی نہ سمجھو
اپنا اصول خود ہی مجھے توڑنا پڑا : غزل برائے اصلاح
اپنا دن جب تمام ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
اپنوں نے دکھ دیئے ہیں دنیا ستا رہی ہے
اپنوں کو کبھی دل سے بھلایا نہیں جاتا
اپنوں کا نگر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
اپنی باتوں سے رام کرتے ہیں غزل نمبر 155 شاعر امین شارؔق
اپنی جاں سے کھیل کر جاں بچانا کمال ہے اصلاح کریں اس غزل کی
اپنی جاں سے گزر رہا ہے کیا ... غزل براہ اصلاح
اپنی کاوش
اپنی کاوش
اپنی کشتی کا میں ناخدا ہوگیا ( برائے اصلاح)
اپنی ہی لگائ ہوئ آگ میں جل رہا ہئے آج میرا وطن
اپنے احساس کو لفظوں میں بیاں کیسے کروں ---------برائے اصلاح
اپنے اساتذہ کرام کے نام ایک حقیر سا نذرانہ عقیدت ۔۔عابی مکھنوی
اپنے اندر بہت کمی دیکھی (اصلاح)
اپنے خوابوں کو سلا دوں کیسے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
اپنے دیوار و در نہیں بھولے ۔۔۔ بغرض اصلاح
اپنے سبکدوش ہونے والے مہربان اور شفیق پروفیسر کے لئے کچھ اشعار
اپنے لیے کچھ اس کے سوا راستہ نہیں
اپنے نفس کی قید سے نکلا نہ جا سکا----برائے اصلاح
اپنے گھر پر نظر نہیں آتے۔۔۔ بغرض تبصرہ و اصلاح
اپنے ہمراہ سفر پر وہ اگر جانے دے غزل نمبر 185 شاعر امین شارؔق
اچھا ہے یا برا ہے اسے جان لیا کر غزل نمبر 26 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
اچھی شاعری کے لوازمات
اک بار اگر ہم کو وہ چاہت سے بلاتے ہم ان کی محبّت میں زمانے کو بھلاتے
اک اضطراب مری جان لے رہا ہے مگر
اک اور جسارت، رہنمائی کی درخواست کے ساتھ
اک اکیلا دو گیارہ۔۔۔برائے اصلاح
اک تازہ کاوش ! رہنمائی کی چاہ میں۔۔۔
اک تجرباتی غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' بادل، چندا، آنکھ مچولی''
اک ترا غم ہے اور بس میں ہوں۔
اک تواتر سے دل پہ غم گزرے -- برائے اصلاح
اک حسنِ بے مثال پرُ ملال ہو گیا
اک خدا کے سوا ،چھوڑ دے سب کو تو(اساتذہ متوجہ ہوں)
اک دياروشن ہوا طوفان میں
اک ذرا ہوش گنوا دو اب تو
اک سوال
اک سچ کے سبب ساری دنیا نے مجھے چھوڑ
اک شعر
اک شعر
اک شعر۔۔
اک شور مرے اندر مگر تنہا ہوں میں
اک غزل اصلا ح کی غرض سے پوسٹ کررہا ہوں۔
اک غزل اصلاح کی غرض سے پیشِ خدمت ہے
اک غزل اصلاح کی غرض سے پیشِ خدمت ہے
اک غزل اصلاح کیلیئے
اک قطعہ
اک قطعہ
اک لفظ بھی زبان سے نکلے مجال ہے۔ غزل برائے اصلاح
اک نئی غزل
اک نئی غزل ''جاناں''۔۔''
اک نئی غزل مزید اشعار کیا ہوسکتے ہیں شاعر امین شارق
اک نظر ادھر بھی ۔۔۔ برائے اصلاح
اک نیا زخم دے ...
اک کاوش برائے اصلاح
اک کنارا ہم نے پکڑا اک کنارا چھوڑ کر
اک کوشش اور پیشَ خدمت ہے
اک گستاخی (بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں)
اکڑشاہ کی اکڑبازیاں (مکمل)
اگر اس جہاں میں وفا عام ہو گی-------برائے اصلاح
اگر تمہارا نہ پیار ملتا ِ یہ زندگی تھی اداس میری
اگر مجرم تمہارا ہوں، سزا پھر کیوں نہیں دیتے---برائے اصلاح
اگر چاہو تو آپس میں گزارا ہو بھی سکتا ہے---برائے اصلاح
اگر آپ ہم کو ستانے لگیں گے (فعولن فعولن فعولن فعولن)
اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
اگر چہ دو ہی قدم پر کھڑا سویرا ہے
اگر کوئی روٹھ جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درخواست برائے اصلاح
اگر کہیں جو شبِ ہجر کی سحر ہوتی
اگر ہم با زباں ہوتے (برائے اصلاح)
اگر ہم کو تم سے محبت نہ ہوتی - غزل برائے اصلاح
اگر ہے مرد سورج تو۔۔۔
اگلی غزل برائے اصلاح
اگلی غزل برائے اصلاح، رہنمائی اور مشورہ
اہلِ وفا جہاں میں مردود ہو گئے ہیں
اہلِ خرد کے ہونٹوں کے دو طرز ہی ملے (قطعہ)
اہلِ دل جانتے ہیں دل کا سزا ہو جانا - فرحان محمد خان
اہلِ سُخن سے ایک سوال
ایس اے شناور ۔ بادِ صبا میں کھلتے گلابِ مریم کو پڑھ۔ گرچہ مسلماں ہے تو حجابِ مریم کو پڑھ
ایس اے شناور۔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ مسلسل شام بیٹھی رو رہی
ایسا ہو گا نہ اُس جہان میں کیا؟
ایسی بحریں جن کے ارکان متغیر ہو سکیں
ایسی تنک لباسی ہے کہ شرمندہ عریانی ہے ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
ایسی چِنگاری لگی کہ گھر کا گھر سب جل گیا غزل نمبر 116 شاعر امین شارؔق
ایسے تو کبھی مجھ سے چاہت نہ بیاں ہو گی-----برائے اصلاح
ایسے نہ میرے پیار کو بدنام کیجئے-------برائے اصلاح
ایطا کا عیب ۔۔۔ کیا میں درست سوچ رہا ہوں؟
ایطا(جلی/خفی) : مثالوں کا ذخیرہ
ایطاء سے متعلق ایک سوال
ایطائے جلی
ایطائے خفی کو کیسے پہچانا جائے؟
ایطائے خفی کو کیسے پہچانا جائے؟
ایمان چاہتا ہوں برائے اصلاح
ایک تازہ غزل،'' ڈوبتا جا رہا ہے من دیکھو''
ایک سوال
ایک سوال
ایک ناقص شعر اصلاح کا منتظر ہے
ایک آزاد نظم
ایک آزاد نظم
ایک آزاد نظم "حوالہ محبت" اصلاح کی غرض سے
ایک آزاد نظم کی اصلاح چاہیے؟؟
ایک احساس ۔ ندامت ہے مرے ساتهہ ابهی
ایک ادنی سی کاوش پیش کرتا ہوں،''سانپ میں نے سنبھال رکھے تھے'' اصلاح فرمائیے گا
ایک ادنیٰ سی کاوش، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' پیجئے اور پلائیں ہم کو''
ایک ادنیٰ کاوش تنقید و تبصرہ کیلئے ،'' مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے''
ایک انجان وفا یاد آیا - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
ایک اور بے وزن غزل اصلاح کے لئے
ایک اور تازہ کاوش برائے اصلاح
ایک اور جسارت:برائے اصلاح
ایک اور حقیر کاوش پیشِ خدمت ہے۔۔۔۔اساتذہ سے نظرِکرم کی امید ہے۔
ایک اور شاعر ذرا اسکا بھی حساب لگائیے
ایک اور شعر برائے اصلاح
ایک اور غزل
ایک اور غزل برائے اصلاح جناب محترم الف عین اور محمد یعقوب آسی سر اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں۔
ایک اور غزل اصلاح کی طلبگار ہے
ایک اور غزل اصلاح کی غرض سے... جام پر جام نہیں پیتے تو پھر کیا کرتے....
ایک اور غزل اصلاح کی غرض سے... شکستہ دل بہت اہل سفر تھے..
ایک اور غزل اصلاح کے واسطے
ایک اور غزل برائے اصلاح
ایک اور نظم برائے اصلاح و رہنمائی بعنوان نان اینٹیٹی (Non Entity)
ایک اور کاوش برائے اصلاح
ایک اور کاوش، رہنمائی کی منتظر ہے
ایک اور کوشش - برائے اصلاح، بہت شکریہ!
ایک اورغزل حاضر ہے، رہنمائی کا انتظار رہے گا
ایک بزرگ نے آج بتایا
ایک تاذہ واردات غزلیہ،'' جی اُٹھیں گے وہ سبھی جان بلب ، دیکھ ذرا''
ایک تازہ غزل برائے اصلاح
ایک تازہ غزل
ایک تازہ غزل
ایک تازہ غزل '' خسُ خاشاک جہاں پر تھے وہیں پھول گیا مدتوں یاد رہا،'' اصلاح کی درخواست
ایک تازہ غزل اساتذہ کی رہ نمائی کی منتظر
ایک تازہ غزل اصلاح کی غرض سے
ایک تازہ غزل اصلاح کی گزارش ہے
ایک تازہ غزل اصلاح کی گزارش ہے
ایک تازہ غزل اصلاح کیلیے
ایک تازہ غزل برائے اصلاح، تبصرہ اور تنقید کے ،'' ادائیں گُفتگو کرنے لگی ہیں''
ایک تازہ غزل برائے تنقید،تبصرہ اور اصلاح
ایک تازہ غزل تبصرہ، تنقید و رہنُمائی کیلئے، ''دیر اُس نے کی، رات اُس نے کی''
ایک تازہ غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' رنگ ایسا ہو، بنا لوں تیری تصویر کوئی''
ایک تازہ غزل،'' ذرا دل کو کشادہ کر لیا جائے'' از محمد اظہر
ایک تازہ غمگین غزل،'' یہ جو اپنے ہیں، پراٴے ہوتے ''
ایک تازہ قطعہ پیش ہے برائے اِصلاح
ایک تازہ کاوش پر گزارشِ اصلاح "میں ہوں جب اپنے ہی اندر پھر یہ باہرکون ہے"
ایک تُرکی بیت کے منظوم اردو ترجمے کی کوشش
ایک تکبندی برائے اصلاح
ایک حمد برائے اصلاح و تبصرہ
ایک حمدیہ سی نعتیہ سی غزل،'' وہ بھی ملتا ہے اگر دل سے پکارا جائے'' اصلاح کی درخواست ہے
ایک خیال
ایک خیال جو دو زبانوں میں لکھا ہے ؛؛ شام اُڈیکے، جام اُڈیکے''
ایک دو غزلہ اصلاح، تبصرہ، تنقید کی غرض سے،، سپنوں میں جو اکثر آتے ہو، اب دیکھو محو خواب ہیں ہم''
ایک دو غزلہ... اصلاح اور مشوروں کا طالب ہوں
ایک دوبیتی برائے اصلاح !!
ایک دوست شاعر کی غزل برائے تبصرہ
ایک دوست کا کلام برائے تبصرہ
ایک دوست کی نظم برائے تبصرہ
ایک دوست کے والد صاحب کی وفات پر تعزیتی نظم
ایک ذو مطلع غزل، تنقید و تبصرہ کیلئے ،'' مژدہ جان فزا جان بھی لے سکتا ہے''
ایک رباعی برائے اصلاح
ایک رباعی برائے اصلاح
ایک رباعی برائے اصلاح پیش ہے
ایک رثائی کاوش اساتذہ کی رہنمائی اور آراٗ کیلئے،۔۔ کیسے بیاں کروں، وہ تھا کیا کیا رسول کا ۔۔
ایک سادہ سی نظم تنقید ، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' محبت شجر ممنوعہ''
ایک سادہ سی پامال مواضیع پر مشتمل غزل، تبصرہ و تنقید کیلئے،'' مقتدر ہو تو کچھ کرو یارو''
ایک سادہ سی پرانی طرز کی غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے،'' رینا، رینا، نہ صبح ہو پائے''
ایک سلام برائے اصلاح
ایک سلام برائے اصلاح
ایک سوال
ایک سوال
ایک سوال
ایک سوال
ایک سوال
ایک سوال
ایک سوال ---- حروف کی آوازوں کے مخرج سے متعلق
ایک سوال اساتذہ سے خصوصاً عروضیوں سے
ایک سوال انشاء کی غزل کے بارے میں
ایک سوال رہنمائی کے لیے
ایک سوال؟؟؟
ایک سوال؟؟؟
ایک سوالیہ غزل اصلاح کے لئے پیش ہے
ایک سوال۔۔۔
ایک سوال۔۔۔۔؟؟؟
ایک سیاست سے لتھڑی ہوئی غزل،'' حکم مجرم جو کرے، قوم کا ہونا کیا ہے؟''
ایک شرارتی سی غزل تنقید و تبصرہ کیلئے، '' تیری پائل، ترا کنگن، ترا گجرا بولے''
ایک شرارتی سی غزل،'' ہم سے کوئی کمال ہو جائے'' اصلاح، تنقید و تبصرہ کے لیے
ایک شرارتی سے غزل ذرا ہٹ کے، '' جان مانگی ہی نہیں، لے بھی ہے لی جانی نے''
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر آپ احباب کی رائے درکار ہے .......
ایک شعر احمد فراز کے نام برائے اصلاح
ایک شعر اصلاح کے لئے
ایک شعر اصلاح کے لیے پیش ہے( تاکہ میری حاضری محفل میں لگتی رہے)
ایک شعر اور اس کی تقطیع کا مسئلہ
ایک شعر اور خدا کی ایک صفت پر شعراء کی آراء
ایک شعر برائے اصلاح
ایک شعر برائے اصلاح!
ایک شعر برائے تنقیدی جائزہ
ایک شعر کی اصلاح درکار ہے
ایک شعر کی اصلاح درکار ہے
ایک شعر کی اصلاح چاہتا ہوں ۔مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ایک شعر کی تقطیع
ایک شعر کی تقطیع
ایک شعر! بسمل
ایک شعر؛؛؛؛
ایک شعر۔ (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
ایک شعر۔۔۔
ایک شعر۔۔۔۔ برائے اصلاح
ایک طالب علم جو محبت کا پیغام لے کر آیا ہے، اصلاح سخن
ایک طرحی غزل،'' جو کھو گیا تھا، تری ذات کے تعاقب میں'' مصرع طرح
ایک طرحی غزل،'' دیار و دشت و دمن میں بکھر رہو تھا میں''
ایک طویل نظم برائے اصلاح و تنقید "چلو سپنے دکھاتے ہیں"
ایک عاجزانہ سی کاوش، ایک غزل رہ نمائی کے لئے اب کہاں لوگ وہ باقی، وہ تو سب چھوڑ گئے
ایک عجیب غزل،'' اب جو اُجڑا ہوں تو میٹھے کو زہر لکھوں گا''
ایک عروضی سوال۔۔
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل - برائے اصلاح و تنقید
ایک غزل - برائے اصلاح
ایک غزل ، اصلاح، تنقید و تبصرہ کے لیے،'' دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے ''
ایک غزل ،'' آہ کر کے، بہت بُکا کر کے''
ایک غزل ،'' اُٹھتے اُٹھتے بھی مقدر نے گرایا مجھ کو'' تنقید و راہنمائی کی غرض سے
ایک غزل ،'' بُرا کیا تھا مجھے، جو ہجر تھوڑا مختصر ہوتا ''
ایک غزل ،'' جلے وہ رات مرے سنگ، تجھ کو یاد کیا'' اور اک سوال
ایک غزل ،'' چاند تھا ہمسفر ستارے بھی'' اصلاح کی غرض سے پیش ہے، اساتذہ توجہ فرماءیں
ایک غزل ،'' کس طرح تجھ کو آنکھ میں بھر لوں ''
ایک غزل ،''دیدہ دل بھی فرش راہ کیے''
ایک غزل آپ کے مشوروں اور اصلاح کے لیے،'' ہر گھڑی دھڑکا ہے کیسا، کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے ''
ایک غزل اساتذہ کرام کی اصلاح کیلیے،ٰٰ فکرو دانش کہ بے مثال چلے ٰٰٰ
ایک غزل اساتذہ کرام کی توجہ چاہتی ہے،'' شکر ہے طرف جدائی مسئلہ کم ہی رہا'' اصلاح کیجیے گا ازراہ کرم
ایک غزل اساتذہ کی توجہ کیلئے،“ محبتوں کا محبت جواب، کیسے دوں“
ایک غزل اصلاح و تبصرہ کے لیے،'' تھوڑی رنگین داستاں کر لو''
ایک غزل اصلاح کے لئے
ایک غزل اصلاح کے لئے --- جنت، دوزخ بعد کی باتیں، پہلے دنیا واجب ہے
ایک غزل اصلاح کے لئے ،'' اُنسیت پل کی رفاقت کی عطا ہو شائد''
ایک غزل اصلاح کے لئے دے رہا ہوں، توجہ فرمائیں،۔
ایک غزل اصلاح کے لئے ۔۔۔۔۔۔ نہ در پہ دی کبھی دستک نہ دی صدا میں نے
ایک غزل اصلاح کے لئے.... وہ مجسم ہے تصور میں یہاں ہے سامنے
ایک غزل اصلاح کے لئے،'' وہ ایسے ہجر میں رو رو دہائی دیتی ہے''
ایک غزل اصلاح کے لیے
ایک غزل اصلاح کے لیے تمام اساتزہ سے التماس کہ ضرور اصلاح کریں
ایک غزل اصلاح کے لیے حاضر
ایک غزل اصلاح کے لیے پیش کرنے کی جسارت
ایک غزل اصلاح کے لیے،''
ایک غزل اصلاح، تبصرہ اور تنقید کے لیے پیش ہے،'' پھولوں کو جیسے مجھ سے ذرا چھین لے گئی''
ایک غزل اصلاح، تنقید اور رہنُماءی کی غرض سے ،'' محبت میں دغا کرنے کا سوچو ، تو بتا دینا ''
ایک غزل اصلاح، تنقید و تبصرہ کیلئے؛؛ بولتا ہے، پہ سُنائی نہیں دیتا مجھ میں؛؛
ایک غزل امام عالی مقام کے نام،'' خوشبو حسینیت کی جو پھیلی ہوا میں ہے'' اصلاح، تبصرہ و تنقید کیلئے
ایک غزل اچار مکس ،'' مجھ میں کچھ تبدیل ہونا چاہئے''
ایک غزل ایک سوال،'' وقت کو دھکیلنا ہے''
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح
ایک غزل برائے اصلاح اور ایک سوال رہ نمائی کے لئے
ایک غزل برائے اصلاح عرض۔
ایک غزل برائے اصلاح کے لئے
ایک غزل برائے اصلاح!
ایک غزل برائے اصلاح، '' بھلائی جان کے بھر دو ایاغ دھیرے سے ''
ایک غزل برائے اصلاح، '' راستے پر خار بھی تھے، جو سکوں سے کٹ گئے ''
ایک غزل برائے اصلاح، تبصرہ اور تنقید پیش ہے ،'' ہمسفر راستے کی دھول تو ہو''
ایک غزل برائے اصلاح، تنقید و تبصرہ کے ،'' بنانے والے، ترا ہے کمال اپنی جگہ ''
ایک غزل برائے اصلاح، تنقید و تبصرہ،'' ہجر کا وصل کی شب سے ہی گماں کیوں بولو؟ ''
ایک غزل برائے اصلاح،'' ہجر کیسا ہو آ کہ ٹل جائے''
ایک غزل برائے اصلاح۔
ایک غزل برائے اِصلاح پیش ہے
ایک غزل برائے اِصلاح پیش ہے
ایک غزل برائے اِصلاح پیش ہے - درست جانب رہنمائی کی درخواست کے ساتھ کچھ پیشِ خدمت ہے
ایک غزل برائے تبصرہ "کچھ اداسی ہے لگاؤ یہاں بازار کوئی"
ایک غزل برائے تنقید، اصلاح، تبصرہ، زخم دل ہے، دکھا، کروں بھی تو کیا؟
ایک غزل برائے تنقید، اصلاح، تبصرہ،'' حسن اُس کا کمال، شب، توبہ''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح ، '' مے کشو، چین سے بیٹھو کہ کلال ایک نہیں''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح ،'' اب ترے آس پاس رہنا ہے''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح ،'' اجازت ہو تو میں کچھ دیر خوابوں میں طلب کر لوں''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے ،'' دلرُبا اور دلنشیں ہوں گے ''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے ،'' کچھ وہ کہتا ہے، سُنائی نہیں دیتا مجھ میں''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے،'' زندگی کچھ بھی نہیں ہاتھ میں زر ہونے تک''
ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ و اصلاح ،'' آہ بندش میں ہو، پابند ہوں نالے، کب تک''
ایک غزل بروئے تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے ،'' رنگ بھرتا ہوں میں تصویر نہیں بن پاتی''
ایک غزل بغرض اصلاح پیش ہے،'' ہونٹوں سے دور جاتی، صدا ہو گیا تو کیا ''
ایک غزل بقصد اصلاح پیش ہے ،؛؛ ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں ۔۔
ایک غزل تبصرہ و تنقید کیلئے،'' ہے یقیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی''
ایک غزل تبصرہ، تنقید، اصلاح کے لیے،" ہو رہی ہو گی ہجو، خیر کوئی بات نہیں
ایک غزل تبصرہ، تنقید، اصلاح کے لیے،'' دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے ،'' برستی بارشوں کے درمیاں ہوں''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے، '' اے زندگی دیا ہو، کہیں روشنی رہے''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے،'' کیا نظارا تھا، مجسم تھی حیا، دیکھ آیا''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے،'' جنگجوؤ، راگ ہونا چاہئے تھا''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے،'' غموں کے آئے میں تیزی، فراغ دھیرے سے''
ایک غزل تنقید و تبصرہ کیلئے،'' کیوں کسی موڑ پہ رُکنے کو مچل جاتا ہے''
ایک غزل تنقید و راہ نمائی کے لیے،'' تُم یا تُو نہیں بولا، بات آپ ہی تک ہے ''
ایک غزل تنقید کے لیے
ایک غزل تنقید، تبصرہ کیلئے،'' پھر کسی وقت پر اُٹھا رکھو''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے لیے ،، سب بلائیں ٹال سکتی ہیں دعائیں، کر دعا''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے لیے،'' اک پھعل میرے پاس تھا''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کی غرض سے،'' وہ نہیں ہے تو میں کیوں چھوڑ دوں پینا آخر''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے ،'' بتوں کو ہم خُدا کہتے رہے ہیں''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے، '' میں نہیں ایسا تھا، جیسا بن گیا ''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' اے صنم، تُو خُدا نہ بن جانا''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' پتھر بنا دیا ہے رفاقت نے سنگ کی''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' پھر کسی وقت پر اُٹھا رکھو''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،'' ملو تو مل کے بچھڑنے کا نام مت لینا''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کیلئے، '' یار میں سپنا بُن بیٹھا ہوں''
ایک غزل تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کیلئے،'' چلتے چلتے شام ہوئی''
ایک غزل تنقید، تبصرہ، اصلاح کے لئے،'' وہ داغ داغ محبت، وہ عاشقی حیراں ''
ایک غزل ذرا ہٹ کے،'' لگے دم، رہ گیا ہوں''
ایک غزل رہنمائی کے لئے۔'' گل تو تھا گل سے گلستاں نہ بنا ''
ایک غزل صلاح کی گزارش ہے
ایک غزل قربانی کی عید پر
ایک غزل موسم بہار کی مناسبت سے، اساتذہ کی توجہ کیلیے
ایک غزل نما برائے اصلاح
ایک غزل پر میری تنقید
ایک غزل پیش خدمت ہے، '' بات بنتی نہیں، بگڑنے دو '' آپ کی رائے/ اصلاح کے لئے
ایک غزل پیش ہے برائے اصلاح
ایک غزل پیش ہے، 'تصورِ، پیار میں گُم، یار سوتے لکھ دیا میں نے
ایک غزل پیش ہے،'' ہم سے ملتے ہو، بچھڑتے ہو، چلے جاتے ہو'' اصلاح کے لئے
ایک غزل کی ممکنہ تفہیم
ایک غزل.اصلاح کے لئے۔۔۔ - جین آئے تو کیا کیا جائے ؟۔
ایک غزل: خراماں خراماں چلا جا رہا ہوں
ایک غزل، '' پیار دیکھا تیری نظروں میں مگر پوچھا نہیں '' اصلاح اور رہنمائی کے لئے پیش
ایک غزل، تبصرہ، تنقید اور اصلاح کے لیے،'' آئنہ آنکھو، مرا عکس وجود''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کی غرض سے ،'' فضول بھی تو نہیں ہے، گلوں کا کھل جانا''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کی غرض سے،'' اُس سے ملنے کی، نہ پھر دید کی حاجت ہی رہی''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کی غرض سے،'' بنا دینا اُسے چندا، مجھے تارا بنا دو، پھر''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کی غرض سے،'' ہنگامہء محشر ہے؛؛
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کیلئے،'' بدنام ہو چلا ہوں، مگر نام ہے مرا''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کیلئے،'' نہ پوچھو ذات، سب مٹی''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کیلیے،'' اک تمنا کی جستجو ہاری ''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہ نُمائی کیلئے،'' درد ہو، جانکنی کا عالم ہو''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' اب کسی راہ پر خیال چلے''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' بندھ باندھے ہوا کے رستوں پر''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،۔؛؛ کچھ نہ کچھ ہو تو مرے ہاتھ، نہ خالی جاؤں؛؛
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے، ''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،'' بن کے خوشبو کی ہی تمثیل، چلو رقص کریں''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،'' بھلائی جان کے بھر دو ایاغ، پیتے ہیں''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کے لیے،'' بادل کی طرح چھائے، پر چھاو تو برسو بھی''
ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنُمائی کے لیے،'' ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا''
ایک غزل،'' آ گئی ہے بہار آو تو '' اصلاح کے لئے پیش ہے
ایک غزل،'' منہ سے نکلی تھی، کہاں بات گئی ہے دیکھو ''
ایک غزل،'' وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں ''
ایک غزل،'' وہ ستمگر مری بانہوں میں سمٹنے آیا'' از: محمد اظہر نذیر
ایک غزل،'' وہ یہاں تھا، نہیں بھی تھا ویسے''
ایک غزل،'' پیار اُس بے وفا سے کرنا تھا ''
ایک غزل،'' چھوڑ دی ہے تمام تر اُلفت''
ایک غزلِ مسلسل ...وہ خلوت میں جب سے ہیں آنے لگے...!
ایک فارسی غزل (کوئی فارسی بان اس کی اصلاح کردے)
ایک فٹا فٹ غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،''
ایک قطع
ایک قطع مجھے تعمیر کرنا ہوگا تم کو
ایک قطعہ
ایک قطعہ
ایک قطعہ
ایک قطعہ
ایک قطعہ برائے اصلاح
ایک قطعہ تمام اساتذہ کرام کے اعزاز میں
ایک قطعہ پیش کرنے کی جسارت
ایک قطعہ۔۔۔!
ایک لفظ کا مطلب چاہیئے۔۔۔
ایک مختصر نظم،'' مشابہت''
ایک مختصر نظم،''دسمبر مختصرا''
ایک مختصرغزل
ایک مزاحیہ نظم اصلاح و آراء کیلئے،'' اگر لکھ پڑھ بھی میں لیتا''
ایک مزید غزل "شاہدِ نورِ طور کیا جانیں"
ایک مزید غزل برائے اصلاح "گھر کا دروازہ کھلا رہتا ہے"
ایک مشکل سی ہے کسانوں پر (اصلاح)
ایک مصرعے کی تقطیع درکار ہے
ایک مطلع
ایک معصوم سی نظم،'' نقاب''
ایک مناجات : اساتذہ کرام سے توجہ کی گزارش ہے۔
ایک منظوم افسانہ، ایک نظم کہئے،'' وقت کہانی'' تنقید، تبصرہ اور اصلاح کی غرض سے
ایک موضوع، غزل اور نظم، دونو کی صورت میں، اساتذہ کی توجہ کے لیے۔''لفظ روتے جا رہے ہیں''
ایک مُسکراتی ہوئی غزل،'' بات بھی چلتی رہی'' تبصرہ، تنقید اور اصلاح کی غرض سے
ایک میٹھی سی غزل ،'' دل اے نادان، کھلونے میں دلا دوں گا تُجھے'' تنقید، تبصرہ اور اصلاح کیلئے
ایک میٹھی سی غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے، چھپا کر فائدہ کیا، کہ کے دیکھیں''
ایک نئی بحر کا تجربہ اور میری تک بندیاں
ایک نئی غزل اصلاھ کے لئے۔۔ عکس ہے یار کا، سینے میں چھپا رکھا ہے !
ایک نئی کاوش برائے اصلاح
ایک نئی کاوش برائے اصلاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
ایک نئی کاوش، '' نہیں رہ پاتی'' اصلاح کی درخواست کے ساتھ
ایک ناتمام غزل کے چند اشعار بغرضِ اصلاح
ایک نامکمل غزل - تقظیع کی مشق جاری ہے
ایک نظر ادھر بھی
ایک نظر ادھر بھی ۔۔۔۔ اصلاح کی درخواست
ایک نظم
ایک نظم
ایک نظم --- (محبت)
ایک نظم بغرضِ اصلاح
ایک نظم "خواب" برائے اصلاح پیش خدمت ھے
ایک نظم '' جاگو پاکستانیو ''
ایک نظم ،'' اب کیا کہئے''
ایک نظم ،''انجان''
ایک نظم آپ کی آراء، تنقید و تبصرہ کیلئے۔'' ناراض''
ایک نظم اصلاح کی غرض سے پیش ہے،'' گُل اور کلی'' اساتذہ توجہ فرماءیں
ایک نظم اصلاح کے لیے پیش ہے
ایک نظم برائے اصلاح
ایک نظم برائے اصلاح
ایک نظم برائے اصلاح
ایک نظم برائے اصلاح --- علمُ البیاں کی نعمت ملی ہے
ایک نظم برائے اصلاح و تنقید- تری یاد یں
ایک نظم برائے اصلاح و تنقیدی جائزہ
ایک نظم برائے اصلاح'' آذادی '' از محمد اظہر نزیر
ایک نظم برائے اصلاح'' سارے موسم ہی میرے جھوٹے ہیں'' از محمد اظہر نزیر
ایک نظم برائے اصلاح'' پتی پھول کی '' از محمد اظہر نزیر
ایک نظم برائے اصلاح--
ایک نظم تنقید و تبصرہ کیلئے،'' اکھیوں میں آنسو مت دینا''
ایک نظم جھنجھلاہٹ۔۔ Frustration اصلاح کے لئے
ایک نظم حاضر ہے ، '' بال''
ایک نظم لکھنے میں مدد چاہتا ہوں، توجہ کیجیے
ایک نظم میں منظر نگاری
ایک نظم پیش ہے ۔۔۔اساتذہ کی رائے کا متمنی پیشگی شکریہ!
ایک نظم ۔ ۔ ۔
ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
ایک نظم، "بارشوں کے موسم میں" برائے اصلاح
ایک نظم، '' میں تُجھے کھو دوں گا'' تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے
ایک نظم، تتلی،، اصلاح، تبصرے اور رہنُمائی کی غرض سے
ایک نظم، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کے لیے، ''ربڑ''
ایک نظم، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،'' خواب''
ایک نظم،'' اُچھل گیا''
ایک نظم،'' تماشہ'' تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے
ایک نظم،'' خدا کی بستی میں'' اصلاح کے لئے پیش کرتا ہوں
ایک نظم،'' شادی''
ایک نظم،'' لے کے یادیں ساون آیا'' از محمد اظہر
ایک نظم،'' مجھے مت جلانا''
ایک نظم،'' کیسے؟ کہو''
ایک نعت برائے تبصرہ و اصلاح
ایک نعت بغرض اصلاح و تنقید
ایک نعت لکھنے کی کوشش کی ہے،'' گر مدینے قیام ہو جائے '' راہ نمائی اور اصلاح کے لئیے
ایک نمکو بھری غزل اصلاح، تنقید و تبصرہ کیلئے،'' کیا بُرا زن مرید ہوتا ہے''
ایک نمکین سی غزل ایکسٹرا نمکو کے ساتھ،'' فائدہ کیا ہے ایسی سی سی کا''
ایک نیم رسیدہ غزل۔۔۔
ایک پابند نظم بغرضِ اصلاح
ایک پاکستانی - نظم برائے اصلاح
ایک پرانی غزل کچھ رد و بدل کے ساتھ دوبارہ اصلاح کے لیئے پیش ہے
ایک پرانی کاوش برائے رہنمائی
ایک پردیسی کی '''عید''' ۔۔۔۔۔۔عابی مکھنوی
ایک پینڈو نظم،'' پیڑ میرے گاؤں کا''
ایک کاوش
ایک کاوش آپ دوستوں اور بزرگوں کی نظر کرتا ھوں۔برائے مہربانی اصلاح فرمائیں۔
ایک کاوش اصلاح کیلیے،'' زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے ''
ایک کاوش اصلاح کے لیے،ٰٰ کاش احساس کا احساس فنا ہو جائے ٰٰ
ایک کاوش اصلاح، تنقید و تبصرہ کے لئے ،'' صبح امید کی لو کاش در آئی ہوتی''
ایک کاوش برائے اصلاح
ایک کاوش برائے اصلاح،'' سائباں تھے تو مرے سر پہ دکھائی دیتے''
ایک کاوش حاضر خدمت ہے ۔۔ اصلاح پر یقینا خوشی ہوگی
ایک کاوش،''ستم کو دیکھ کے جو چھپ گئے ہو، چپ رہے ہو تم '' اصلاح کے لئے
ایک کاوش۔۔۔برائے اصلاح۔۔۔محترم جناب الف عین صاحب سے نظرِ کرم کی درخواست ہے۔
ایک کاوش۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
ایک کلام براے اصلاح "جو سرِ میداں سرِ زینبؑ سے چادر لے گئے"
ایک کوشش اور۔۔
ایک کوشش:پردہ کیا کریں
ایک کہانی
ایک کیوٹ سی نظم اصلاح کے لیے،'' ملتے جلتے اک دن آنا۔ کہ دینا''
ایک گیت اصلاح ، رہنمائی کیلئے،'' چاند چہرہ، وہ جھیل سی آنکھیں''
ایک گیت اصلاح کا طالب ہے
ایک گیت کہیے نظم کہیے، '' آؤ موسم اچھا ہے''
ایک ہلکی پھلکی سی غزل، اصلاح، تنقید و تبصرہ کے لیے،'' اُس سے ملنا کمال ہو جائے''
ایک ہلکی پھلکی سی معصوم سی نظم،'' آو باتیں کرتے ہیں''
ایک ہلکی پھُلکی سی غزل، تنقید و تبصرہ کیلئے،'' بادل ، چندا، آنکھ مچولی''
ایک ہلکی پھُلکی سی نطم، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' تُم''
ایک ہلکی پھُلکی سی نظم،'' عورت مرتی جائے''
ایک ہنوز نا تمام غزل
ایک ہی شعر کہا وہ بھی خدا جانے صحیح کہ غلط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ دیکھ لیجئے۔
ایک ہی شعر!!!
اے تُرکِ غمزہ زن کہ مقابِل ہے جلوہ گر
اے خدا تیرے در پر میں آتا رہوں
اے خدایا مجھ کو جینا تُو سکھا دے---حمد--برائے اصلاح
اے مرے ہم سخن اے مرے ہم نشیں
اے مرے ہم سخن اے مرے ہم نشیں
اے کاش میرا اتنا تُو رازداں نہ ہوتا---برائے اصلاح
اے خُدا میں کہوں تجھے کیسے!
اے رب کے پیاروۙ! (نظم)
اے زیست تری راہ میں حائل تو نہیں ہوں!
اے ساقیِ میخانہ!
اے صنم مجھ پہ یہ عطا ہی سہی - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
اے صنم، تیرا بدلنا دیکھا ۔ برائے اصلاح، تنقید، تبصرہ
اے عشقِ نامراد وفائیں کدھر گئیں - فرحان محمد خان
اے ماں! تڑپ رہا ہوں
اے مسیحا ئے زمانہ !
اے مومنو مُبارک رمضان آگیا ہے غزل نمبر 142 شاعر امین شارؔق
اے میرے غم گسار ! مجھے کچھ نہیں پتا : غزل برائے اصلاح
اے میرے فلسطین میرے وطن
اے پیاری ماں! (نظم)
اے چاند میرے گھر میں کسی شب اتر کے دیکھ
اے کاش تیرے دُکھی دل۔۔۔۔بصد احترام اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہے
اے کاش کہ پہلے بار میں درست ہو جئئے، آپ کی توجہ کے لیے آستاد محترم
با محاورہ غزل غالب مرحوم صاحب کی روح سے معذرت کے ساتھ غزل نمبر 31 برائے تفریحِ طب شاعر امین شارؔق
بات الفت کی مرے یار چھپائے رکھنا
بات سننا بھی ان کو گراں ہو گیا----برائے اصلاح
بات ہوتی ہے دلوں میں ،جان لیتا ہے خدا--برائے اصلاح
بات آکے یہاں پہ رُکتی ہے (غزل)
بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
بات تشنہ لبی کی تو ہے ہی نہیں
بات جب حد سے گزر جائے گی
بات کریں
بادشاہی کا شوق سب کو ہے سخت
بادل غموں کا ہم پر کیسا یہ چھا گیا ہے----براءے اصلاح
بادیدہ پرنم ہوں چلا ان کے شہر کو
بار یادوں کا ہی سجاد اٹھا لاتے ہو
بارش
بارش آئی از محمد خلیل الرحمٰن
بارش ہوئی تو گرد کے بگولے خاک ہو گئے
بارشوں کے موسم میں
بارشوں کے موسم میں... براہ اصلاح
بارہواں کھلاڑی
بازارِ حُسن آج سرِ عام لگ گیا ہے غزل نمبر 61 شاعر امین شارؔق
باعثِ درد جو سینے میں سسکتی ہے غزل
باغ خوشبو یہ سب تمہارے ہیں۔ اصلاح
باقی
باقی نامہ
بانہوں میں یوں وہ حسن کا پیکر پڑا رہا-ملک عدنان احمد
بتاؤ کیوں ہے یہ چپ اتنی گہری- برائے اصلاح
بجلی (نظم برائے اصلاح)
بحر رمل مثمن محذوف۔۔خُود فَریبی کے تصوّر سے نِکل کر ہم چلے
بحر بتائیے
بحر بتائیے
بحر بتائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحر خفیف
بحر خفیف میں ایک کوشش،،اصلاح فرمائیے
بحر رمل مثمن مشکول پر ... ایک غزل اصلاح کے لیے
بحر رمل مسدس محذوف۔ غزل اصلاح کے لئے
بحر متدارک۔۔۔رہنمائی درکار ہے
بحر مضارع۔ غزل اصلاح کے لئے.۔۔
بحر وافر سالم
بحر کا تعین
بحر کا نام اور تقطیع کیا ہوگی ؟؟
بحر کی تبدیلی کے بعد
بحر کی نا سمجھی
بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
بحر ہزج مثمن سالم میں تازہ کلام اصلاح اور تنقید کے لیے
بحر ہزج میں مری پہلی کوشش -- کاشف
بحر ہندی سے متعلق چند سوالات
بحر ہندی میں تازہ غزل۔۔۔رات میں خود سے باتیں کر کے نہر درد کی جاری کی ! -- برائے اصلاح
بحروں کےجدول
بحرِ رمل
بحرِ طویل
بحرِ متدارک کے بارے میں۔۔۔
بحرِ ہندی میں ایک غزل ۔۔ اصلاح کے لئے
بحریں
بحور الشعر ۔ عربی اشعار کے ساتھ
بد خو نہیں ہوں پھر بھی ہوں بد نام جہاں میں : غزل براہ اصلاح
بدل پائے جسے تدبیر، وہ تقدیر ہی کیا ہے؟ اور تین قطعات برائے تنقید
بدل کے بھی روش ، اکتا رہی ہے۔۔۔برائے اصلاح
بدلے ہیں میرے شہر کے حالات دیکھئے-----برائے اصلاح
بدنصیبی نے پلٹ کر نہیں دیکھا مجھ کو
برآے اصلاح
برئے اصلاح : محبت ایک صحرا ہے جہاں دیوانے رہتے ہیں
برا ہِ کرم تقطیع کر دیں
براءے اصلاح و تنقید.تری زلف جب سے ہے زنجیرِ پا
برائی مہربانی اصلاح کریں
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح (محبّت کہاں ہے )
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح ....مجھے تو وقت نے تھمنے کا حوصلہ نہ دیا
برائے اصلاح:مہتاب آنکھ کھولے گا راتوں کی گود میں
برائے صلاح
برائے ا
برائے ااصلاح
برائے اساتذہ
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح
برائے اصلاح و مشورہ ۔۔۔۔ایک غزل
برائے اصلاح (الٹ پلٹ ہوئی دنیا - بسبب کرونا وائرس)
برائے اصلاح (غزل)
برائے اصلاح -جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے
برائے اصلاح : جنونِ عشق کو سر میں سمائے پھرتا رہتا ہوں : از: ایم اے راجا ؔ
برائے اصلاح شاعری ۔۔ مجھ پر آتی ہیں مصیبتیں اس لیے مکرر
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح " ایک عالم ہے بے قراری کا"
برائے اصلاح " شاپریتِ دوم"
برائے اصلاح " ڈھونڈیں بھی تو اس شخص سا اب کوئی کہاں ہے "
برائے اصلاح " ہر شام کی قسمت میں سویرا نہیں ہوتا "
برائے اصلاح " ہے سکوت رو رہا ، کوچہ ویران بھی
برائے اصلاح "فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن"
برائے اصلاح "فاعلاتن فاعلاتن فاعلن"
برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
برائے اصلاح "فعولن فعولن فعولن فعولن"
برائے اصلاح "مفاعیلن مفاعیلن فعولن"
برائے اصلاح ( بحر رمل )
برائے اصلاح ( بحرِ رمل)
برائے اصلاح ( بحرِ رمل)
برائے اصلاح ( بحرِخفیف )
برائے اصلاح ( فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
برائے اصلاح ( فاعلاتن فعلاتن فعلن)
برائے اصلاح ( فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن )
برائے اصلاح ( مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)
برائے اصلاح ( مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن)
برائے اصلاح ( مفعولن فاعلن فعولن)
برائے اصلاح ( مفعولن فاعلن فعولن)
برائے اصلاح (اک حقیقت یا فسانہ زندگی)
برائے اصلاح (بحر خفیف)
برائے اصلاح (بحر رمل)
برائے اصلاح (بحر رمل)
برائے اصلاح (بحرِ خفیف)
برائے اصلاح (بحرِ خفیف)
برائے اصلاح (بحرِ رمل)
برائے اصلاح (بحرِخفیف)
برائے اصلاح (شکیل احمد خان)
برائے اصلاح (غزل)
برائے اصلاح (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
برائے اصلاح (فاعلاتن فاعلاتن)
برائے اصلاح (فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن)
برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
برائے اصلاح (فاعلن مفاعیلن)
برائے اصلاح (فاعلن مفاعیلن۔۔۔۔ ہزج مربع اشتر)
برائے اصلاح (فعلن فعولن فعلن فعولن)
برائے اصلاح (فعلن فعولن فعلن فعولن)
برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
برائے اصلاح (مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن)
برائے اصلاح (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
برائے اصلاح (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
برائے اصلاح (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
برائے اصلاح (مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)
برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)
برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)
برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)
برائے اصلاح (مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن)
برائے اصلاح (مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن)
برائے اصلاح (مفعولن فاعلن فعولن)
برائے اصلاح (نظم-3)
برائے اصلاح - - جو تیرے در کا ہوا نہیں ہوں
برائے اصلاح - آپ ہیں گو خوب لیکن خوب تر کہلائیے
برائے اصلاح - اجالوں میں اندھیروں کو نکھرنا خوب آتا ہے
برائے اصلاح - اساتذہ کے پیشِ نظر
برائے اصلاح - اُن کو دیکھنے سے پہلے، ہاتھوں سے دل کو تھام لیا
برائے اصلاح - اک پھول کل چمن میں کہنے لگا خزاں سے
برائے اصلاح - بات کہنے کو یوں تو بیاں ہو گئی
برائے اصلاح - بھوک اور افلاس سے انسان جب مرنے لگے
برائے اصلاح - بہت شکریہ!
برائے اصلاح - بے رنگ بھی تو رنگ ہے گو خوشنما نہیں
برائے اصلاح - تجھے اپنی اگر تخلیق کا مقصد نہیں معلوم
برائے اصلاح - تیری یادوں سے تیرہ ماضی کا
برائے اصلاح - تیرے بنا کیا جیون تھا
برائے اصلاح - جو بھی کرتے ہو وہ تم سب سے جدا کرتے ہو
برائے اصلاح - حصارِ جسم سے باہر نکلنا چاہتا ہوں میں
برائے اصلاح - رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے
برائے اصلاح - زندگی اس مے کدے کا نام ہے
برائے اصلاح - زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے
برائے اصلاح - ساقی کی اک نظر سے وہ منظر بدل گیا
برائے اصلاح - سلام حسین پاک ۔ فعولن مفاعیلن فعولن مفاعلن
برائے اصلاح - سورت الکافرون منظوم ترجمہ
برائے اصلاح - عجب ہے
برائے اصلاح - غیر کے ہاتھوں میں جب ہم نے تھما دی زندگی
برائے اصلاح - فلسفیؔ تجھ پہ ترس آتا ہے
برائے اصلاح - فلسفیؔ تیرے شہر کے عاشق
برائے اصلاح - فن شعر و شاعری کا تخیل کی جھیل ہے
برائے اصلاح - لے کر گئے تھے مجھ سے جو اس دل کا کیا ہوا؟
برائے اصلاح - مجبوریوں کے نام پہ حسرت کمائے گی
برائے اصلاح - مجھے ایسے اکیلا چھوڑ جانا کیا ضروری تھا؟
برائے اصلاح - مسکراتے دفن ہو جائیں گے افسانوں میں ہم
برائے اصلاح - مشرکوں کی سمجھ میں یہ آتا نہیں
برائے اصلاح - میں یہ کیسی حماقت کر رہا ہوں
برائے اصلاح - نئے دور کا "بلبل کا بچہ" (نظم)
برائے اصلاح - نیند ان آنکھوں سے دور رہتی ہے
برائے اصلاح - وہ اک تازہ غزل تھی، فلسفیؔ نے خود سنانی تھی
برائے اصلاح - ٹوٹا ہے دل ہمارا مگر تیرا کیا گیا
برائے اصلاح - کبھی جب ہجر کے لمحوں میں سورج جگمگائے گا
برائے اصلاح - ہجر کے لمحے محبت کی سزا بن کر ملے
برائے اصلاح - ہم شہر بھر میں خود کو، بدنام دیکھتے ہیں
برائے اصلاح - ہم یوں اپنا خیال رکھتے ہیں
برائے اصلاح - ہمارے دل میں رہنا تھا جو بیگم تم اکیلی کو
برائے اصلاح -- بظا ہر جو لگتا ہمیں اجنبی ہے
برائے اصلاح ---------- اِس مطلبی جہاں کے سب یار ہیں عبث ---- از : manjoo
برائے اصلاح ...... رسنے لگا ہے.
برائے اصلاح :
برائے اصلاح : آنکھوں میں مستیاں ہی
برائے اصلاح : ایک نظم ،'' پہلی ملاقات'': از: محمد اظہر نذیر ؔ
برائے اصلاح : وہ جو سادہ اور بڑا معصوم ہے
برائے اصلاح : کوئی تھا دوست مِرا اور کوئی دشمن تھا
برائے اصلاح : کیوں لڑنے سے پہلے خفا ہو گیا ہے
برائے اصلاح : Advise
برائے اصلاح : آساں ہے دلِ ماہئ بے آب میں رہنا
برائے اصلاح : آغوش تھی اماں کی فردوسِ بریں میری
برائے اصلاح : اب بھی تم میری ہو نا ؟
برائے اصلاح : ابھی ہے ابتدائے عشق ، مَیں فنا نہیں ہوا
برائے اصلاح : اس ایک بات کا اب تک مجھے بہت غم ہے
برائے اصلاح : اشرف ایک سُخن وَر ہے
برائے اصلاح : اُسے بتایا بھی تھا ، اُس کو چاہتا ہوں میں (٣)
برائے اصلاح : اٹھا کر قلم غم مرے نام لکھ دے : از : ایم اے راجا ؔ
برائے اصلاح : اگر وہ تیرا دیوانہ نہیں ہے
برائے اصلاح : ایک طرف (١/٣)
برائے اصلاح : ایک طرف (٣/٣)
برائے اصلاح : ایک طرف (۲/٣)
برائے اصلاح : ایک غزل،'' میں تو پاگل ہوں ، ذرا دیر گوارا کرنا '' محمد اظہر نذیر
برائے اصلاح : اے گل بدن اے نازنیں دیکھا نہیں تجھ سا کہیں
برائے اصلاح : بہت دنوں سے کسی شخص سے خفا ہوں میں (١ )
برائے اصلاح : ترے کلام میں اشرف اگر نیا پن ہے
برائے اصلاح : تصویر
برائے اصلاح : تمہارا جب بھی کرے جی ، مجھے بھلا دینا
برائے اصلاح : توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے
برائے اصلاح : جاری ہے اب تک
برائے اصلاح : جتنا سمجھا تھا مجھے اس نے برا، اتنا نہ تھا
برائے اصلاح : جنہیں ادب سے ہم اٹھ کر سلام کرتے ہیں۔
برائے اصلاح : خواہش
برائے اصلاح : درد حد سے گزر گیا ہے کیا
برائے اصلاح : درد پہچان ہی لیا جائے
برائے اصلاح : دل نہ بن جائے
برائے اصلاح : دکھائی دے
برائے اصلاح : سبھی جانتا ہوں یہ سمجھانا چھوڑو
برائے اصلاح : سرِ مصلّۂ مسجد پسِ سجود و قیام
برائے اصلاح : سنا ہے تم دل کے اچھے ہو
برائے اصلاح : سنا ہے تٗو ہے سیدھی سادی ، شہزادی !
برائے اصلاح : سُنا ہے ! اپنا ٹھکانہ بدل رہا ہے وہ ( ۲ )
برائے اصلاح : غزل ۔۔۔ الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ : از : محمد ذیشان نصر ؔ
برائے اصلاح : غزل ۔۔۔ محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا۔ از : محمد ذیشان نصر ؔ
برائے اصلاح : غزل: خوابوں کو عذاب ہونے میں دیر کتنی لگتی ہے : از : فیصل کمال ؔ
برائے اصلاح : فردوس کی چاہت سے مربوط عبارت ہو
برائے اصلاح : مجھ سے ہر حال میں کرتے ہیں عداوت اپنے
برائے اصلاح : مجھے عزیز ہے وہ شخص میری جاں کی طرح
برائے اصلاح : محبت سے کنارہ کر لیا جائے : از : ایم اے راجا ؔ
برائے اصلاح : محفل میں تیری دیکھا کوئی آنکھ نم نہیں ہے
برائے اصلاح : موسم ہے (کرونا وائرس کا دور)
برائے اصلاح : میری ہوئی ہیں اس لئے ہی کرچیاں بہت
برائے اصلاح : میں کیسے بھلا چھوڑ دوں اُس شخص کو اشرف !
برائے اصلاح : نظم " کنکشن "
برائے اصلاح : وہ میری جان تھی ، مَیں اُس کے دل کی دھڑکن تھا
برائے اصلاح : وہ کم سے کم یہ ایک تو احسان کر گیا
برائے اصلاح : پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا
برائے اصلاح : کس دن تِرے خیال میں کھویا نہیں گیا
برائے اصلاح : گلے لگا کے مجھے ، میرے دوستاں کی طرح
برائے اصلاح : گھڑی
برائے اصلاح : ہم کسی اور سے الفت نہیں کرنے والے
برائے اصلاح : ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے
برائے اصلاح : یارب نہ کوئی دیکھے ان کو بری نظر سے
برائے اصلاح : یوم آزادی کے موقع پر ایک نظم : از: محمد ذیشان نصر ؔ
برائے اصلاح : یوں کب تک انتظار اس کا کرو گے
برائے اصلاح : یہ مانتا ہوں کوئی سمندر نہیں ہوں میں
برائے اصلاح : یہ کیا ہو رہا ہے
برائے اصلاح : یہاں اکثر ملا صاحب
برائے اصلاح :: کلام عبدالرزاق :: از: عبدالرزاق قادری ؔ
برائے اصلاح :آنا اپنی مٹانے جا رہا ہوں۔
برائے اصلاح :اگر وہ چاند مل جائے ستارے چھوڑ دیں گے ہم
برائے اصلاح :بہت ہی فہم و فراست کی بات کرتے تھے
برائے اصلاح :بے وجہ ترک نہ دیرینہ رفاقت کرتے
برائے اصلاح :تھا پیار ان سے مگر کچھ انہیں بتا نہ سکے
برائے اصلاح :تیری تصویر جب نظر آئی
برائے اصلاح :جبیں سے اپنی زلفیں تو ہٹا دیدار کرنا ہے
برائے اصلاح :جس کے رستے میں سدا ہم نے بچھائی آنکھیں
برائے اصلاح :دہر والوں نے بہت حشر اٹھا رکھا ہے
برائے اصلاح :زندگی روز سبق مجھ کو نیا دیتی ہے
برائے اصلاح :میں تو جگنو ہوں اندھیرے سے گزر جاؤں گا
برائے اصلاح :نظم آمد
برائے اصلاح :نظم آرزوئیں
برائے اصلاح :وہ روگ عمر بھر کا لگا کر چلا گیا
برائے اصلاح :وہ نشاں اپنے زمانے سے مٹا دیتی ہے
برائے اصلاح :وہ ہیں کہ انہیں ہم سے محبت نہیں ہوتی
برائے اصلاح :کبھی آنکھوں کبھی سینے سے لگا رکھتا ہوں
برائے اصلاح :کبھی ہماری جو بستا تھا یار آنکھوں میں
برائے اصلاح :ہم تری یاد کو چپکے سے بلا لیتے ہیں
برائے اصلاح :ہمارے شہر سے وہ جب گزرنے لگتے ہیں۔
برائے اصلاح §
برائے اصلاح ، بس تری باتیں کی ہیں
برائے اصلاح ، تضمین بر نعتِ امام ، لَم یَاتِ نَظِیرُکَ
برائے اصلاح اساتذہ کی خدمت میں اک غزل
برائے اصلاح اساتذہ کیلیے
برائے اصلاح اور مشورہ ااپنی تازہ غزل پیش کر رہا ہوں
برائے اصلاح ایک مطلع
برائے اصلاح جو راز ہم سے چھپائے تھے حسن والوں نے
برائے اصلاح شکریہ
برائے اصلاح غزل 2
برائے اصلاح محترم اساتذہ زبان
برائے اصلاح منظوم ترجمہ
برائے اصلاح نظر کرم فرمائی جائے شکریہ ۔۔۔۔۔پہلے سے زیادہ بہتر دے
برائے اصلاح و آراء
برائے اصلاح و آراء
برائے اصلاح و تجویز ایک مطلع ۔۔۔
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید
برائے اصلاح و تنقید "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"
برائے اصلاح و تنقید ( غزل 66)
برائے اصلاح و تنقید (،غزل 34)
برائے اصلاح و تنقید (رمضان آ رہا ہے)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 34)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 35)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 36)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 37)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 38)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 39)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 40)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 41)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 42)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 47)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 48)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 49)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 50)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 51)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 52)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 53)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 54)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 55)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 56)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 57)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 58)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 59)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 60)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 61)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 62)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 63)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 64)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 65)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 67)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 68)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 69)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 70)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 71)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 72)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 76)
برائے اصلاح و تنقید (غزل 77)
برائے اصلاح و تنقید (غزل)
برائے اصلاح و تنقید (غزل- 73)
برائے اصلاح و تنقید (غزل-54)
برائے اصلاح و تنقید (غزل27)
برائے اصلاح و تنقید (غزل28)
برائے اصلاح و تنقید (غزل30)
برائے اصلاح و تنقید (غزل31)
برائے اصلاح و تنقید (غزل32) بڑی دیر سے چپ ہوں
برائے اصلاح و تنقید (غزل33)
برائے اصلاح و تنقید (غزل۔ 74)
برائے اصلاح و تنقید (غزل۔43)
برائے اصلاح و تنقید (غزل۔75)
برائے اصلاح و تنقید (میں، تم اور شاعری)
برائے اصلاح و تنقید (نظم 1)
برائے اصلاح و تنقید (نظم 2)
برائے اصلاح و تنقید - دل تو ہے جلانے کو
برائے اصلاح و تنقید - کہا تم سے بهی کچھ نہیں جاتا
برائے اصلاح و تنقید - ہے زندگی میں موڑ یہ آتا کبهی کبهی
برائے اصلاح و تنقید - یہاں زندگی کا کیا حال ہے
برائے اصلاح و تنقید: نظم۔۔۔ 2013
برائے اصلاح و رائے
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و رہنمائی
برائے اصلاح و مشورہ ۔۔۔
برائے اصلاح ورہنمائی
برائے اصلاح چند مزید اشعار
برائے اصلاح کچھ اشعار
برائے اصلاح کچھ لائینیں
برائے اصلاح ۔ اب جو لے کر پگار اٹھتا ہے
برائے اصلاح ۔ دوستو! رمضان کا پیارا مہینہ آ گیا
برائے اصلاح ۔ سنتا ہے اور کون مرے ہم نفس، پکار
برائے اصلاح ۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن
برائے اصلاح ۔ فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
برائے اصلاح ۔ مری حقیقت ہے اک معمہ
برائے اصلاح ۔ مفاعیلن مفاعیلن
برائے اصلاح ۔ مفاعیلن مفاعیلن فعولن
برائے اصلاح ۔ وہ عجزِ نظر ہے کہ دکھائی نہیں دیتا
برائے اصلاح ۔ پتہ نہیں کیا ہے!
برائے اصلاح ۔۔نظم (روحِ عریاں)
برائے اصلاح ۔۔۔
برائے اصلاح ۔۔۔ ایک غزل
برائے اصلاح ۔۔۔۔
برائے اصلاح ۔۔۔۔قاتل بھی وہ، ظالم بھی وہ، لیکن وہی دم ساز
برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے خدا ناخدا ہر نظر ہے یہاں
برائے اصلاح ۴ مصرعے حاضر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برائے اصلاح"کنجِ زنداں سے جدا شہرِ ستم گار نہیں"
برائے اصلاح(بحرِ رمل)
برائے اصلاح(نظم)
برائے اصلاح- اور ہے شہرِ بدگمان میں کیا؟
برائے اصلاح- ہیں سبھی مجھ سے خفا اب مرے غم خوار سمیت
برائے اصلاح-غزل-ہوئی نہ سیرِ گلستاں سے دردِ دل کی دوا
برائے اصلاح-کیا ہے جھپٹنا، کیسا پلٹنا، بھو ل گئے
برائے اصلاح. کیا کوی ہماری بھی رہنمای کرے گا
برائے اصلاح... انساں
برائے اصلاح....
برائے اصلاح.........احساس نہیں ہے
برائے اصلاح........ایک شعر
برائے اصلاح......تین شعر
برائے اصلاح......چند اشعار
برائے اصلاح.....احساس
برائے اصلاح.....ذرا جو تم سے کلام ہوتا
برائے اصلاح.....شعر
برائے اصلاح....ایک شعر
برائے اصلاح....ایک شعر
برائے اصلاح....ایک غزل
برائے اصلاح....تو پھر اظہار مت کرنا
برائے اصلاح...اک خیال
برائے اصلاح...ایک شعر
برائے اصلاح...ایک شعر
برائے اصلاح...تین شعر
برائے اصلاح...فاصلوں سے کہہ دو نا
برائے اصلاح...لمحے
برائے اصلاح...پہلے آنکھوں میں خواب اترے ہیں
برائے اصلاح..واہ ری تیرے کیا کہنے
برائے اصلاح2
برائے اصلاح:
برائے اصلاح:
برائے اصلاح: تِرے فراق میں بڑھتا ہوا ملال ختم
برائے اصلاح: دو پھول میری لاش پر اچھال کر چلا گیا
برائے اصلاح: سویا نہیں گیا
برائے اصلاح: مدہوشیِ دل کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
برائے اصلاح: نظامِ دہر میں ہر خاص و عام ننگا ہے
برائے اصلاح: کچھ اپنے درد ہیں جو دل کی ویرانی میں رہتے ہیں
برائے اصلاح: ہم کہ شامل تو عاشقان میں ہیں
برائے اصلاح: ہمیں کہا، نہ اُسے کوئی پی پلا کے ملے
برائے اصلاح: "سیدھا پہن لیا کبھی الٹا پہن لیا"(پیروڈی)
برائے اصلاح: آغوشِ زندگی میں تمنا ہوا کرے
برائے اصلاح: آنکھوں نے جو اک چہرہ تکا دل میں ہوا غدر
برائے اصلاح: آپ اگر بوٹ کی کمان میں ہیں
برائے اصلاح: آپ سے صرف سدا ہم نے محبت کی ہے
برائے اصلاح: آگ ہوتی ہے جہاں پر بھی دھواں ہوتا ہے
برائے اصلاح: اب مجھے تم سے دور جانا ہے
برائے اصلاح: اس نے مرے دشمن سے ملنے کا اعادہ کر دیا
برائے اصلاح: اس نے کس دل سے مرا عکس جلایا ہو گا
برائے اصلاح: اس کو مَے خانے میں پا یا تو کئی بار گرے
برائے اصلاح: انجانے میں اس شخص سے جب آنکھ ملا لی
برائے اصلاح: اُس بن ہزار سال بھی گر ہم جئیں تو کیا
برائے اصلاح: اُسے ملتے ہی میری بے زبانی ختم ہوتی ہے
برائے اصلاح: اٹھارہ سال کے ہیں ہم سفید بال ہوئے
برائے اصلاح: اپنا سٹیشن آنے پر سب لوگ جاتے ہیں اتر
برائے اصلاح: اپنوں سے جُدا میں ہوا جس یار کی خاطر
برائے اصلاح: اک نظر اس کی ہے کافی مجھے میخانے میں
برائے اصلاح: ایطا کا شکار ایک غزل کی درستگی
برائے اصلاح: ایک غزل
برائے اصلاح: بدنام نہ ہو جائے وُہ، دیکھا کرو مقبول
برائے اصلاح: بس اک ذرا سی دیر اس نے ساتھ کیا بٹھا لیا
برائے اصلاح: بس جی رہا ہوں اس لئے کیونکہ مرا نہیں
برائے اصلاح: بس یہی اک تھا مرض شہر کے دیوانے میں
برائے اصلاح: بچھڑ کے اس سے ابھی تک نہ میرا دم نکلا
برائے اصلاح: بہانے یاد ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے
برائے اصلاح: بہشت بھی نہ ملی، جی کے بھی نہ عیش کیے
برائے اصلاح: بے چین رہتے ہیں ترے دیدار کو یہ بحر و بر
برائے اصلاح: تم اس عید پر بھی نہ آؤ گی، ظالم؟
برائے اصلاح: تم نہ ہی ہم سوال کرتے ہیں
برائے اصلاح: تمھیں اپنا بنانا چاہتے ہیں
برائے اصلاح: تمہارے قرب کے لمحات اب اچھے نہیں لگتے
برائے اصلاح: تمہی سےلے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
برائے اصلاح: تو کہیں عیاں تو کہیں نہاں
برائے اصلاح: تُو جن کے ظلم و ستم کی دُہائی دیتا ہے
برائے اصلاح: تِرے ہر حکم کی تعمیل کے بعد
برائے اصلاح: تڑپ تڑپ نہ رہی، پیاس تشنگی نہ رہی
برائے اصلاح: جب رکھ دیا اس نے مجھے جام و سبو کے درمیاں
برائے اصلاح: جتنی پیتا ہوں اب آتی نہیں پیمانے میں
برائے اصلاح: جسم بکنے سرِ بازار نہیں آئے گا
برائے اصلاح: جو اس کے بغیر اور بنا جام کے گذرے
برائے اصلاح: جو بھی حسن کا پیکر ہو گا
برائے اصلاح: جو مری خطاؤں سے در گذر کرے ایسے در کی تلاش ہے
برائے اصلاح: حالات کو بہتر تو کیا، بد سے بھی بدتر کر دیا
برائے اصلاح: حل ہو سکا ہم سے نہ اب تک مسئلہ نور و بشر
برائے اصلاح: خدا کو اپنے کیے کا جواب کیا دیتا
برائے اصلاح: خدایا کب یہ کٹھ پتلی تماشا ختم ہوگا
برائے اصلاح: خموش کر نہیں سکتا کوئی ڈرا کے مجھے
برائے اصلاح: خمیرِ وفا سے اٹھایاگیا ہوں
برائے اصلاح: خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں
برائے اصلاح: خوف اک پیش و پس میں رہتا ہے
برائے اصلاح: خُدا کسی دن تو بھیڑیوں کے نقاب سارے اتار دے گا
برائے اصلاح: دل سے توبہ کرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برائے اصلاح: دل میں سوئے ہوئے جذبوں کو جگا جاؤں گا
برائے اصلاح: دلِ برباد میں ماتم کا سماں رہتا ہے
برائے اصلاح: دو غزلہ ۲
برائے اصلاح: دو غزلہ ۳
برائے اصلاح: دھتکارا سبھی نے تو میں آیا ترے در پہ
برائے اصلاح: دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک
برائے اصلاح: رب سے مرا معاملہ ہے اور طرح کا
برائے اصلاح: زمانے سے کنارا کر لیا ہے
برائے اصلاح: زمیں پہ رہتے رہتے مجھ کو آسمان مل گیا
برائے اصلاح: سب ناگزیر تھے جو پڑے ہیں مزار میں
برائے اصلاح: سکونِ قلب کے لمحوں میں تیری یاد کیوں آئے
برائے اصلاح: شام سے پہلے
برائے اصلاح: شبِ تنہائی کے غمگین کچھ لمحات باقی ہیں
برائے اصلاح: طریقِ عشق پہ ہی اختتام کرتے ہوئے
برائے اصلاح: عاطف یہ بتا اور تجھے کیسا خدا دوں؟
برائے اصلاح: عداوت کے سبھی اک دن پیمبر چھوڑ جاؤں گا
برائے اصلاح: عشق میں اعتدال رکھتے ہیں
برائے اصلاح: عشق کی گھات ابھی باقی ہے
برائے اصلاح: غزل
برائے اصلاح: غم ہوں جتنے، سہار لیتا ہوں
برائے اصلاح: فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
برائے اصلاح: فیصلہ میرے یار نے کتنا عجیب کر دیا
برائے اصلاح: قصیدہ زنگیہ
برائے اصلاح: لینی اگر ہو سانس میسّر ہوا نہیں
برائے اصلاح: مانگوں میں یہ دُعا جو جنت ملے مجھے
برائے اصلاح: متفرق اشعار
برائے اصلاح: مجھ کو اپنا غلام رہنے دو
برائے اصلاح: مجھے پھر ٹالنے کو بات پر وُہ بات بدلے گا
برائے اصلاح: محبت میں کبھی بھی ہم کوئی سودا نہیں کرتے
برائے اصلاح: مخمل کے بستروں میں سکوں کی طلب تجھے
برائے اصلاح: مری پیاسی زمیں کو پیار سے وُہ تر نہیں کرتا
برائے اصلاح: مری دیوانگی کا سلسلہ آگے تو بڑھنا تھا
برائے اصلاح: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
برائے اصلاح: میں جب کسی کو دیکھ لوں تو قہقہے لگاتا ہوں
برائے اصلاح: میں روز خود سے کیے عہد توڑ دیتا ہوں
برائے اصلاح: میں نے حوالے غیر کے اپنا علاقہ کر دیا
برائے اصلاح: میں وُہ پرانا ورق ہوں جو اب نئی کتابوں سے پھٹ چکا ہوں
برائے اصلاح: نئی قدریں نئے معیار بنا دیتا ہے
برائے اصلاح: ندی میں چاند اترتا ہے، تو میں مغموم ہوتا ہوں
برائے اصلاح: نظم انتباہ
برائے اصلاح: نعتیہ اشعار
برائے اصلاح: نگاہِ ناز کو جذبات کا اقرار کرنے دو
برائے اصلاح: نہیں مِل رہا بڑی دیر سے مِری ذات کا ہی پتا مجھے
برائے اصلاح: نہیں کرتا تو کیا کرتا؟
برائے اصلاح: واہ! چلی ہے بس کمال! جس کا نام ہے میٹرو
برائے اصلاح: وُہ کاش مرے کوچۂ بدنام سے گذرے
برائے اصلاح: وُہ بانہوں میں کسی کی ہے جسے بانہوں میں بھرنا تھا
برائے اصلاح: وُہ مجھے سب سے الگ سب سے جدا اچھا لگا
برائے اصلاح: وہ تو انسان تھے کیا سے کیا ہو گئے
برائے اصلاح: وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے
برائے اصلاح: وہ میرے ہاتھ میں جب بھی کلائی دیتا ہے
برائے اصلاح: وہ پہلو میں جو بیٹھا ہو، اشارہ ٹوٹ جاتا ہے
برائے اصلاح: پت جھڑ کے زمانے ہیں، گمگشتہ ٹھکانے ہیں
برائے اصلاح: چاہت سے اپنی خود ہی مُکرنا پڑا مجھے
برائے اصلاح: چاہت کا طلبگار ہے، کشکول ہے خالی
برائے اصلاح: چاہتوں کے عذاب کیوں اترے
برائے اصلاح: چاہے تنکے کا سہی، کچھ تو سہارا ہوتا
برائے اصلاح: کرو کچھ ایسا، شہرِ یار میں درکار ہو جاؤ
برائے اصلاح: کروں فکر کیا گئے وقت کی، مجھے کیاغرض مہ و سال سے
برائے اصلاح: کسی کو سکھ نہ دے پائے، تو ہے وہ کیا جہاں گیری
برائے اصلاح: کسی کی چاہ نہ حرفِ دُعا بناتا ہے
برائے اصلاح: کفن بھی میرا بنے گا کسی کی اترن سے
برائے اصلاح: کوئی بھی راز مرا ، راز کہاں رہتا ہے
برائے اصلاح: کچھ ایسے زندگی کے دُکھ ہیں ،سُنا نہ پائیں
برائے اصلاح: کھوٹے سکّوں میں کوئی کیا دیکھے
برائے اصلاح: کیا سے انسان کو کیا پیار بنا دیتا ہے
برائے اصلاح: گل میں، گلشن میں، بہاروں میں اسے دیکھا ہے
برائے اصلاح: ہائے! کیا رنگ تھے ستمگر کے
برائے اصلاح: ہاتھ خالی لیے جب شام کو گھر جاتا ہوں
برائے اصلاح: ہرچند بہت غم ہیں مگر غم تو نہیں ہے
برائے اصلاح: ہم خود ہی ساقی بن بیٹھے ہم خود بھر لائے پیمانہ
برائے اصلاح: ہم صفتِ خداوندی بھی خوب نبھاتے ہیں
برائے اصلاح: ہم نے کیا زندگی گذاری ہے
برائے اصلاح: ہمیں ڈھونڈے نہیں جا کر کوئی بھی اب امیروں میں
برائے اصلاح: ہمیں کیوں دامِ الفت میں پھنسائے جا رہے ہو تم
برائے اصلاح: ہونے لگی شکست تو مُہرہ بدل لیا
برائے اصلاح: یا تُو خُدا کسی کو نہ صورت لجائی دے
برائے اصلاح: یادِ گزشتگاں کا نمکدان مت اٹھا
برائے اصلاح: یہ تو مقبول ہونا تھا کہ تم مسمار ہو جاؤ
برائے اصلاح: یہ نہیں، کوئی بھی خودسر نہیں دیکھا ہم نے
برائے اصلاح: ۔۔۔ مانگنا اچھا لگا
برائے اصلاح:اداس خود کو کیا دل کو اشک بار کیا
برائے اصلاح:اپنی قسمت سے ہی ہم شکوہ کناں ہیں یارو
برائے اصلاح:حیا نظر میں رہے قلب بے حجاب رہے
برائے اصلاح:خدا کی جس طرح دونوں جہانوں میں خدائی ہے
برائے اصلاح:مت پوچھ ہیں غم کتنے سنبھالے ہوئے ہم لوگ
برائے اصلاح:ٹوٹنا فلک سر پر، آگ زیرِ پا ہونا
برائے اصلاح:ہم سامنے آئیں گے تو کچھ بات بنے گی
برائے اصلاح،،،یہ زمین و آسماں کی بات ہے
برائے اصلاح،علاجِ وہم و گماں لا إله إلا الله
برائے اصلاح؛ کوٹھی میں رہائش نہ بڑی کار کی خاطر
برائے اصلاح؛ ہوتی رہے جو ہوتی ہے برسات، کیا کروں
برائے اصلاح۔ اک ہجومِ رہبراں ہے اور میں ہوں
برائے اصلاح۔ ایک مسلسل غزل
برائے اصلاح۔ تم سے الفت مرے سرکار ہوئی جاتی ہے
برائے اصلاح۔ شکوہ ہے مرے لب پہ جو اک تیرہ شبی کا
برائے اصلاح۔ مری وحشتوں کا کمال ہے
برائے اصلاح۔ معیار کی باتیں کرتے ہو
برائے اصلاح۔ مہرباں حضرات نظر فرمائیں۔
برائے اصلاح۔۔مری پرواز سے آگے فلک ہے
برائے اصلاح۔۔۔
برائے اصلاح۔۔۔تُجھ کو کھویا نہ تُجھ کو پا ہی سکے
برائے اصلاح۔۔۔۔
برائے اصلاح۔۔۔۔
برائے اصلاح۔۔۔۔اے دل ترے حالات تو اب بھی نہیں بدلے
برائے اصلاح۔۔۔۔تم کو چھوڑا ہے تو پھر کوئی سبب تو ہوگا
برائے اصلاح۔۔۔۔۔
برائے اصللاح : یہ غزل ہے کہ آئینہ مقابل میرے: از: زحال مرزا ؔ
برائے اصِلاح: کچھ برا ہی کہیے پر لب تو کھولیے
برائے اِصلاحِ
برائے تبصره و تنقید...
برائے تبصرہ و تنقید.......
برائے تنقید
برائے تنقید
برائے تنقید
برائے تنقید تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح: لذتِ حب خمار سے باہر
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح
برائے تنقید و اصلاح "مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن"
برائے تنقید و اصلاح (غزل 44)
برائے تنقید و اصلاح (غزل 45)
برائے تنقید و اصلاح (غزل 46)
برائے تنقید و اصلاح اپنی ایک نظم پیش خدمت ہے
برائے تنقید و اصلاح.........
برائے تنقید و اصلاح.........
برائے تنقید و اصلاح: میری پہلی پابندِ بحر غزل از دسمبر 10، 2012
برائے تنقید و اصلاح: پھر چمن میں کہیں کوئی کلی مسکائی ہے
برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
برائے تنقید و تبصرہ....
برائے تنقید و مشورہ "جب پاس ہو تو"
برائے تنقید ۔۔۔ اور بھی لاکھ درمیاں تھی بات۔
برائے تنقید: رہبرِ نے سوز پیچھے جو گیا
برائے تنقید: شیشے میں تو جو گردن کے تل کو دیکھتا ہے
برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح
برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح
برائے تنقیدو تبصرہ: شوق وہ ہے کہ انتہا بھی نہیں
برائے رہنمائی۔۔۔
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح
برائے صلاح: حضور آنکھ اٹھاؤ شباب کے دن ہیں
برائے صلاح: قلم کی صورت اپنی جیب میں خنجر لگاتا ہوں
برائے صلاح: پیڑ جس پر ثمر نہیں ہوتا
برائے صلاح:مجھ کو ہوئی اسی سے محبت کمال کی
برائے مہربانی اصلاح کیجئے
برائے مہربانی کوئی بحر میں لا دے؟؟؟ دو شعر۔۔!!
برائے نقد
برائے کرم اصلاح کیجئے۔۔!
برائے یصلاح
برائےاصلاح
براٖے اصلاح و تنقید ۔۔ ایسا نہیں کہ ان کا، مرا رابطہ نہیں
براٸے اصلاح: ساقی نامہ
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح
براہ اصلاح : نظم "سوچ"
براہ اصلاح، غزل ، احباب توجہ فرمائیں
براہ کرم اصلاح فرمائیے
براہ کرم اصلاح فرماہیے
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح
براہِ اصلاح و تنقید
براہِ اصلاح و تنقید
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح
برای اصلاح غزل
برای اصلاح کردن
برایے اصلاح...........مری زرد شام کے ہمسفر
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح
براے اصلاح اک ہاتھ میں تھا برش تو اک ہاتھ میں سگار
براے اصلاح ،، رات کا اندھیرا ہو دور ہی سویرا ہو اک حسین وادی میں چاند کا بسیرا ہو
براےء اصلاح چند شعر
براےَ تقطیع!
برباد کیا خود کوجو پیار کیا ہم نے
برباد گلستاں کرنے کو، صرف ایک ہی الّو کافی تھا، ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا۔
بربریت کی جو دیکھی اک مثال
برستی ہے آتش، ایک غزل عرض ہے۔
بزرگوں سے اصلاح کی امید ہے۔۔۔اصلاح کے لئے غزل پیشِ خدمت ہے
بزم سجانے میں تو پل بھی نہیں لگتا - برائے اصلاح
بزم یار
بزمِ خیال و خواب کو مہکا کہ رکھ دیا
بس میں نہیں یہ میرے کیسے تجھے بھلا دوں
بس اک وہی ہے جو سب کا خیال کرتا ہے ۔
بس کر اب خواب دکھانے والے (بحرِ رمل)
بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بحر اور رباعی کی بحر لا حول و لا قوۃ الا باللہ
بسمل غزلیات میں ایک اور غزل کا اضافہ برائے تنقید:::: کچھ ایسی ہی لگی ہے چوٹ میرے رازِ پنہاں پر
بصورت گنجائش درستگی کی التماس ہے
بغرض اصلاح : ’ شاہینِ ازل ہوں میں‘
بغرض ا صلاح: ’’ وعدۂ وصل کو تم نبھاتے کبھی ‘‘
بغرض اصلاح
بغرض اصلاح
بغرض اصلاح
بغرض اصلاح
بغرض اصلاح
بغرض اصلاح ( یہ یاد عجب شی ہے)
بغرض اصلاح (وُہ عبقری شی بتائیں کیا ہے )
بغرض اصلاح : جان پدر حمدان کے نام :
بغرض اصلاح : ہوگا پہلومیں مِرے ،وہ آفتابی ایک دن
بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘
بغرض اصلاح : ’الفاظ ہو تم میرے ، گفتار و بیاں تم ہو‘
بغرض اصلاح : ’’اشک و خوں دے گیا عمر بھر کے لئے‘‘
بغرض اصلاح : ’’مری شاعری کےحسیں سبب‘‘
بغرض اصلاح ، نعت رسول اکرم ﷺ : ’وہی یاسین و طٰہٰ ہے‘
بغرض اصلاح استاتذہ کی خدمت میں
بغرض اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاعروں کے لیے
بغرض اصلاح: خوشا ہیں عزت مآب زہرا
بغرض اصلاح: شاعروں کے حوالے سے ایک کلام ( پہلا کلام)
بغرض اصلاح: ’روٹھے دلبر کو منائیں دیر تک‘
بغرض اصلاح: ’وہ ضربِ کلیمی ؔ ،خدا تجھ کو بخشے
بغرض اصلاح: ’’مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری‘‘
بغرضِ اصلاح
بغرضِ اصلاح پیشِ خدمت ہے
بقیہ اشعار
بقیہ نظم
بلا عنوان (ایک نظم)
بلا عنوان غزل
بلا عنوان!
بن دعا کے مرا کام چلتا نہیں
بن کر خدا کی رحمت بارات آ رہی ہے---برائے اصلاح
بن ضرورت کے کون آتا ہے
بن وفا زندگی ۔۔۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
بنا کے رب نے جہان سارا یہ حکم اپنا ہمیں سنایا----برائے اصلاح
بنتا نہیں جو میرا اس کو بھلا رہا ہوں------برائے اصلاح
بند کسے کہتے ہیں ؟
بند کاغذ کتاب ہو جیسے -
بول سکھی
بَنیں گے کوئے جاں کی خاک، چھوڑ در نَہ پائیں گے
بُرے انجام کا آغاز ہونے والا ہے غزل نمبر 28 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
بُلبُل
بِن ترے یار کوئی بنایا نہیں
بِن ترے رُک سا گیا دِل ہو ہمارا جیسے غزل نمبر 183 شاعر امین شارؔق
بچوں کی دعا ۔ اصلاح فرمائیں
بچوں کی نظم برائے اصلاح
بچپن کی محبّت کو بھلایا نہیں جاتا
بڑوں سے بڑا ہے مقام محمد
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی---برائے اصلاح
بڑے بے خود ہیں تیرے شہر سے آئے ہوئے بندے
بڑے حوصلے والے استاد صاحب چاہیے ہوں گے کیونکہ بہت غلطیاں ہوں گی اس میں
بکرا عید
بھر لو چاہے جہاں سے مٹھی میں ۔۔۔۔ ایک غزل اصلاح کے لئے۔
بھلا کہوں گا تو سب کو پسند آئے گا
بھنور کی کیا مجال یہ ہمیں ڈبو چلے
بھول جاتے ہیں خطائیں جب کسی سے پیار ہو ---برائے اصلاح
بھول جانا نہ وعدہ جو ہم سے کیا----------برائے اصلاح
بھول جائیں تو ہمیں یاد کرانے لکھنا ----- ایک غزل برائے اصلاح
بھول جاتا ہے بشر نعمتیں اکثر
بھول ہے یہ اِن کی ہم ، پائنچے اُٹھائیں گے۔۔برائے اصلاح
بھولنے کو کہا نہیں کرتے
بھولی نہیں ہے دل سے تیری کبھی جدائی----برائے اصلاح
بھوک دنیا کی مرے دل سے مٹا دے مولا
بھُلا دے اُس کو یہ آساں نہیں ہے (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
بھڑک اُٹھا ہے دل مرا نکل رہی بھڑاس ہے
بہت علم سیکھا ،جہالت نہ نکلی
بہت ہی خستہ ہے حال تیرا----برائے اصلاح
بہت اچھا ہے تو بہت برا ہوں میں
بہت سارے غم زندگی میں اٹھائے (فعولن فعولن فعولن فعولن)
بہت شکریہ یاسر شاہ صاحب
بہت عاجز و مسکیں انسان ہوں میں ۔۔۔ برائے اصلاح
بہت عرصے بعد کچھ اشعار، بہت عرصے بعد حاضری۔۔
بہت چمکا اندھیرے کا میںہونے سے پہلے تک
بہتے ہیں اشک میرے جب سے جدا ہوا ہوں--برائے اصلاح
بہشت سے جو گِرا ہوں سیدھا میں خاک پر
بہن میری میرے خدایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درخواست برائے اصلاح
بیت بازی کے لیے اشعار
بیٹا! فون تو اٹھا :: نظم برائے اصلاح
بیٹھے بیٹھے جو ابھی میں نے یہ بے کار کیا - برائے اصلاح
بیٹی تو تھی خدا کی رحمت۔۔۔
بیچ صحرا سراب سا ہوں میں
بے خوف کر دیا ہے خوفِ خدا نے مجھ کو------برائے اصلاح
بے وفائی نے تیری ستایا بہت----برائے اصلاح
بے آبُرو چاہت کو سرِ شام تو ہونا تھا غزل نمبر 130 شاعر امین شارؔق
بے بسی
بے حیثیتی کا دکھ۔۔
بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا-ملک عدنان احمد
بے درد ظالم حیوان ہیں یہ
بے رخی کام کر گئی جاناں- ملک عدنان احمد
بے رخی ہم سے مراسم غیر سے غزل نمبر 33 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
بے سبب نہیں کُچھ بھی
بے سمتی کے وبال سے آگے نہیں گئے
بے سکوں ہے زندگانی ان دنوں غزل نمبر 91 شاعر امین شارؔق
بے قراری قرار دیتی ہے غزل نمبر 182 شاعر امین شارؔق
بے وزن شاعری
بے وزن شاعری ۲
بے وزن شاعری ۳
بے وفائی تری اور تیرے ستم
بے پروں کی اڑانے والے لوگ--برائے اصلاح
بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
بے کلی کا عذاب کیسا ہے - برائے اصلاح
بےربط بےمحل تحریروں کیلئے اصلاح کی درخواست
تا عمر سفر در سفر ہی رہا میں
تاثیر کچھ نہیں میرے شعر و شرار میں
تاروں بھری ہے رات تری یاد بھی ہے ساتھ
تازہ غزل (برائے اصلاح)
تازہ غزل - برائے اصلاح
تازہ غزل اصلاح کی غرض سے پیش ہے
تازہ غزل برائے اصلاح
تازہ غزل برائے اصلاح
تازہ غزل برائے اصلاح و تنقید
تازہ غزل بغرض اصلاح وتنقید۔۔۔ تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا۔۔۔ محمد ذیشان نصر
تازہ غزل بغرضِ اصلاح و تنقید۔۔۔رہا دربدر پھرا کُو بکُو۔۔۔محمد ذیشان نصر
تازہ غزل! کافی عرصہ بعد کچھ کہا ہے ، اساتذہء فن سے درخواست ہےکہ ایک نظر طائرانہ فرمادیں۔ندیم مراد
تازہ کاوش برائے اصلاح
تازہ کلام
تامل!!
تبصرہ افلاک پر بے خوف کر جاتے ہیں ہم
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا ---- اور میری چیڑ پھاڑ
تجاوز کر جائے تحریرِ تنہائی حاشیوں سے ۔۔۔ برائے اصلاح
تجھ سے بچھڑ کے میری ،ایسے ہے رات گزری---برائے اصلاح
تجھ سے کروں گا پیار ارے بابا نہ بابا---(طوائف کے لئے ) برائے اصلاح
تجھ سے بھلا میں روٹھ کے جاؤں گا اب کہاں۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
تجھ کو ہر طور مرا ساتھ نبھانا ہو گا
تجھے چاہتا تھا میں اپنا بنانا
تجھے بھول جاؤں یہ ہمّت نہیں ہے--برائے اصلاح
تجھے میں نے چاہا بُرا کیا کیا ہے
تحریرِ مقدر پہ قناعت نہیں کرتا
تخالف : مثالوں کا ذخیرہ
تخلص کا لوچا
تخیل میں کوئی خنجر۔۔۔۔۔برائے اصلاح
ترا پیار دل میں بسایا ہوا ہے----برائے اصلاح
ترا پیار پانا مرا امتحاں ہے---برائے اصلاح
ترانے کے لئے بحر کے انتخاب میں مدد درکار۔۔۔
تروینی براہ اصلاح
ترکش کا تیر ہاتھ کا پتھر بڑا ہوا.۔۔ ۔۔۔ غزل برائے اصلاح
ترکِ وفا کی سر گزشت تیرے نام سے تھی
تری اے روٹھنے والے وفا کو یاد کرتا ہوں----برائے اصلاح
تری معصوم صورت کو نگاہوں میں بسایا ہے--برائے اصلاح
تری میں خدایا رضا چاہتا ہوں
تری نظروں کی مستی نے مجھے سب کچھ بھلایا ہے---برائے اصلاح
تری ہے تصویر دل میں میرے اسے میں تجھ سے ملا رہا ہوں-------برائے اصلاح
تری یاد من میں خوشی لے کے آئی------برائے اصلاح
تری بات یاد آ گئی
تری بزم میں ہمیں تھے کہ دوانہ وار آئے
تری بے رخی جو دیکھی، غم دہر کو پکارا
تری بے وفائی سبب میرے غم کا
تری تصویر میں بند آنکھیں بنا دیں میں نے ۔ غزل اصلاح کے لئے
تری منزل کا راہی ہے وہی جو دل سے عاری ہے!
تری یاد دل بدر کروں، ہمت نہ کر سکا
تری یاد دل میں بسا کے چلے
ترے دل میں لگایا ہے محبّت کا شجر ہم نے----برائے اصلاح )
ترے غم نے بخشی مجھے روشنی ہے---برائے اصلاح
ترے نام کر دی ہے ساری جوانی---برائے اصلاح
ترے بغیر اداسی ہے ہر جگہ مرے دوست برائے اصلاح
ترے بغیر وہ راہیں سراب لگتی ہیں
ترے بیمار کا اب اور ٹھکانا کیا ہے؟
ترے حوالے سے
ترے چہرے سے ہم گيسو ہٹا ليں گے ، اسامہ جمشيدؔ
ترےآنے کا گر مجھ کو گماں ہوتا
تسلیم کسی حال میں ظلمت نہیں کرتے
تشبیہ و استعارہ میں فرق
تشدید والے حروف کی تقطیع
تشریح ؟؟
تشریح مطلوب ہے
تشنگی سے بھرپورسوال
تصحیح فرمائے۔
تصور کی طرح تھے ان کے دل میں
تصویر کتنی خاموش لگتی ہے
تصویر کے رخ۔۔۔
تضمین بر شعرِ اقبال برائے اصلاح
تعارف اور اصلاح
تعزیرِ خطا مجھ کو سنا کیوں نہیں دیتا
تعلق اُس سے تھا واجبی سا
تعلق کی اس کچی ڈورکو بس ٹوٹنا ہی تھا - برائے اصلاح
تفسیرِ کلیاتِ قران مصطفےٰ ہیں
تقریب بظاہر تو زمانے کے لئے تھی ۔۔۔ برائے صلاح و اصلاح۔۔۔
تقطیع اور بحر کا نام درکار ہے
تقطیع اور عروضی انجن
تقطیع فرما کر رہنمائی کریں کہ 'چونک اٹھے' یہاں کیسے باندھا گیا ہے؟
تقطیع میں 'ی' اور 'ے' کا اسقاط
تقطیع میں حروف کے اسقاط کا مسئلہ
تقطیع میں رہ نمائی فرمائیے
تقطیع میں مدد چاہئے ۔۔۔
تقطیع کریں
تلاش
تلاشِ حق برائے اصلاح
تلاشِ حق برائے اصلاح
تلاشِ ذات سے دریافت اور پھر تعمیر ِ ذات کا سفر
تلفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم
تم ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تم سے بن پائے غزل نمبر 73 شاعر امین شارؔق
تم تو سنتے نہیں فغاں ورنہ (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
تم جدا ہوئے ، پر بہار آئی ہے ---- محمد اظہر نذیر
تم جو بنے سراب مری زندگی کا ہو
تم جو چاہو تو
تم دِل نشیں دلبر ہو، دِلدار ہو ساجن ہو
تم سے ہے مجھ کو پیار یہ اس نے کہا مجھے----برائے اصلاح
تم سے ہے مرے گھر، گُل و گلزار کا عالم ! - غزل اصلاح کے لئے۔۔۔
تم سے یہ وعدہ رہا پھر ہم نہ آئیں گے کبھی
تم مجھ سے بات کرو۔۔۔ایک آزاد/نثری نظم
تم میرا خواب یا حقیقت ہو... :)
تم میری ہو
تم نے تو آ کے میرا نقصان کر دیا ہے (مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن)
تم نے غلط سنا تھا۔۔۔
تم کرو تو سب صحیح ہے ہم کریں تو سب غلط غزل نمبر 35 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
تم ہم اور خاموش سمندر غزل نمبر 40 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
تم ہمارے ساتھ بھی دو گام چل کر دیکھنا
تماشا ہے یہ لفظوں کا وگرنہ شاعری کیا ہے - برائے اصلاح
تمہارا شکریہ ہمدم ہمارا دل دکھانے کا
تمہاری محبّت ہے درکار مجھ کو-------برائے اصلاح
تمہارے ساتھ بیتے دن بھلانا ہے بہت مشکل---برائے اصلاح
تمہیں شاید نہیں معلوم الفت کس کو کہتے ہیں
تن تو ہے، من تلاش کرتے ہیں غزل نمبر 165 شاعر امین شارؔق
تنقيدي محفل
تنقید و اصلاح درکار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ م۔م۔مغل
تنقید و اصلاح کی غرض سے "عنوان محبت مری پہچان ہو آسی"
تنقید کے لئے ۔۔۔
تنقید کے لئے ۔۔۔ صرف عنوان ہی کیا سارا فسانہ تیرا۔
تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کی درخواست کے ساتھ ایک غزل،'' بھاگ اے دل سراب کے پیچھے''
تنقیدی نشست
تنقیدی نشست 2
تنکوں کا گھر ہے اور کوئی آسرا نہیں
تنکے ہزار چُن کر اک آشیاں بنایا برائے اصلاح
تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے....برائے اصلاح
تنہا من نظم براءے اصلاح
تنہائی - ایک نظم
تنہائی کے جو ہیں کرب ۔۔۔برائے اصلاح
تو الٰہی! حساب مت لیجو
تو اور تم کا اکھٹا استعمال۔۔۔
تو بھی خفا نہیں ہے کہ تجھ کو مناؤں میں
تو جلتا اک چراغ روشنی کی خود مثال ہے
تو جو ساتھ ہے میرے!!
تو خود ہی اپنی مشعل ہے، تو خود ہی اپنا بادل ہے ۔۔۔۔۔غزل برائے اصلاح
تو سوچتا ہے : غزل برائے اصلاح
تو مرے دل مری تنہائی کا افسانہ بنا
تو نے دیکھا چٹان سے اوپر ر۔۔۔۔۔ برائے اصلاح۔۔۔
تو گیا تو اس دل میں، درد نے جگہ لے لی - میرے گھر کے آنگن میں، گرد نے جگہ لے لی
تو یوں غم کی شامیں مناتے نہ جاتے
توبہ کے موضوع پر ایک دو غزلہ اصلاح ، تنقید و تبصرہ کیلئے
توجہ کا طالب : ملتا ہے جہاں لیکن ایمان نہیں ملتا
تولو جو ترازو میں ستم اپنے وفا میری
توڑتے ہیں کبھی بندھاتے ہیں
تُجھ کو پانے کی لگن رہتی ہے غزل نمبر 131 شاعر امین شارؔق
تُم سے مِلنے کی آس رہتی ہے غزل نمبر187 شاعر امین شارؔق
تُمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟
تُو ہے میرا خدا ، میں ہوں بندہ ترا
تُو وادیوں میں دل کی بن کر بہار آیا
تُو ہمسفر ہے میرا لے کر ہی ساتھ چلنا-----براءے اصلاح
تُو ہی خدا ہے میرا دیتا ہے دل گواہی----حمد برائے اصلاح
تُک بندی برائے اصلاح ۔۔۔
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تپاکِ جاں سے وہ طرزِ ستم گری نہ رہا
تک بندی
تک بندی
تک بندی براے پوسٹ مارٹم
تکبندی برائے اصلاح
تکبندی(منظوم ترجمہ)
تکمیلِ زندگی کا سبب تیری ذات ہے
تھا کبھی حقیقت جو کھو گیا سرابوں میں۔۔۔ برائے اصلاح
تھاضبط ایسا کہ چہرے سے غم عیاں نہ ہوا
تھورا ہٹ کے ایک غزل لکھنے کی کوشش کی ہے،'' پہچان رنگ لائے گی، ملتے رہا کرو''
تھوڑا سا مجھ سے دور بھی جا کر تو دیکھئے----برائے اصلاح
تھک گئی آہ مری عرش پہ دیتے دستک
تہذیبِ نو سے چھن گیا کردار ہے انسان کا----برائے اصلاح
تیر آخر کمان سے نکلا.۔۔۔ ۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
تیرا اگر ہے مجھ سے اب پیار کا ارادہ----برائے اصلاح
تیرا اگر ہے ساتھ تو ہر دم جواں ہے زندگی--- برائے اصلاح
تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے-----براءے اصلاح
تیرا ہے نام لب پر ہو شام یا سویرا
تیرا ہے پیار دل میں تجھ کو نہ بھول پائے----برائے اصلاح
تیرا آنچل تیرے چہرے سے سرکتا دیکھوں
تیرا رستہ دیکھتے اپنے دن گنتی، اعداد بنے !
تیرا عکس ہے لیکن ہم دکھائی دیتے ہیں
تیرا ہر تیر بھی اب سوئے جگر آتا ہے
تیرگی میں جل رہے ہیں خواب سارے
تیرگی کیوں نہ ختم ہو جاتی ۔ ۔ ۔ برائے اصلاح
تیری الفت میں ہم نے جو ہارا ہے دل
تیری الفت کی قسم تجھ سے محبّت کی ہے
تیری آنکھوں میں اگر خواب ہمارے ہوتے
تیری اک نگاہ میری جان ہے
تیری بے رخی نے کہیں کا نہ چھوڑا غزل نمبر 46 شاعر امین شارؔق
تیری تصویر جو دل میں نہ اتاری جاتی
تیری تصویر کو سینے سے لگا کر دیکھوں ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
تیری خوشبو بس گئی ہر ایک در دیوار میں
تیری محفل میں ہم گنگناتے رہے۔۔۔غزل برائے اصلاح
تیرے بغیر مجھ سے روٹھی ہیں ساری خوشیاں---برائے اصلاح
تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں----برائے اصلاح
تیرے غموں کو ہم نے اپنا بنا لیا ہے
تیرے دوانے طالبِ منزل نہیں رہے
تیرے نزدیک آئے جاتے ہیں۔۔۔ بن پیے لڑکھڑائے جاتے ہیں۔۔۔
تیرے پیارے پیارے نام یا رحمانُ یا رحیم غزل (حمد) نمبر 45 شاعر امین شارؔق
تیرے ھجر کی راتوں میں رویا اکثر
تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ
تیز دل آپ کو جو دیکھوں تو دھڑکتا ہے غزل نمبر 96 شاعر امین شارؔق
تین اشعار براہ اصلاح پیش خدمت ہیں
تین اشعار تازہ بتازہ۔۔۔
تین اشعار کی آمد.
تین اشعار، کے لیے اصلاح
تین تروینیاں براہ اصلاح
ثابت ہے جرم میرا میں نے وفا نبھائی
جئے ہیں مگر ہم کو جینا نہ آیا-----برائے اصلاح
جا کر کوئی طیبہ میں یہ آقا کو بتائے
جا، کہ اب تو ڈھلنے کو ہے آفتابِ زیست
جائیے دور مسکرانے کو.... ایک ہی بحر میں کی جانے والی کچھ کوششوں پر تبصرہ اور اصلاح درکارہے
جاتے ہوئے اک بار بهی روکا نہیں اس نے -- برائے اصلاح
جام حاضر، شراب حاضر ہیں (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
جام پی کر اچھال دیتے ھو
جامعہ ملیہ میں 28 مارچ کو ایک طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی غزل اساتذہ کرام سے توجہ کی گزارش۔
جامِ جم کا ہے اب ہوا موسم !
جان حاضر ہے دوستی کے لیے ۔۔ برائے اصلاح ۔۔۔
جانا تھا مجھ سے دور تو آئے قریب کیوں---برائے اصلاح
جانا ہو گا دنیا سے جس وقت بلاوا آئے گا
جانتا ہوں مگر نہیں معلوم
جانتے تھے لوگ مجھ کو پھر بنے انجان کیوں--- برائے اصلاح
جانتے ہیں لوگ کیا اس کو حقیقت۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ
جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
جانے کب ہوگی واپسی اس کی (برائے اصلاح)
جانے کب یہ پھل گرتا ہے غزل نمبر 87 شاعر امین شارؔق
جاں سنبھلتی نظر نہیں آتی ۔ برائے اصلاح
جب گناہوں کو ہے سوچا تو پسینہ آ گیا--برائے اصلاح
جب لہو بن کے اشک بہتے ہیں
جب مجھ پہ وہ کوئی بھی عنایت نہیں کرتے
جب پیار کسی سے کرتے ہو
جب آئی اجل آن میں کچھ بھی نہیں بچا۔غزل۔192 شاعر امین شارؔق
جب اساتزہ کا آنا ہی ٹھہرا تو ہماری اصلاح بھی ہو جائے
جب اسکی آنکھ سے ٹپکے کو تم نے سچ جانا
جب ان کے آستاں پہ لئے چشمِ تر گئے
جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے۔ برائے اصلاح
جب بھی زادِ سفر لیا ہم نے ۔ برائے اصلاح
جب بھی مظلوم نے ظالم کی حمایت کر دی ::برائے اصلاح
جب بھی وہ بے حِجاب ہوتے ہیں غزل نمبر 160 شاعر امین شارؔق
جب تری دید کے جذبے میں جیا کرتے تھے۔۔ اساتذہ کی رہنمائی کا منتظر
جب تلک آسمان ہے خرم
جب تلک سلامت ہوں شاعری نہیں کرنی ۔۔۔ عابی مکھنوی
جب تک میں انجان ہوں کیسے چپ بیٹھوں
جب حسِیں پُر شباب ہوتے ہیں غزل نمبر 159 شاعر امین شارؔق
جب رن پڑا تو کتنی نقابیں اتر گئیں . .
جب صلی علیٰ صل علیٰ میں نے کہا ہے
جب عشق تماشا ہو اور معشوق تماشائی
جب قدم سوئے یار اٹھتا ہے برائے اصلاح
جب لوگ کبھی زکر مدینے کا کریں گے
جب لوگوں سے اچھی طرح پیش آتا ہوں
جب لکھا دل پہ فقط نام تمھارا دیکھا
جب میں چاہوں مجھے دکھائی دے
جب کبھی میں نے خُوشی چاہی ہے مُجھ کو غم ملا غزل نمبر 117 شاعر امین شارؔق
جب کر ہی لیا اشک ستارہ، چلو بہتر!
جب کسی خواب کی تعبیر نظر آتی ہے۔ اصلاح طلب
جب ہے آتا شباب چہرے پر غزل۔193 شاعر امین شارؔق
جبیں پر ہے کعبہ نطر میں مدینہ
جتنا خبیر ہے وہ پروردِگار میرا---برائے اصلاح
جدا ہے تیرا بانکپن ، نرالی سب سے شان ہے
جدائی میں تیری وہی ہے سہارا---برائے اصلاح
جدائی پہ اس کی نہ آنسو بہائے
جدائی کے دن اب گراں ہو گئے ہیں---برائے اصلاح
جدائی کا موسم
جدائی کے سفر کو مختصر کردو
جدید غزل (موضوعات، اسالیب ، لفظیات اور تکنیک)
جذبات تھے جو دل میں چہرے پہ آ گئے ہیں
جذبات سو گئے تھے ان کو جگا رہے ہو-----برائے اصلاح
جرات آزما
جرم انسان کو حیوان بنا دیتا ہے
جس کا خیال دل میں ہلچل مچا رہا ہے
جس کے بغیر میری ہے زندگی ادھوری
جس شخص نے ہر حال میں اللہ کو پکارا
جس نے بنا لیا ہے دل میں مرے ٹھکانا
جس نے بھی خود کو جانا اُس نے خدا کو پایا---برائے اصلاح
جس نے محبوب کوئی بنایا نہیں
جس نے نبی کی ذات کو دل میں بسا لیا
جس کا خیال دل میں ہلچل مچا رہا ہے
جس دن سے تیری ہم پہ نوازش نہیں رہی غزل نمبر 24 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
جس دن سے میرا باغ میں جانا نہیں ہوتا غزل نمبر 27 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
جس طرف کو بھی مرا اب کے یہ نالہ جائے
جس میں تٔو پاس نہ ہو ایسی کوئی شام نہیں
جس پہ چلنا محال ہوتا ہے(اصلاح کی درخواست ہے)
جس کا ڈر تھا وہی ہوا نا(مفعولن فاعلن فعولن)
جس کی آنکھیں موتی جیسی پیاری پیاری مل گیا غزل نمبر 72 شاعر امین شارؔق
جس کی بھی نظر گنبد خضریٰ پہ پڑی ہے۔۔۔ ایک اور جسارت، بحضور سرور کونین صل اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
جس کی کھوج میں ہوں جب مجھ کو مل جائے گا
جس کے دیدار کو دل ترستا رہا
جسارتِ مکرر-طالبِ اصلاح
جستجو تھی کہ دیکھ لیں جنت
جستجو عشق
جسے چاہتا ہوں وہ دے دے دکھائی-----برائے اصلاح
جسے اپنا ہم نے سمجھ لیا وہی اپنا بن کے رہا نہیں
جسے چاہا گیا وطن کی طرح----برائے اصلاح
جل رہا ہے سماج کچھ کیجے ۔۔۔ برائے اصلاح
جلتا ہوا چراغ تو اب بھی ہوا میں ہے
جلیبی، امرتی ،سموسے، کچوری غزل نمبر 154 شاعر امین شارؔق
جمال تیرا بھلا نہ پائے--------برائے اصلاح
جمال والا ،حسین صورت نظر تو آئے---------نور سعدیہ شیخ
جناب احمد فراز کے مصرع ،'' اول اول کی دوستہی ہے ابھی'' پر ایک کاوش
جناب احمد ندیم قاسمی صاحب کی زمین میں ایک بے تکی غزل
جنت کی خبر مت دے احمد کی محبت لا ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
جنت کی سیر۔۔۔(نظم)
جنرل حمید گل کی یاد میں
جنوں میں قیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
جنوں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک شعر برائے اصلاح
جنّت کی ہے تلاش تو رب سے بنا کے رکھ----برائے اصلاح
جنگل بُک: رڈیارڈ کپلنگ کی کہانی پر نظم: از محمد خلیل الرحمٰن
جنہیں سورج کا ہم سفر ہونا ہے برائے اصلاح
جنہیں نہ ڈوبنا ہو وہ کنارا ڈھونڈ لیتے ہیں غزل نمبر 19 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
جو تجھے چھوڑ چکے ان کو بھلانا ہو گا
جو دنیا سے چلے جائیں کبھی آیا نہیں کرتے---- برائے اصلاح
جو عہد مجھ سے کیا کسی نے مگر وہ اس کو نبھا نہ پایا
جو مسائل حل طلب ہیں ان میں اک کشمیر ہے--برائے اصلاح
جو مل گیا وہ کھا لیا سب لذّتوں کو بھول کر----برائے اصلاح
جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے-----برائے اصلاح
جو نکلا زباں سے وہ کر کے دکھایا
جو گزری ہے مجھ پر وہ کیسے بتاؤں----برائے اصلاح
جو آنکھوں میں رینگتے تھے۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
جو ابھی تک نہیں کی اُس بغاوت کا بھی ڈر ہے۔۔برائے اصلاح
جو احساس ہى دل سے اٹھتا رہا
جو اپنی خودی نہ جان سکے غزل نمبر 106 شاعر امین شارؔق
جو اچھا ہے وہی اچھا نہیں ہے
جو بس میں ہو تو فقط اس پہ وار دی جائے
جو بَلا سر پہ اُترتی ہے اُتر جانے دے۔ برائے اصلاح
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
جو بیٹے بیٹیوں کو اپنی غربت دے چکا میں : غزل برائے اصلاح
جو تارِ ہستی سے اتار کے قبا چلے
جو حق کی بات کر جائے تو کہنا
جو درد تیرا ہے وہ میرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرے گرد کیسا گھیرا ہے
جو دل اپنا الفت میں ہارے ہوئے ہیں
جو رخِ ماہتاب ہوتے ہیں۔ برائے اصلاح
جو مزا سجدے میں پایا کسی صحبت میں نہیں۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
جو نگاہِ ناز میں تھا جچا ، ترا بانک پن وہ کِدھر گیا
جو وفا کا ارادہ تھا کیا اب نہیں؟ (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
جو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اک آنسو نکل آئے
جو چاہے سلوک کریں
جو ڈرے وہ شیر کیا؟ غزل نمبر 39 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
جو کروں بیاں صبحِ سرد کی۔۔۔غزل برائے اصلاح
جو گھر میں پھیلے تو اس کا حصار رکتا نہیں - غزل اصلاح کے لئے
جواب دہ مجھے ٹھہرا کہ وہ خود چل نکلے
جوانوں اور توانوں پر جو ہے بارِ گراں اکثر غزل نمبر 89 شاعر امین شارؔق
جوش جذبہ جوان کر تا ہوں
جوش ملیح آبادی کی اک رباعی تشریح چاہتا ہوں
جھولا کون جھلائے
جھوٹ
جھوٹ کے زور پہ چلتی یہ حکومت دیکھی
جہان کا نہیں دل کا خیال رکھ
جہاں بھی ترے ہجر میں آ گئی شب
جہاں میں ایسا کوئی دل نہیں ہے : غزل براہ اصلاح
جہاں میں دل نہیں لگتا
جہاں میں ذِکر خُدا صُبح و شام تیرا ہے غزل نمبر 129 شاعر امین شارؔق
جہاں میں ہر جگہ بھٹکا ۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
جہاں میں ہے جان تم سے ملا
جہل اب جلوہ فگن ہے آئینہ خانوں کے بیچ
جی مِرا اک کام تو کر دیجیے (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
جی کرتا ہے تمہیں پکاروں
جیتے ہیں لوگ کیسے اک آدمی سے ڈر کر-------برائے اصلاح
جیسا تُو چاہتا ہے ویسا مجھے بنا دے
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
جیسے مر گیا میں ۔۔برائے اصلاح
جیسے مر گیا میں۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
جینا بہت ہے مشکل اس کی دعا نہ دینا
جینے کا حق کسی کو دنیا کبھی نہ دے گی برائے اصلاح
جینے کی راہ برائے اصلاح
جینے نہیں دیا گیا۔۔۔ برائے اصلاح
جیون میں مجھے اس کے لکھ لکھ کے مٹایا ہے
حا لت دل کا تذکرہ کیجے
حادثہ تھا کوئی ہو گیا --- غزل برائے اصلاح
حال ِ ذات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
حاکم وقت ترے ہاتھ میں ہے میرا لہو!
حباب (Bubble)- آزاد نظم
حباب آسا اب اس زندگی کو کیا کہیے! (غزل برائے تنقید و اصلاح)
حبّت میں یہ بھی کڑا امتحاں ہے ---برائے اصلاح
حرام لحم پہ پلتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
حساب دل کا بہت ہی پختہ نکالنا ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
حساب سارے۔ غزل برائے اصلاح
حساسیت ...
حسرت ہماری رہ گیئ ، عدو کی چل گیئ ۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
حسن و شبابِ زن سے مخمور مل گئی ہے
حسن و عشق
حسن کا ایسا پیکر۔۔۔ (قطعہ)
حسن کی آبرو تری صورت
حسنِ اخلاق کے نفاست کے !......... غزل اصلاح اور مشوروں کے لئے
حسنِ مطلع
حسیؓن عالی شان ہیں، حسیؓن پاسبان ہیں
حسین ابن علی ّ کیا مقام ہے تیرا! ۔۔ ایک منقبت بغرض تنقید
حسین غزل برائے اصلاح
حسین یادیں جلا گیا ہے
حسینی لعل نے جواہرات سب لٹا دیے
حشر کا جب سے سُنا چرخِ کہن سکتے میں ہے غزل نمبر 176 شاعر امین شارؔق
حصارِ الفت برائے اصلاح
حصارِ ذات سے نکلے تو کچھ نظر آئے
حفاظت۔۔۔۔۔برائے اصلاح
حق نے بنائی صُورتِ خُوش رُو حسین کی، غزل۔منقبت 189 شاعر امین شارؔق
حقِ عشق ہم کو نبھانا نہ آیا
حقیت میں اگر دیکھو تو اک دیوار ہے مسلک (اصلاح)
حقیقتِ کبریٰ کے شائق! نمایاں یہ فضاؤں میں
حقیقی بات نا مانو
حماقتیں نہیں بجا، منافقوں کے شہر میں
حمد
حمد
حمد
حمد باری تعالی
حمد باری تعالی ( برائے اصلاح )
حمد باری تعالی ( برائے اصلاح )
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد باری تعالٰی اصلاح کیلئے
حمد باری تعالی پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں، قلب و نظر سے جاری ترا نام ہو گیا
حمد برائے اصلاح
حمد برائے اصلاح
حمد مثنوی کے انداز میں ایک کوشش
حمد و ثنا سے کم نہیں تسخیرِ کائنات ۔ برائے اصلاح
حمدِ باری تعالیٰ
حور شمائل
حوروں کی سجاتے منڈی ہیں جنت کی تجارت کرتے ہیں ۔۔۔ برائے اصلاح
حَسین مرحوم کی شاعری ۔۔۔ بغرض اصلاح
حُسن اگر انمول رہا ہے غزل نمبر 104 شاعر امین شارؔق
حُسن ایسے ترے آنچل میں چُھپا رہتا ہے غزل نمبر 173 شاعر امین شارؔق
حُسن جب شد ومد سے اُٹھتا ہے غزل نمبر 112 شاعر امین شارؔق
حُسن قاتِل ہُوا ہی چاہتا ہے غزل نمبر 139 شاعر امین شارؔق
حُسن کی جب بھی ادا یاد آئی غزل نمبر 134 شاعر امین شارؔق
حُسن کے ہیں لگ گئے بازار میرے سامنے غزل نمبر 94 شاعر امین شارؔق
حُسن ہے تو شباب لازم ہے غزل نمبر 79 شاعر امین شارؔق
حُسنِ یوسف پر کٹی تھیں انگلیاں دو چار کی-----برائے اصلاح
حُسنِ جاناں کی جھلک کافی ہے غزل نمبر 136 شاعر امین شارؔق
حُسین چاہتے تو قتلِ عام کردیتے (منقبت) غزل نمبر 169 شاعر امین شارؔق
حیران و پریشان ہوں؟؟؟
حیرت
حیرتی تھی تری خاموشی یوں گفتار کے بیچ - غزل اصلاح کے لئے
خائف ہیں ہست سے .....
خارجی کلب، ہر خوشی لے لی
خارزارِ زندگانی ہورہا ہے کم مرا
خالق کا کیسا یہ کرم ہو گیا ہے --- برائے اصلاح
خالہ جھٹ پٹ (مثنوی برائے اصلاح)
خالی آنکھیں اور ویران چہرے ہیں
خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے
خاموشی!!
خامے میں میرے گردشِ حجر و وصال ہے
خاک لائے ہیں عقل والے ساتھ
خاک پر پھول تو افلاک پہ تارے دیکھوں ۔
خاکسار کا ایک شعر
خدا سے دوری کا یہ اثر ہے ہمیں مسائل نے آن گھیرا
خدا سے دوری کا یہ اثر ہے ہمیں مسائل نے آن گھیرا---برائے اصلاح
خدا سے رشتہ کبھی نہ ٹوٹے ملے جو تم کو جہان سارا
خدا مطلوب ہے تجھ کو تو دنیا سے محبّت کیوں----برائے اصلاح
خدا کا رستہ کبھی نہ چھوٹے ملے اگرچہ جہان سارا---برائے اصلاح
خدا کا مجھ کو ملا سہارا
خدا کو جو بُھلاتا ہے خدا اُس کو بُھلاتا ہے----برائے اصلاح
خدا کی بات بھی مانو خدا کو ماننے والو---برائے اصلاح
خدا کی راہ پر سب کو زمانہ کھینچ لائے گا
خدا کی چاہت ( برائے اصلاح )
خدا کی یاد میں اپنے ہمیں جی کو لگانا ہے
خدا کیسا ہے برائے اصلاح
خدا اور انسان کے مابین ایک مکالمہ
خدا خدا کر کے نالہ اپنا سنا گیا ہے۔۔برائے اصلاح
خدا کہاں ہے
خدا کی راہ میں، چل چل کے، موت پاؤں گا
خدا کی رحمتوں کی حد نہیں ہے غزل نمبر 18 شاعر امین شارؔق
خدا کے سامنے شرمندگی اٹھاؤ گے ۔
خدا ہم سے روٹھا ہوا ہے !!!
خدائے بزرگ و برتر کی جناب میں ایک ادنیٰ سی حمد
خدایا تُو رحمت کی ہم پر نظر کر---برائے اصلاح
خزاں رسیدہ ہے چمن کوئی حساب تو ہو - برائے اصلاح و تنقید
خزاں میں بھی بہار تم ہی تھے ۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب
خساروں بھری تجارت
خط لکھے تھے جو ترے نام ذرا لوٹا دو ----- غزل اصلاح کے لئے
خطرے میں انسان کی انسان سے ہی جان ہے ---براہے اصلاح
خلق ویسا نہیں، حسن ویسا نہیں
خواب
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے-------نور سعدیہ شیخ
خواہ مخواہ حیدر آبادی کی زمین میں کچھ اشعار اصلاح کی غرض سے
خواہش ( ایک پرانی کوشش)
خواہشِ دل عجب تماشا ہے۔ برائے اصلاح
خوب ابلے گا خون اب دل کا
خوب اللہ کا مجھ پہ احسان ہے
خوب خوابوں کی سڑک پر دوڑ لینا۔۔برائے اصلاح
خوب پِتّا مارنا ہوگا غزل کے واسطے (قطعہ)
خوب کار بے کار کرتے ہیں
خوب ہوتا : برائے اصلاح
خود اپنے سامنے آجاؤں گا میں
خود اپنے ہاتھ سے رخصت کیا ہے
خود سری سے نکل کے تم دیکھو
خود سمجھ پائے نہ توقیر مرے خوابوں کی
خود سے باتیں کرتے رہنا - برائے اصلاح'
خود شبِ ہجر میں تڑپو گے تو یاد آؤں گا
خود کو بے رنگ و ہنر ہم کیا کرتے
خود کو مجھ سے نہ تم جدا سمجھو
خوشی کس کو کہتے ہیں؟ درخواست برائے اصلاح
خوشیاں منا رہے ہیں ایسے فساد کر کے-- برائے اصلاح
خوشیاں خدا کی راہ میں قربان کیجئے ---برائے اصلاح
خوشیاں کا درست تلفظ؟؟؟
خوشیوں کے چار دن بھی میں نے کبھی نہ پائے-----برائے اصلاح
خوف آتا ہے پیار سے مجھ کو
خون بہتا ہے لوگ بکتے ہی
خون جگر سے درد کا پیغام لکھ دیا (غزل برائے اصلاح)
خونِ ناحق بہہ رہا ہے وادیِ کشمیر میں----برائے اصلاح
خونین قبا میں یہ ہے بسمل کا تماشا
خُدا خیر کرے جی ۔۔۔عابی مکھنوی
خُدا سے کارِ جہاں چلا ہے غزل نمبر 161 شاعر امین شارؔق
خُدا نے کہہ دیا جب کُن جہان سارے بنیں غزل نمبر 172 شاعر امین شارؔق
خُدایا رکھ بھرم میرا مجھے تُو سُرخرُو کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل برائے تصحیح
خیال میں ترے نقش و نگار دیکھے ہیں
خیال و خواب کی دنیا تھی تم تھے ---- از راہ کرم تصحیح فرمائیے --- محمد اظہر نذیر
خیال یار نے ہم کو ۔۔۔
خیالوں میں خوابوں میں آنے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
خیالِ یار دل میں ہے زباں پہ اس کا نام بھی---برائے اصلاح
داتا نظم کی دسویں قسط برائے اصلاح۔۔۔
داتا نظم کی دوسری قسط۔۔۔برائے اصلاح
داتا۔۔نظم برائے اصلاح
دامن چھڑا کے مجھ سے نہ جا میرے ہمسفر
دامِ ظلمت سے مرے دل کو چھڑایا جائے
در پہ آیا ہوں تیرے میں بن کر گدا-----برائے اصلاح
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
درخواست ہے
درد
درد بڑھتا ہے دعا کرنے پر
درد سہہ کر بھی شکایت نہیں کرتے
درد ہے تو چارہ گر بھی چاہیے
درد سے کہہ دو ٹھکانے سے رہے ! ۔۔ برائے اصلاح
درد سے کیوں یہ واسطے ہوتے
درد لازم ہے کسی سے دل لگانے کے لیے۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
درد میں حوصلہ نہیں رہتا۔
درد و غم سے نڈھال ہوں جاناں
درد چیخیں تو اشک لکھتا ہوں
درد کو غزل کی بندش لگا کے بیٹھا ہوں
درد کوئی دل میں ہو تو پالے۔۔ برائے اصلاح
درد، غم، آہ، آنسو، کچھ لیجے
دردِ دل لا دوا ، نہ گر ہوتا
دردِ دل کی تُو وہ دہائی دے
دردِ دل ہم تمہیں سنائیں کیا
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق - برائے اصلاح
درسِ توحید جو دنیا کو سکھایا جاتا-------برائے اصلاح
درِ توبہ وہ در ہے جو ہمیشہ ہی کھُلا ہے
درپن جو نہیں ہوں میں ، تو پتھر بھی نہیں ہوں
دریا بنا دیا کبھی صحرا بنا دیا
دست و گریبان ہیں آپس میں ہم
دستِ آزر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
دشت، صحرا، سراب باقی ہیں
دشت، صحرا، سراب تیرے ہیں ( حمد باری تعالٰی)
دشمن ہیں جو ہمارے ہم کو سکھا رہے ہیں
دشمنوں سے دوری تھی... دوستوں نے آگھیرا.... ایک اور غزل برائے تبصرہ و اصلاح...
دشمنوں سے لوگ شکوے کر رہے ہیں ہر کہیں۔۔۔۔۔ عبدالعزیز راقم
دشمنی اچھی ایسی یاری سےغزل نمبر 44 شاعر امین شارؔق
دعا سُن لے
دعا گو ہے اگر تو ، تو میں مر کیوں نہیں جاتا -- برائے تصحیح و تنقید
دعائیں برائے اصلاح
دعائیہ نظم - ملک عدنان احمد
دعا۔۔الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے۔۔ از محمد ذیشان نصرؔ
دل سے اتر گیا ہے دل میں اترنے والا---برائے اصلاح
دل سے اسے نکال دو لوگوں سے جو عناد ہے---برائے اصلاح
دل سے تجھ کو ہے مرے یار بھلانا مشکل
دل سے خیالِ یار کو جانا نہ چاہئے
دل سے نکل نہ جائے تیرا خیال ، آ جا----برائے اصلاح
دل سے نکل نہ جائے تیرا خیال آ جا
دل سے کسی کی یاد بھلائی نہ جا سکی--برائے اصلاح
دل محبّت سے تیری بھرا ہی نہیں-----------برائے اصلاح
دل میں الفت کے چراغوں کو جلائے رکھنا---برائے اصلاح
دل میں تو محّبت ہے اقرار نہیں کرتے-----برائے اصلاح
دل میں تیرا ہی تصوّر ہے بسایا ہم نے--------برائے اصلاح
دل میں تیری محبّت سلامت رہے---برائے اصلاح
دل میں جذبے سلا لئے ہم نے
دل میں خیال یار کا رہنا تو چاہئے---برائے اصلاح
دل میں مرے تو جاگزیں تیرا ہی بس خیال ہے---برائے اصلاح
دل میں چاہت ہے تری تجھ کو بتاؤں کیسے
دل میں یادیں تمہاری جو آنے لگیں
دل نے چاہا ہے تجھے تجھ سے محبّت کی ہے
دل کو دنیا کی محبّت سے بچائے رکھنا
دل کو مرے ہے تیرا ہی انتظار اب تک----برائے اصلاح
دل کو میرے وہ بھا گئی ہے--برائے اصلاح
دل کو چراغ کی جگہ ہم نے جلا دیا----برائے اصلاح
دل کی آواز برائے اصلاح
دل کی باتوں کو زباں پر بھی تو لایا جائے
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے
دل اُس سے بچھڑ کر بہل کیوں گیا ہے
دل اچانک بند کیوں ہو جاتا ہے؟
دل بجھ گیا ہے دیکھ سرِ شام کسی کا
دل بھی سینے میں سنبھالا نہ گیا
دل بے تاب گمانوں میں گهرا رہتا ہے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
دل ترا ذوقِ شکیبائی رہے یا نہ رہے ! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
دل دِیا جا چکا ہے یہ جاں جائے گی ۔
دل سے امید کا کچھ بوجھ اتارا ہوتا۔
دل سے کہدو کہ جستجو نا کرے غزل نمبر 55 شاعر امین شارؔق
دل عجب ایک بیتِ احزاں ہے (غزل برائے اصلاح)
دل عندلیب سوسن و نرگس کو دے چکا
دل فقط عرضِ مدعا جانے
دل لگی نہیں کرنی عاشقی نہیں کرنی
دل موئے دا دارُو کوئی نہ ہُٹّے کر دوائیاں
دل مگر بڑا رکھتا ہوں
دل میں آتا ہے خیال اُس کی نظر بازی کا (برائے اصلاح)
دل میں بڑھتی ہوئی، کسک دیکھوں !۔۔ غزل اصلاح کے لئے۔
دل میں حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
دل میں خیالِ یار
دل میں طوفان سا بپا کرکے۔۔۔۔ فی البدیہہ غزل برائے اصلاح و تبصرہ
دل میں کچھ اضطراب ہوتا ہے ( برائے اصلاح)
دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں - برائے اصلاح
دل نے کس کس کا غم نہ کھایا تھا
دل پرہمارے اپنا اب اختیار کب ہے
دل پہ اب کچھ اثر نہیں ہوتا (برائے اصلاح)
دل پہ میرے تیرا اختیار سہی........
دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
دل کا دروازہ وا کرے کوئ
دل کا عجیب حال ہے فرصت میں بیٹھ کر
دل کا موسم بہت سہانا ہے - طرحی غزل اصلاح کے لئے
دل کو نہیں ہے جب میری عادت پہ اعتبار (اصلاح)
دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے - غزل اصلاح کے لیئے
دل کی ابیاض سے ہر سطر مٹائی جائے
دل کی باتیں دن رات کرو کچھ بات کرو غزل نمبر 36 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
دل کی دنیا کا سکندر ہو جاؤں گا--برائے اصلاح
دل کی دھرتی
دل کی دیواروں سے لپٹی رہتی ہے تنہائی سی
دل کے جو چین سے نہیں واقف۔ ۔۔
دل کے زخموں کے حسابوں میں لگا رہتا ہوں
دل کے کچھ موسم بھی ہو سکتے ہیں نا
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے
دل ہمارا ہے غم سرا یارو
دل ہوا نا شاد، یہ کیا کہہ دیا؟ غزل نمبر 77 شاعر امین شارؔق
دل ہی دل میں کسے بلاتے ہو۔۔۔
دل یہ کرتا ہے اجتناب کروں (اصلاح طلب)
دلبر ہمارا ایک ہے ، دلساز الگ الگ
دلوں کا چین رکھا ہے خدا نے پارسائی میں---برائے اصلاح
دلِ اقبال (نظم)
دلِ سوزاں
دلِ نا صبور میرا
دلِ ناز تھوڑا کشادہ تو کیجئے
دن زندگی کے یوں ہی تنہا گزارے ہم نے --- برائے اصلاح
دن ڈھلے صبر کے دریا میں بہا آتا ہوں
دن کو بھی اگر رات بتاتا ہوں غزل میں
دنیا برائے اصلاح
دنیا میں ہر طرح کی پاؤ گے تم بھلائی
دنیا میں ہو رہی ہیں جو ہر سو بغاوتیں
دنیا ترے مزاج میں ڈھلنا تو ہے نہیں۔۔۔ اصلاح کے لئے
دنیا سے کوئی ہو گیا بے زار تو کیا ہے ۔۔۔ برائے اصلاح
دنیا میں آئے الجھ کے رہ گئے
دنیا میں رہو لیکن ، دنیا نہ رہے تم میں
دنیا میں کوئی ہمارا بھی تو اپنا ہوتا
دنیا ہے چار دن کی ایسا سنا کئے ہیں
دنیائے محبت کا دستور نرالا ہے
دو اشعار
دو اشعار
دو اشعار برائے اصلاح
دو اشعار برائے تبصرہ
دو اشعار برائے تبصرہ و تنقید
دو اشعار برائے تنقید و اصلاح
دو اشعار برائے تنقیدِ فنِّی
دو سوال
دو شعر
دو شعر
دو شعر برائے اصلا ح
دو شعر برائے اصلاح
دو شعر برائے اصلاح
دو شعر برائے اصلاح
دو شعر برائے اصلاح
دو شعر برائے اصلاح و تنقید
دو شعر ۔۔۔ اصلاح کیلئے اساتذہ کی نذر
دو شعربرائے اصلاح
دو غزلہ برائے اصلاح
دو غزلہ برائے اصلاح : اعجازسر اور اقبال سر کی زمین میں
دو غزلیں اصلاح کے لیے! اصلاح فرما دیں
دو مطلع
دو نئے اشعار
دو نمبری جسارت :)
دور جا کر ہمیں بھول جانا نہ تم---برائے اصلاح
دور نظروں سے کبھی اس کو نہ جانے دینا-----برائے اصلاح
دور ہو کر قریب ہوتے ہیں
دوری خدا سے ہم کو یہ دن دکھا رہی ہے---برائے اصلاح
دوست سارے ہی مجھ سے جدا ہو گئے
دوست دشمن دکھائی دیتا ہے غزل نمبر 64 شاعر امین شارؔق
دوست ہے میرا ہیرے جیسا غزل نمبر 71 شاعر امین شارؔق
دوستوں نے جب چلائے تیر ہیں۔۔برائے اصلاح
دوستی جن سے نہیں ان سے شکایت کیسی
دوستی دل کو جب دکھاتی ہے
دُریاں
دُعا
دُعا
دُوسرا کون ہے؟ ۔۔۔ میری ایک حمدیہ نظم، برائے اصلاح و تبصرہ
دُکھے دل کسی کا نہیں یہ گوارا----برائے اصلاح
دِ ل کا روزن کب بھرتا ہے؟ غزل نمبر 115 شاعر امین شارؔق
دِل تڑپنے کی وجہ یاد آئی غزل نمبر 133 شاعر امین شارؔق
دِل نے چاہا تھا خُود گُمان میں کیا؟ غزل نمبر 147 شاعر امین شارؔق
دِل کو ہی چُپ کراؤں یا دیکھوں جِگر کو میں غزل نمبر 171 شاعر امین شارؔق
دِل کی آوارگی سے ڈرتا ہوں غزل نمبر 158 شاعر امین شارؔق
دِل کے ارماں سراپا کاش ہوئے غزل نمبر 150 شاعر امین شارؔق
دِل ہمارا بے تاب کون کرے؟ غزل نمبر 124 شاعر امین شارؔق
دِن نکلتا ہے، رات ڈھلتی ہے غزل نمبر 175 شاعر امین شارؔق
دِن کو بھی رات سے ڈر لگتا ہے غزل نمبر 153 شاعر امین شارؔق
دکھ کے موسم
دکھ گر دیا کسی نے ہم مسکرا دیے۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
دکھ ہوتا ہے دیکھ کے جانب داری کو ۔
دھت تیرے کی! (نظم برائے اصلاح)
دھجیاں حرمتوں کی اڑائیں گے ہم
دھوپ میں چھاؤں کو لے کر آگیا
دھُن کا پکا مکوڑا
دھڑکنوں کو تری یادوں نے روانی بخشی۔۔۔ ایک تازہ غزل برائےاصلاح
دیا بجھانے کی ضد میں ہیں وہ
دیا سمجھ کے گئے تھے ۔۔۔ اور اک کلی ہے ۔۔ برائے اصلاح
دیار حسن میں تم لاجواب ہو جیسے
دیارِچشم سے اس دل میں اُتر جانے دو ( برائے اصلاح )
دیتا رہا دہائی یہ سودائی دیر تک
دید کی خواہش تو ہے پر اب کہ بینائی کہاں (اصلاح)
دیر و حرم کی داستاں، سنایئں ہم
دیوان غالب فارسی
دیوانِ غالب نسخۂ اردو ویب
دیکھ دل کہ جگر سے اُٹھتا ہے غزل نمبر 74 شاعر امین شارؔق
دیکھ سورج گیا سمندر میں ۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
دیکھ کتنا عجیب لگتا ہوں۔
دیکھ ہم کیسی مسافت کے حوالے ہوئے ہیں۔۔ برائے اصلاح
دیکھئے۔۔۔۔برائے اصلاح
دیکھا جو اس نے پیار سے اچھا لگا مجھے
دیکھا نہیں کسی میں جیسا جمال تیرا---برائے اصلاح
دیکھا ہے تجھے اور کو دیکھا نہیں جاتا
دیکھا ہے جب سے آپ کو ِ دل کے قریب ہیں
دیکھا ہے جس کو آج مرے دل کو بھا گیا
دیکھا جو تم کو... بغرض اصلاح
دیکھا ہے نہیں کیا کچھ گلزار ِ مدینہ میں - نعت پاک
دیکھتا جاتا ہے تاروں کو برابر ہاتھ میں ۔۔۔ غزل برائے اصلاح
دیکھتا کیوں رہوں زمانے کو ۔
دیکھنے کو محبت نظر چاہیے
دیکھو تو مرا حال ذرا آنکھ اٹھا کے-ملک عدنان احمد
دیکھوں، سوچوں، روؤں، بھلاؤں، مٹاؤں۔۔۔بطور قافیہ
دیکھیے کیا معجزہ ہوتا رہا
دے کوئی طبیب آ کے ہمیں ایسی دوا بھی
دے کے شامت کو صدا عقد کی زنجیر میں آ ۔۔ برائے تصیح
ذات کو اپنی تماشہ ہی بنا رکھا ہے
ذرا ادھر بھی نظر کرم ہو ( اساتذہ سے استدعا)
ذرا بحر ڈھونڈنے میں مدد کیجیے
ذرا سی بدگمانی!!!!
ذرا ہٹ کے لکھنے کی ایک کوشش اصلاح، تنقید اور آراء کے لیے،''وہ پنگھٹ پہ جھرمٹ، قیامت گزرنا''
ذرّے ذرّے میں گر خدا دیکھا -- غزل اصلاح کے لئے
ذرہِ خاک تھا میں تُو نے بنایا گوہر
ذوقِ آگہی دے یا مجھے جنوں عطا کردے
ذوقِ ادب
ذکر جن کا نہ تھا بیان ہو جاتے
ذکر خیرالوری
ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے
رائے درکار ہے
رات ڈھلتے ہی تری یاد ستانے آئی--------برائے اصلاح
رات کب ہجر میں گزاری ہے
رات بیتی طلوع ہوا آفتاب اے جاناں!
رات دیکھا کمال سجناں کا
رات ڈھلتی ہے دِن نکلتا ہے غزل نمبر 174 شاعر امین شارؔق
رات ڈھلنے کے انتظار میں ہے غزل نمبر 80 شاعر امین شارؔق
رات کی ٹھنڈی سڑک پر شمع کا لمبا سفر !۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
رات ہی تو ہے آخر ،رات کٹ ہی جائے گی(برائے اصلاح)
راتوں کو اٹھ کے رب سے کرتا ہوں میں دعائیں
راحتِ جاں کی تمنا کیجئے
راز جب سے بے خودی کا آشکارا ہو گیا
راز ِکن وہ بتلائے گا ...
راضی بہ قضا ہوں ، مری قسمت ہے مقرر
راہ
راہ تو ایسی بھی طویل نہیں ۔ برائے اصلاح
راہ سے بھٹکنے کا انکشاف کر کے بھی۔۔۔برائے اصلاح
راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
راہنما یُ چاہیے
راہنمائ کریں
راہنمائی درکار ہے
راہنمائی درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ایک غزل برائے اصلاح
راہَ حق برائے اصلاح
راہِ وفا میں ہم کو ملتی رہیں جفائیں
راہِ طلب میں کیا عجب دولت ملی ...
رب سے جو دور کر دے وہ پیروی بُری ہے
رب سے ملانے والی ٹھوکر سزا نہیں ہے
رب نے بنائی نادِر رُوح غزل نمبر 156 شاعر امین شارؔق
رب کی مرضی
رباعی
رباعی
رباعی
رباعی برائے اصلاح
رباعی برائے اصلاح
رباعی برائے اصلاح
رباعی برائے اصلاح
رباعی برائے اصلاح
رباعی برائے اصلاح.........
رباعی برائے اِ صلاح
رباعی برائے توجہ اساتذہ و دیگر احباب ؟
رباعی برائے توجہ اساتذہ و دیگر احباب ؟
رباعی کی اصلاح درکار ہے
رباعی کے ”دو“ اوزان
رباعیات
رباعیات. برائے اصلاح
ربِ جن و بشر برائے اصلاح
رحمت خدا کی بن کے رمضان آ گیا-----برائے اصلاح
رحمت لٹا رہا ہے رمضان کا مہینہ---برائے اصلاح
رحمتیں رب کی لٹانے ماہِ رمضاں آیا غزل نمبر 43 شاعر امین شارؔق
ردیف کا استعمال
رستہ، دیوار ہو گیا ہے
رسم محبت۔۔۔۔ براے اصلاح
رسوا ہوئے ہیں وہ سرِ بازار عشق میں - فرحان محمد خان
رشتے سب مہرباں نہیں ملتے۔
رضائے رب العلا کو دیکھا حسین لکھا
رقص کرتے ہیں، چلی آتی ہے برسات کے ساتھ
رمضان کا ہے احساں جو قید میں ہے شیطاں ---- برائے اصلاح
رمضان آ گیا ہے
رنج و الم کے ڈھول بجا کر چاہت کے کشکول اٹھا کر
رنگ، خوشبو، جمال کے ہونگے , اصلاح کی درخواست ہے
روایتی اردو شاعری اور جدید اردو شاعری
روز جینے کا ارادہ کرکے (برائے اصلاح)
روزمرہ کیا ہے؟
روشنی ہو نہ سکی گھر بھی جلایا ہم نے
روشنیوں کاشہرماناجاتاتھا کراچی
روٹھا ہے یار میرا اس کو منا رہا ہوں---------برائے اصلاح
روٹھے دوست کو منانے کے لیے ٹیلیفون پر گفتگو
روگِ الفت نہ کبھی دل کو لگانا ہرگز
روگِ الفت کو جب سے ہے پالا ہوا----برائے اصلاح
رِدا آگ کی ہے قبا آگ کی ہے۔۔۔برائے اصلاح
رکھتے ہیں تجھے یاد بھلایا تو نہیں ہے
رہ کر بھی دور مجھ سے دل کے قریب ہو تم
رہبر وہی ہے دانا جو راستہ دکھا دے
رہبر ہے خان کو جب اس قوم کا بنایا
رہتا تھا کوئی دل میں مگر جانتا نہ تھا
رہتا ہے میرے دل میں محبتوں کی طرح
رہتے ہیں مرے ان سے تضادات وغیرہ
رہتے دلوں میں زندہ ایسا کمال کرتے
رہنمائ کا طالب
رہنمائ کریں
رہنمائ کریں
رہنمائی درکار ہے
رہنمائی فرمائے۔
رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر
رہو اس پہ راضی جو پاؤ خدا سے----برائے اصلاح
رہے منتظر ہم تو خود کو سجائے---برائے اصلاح
ریشم سا بدن اس کا کمخواب سی ہیں آنکھیں
ریل گاڑی
زبان تمھاری ہے اور آواز بھی تمھاری ہے ۔۔۔کُوئے جاناں میں اب بھی بیقراری ہے
زباں آزاد ہے نہ ذہن ہی آزاد ہے تیرا - برائے اصلاح
زحافات
زخم سینے کے خدا کو ہیں دکھانے آئے
زخم احسان ِ عدو میں گم ہے
زخم اس کو دکھانے جارہے ہو
زخم سینے میں جو ناسور ہوئے ہیں --- غزل برائے اصلاح
زخم کہنے کو تو پرانے ہوگئے
زخمی ہوں اہلِ ذوقِ نظر ایسی چوٹ سے ۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
زمانے کی زمانے سے شکایت کیوں نہیں کرتے------برائے اصلاح
زمانے سے تم کو بچایا ہوا ہے - برائے اصلاح
زمانے نے مجھ کو بہت ہے ستایا------------برائے اصلاح
زمانے نے بخشے ہیں آزار یونہی .
زمین لگتی نہیں آسماں نہیں لگتا۔۔ و دیگر بغرض تنقید
زمینِ دل پہ عذاب اترا ...
زمیں دیکھ کر آسماں دیکھتے ہیں غزل نمبر 59 شاعر امین شارؔق
زمیں نہ پست ہو جائے، تو پیمانے میں جا بسنا ، اصلاح کی دوخواست ہے
زمیں و آسماں ، کہکشاں دیکھتا ہوں----برائے اصلاح
زمیں کو آسماں لکھتا سماں کو کہکشاں لکھتا
زندگانی عذاب ہو تو ہو غزل نمبر 84 شاعر امین شارؔق
زندگی
زندگی
زندگی
زندگی تو در حقیقت بندگی کا نام ہے---برائے اصلاح
زندگی میں خدا سے اماں مانگ لو----برائے اصلاح
زندگی ہے کیا پتا ، غم کے سوا ، کچھ بھی نہیں------برائے اصلاح
زندگی بیت جانے لگی ہے برائے اصلاح
زندگی خاک نشینی پہ ہے نازاں فاخرؔ
زندگی درد کی آغوش میں سونا چاہے
زندگی ریت کی گرتی ہوئی دیوار ہے بس
زندگی سے میں ڈر نہیں رہا۔۔۔ برائے اصلاح
زندگی صورتِ گرداب لئے بیٹھا ہوں
زندگی غم کا تانا بانا ہے
زندگی میں جو تم آئے ہو مرے اتنے قریب
زندگی چھوڑ دے ، یوں تماشا نہ کر(برائے اصلاح۔ ماہرین متوجہ ہوں)
زندگی کی بقاء ضروری ہے
زندگی کی ہمسفر تنہائیاں رہیں۔ایک غزل برائے اصلاح اساتذہ کی خدمت میں پیش ہے ۔
زندگی کیسے گزرے گی۔ ۔ ۔ برائے اصلاح
زندگی گزر گئی -- برائے اصلاح تنقید و تبصرہ
زندگی گزر گئی -- برائے اصلاح تنقید و تبصرہ
زندگی ہم نے یوں گزاری ہے۔۔۔۔
زندہ رہنا مجھے مشکل کبھی ایسا تو نہ تھا غزل نمبر 100 شاعر امین شارؔق
زنیرہ گل کی اصلاح طلب شاعری
زور آور وڈیرے ہیں، برائے اصلاح
زہر لگتی ہیں منطقی باتیں --- غزل اصلاح کے لئے
زہر پیتے نہیں چاہے میٹھا لگے
زیرِ لب: صفیہ اختر کے خطوط منظوم ترجمہ :: محمد خلیل الرحمٰن
زیست آلودہ ء گناہ نہ کی
زیست جہاں میں آنے کا دروازہ ہے غزل نمبر 88 شاعر امین شارؔق
زیست کو یوں نہ بے مزا کیجے ... غزل براہ اصلاح
زیست کی کَل نہیں کوئی سیدھی ! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے !
زیور ، لباس ، خوشبو ، گھڑی یا گلاب کے (قطعہ)
سائیکل کے پہیے
ساتھ یہ زمیں جائے۔۔۔۔ برائے اصلاح و تبصرہ
سارا جہان کھو کر اک تجھ کو پا لیا ہے
سارا جہان ان کی ہے خاکِ پا پہ قرباں ---برائے اصلاح
سارا جہاں دیکھا مگر کوئی کہیں تجھ سا نہیں برائے اصلاح
ساری دنیا کو ویران کر جائیں گے ۔۔۔
سارے جہاں کا مالک رب کے سوا نہیں ہے--برائے اصلاح
سارے آنسو بہا کے،،، "اصلاح کیجیئے"
سارے مصنوعی سہارے دائیں بائیں ہو گئے۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
ساقی بدلے گا جام بدلے گا ( برائے اصلاح و تنقید )
سالگرہ کی مبارکباد دینے پر تمام احباب کا شکریہ
سامانِ وارِ قتل ہے ہر سو بکھرا ہوا
سانحہ پشاور 16 دسمبر -- کچھ" جذبات" اصلاح کے لئے-
سانحۂ پشاور
سانسوں میں اٹھ رہا تھا طوفان رفتہ رفتہ
سانپوں کو کبھی دودھ پلایا نہیں جاتا
سب زمانے کے ہم ہیں ستائے ہوئے---برائے اصلاح
سب کو خدا کی ذات کی رہتی ہے جستجو
سب گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اے خدا---برائے اصلاح
سب براہ مہربانی میری اصلاح فرمائیں
سب سے پیارا ہیری پوٹر:: از:: محمد خلیل الرحمٰن
سب کو یہ بات بتانے سے رہی
سبب ، وتد اور فاصلہ
سبز ہلالی پرچم از محمد خلیل الرحمٰن
سبطِ علی حُسین ۔غزل۔منقبت 191 شاعر امین شارؔق
سبق الفت کا دشمن کو پڑھانا ہے
سبھی لوگ پھرتے ہیں چہرہ چھپائے---برائے اصلاح
سبھی کو سامنے رب کے ہی سر اپنا جھکانا ہے----برائے اصلاح
سبھی کو سامنے رب کے ہی سر اپنا جھکانا ہے----برائے اصلاح
سبھی حالات کو اپنے بدلنا چاہتا ہوں میں: غزل برائے اصلاح
سبھی کو اس عمل میں متحد ہم نے ہوا پایا
سبھی یہاں پر محبتوں میں سنا رہے ہیں سزا کی باتیں - برائے اصلاح
ستارہ ء سحری
ستایا ہے جس نے وہ کیا جانتا ہے---برائے اصلاح
ستم تھے زندگی کے ھر سفر میں برائے اصلاح
ستم گر آنکھ کو دریا نہ کر دے
ستم گر ستم سے کنارہ کرو اب (برائے اصلاح)
ستم گزرا بلا گزری الم گزرا قضا گزری - ایک نظر کیجئے
سجدوں کی سجاوٹ سے پیشانی سجا پیارے
سجدے میں سر جھکا کے مناجات کیجئے-----برائے اصلاح
سجود کرتے قیام کرتے
سحر میں لُطف نہیں اور شام بے رونق غزل نمبر 127 شاعر امین شارؔق
سحر کو شب نہ مانیں گے غزل نمبر 54 شاعر امین شارؔق
سخت تنقید و اصلاح : دل میں جو شعر آئے وہ لکھ دیجئے
سخت دشوار ہوا جاتا ہے جینا میرا
سخت مشکل میں پھسا ہوں یا نبی ﷺ برائے اصلاح
سخنور حضرات کی قیمتی راے کا متمنی! ناچیز
سدا ظلم انسان سہتا نہیں ہے
سدا میرے دل سے یہ آواز آئی
سدا میرے دل سے یہ آواز آئی
سدا میرے دل سے یہ آواز آئی--- برائے اصلاح
سدا میرے دل سے یہ آواز آئی--- برائے اصلاح
سر اصلاح کے لئے غزل پیش خدمت ہے
سر زمینِ مقدس
سر فانی بدایونی کی زمین میں ایک حقیر غزل پیش کرنے کی جسارت
سر مومنؔ کے ایک شعر کی بابت اساتذہ سے ایک سوال
سر میں تھا قدرت کا فسوں ساز سے پہلے --- اصلاح و تنقید کے لئے حاضر ہے
سر پر ہے یادِ یار کی چادر تنی ہوئی ۔ برائے اصلاح
سر پہ سایہ نہیں ہے بادل کا
سر کش مٹے کچھ ایسے کہ نابود ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب
سرائیکی دوھڑا - عیدکارڈ سجن دا
سرائیکی کلام برائے اصلاح
سرابوں کو زادِ سفر کر لیا ہے
سراپا وِلایت وِلایت علی شاہ (منقبت) غزل نمبر 144 شاعر امین شارؔق
سرد راتوں میں بکھرتے ہیں گلوں کی صورت۔۔۔۔ برائے اصلاح
سرد صحرا کا بار سر پر ہے
سرمایہءِ شعورَ تمنّا حضور آپ ”نعت برائے اصلاح“
سرمحفل ۔۔۔شعر برائے اصلاح
سرمہ درِ گلو ہے بڑے احترام سے ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
سرور و لطف سے مخمور میری شام رہے
سرِ آئینہ جو انسان نظر آتے ہیں
سرِ عام کو سرِّ عام (سر رے عام) یعنی مفعولات کے وزن پہ باندھا جا سکتا ہے؟؟
سعادت کے دن اور عبادت کی راتیں۔۔۔برائے اصلاح
سفر کربلا
سفر یہ میرا رائیگاں جو ہے
سفیر امن بنا دے یہ شاعری مجھ کو
سلام برائے اصلاح
سلام اُس پر کہ ناداروں کی جس نے سرپرستی کی ۔۔۔ سلام بحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم
سلام برائے اصلاح
سلام برائے اصلاح
سلام برای اصلاح
سلام رضا کے ایک شعر کی وضاحت درکار ہے
سلسلہء جسارت
سماعتوں میں شہد سے جملے دعا کے رکھنا کمال یہ ہے ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
سمتیں
سن کے جانا آج میری آہ و زاری----برائے اصلاح
سنا تھا نام جو تیرا ۔۔۔ برائے اصلاح
سنا رہے ہیں محبت کی داستاں کی طرح
سنو اے نصف بہتر، خوش بدن، اے رازداں میری --- برائے تصحیح و تنقید
سنو تم کون ہو میری
سنو جاناں!
سنو محبت بھیک نہیں
سنگدل دونوں ہیں برابر کے۔۔۔ برائے تنقید
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائی
سو سال زندگی کے ہم نے ہیں یوں گزارے
سو جاتا ہے خدا ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح اور جارحانہ تنقید
سو جتن کر کے بندھا تھا جو وہ پل میں ٹوٹا
سو، شہرِ دوست میں، سب سے بگاڑ آیا ہوں ! ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
سوال
سوال
سوال
سوال
سوال
سوال ۔۔۔۔ از:عابی مکھنوی
سوال(ضرورت) فیض کا شعر
سوال:: قرینہ اور دلیل
سوالات کے جوابات درکار ہیں؟
سوالیہ؟؟؟؟؟؟؟؟ از شزہ مغل
سوختنی
سورت اخلاص کا منظوم ترجمہ۔ برائے اصلاح
سورج تب ہی نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا
سورج کہیں نہ چھین لے مجھ سے نا مدار۔نئی کوشش آپ سب کی تنقید کا متّمنی۔
سوچ لو
سوچا ہے اس جہان میں بن کے رہیں گے اجنبی----برائے اصلاح
سُبحان تیری قدرت سُبحان تیری قدرت غزل (حمد) نمبر 29 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
سُنی سُنائی بات از محمد خلیل الرحمٰن
سپنے میں ۔ برائے اصلاح
سچ بولنے کا مجھ کو وہ کیسا صلہ دیا
سچ تو یہ ہے اگر ترا کردار مر گیا
سچ تو یہ ہے کہ جو بھی جانتا ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ مجھے تم سے گلہ کچھ بھی نہیں
سچ سنیں ان میں حوصلہ ہی نہیں
سچ کہا نہیں جاتا
سچ کہنا،لکھنا،بولنا مشکل ہے بڑا عادل ۔۔۔۔دل، زبان، ضمیر کے سُرْخْرُو قَلَم رہیں گے
سچ، شاعر پاگل لکھتا ہے غزل نمبر 119 شاعر امین شارؔق
سچا ہو جن کا عشق وہ ڈرتے نہیں کبھی
سچے خواب تو آسکتے ہیں غزل نمبر21 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
سکھا دے راستہ جو کچھ اسے حاصل سمجھ لینا ۔۔۔۔ طلب اصلاح
سیاسی لوگ::(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
سیماب میری خاک میں اتنا ملا دیا
سینہِ افلاک کے جُھومر نجوم غزل نمبر 113 شاعر امین شارؔق
سینہِ سوزاں تِری بیتابی یہ بیکار ہے
سیّدِ کونین ہیں پیارے نبی صلّی اللہ علیہ و اٰلہ وسلّم ۔۔۔ نعتیہ اشعار برائے اصلاح
شا عری کے لئے مشورہ مفت کون دے گا :)
شاخ سے توڑ لیا میں نے ارادہ اس کا - غزل اصلاح کے لئے
شاخ ِ جاں پر کوئی کلی چٹخے ...
شاخِ ہستی پہ ہوں مرجھائے ہوئے گُل کی طرح - --- غزل اصلاح کے لئے
شارق جمال ناگپوری کی اک غزل چاہئے۔۔۔
شاعرو ۔۔۔ عوامی اصلاح سے بچو!
شاعری
شاعری
شاعری
شاعری میں عمل تسبیغ
شاعری میں پیمبری کر لی ! ۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
شاعری نہیں اتصال
شاعری کا ابتدائی سبق
شاعری کے حوالہ سے کچھ سوالات
شاعری کے سمندر میں میری پہلی چھلانگ
شاعری، موسیقی اور علمِ عَروض
شام ڈھلتے ہی تری یاد نے آنا ہوگا
شامیں اداس میری ، صبحیں ملال تیرا----برائے اصلاح
شاہیں بچے
شاید غزل : برائے تبصرہ و رائے دہی
شاید کہ زندگی کو گزارا بھی کچھ نہیں..برائے اصلاح
شب بھر مجھے آغوش میں سونے تو دو
شب تو ہے سکوں بخش ، مگر دل میں ہے ہلچل
شب دِن، دِن شب ہو سکتا ہے غزل نمبر 181 شاعر امین شارؔق
شب ھجراں میں ستارہ سر مژگاں دیکھا۔ اصلاح کا خواست اگر ھوں
شب ہجراں میرے گھر سے اب جاتی نہیں... برائے اصلاح
شبِ وصل آئی ملی شادمانی---برائے اصلاح
شبِ ہجر تیری کہانی سُنائے----برائے اصلاح
شبِ غم مختصر کرے کوئی
شبِ فراق ہی کو حرزِ جاں لکھا ہوا ہے
شتر گربہ سے متعلق تفتیش
شخصیت دیکھ کر منہ لگاتے ہیں لوگ ۔
شعر
شعر اور تکرارِ لفظ
شعر برئے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح
شعر برائے اصلاح و رہنمائی
شعر برائے تقطیع
شعر برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
شعر براٸے اصلاح
شعر براے اصلاح
شعر براے اصلاح
شعر براے اصلاح
شعر منتخب کریں۔
شعر و شاعری کی آن لائن کلاس
شعر کا وزن کیا بنتا ہے؟
شعر کا پہلا مصرع کیا ہے
شعر کاوی کے اوایلی دور کی ایک نظم برائے اصلاح.."متروک سے"..
شعر کی اصلاح مطلوب ہے
شعر کی اصلاح فرما دیں
شعر کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
شعر کی اصلاح مطلوب ھے
شعر کی اصلاح مطلوب ھے
شعر کی اصلاح مطلوب ہے
شعر کی تشریح درکار ہے
شعر کی تصحیح۔
شعرا؍ حضرات کے لئے ایک مفید ویب سائٹ
شعری و عروضی اصطلاحات مع امثال
شعریت، تغزل، مصرعہ سازی سے متعلق معلومات
شعر۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
شكايت (آزاد نظم)
شور تو ہےمگر مُبہم سا ہے ۔۔۔ اصلاح طلب (زنیرہ عقیل)
شوق سے ہر جفا کیجیے ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
شوق نے زندگی بدل دی ہے
شوق کا اعتبار ہی نہیں ہے
شوقِ آرزو گیا ، عرضِ حال بھی نہ رہا
شوقِ سفر زمان میں تھا کہیں
شک تو تھا ہم کو، محبت میں خسارے ہوں گے
شکایت ہے تم سے نہ شکوہ کسی سے
شکر انسان ہے ابھی باقی
شکستگی ...
شکل اک یاد آتی رہی رات بھر ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
شکوہ
شکوہ کریں جو ان سے عادت نہیں ہماری
شکیل احمد خان کی شاعری (اصلاح طلب)
شگفتہ' شبانہ یا شہناز دینا
شہدا کیلئے ایک سلام ،” سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو”
شہر پھر بے اماں ہوا لوگو
شہرِ دل سے نکال دے مجھ کو
شہرِ دل کے ساحروں کا کیا ہوا
شہزادی
شیریں نہ دہن ہو تو محبت کی دوا دو
شیطان کے حواری آزاد ہو رہے ہیں
شیطان۔۔نظم برائے اصلاح
صبر اور ضبط کی دیوار اُٹھائی جائے ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
صبر کا پھل (بچوں کے لیے نظم)
صحت الفاظ
صحتِ تلفظ
صحرا میں ساحل چاہتا ہے غزل نمبر 102 شاعر امین شارؔق
صدائے مولا علی::: منقبت بحضور مولائے کائنات::: یوم شہادت مولا علی کے موقع پر
صداقت نہ چھوڑنا ۔۔۔۔ برائے اصلاح
صداقت کا پرچم اٹھا کے چلو
صرف تمہاری خاطر ہم غزل نمبر 60 شاعر امین شارؔق
صرف سجدہ نہیں اچھا نہ قیام اچھا ہے ۔۔۔ بغرض اصلاح
صریر خامہ وارث کی افادیت ---از راہِ عنایت توجہ کیجیے
صفائے شیشۂ من، لا الہ' الا ھو:::اصلاح کے لیے
صنم کی ہم عبادت کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
صوتیاتی جدول
صورت
صورت تری کو دیکھ کے مسحور ہو گیا
صورت تری ہے ایسی ، کِھلتا گلاب جیسے-----برائے اصلاح
صورت جینے کی نہیں رہتی
صورتِ حال عجیب نہیں ہے؟ ( فِعل فعول فعول فعولن)
صُبح اچھی ہے، شام بہتر ہے غزل نمبر 166 شاعر امین شارؔق
ضرورتِ اصلاح
طالب توجہ۔ ۔ ۔
طالب کی پیاس اور طلب ہے کہ ۔۔۔ کیا کہوں۔۔ توجہ فرمائے
طالبِ اصلاح
طالبِ نظر : بخشی ہے فقیروں کو جو شان خدا جانے
طالبِ نظر : ملتی ہے نہیں واعظ سجدوں سے کبھی جنت
طبیعت آج پھر گھبرا رہی ہے
طبیعت کو موزوں بنانے سے پہلے۔۔برائے اصلاح
طرحی غزل برائے اصلاح
طرحی غزل برائے اصلاح -اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا ۔ از محمد اظہر نذیر
طرحی غزل برائے اصلاح -خواب میں لذتِ یک خواب ہے دنیا میری ۔ از محمد اظہر نذیر
طرحی غزل کہتے وقت کیا مصرع طرح کو مطلع میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟
طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے
طرحی نظم برائے اصلاح ’’تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘‘
طفل مکتب کی کاوِش غزل (اساتذہ کرام کی اصلاح اور حوصلہ افزائی کی طلبگار)
طلاق۔۔۔۔۔۔عابی مکھنوی
طویل ردیفی غزل، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،؛؛ داستاں تو نہیں ہوں میں ہرگز؛؛
طویل غیر حاضری کے بعد ایک کاوش
طویل موسم ملال کا ہے
طویل نظم- شکوہ بنامِ محبوب
طویل ہوتے گئے انتظار کے لمحے
طیبہ لفظ کا صحیح وزن کیا ہے؟
ظالم اور محسن
ظلم کا دور ہے آواز اٹھاؤں کیسے؟
ظلم کرنے کی جو ظالم کو اجازت ہو گی
ظلم ہوتا دیکھ کر بھی لوگ کیوں خاموش ہیں ---------- برائے اصلاح
ظلمتِ شب میں روشنی تھی وہ----برائے اصلاح
ظُلم مُجھ پر آسماں کرتا رہا غزل نمبر 177 شاعر امین شارؔق
ظُلم کا احتساب کون کرے؟ غزل نمبر 123 شاعر امین شارؔق
ظہور مصطفیٰ اگر ہم پر نہیں ہوتا۔۔۔ اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں
عارضی سی زندگی میں مت سدا کی بات کر------برائے اصلاح
عاشقی سے بڑا رِیا ہی نہیں
عاشقی میں فقط یہی غم تھا
عاشقی کا درد تو سب کوعطا ہوتا نہیں ۔ برائے اصلاح
عام پیغام کر رہا ہے مرا !........ غزل اصلاح کے لئے
عامل
عامل
عاملا دیکھ یے محفل کو زرہ
عبرتوں کا مقام آیا ہے
عجب نہیں کہ حسن پرملال اب نہیں رہا
عجیب رشتہ ہے تیرا میرا
عداوت اگر ہو ...
عذاب سہنا عجیب کب تھا
عربی نظم کا اردو آزاد منظوم ترجمہ:
عرصہ پرانی ادھوری غزل۔ اب تو اپنی آرزو ہونے لگی
عرض در درگاہِ حضرت مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
عروض
عروض و بحور
عروضی اصطلاحات
عریانی(نظم برائے اصلاح)
عزتوں کے دعوے داروں
عشرۂ مبشرہ (قطعہ)
عشق
عشق کا تقاضا
عشق کرنے پہ ہی عاشق کو سزا دی جائے
عشق احمد ﷺچاہیے --------نور سعدیہ شیخ
عشق تیرا مقام اونچا ہے
عشق جب کر لیا تو آہ نہ کر ۔۔۔۔۔ غزل برائے اصلاح
عشق جھیلا، سزا بھی جھیلی ہے- برائے اصلاح
عشق خود سے ہی بس کیا جائے- برائے اصلاح
عشق سے گر نظر نکل جائے غزل نمبر 99 شاعر امین شارؔق
عشق لا علاج
عشق مجنوں بنائے دیتا ہے
عشق میرا ہی مرا سود و زیاں ہے یارو
عشق میں اب جو حال ہے میرا
عشق میں شاید دل بھی پتھر ہو جاتا ہے
عشق میں یوں تو کیا نہیں ہوتا
عشق ننگِ آستاں ، پیرِ مغاں کا کیا کروں
عشق نہ کرنا کبھی اس میں خسارا بہت ہے غزل نمبر 34 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
عشق نہیں آسان اے دل غزل نمبر 58 شاعر امین شارؔق
عشق نہیں اے دل آسان غزل نمبر 57 شاعر امین شارؔق
عشق ِحقیقی کا سفر
عشق کا نام دے دیا گیا
عشق کا نام کر دیا بدنام (برائے اصلاح)
عشق کاجام سرِ عام پیا جاتا ہے
عشق کرنے کا یہی معیار ہونا چاہئے----برائے اصلاح
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
عشق کے اب جو طلب گار نظر آتے ہیں
عشق گستاخانہ میرا
عشق،محبت،پیار خفا ہیں غزل نمبر 83 شاعر امین شارؔق
عشقِ بے مہر سے نکل آیا
عظیم جِس کو کہیں ایسا گھر حسین کا ہے (منقبت) غزل نمبر 167 شاعر امین شارؔق
عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ
عقل تو امتحان میں آئی
عقل تھی آگہی نے ماردیا
عقل مند چیونٹی از محمد خلیل الرحمٰن
عقل نے دِل سے یہ شکایت کی (غزل برائے اصلاح)
عقلِ کامل مجھے ملے
علامہ اقبال کی شہرہء آفاق نظم شمع اور شاعر کے پہلے حصے شاعر کا منظوم ترجمہ
علامہ اقبال کے کلام کا اردو ترجمہ
علامہ کی نظم "آزادیِ افکار" پر ایک کوشش برائے اصلاح
علم اور عالم
علم عروض - اردو شاعری
علم عروض - ارکان
علم عروض - بحر رجز
علم عروض - بحر ہزج
علم عروض - بحریں
علم عروض - تخیل اور تغزل
علم عروض - صفاتِ غزل
علم عروض - عروضی اصول
علم عروض - لچک دار حروف
علم عروض - مزحاف
علم عروض اور شعری اصطلاحات سے متعلقہ لڑیاں
علم والے کہتے ہیں۔۔۔۔۔"آزاد نظم"۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
علمِ ریاضی اور طولِ شبِ فراق
علمِ عروض - بحرمضارع
علمِ عروض - آوازیں - چھوٹی اور بڑی
علمِ عروض - بحر خفیف
علمِ عروض - بحر رَمِل
علمِ عروض - بحر سریع
علمِ عروض - بحر محبتث
علمِ عروض - بحر مُتادارک
علمِ عروض - بحر مُتقارب
علمِ عروض - بحر کامل
علمِ عروض - بحرِ منسرع
علمِ عروض - شاعری کا علم
علمِ عَروض نمبر 7
علی سرمد کی غزل کا ترجمہ کرنے کی ایک کوشش از محمد خلیل الرحمٰن
عمار خاں کی شاعری برائے اصلاح
عمر بھر آنکھوں میں پانی لے کر --- برائے اصلاح
عِشق ایسے ہے زِندگانی میں غزل نمبر 146 شاعر امین شارؔق
عِشق میں وصلِ یار نعمت ہے غزل نمبر 162 شاعر امین شارؔق
عِشقیہ بات سے ڈر لگتا ہے غزل نمبر 152 شاعر امین شارؔق
عکس
عہد کرتے ہو تو پھر اس کو نبھایا جائے
عہد الفت توڑنے میں کچھ پریشانی ہوئی
عہدِ عروج ہو یا عہدِ زوال ہو
عید مبارک
عید مبارک
عید مباک
عید ایسے منائیں گے ہم لوگ
عید مبارک ہو
عیدالاضحی مبارک
عین سر، سر عظیم
غافل کو مرے دیدۂ بینا دے دے
غالب سے معذرت: ابنِ عاطف ہوا کرے کوئی
غالب کی استعمال کردہ مانوس بحریں از محمد ریحان قریشی
غالب کی زمین میں
غالب کی زمین پہ جسارت
غالب کے ایک شعر کی تقطیع
غذل بغرض اصلاح
غرل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
غز ل کے اشعار ا
غز ل کے اشعار اصلاح کی غرٍض سے پیش حدمت ہیں
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل عمربھرکی ردیف میں
غزل ۔۔۔ (مے خوار کے لبوں پہ بھی ہے جام آگیا)
غزل اصلاح کے واسطے۔۔ (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
غزل (2023-09-22)
غزل (برائے اصلاح)
غزل (شبِ فراق کا مزہ کہاں شبِ وصال میں)
غزل (میرے خدا)
غزل - (2024-03-08)
غزل اصلا ح کی درخوا ست ہے
غزل اصلاح کیلیے
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح : میں جانتا ہوں
غزل برائے اِ صلاح
غزل برائے تنقید و اصلاح "ابھی الفاظ میں جذبوں کی چبھن باقی ہے"
غزل بعنوان "کوچ" اصلاح کے لئے پیش ہے
غزل " نادم تھی بے لگام ہوا، سوچتی رہی" برائے اصلاح
غزل "اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن" برائے اصلاح
غزل "تو آبگینے جیسا ہے میں سِفال کی طرح" برائے اصلاح
غزل "جنون عشق میں حالت عجیب ہوتی ہے" برائے اصلاح و تنقید
غزل "میں اپنے آپ سے لڑتا رہا اکیلے میں" برائے اصلاح
غزل "نہ عروج دے نہ زوال دے" برائے پوسٹ مارٹم
غزل "ہمارے دِل پہ کبھی ہاتھ رکھ دیا ہوتا" برائے اصلاح
غزل #1 برائے اصلاح
غزل #5 برائے اصلاح
غزل (16 جون 2023)
غزل (2 جون ، 2023)
غزل (2023-08-05)
غزل (2023-09-15)
غزل (2023-10-29)
غزل (2024 - 02 - 23)
غزل (2024 - 02 -16)
غزل (2024 - 05 - 10)
غزل (2024 - 05 -25)
غزل (2024 - 11 - 15)
غزل (2025 - 01 - 19)
غزل (22 جُون 2023)
غزل (برائے اصلاح فنی و فکری)
غزل (برائے تنقید و اصلاح)
غزل (برائے تنقید و اصلاح)
غزل (جلا کے مری جھونپڑی کو ستم گر --- رقیبوں کے گھر میں دیے ہیں جلائے)
غزل (دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں)
غزل (سادہ بھی جو تھا خُوبرو وہ بن سنور کے تو)
غزل (شیشے سا نازک دل لے کے)
غزل (فاعلاتُ مفاعیل فعولن ) برائے اصلاح۔
غزل (فیاض خلیل)
غزل (ڈر ہے کہیں لوگوں میں بن جائے نہ افسانہ)
غزل - ( 2024 - 11 - 23 )
غزل - (2023-01-26)
غزل - (2023-02-23)
غزل - (2023-12-29)
غزل - (2024 - 06-29)
غزل - (2024 - 09 -28)
غزل - (2024 - 10 - 04)
غزل - (2024 - 10 - 12)
غزل - (2024 - 10 - 18)
غزل - (2024 - 11 - 02 )
غزل - (2024-03-15)
غزل - (2024-03-30)
غزل - (2024-04-05)
غزل - (2024-08-23)
غزل - (2024-08-30)
غزل - (2024-09-12)
غزل - (2025 - 06 - 27)
غزل - (2025 - 07 - 05)
غزل - (2025-02-15)
غزل - (2025-03-15)
غزل - برائے اصلاح
غزل - مجھے تم بھلا دو کوئی غم نہ ہوگا - برائے اصلاح
غزل --- (2023-12-08)
غزل --- کہیں کہیں سے رِدائے انا ، رفو کر لوں--- اصلاح کے لئے
غزل --- (بھوک بڑھ جاتی ہو جس کی پیٹ بھر جانے کے بعد)
غزل --- (مستی جو شرابوں میں جو رنگ گلابوں میں)
غزل -یہ کیسا روگ لگا مجھے ، میرے چارہ گر بتا مجھے - پیاسا صحرا
غزل 2 برائے اصلاح
غزل 2: براہے اصلاح
غزل 3 برائے اصلاح
غزل : بغرض اصلاح
غزل : جوشِ طوافِ کوچہء جاناں کو دیکھ کر : برائے اصلاح از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل :آنکھوں آنکھوں میں کر ملاقاتیں (مہدی نقوی حجاز) برائے تبصرہ
غزل اصلاح طلب
غزل اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے
غزل اصلاح کے لئے.... خوش سلیقے سے اگر ان کو نبھاتے جاتے
غزل اصلاح کے لئے=جذبات میں جل جائیں=
غزل اصلاح کے لیے
غزل اصلاح کے لیے
غزل اصلاح کے لیے حاضر
غزل اصلاح کے لیے پیش ہے" میں آج اپنے گھر میں ہی مہمان ہوگیا"
غزل اور اس کی بحر
غزل آپکےپیش ِنظر کرتا ہوں
غزل بر ائے اصلاح
غزل بر ائے اصلاح #4
غزل بر ائے اصلاح #6
غزل برئے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
غزل برئے اصلاح ۔7
غزل برا
غزل برائے
غزل برائے آپریشن
غزل برائے ارباب ذوق و نقد و تبصرہ
غزل برائے اصطلاح
غزل برائے اصلا ح
غزل برائے اصلا ح
غزل برائے اصلا ح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح ردیف::: اے زندگی
غزل برائے اصلاح --- جو سائے سے بھی ڈرتا تھا، محبت کس طرحکرتا --- از : عمران نیازی
غزل برائے اصلاح و تنقید "لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں"
غزل برائے اصلاح "سنو میں خاک ہوتا جا رہا ہوں"
غزل برائے اصلاح "شمع ہر موڑ پہ جلتی ہے جو میخانوں کی"
غزل برائے اصلاح "غُرفہِ قلبِ صنم کھٹکھٹا کے دیکھ سکوں"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فاعلاتن فاعلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فعلاتن فعلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن مفاعلن فَعِلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن مفاعلن فَعِلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن مفاعلن فِعْلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلاتن مفاعلن فِعْلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن"
غزل برائے اصلاح "فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن"
غزل برائے اصلاح "محبت حرّیت کا راستہ ہے"
غزل برائے اصلاح "مسلسل بے یقینی"
غزل برائے اصلاح "معفول مفاعلن فعولن"
غزل برائے اصلاح "مفاعیلن مفاعیلن فعولن"
غزل برائے اصلاح "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن"
غزل برائے اصلاح "مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن"
غزل برائے اصلاح "مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن"
غزل برائے اصلاح "مفعول مفاعلن فعولن"
غزل برائے اصلاح "مفعولن فاعلن فعولن"
غزل برائے اصلاح "وہ اپنے پاس بُلائے تو کوئی بات بنے"
غزل برائے اصلاح #6 ۔۔۔۔ تری یاد نے جب رلایا قلم کو
غزل برائے اصلاح #۲
غزل برائے اصلاح ( فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
غزل برائے اصلاح ( فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
غزل برائے اصلاح ( فاعلاتن مفاعلن فعلن)
غزل برائے اصلاح ( فعولن فعولن فعولن فعولن)
غزل برائے اصلاح (اس محفل میں میری پہلی کاوش)
غزل برائے اصلاح (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
غزل برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
غزل برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
غزل برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فِعْلن)
غزل برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
غزل برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
غزل برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
غزل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعل)
غزل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
غزل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
غزل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)
غزل برائے اصلاح (مفاعلاتن مفاعلاتن)
غزل برائے اصلاح (مفاعلن (فعلاتن-مفعولن) مفاعلن فعلن)
غزل برائے اصلاح (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)
غزل برائے اصلاح (مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن)
غزل برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)
غزل برائے اصلاح - اور کوئی غم نہیں
غزل برائے اصلاح - بدلا جا رہا ہے
غزل برائے اصلاح - تری جب یاد کی نکہت خیالوں میں سماتی ہے
غزل برائے اصلاح - تنہائیوں میں ساتھ جو جلتا تھا اک دیا
غزل برائے اصلاح - زبیر صدیقی
غزل برائے اصلاح - زنیرہ گل
غزل برائے اصلاح - زنیرہ گل
غزل برائے اصلاح - غالب کی ذمین میں
غزل برائے اصلاح - غم سے ہوا ہے میرا یہ حال ہائے ہائے
غزل برائے اصلاح - قدم
غزل برائے اصلاح - مشکل ہے وہی جس کو آسان سمجھتا تھا
غزل برائے اصلاح - ہوئے مصروفِ کار، آخرکار
غزل برائے اصلاح --جن سے رفعت کلام کرتی ہے ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -اسلوب تو بدلے ہیں ، الفاظ نہیں بدلے ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -جب بھی فرصت ہو مرے خواب سجاتی جانا ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -راہ چلتے ملا تھا، جدا سا لگا ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -سب دعائیں ٹال سکتی ہیں بلائیں کر دعا ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -نکلا نہیں حصار سے اُن کے تمام عمر ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -کیا ضروری ہے، محبت ہو، بیاں بھی کر دوں ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح -ہر گام پہ دھوکہ ہے مگر دیکھ رہے ہیں ۔ از محمد اظہر نذیر
غزل برائے اصلاح : جب مصور کوئی تصویر بناتا ہی نہیں
غزل برائے اصلاح : خوابوں کا وہ اک کانچ نگر جوڑ رہا تھا
غزل برائے اصلاح : مطلب ہے صرف ہم کو اپنے جناب سے
غزل برائے اصلاح : کبھی نظریں ملاتا ہے کبھی نظریں چراتا ہے
غزل برائے اصلاح : آ رہی ہیں آج یادیں اپنے گاؤں کی مجھے
غزل برائے اصلاح : آج وہ آ کر ملا ہم رو پڑے
غزل برائے اصلاح : اس کو بچپن سے چاہتا ہوں میں
غزل برائے اصلاح : اس کے دل میں اتر گیا ہوں میں
غزل برائے اصلاح : اشرف ! مَیں ہوں وہ عاشقِ ناکام دیکھیے
غزل برائے اصلاح : اشرف شگفتہ .........
غزل برائے اصلاح : الجھے سوال کی جنگ اپنے کمال کی جنگ
غزل برائے اصلاح : ان کے لبوں پہ صرف ستانے کی بات ہے
غزل برائے اصلاح : اِک یہی کاروبار ہی ہے فقط
غزل برائے اصلاح : اپنی انا اٹھا لی مرے خواب پھینک کر
غزل برائے اصلاح : اپنی باتوں سے مکرنا نہیں آتا ہے مجھے
غزل برائے اصلاح : اک دن یوں حسرتوں کا تماشہ دکھائی دے گا
غزل برائے اصلاح : اگر وہ دل سے دعا کرے گا
غزل برائے اصلاح : ایک دوجے کو ہم گنوا بیٹھے
غزل برائے اصلاح : بات کچھ ہے کہ وہ سینے سے لگاتا ہے مجھے
غزل برائے اصلاح : بات ہے اب کے مرے وہم و گماں سے آگے
غزل برائے اصلاح : برسوں
غزل برائے اصلاح : بنے جس کے ہم وہ ہمارا بنے
غزل برائے اصلاح : تجھ کو پانے کے لیے کچھ بھی وہ کر سکتا ہے
غزل برائے اصلاح : تسلی بھی مجھے دیتے ہیں پر بیزار ملتے ہیں : عمران نیازی
غزل برائے اصلاح : تو مجھ کو اپنی کسی بات سے خفا سمجھو
غزل برائے اصلاح : جب بھی کوئی شرمائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
غزل برائے اصلاح : جس پر چڑھا ہو نشّہ کسی کے جمال کا
غزل برائے اصلاح : جن کے خواب بڑے ہوتے ہیں
غزل برائے اصلاح : جو کہوں گا مَیں ، کرو گے تم ، تمہارا وعدہ تھا
غزل برائے اصلاح : حُسن خود بین ہے ، خود آرا ہے
غزل برائے اصلاح : خوشی سے دل یہ میرا کچھ نہال ھی تو نہیں : عمران نیازی
غزل برائے اصلاح : داد دینی پڑے گی ہمّت کی
غزل برائے اصلاح : درد دل کی نہیں ہے حد - حد ہے
غزل برائے اصلاح : دل مکاں ہوتا تم مکیں ہوتی
غزل برائے اصلاح : دل نہ بہلے : عمران نیازی
غزل برائے اصلاح : دل ہے منزل کی جانب رواں آج پھر
غزل برائے اصلاح : دلربا مسئلہ ہو گیا
غزل برائے اصلاح : دَم نہ میرا کہیں نکل جائے
غزل برائے اصلاح : دیکھنا وہ ایک دن مجھ پر فدا ہو جائے گا
غزل برائے اصلاح : رنگ ، خوشبو ، بَہار کی باتیں
غزل برائے اصلاح : رگِ جاں سے دل تک مہکتے بھی تم ہو
غزل برائے اصلاح : زخم کو ہوا دیجیئے : از عمران نیازی
غزل برائے اصلاح : زندگانی سرائے عبرت ہے
غزل برائے اصلاح : سدھرنے کا ارادہ کر رہا ہوں
غزل برائے اصلاح : سوا تیرے مرے دل کا علاجِ غم نہیں ممکن
غزل برائے اصلاح : شاید تمہیں لگے ، یہ فسانے کی بات ہے
غزل برائے اصلاح : عاشقی بھی دیکھ لی
غزل برائے اصلاح : علم کا بوجھ ہے اضافی اب
غزل برائے اصلاح : غموں کا یہ بار لاد کر زندگی کی گاڑی کو کھینچ لوں گا
غزل برائے اصلاح : لڑ لڑ کے خود کو یوں چکنا چور کر دیا
غزل برائے اصلاح : مجھے دیکھ کر کیوں وہ گھبرا گئے
غزل برائے اصلاح : مسکرا کر وہ شرمگیں بولا
غزل برائے اصلاح : مطمئن اس پہ کیوں فلک بھی رہے
غزل برائے اصلاح : معجزہ کر دے زندگانی میں
غزل برائے اصلاح : مَیں گنوا دوں اسے اک آن میں کیا ؟
غزل برائے اصلاح : مِس کال کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
غزل برائے اصلاح : میرے چاروں طرف، خنجر بکف کوئی تو ہے : عمران نیازی
غزل برائے اصلاح : میں تو اس کا ہوں اشرف !
غزل برائے اصلاح : میں نے بھی عشق محبت کا دور دیکھا ہے
غزل برائے اصلاح : نشہ ہے تم کو ابھی
غزل برائے اصلاح : واقعی چاند کا وہ ٹکڑا ہے
غزل برائے اصلاح : وہ بار بار مِری انگلیاں پکڑتے ہیں
غزل برائے اصلاح : وہ بے حد شرمیلا ہے
غزل برائے اصلاح : وہ جو غائب بھی ہو کے حاضر ہے
غزل برائے اصلاح : وہی بضد ہیں مجھے خاک میں ملانے کو
غزل برائے اصلاح : ٹوٹی دیوار سے پھر ایک شجر اگ آیا
غزل برائے اصلاح : چسپاں نہ ہو گی مجھ سے کوئی دوسری ردیف
غزل برائے اصلاح : چلتے سانسوں کا اعتبار کیا
غزل برائے اصلاح : کاغذی پھول سے جیسے کوئی خوشبو مانگے
غزل برائے اصلاح : کرتا ہے انتظار بھلا کس کے کال کا
غزل برائے اصلاح : کسی شب یہ کہتے ہوئے ہم ملیں گے
غزل برائے اصلاح : کوئی جب پوچھے کیسا چل رہا ہے
غزل برائے اصلاح : کوئی رہبر نہیں کوئی رہزن نہیں
غزل برائے اصلاح : کوئی نہیں ہے آپ سا پیارا زمین پر
غزل برائے اصلاح : کچھ بھی ایسا نہیں ہے کیا ، مجھ میں ؟
غزل برائے اصلاح : کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں
غزل برائے اصلاح : کیا ان آنکھوں میں خوابوں کی بھی جگہ نہ رہی
غزل برائے اصلاح : کیسی یہ عجب شکل ہے تنہائی کی
غزل برائے اصلاح : کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں
غزل برائے اصلاح : ہر طرف شور ہے برائی کا
غزل برائے اصلاح : ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں
غزل برائے اصلاح : ہم محبت سے انجاں تھے
غزل برائے اصلاح : ہم نے دھڑکن سے جو کچھ سنا کہہ دیا
غزل برائے اصلاح : ہمیشہ آپ نے ہم کو رلایا
غزل برائے اصلاح : ہمیشہ سے چاند یوں دکھائی دیا مجھے
غزل برائے اصلاح : ہمیں تیری محبت کی ادائیں مار دیتی ہیں
غزل برائے اصلاح : یہ مشہور مقولہ ہے
غزل برائے اصلاح :- جس جگہ پہنچنا تھا ، وہیں آ گیا
غزل برائے اصلاح :- مار اس کو خود کشی کر لی
غزل برائے اصلاح :- وہیں دریا کے پانی میں لگی تھی آگ
غزل برائے اصلاح :: عشق ہو جائے تو پھر ہوش کہاں رہتا ہے
غزل برائے اصلاح :: نیم جاں پھرتے ہو کہتے ہو کہ حال اچھا ہے
غزل برائے اصلاح :: واقف نہیں ہے تو مرے حالِ تباہ سے
غزل برائے اصلاح :: ہائے جس در سے گریزاں تھے اسی در کے ہوئے
غزل برائے اصلاح :: اب جائیں ہم کہاں دلِ ویراں لیے ہوئے
غزل برائے اصلاح :: جانے کیوں اضطراب میں ہم ہیں
غزل برائے اصلاح ::: جس جگہ پر جا لگی وہ ہی کنارہ ہو گيا :::
غزل برائے اصلاح ::: جس جگہ پر جا لگی وہ ہی کنارہ ہو گيا :::
غزل برائے اصلاح ::: جس جگہ پر جا لگی وہ ہی کنارہ ہو گيا :::
غزل برائے اصلاح :مری حیات عجب اضطراب میں گزری
غزل برائے اصلاح ، بس تری باتیں کی ہیں
غزل برائے اصلاح ، مشورہ اور رہنمائی
غزل برائے اصلاح بر مصرع طرح: لکھی ہے مصحفِ رخسار کی تفسیر مدت تک
غزل برائے اصلاح تمام سخن شناس احباب کی نذر
غزل برائے اصلاح تنقید و تبصرہ!
غزل برائے اصلاح جناب الف عین سر اور جناب آسی سر اور تمام محترم اساتذہ حضرات کی خدمت میں.
غزل برائے اصلاح شاعر یوسف جمیل یوسف
غزل برائے اصلاح محترم اساتذہ اکرام خصوصاً جناب الف عین اور جناب آسی سر کی خدمت میں.
غزل برائے اصلاح نشے میں جبہ و پگڑی بھی وار آئے ہیں
غزل برائے اصلاح و تبصرہ
غزل برائے اصلاح و تصحیح
غزل برائے اصلاح و تنقید
غزل برائے اصلاح و تنقید
غزل برائے اصلاح و تنقید
غزل برائے اصلاح و تنقید
غزل برائے اصلاح و تنقید "فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن"
غزل برائے اصلاح و تنقید (29)
غزل برائے اصلاح و تنقید (6)
غزل برائے اصلاح و تنقید (7)
غزل برائے اصلاح و تنقید ۔ دیوانِ میر کہہ رہا تھا خوش لسان سے
غزل برائے اصلاح و تنقید۔۔۔ فرقتِ یار میں کیا خوب نظارے دیکھے ۔۔۔از محمد ذیشان نصر
غزل برائے اصلاح و رہنمائی
غزل برائے اصلاح ٰ(جنت سے بے سبب تو نکالا نہیں گیا)
غزل برائے اصلاح پیش ہے
غزل برائے اصلاح پیش ہے
غزل برائے اصلاح یوسف جمیل یوسف
غزل برائے اصلاح ۔
غزل برائے اصلاح ۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن
غزل برائے اصلاح ۔ مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
غزل برائے اصلاح ۔۔۔
غزل برائے اصلاح ۔۔۔ احمد فراز کی زمین پر
غزل برائے اصلاح ۔۔۔ اگر ہوتا
غزل برائے اصلاح ۔۔۔اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی کو کھا گئی
غزل برائے اصلاح ۔۔۔پتھر ہوں مگر سخت نہیں دیوار کی مانند۔۔۔ ذیشان نصر
غزل برائے اصلاح ۔۔۔کبھی یہ تیغِ تمنا بھی بے نیام نہ ہو
غزل برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔
غزل برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل برائے اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل برائے اصلاح" آنکھوں میں بسے خوابوں کی تعبیر لکھے کون
غزل برائے اصلاح" ترکِ جفا کا اس نے ارادہ نہیں کیا
غزل برائے اصلاح(3)
غزل برائے اصلاح(4)
غزل برائے اصلاح(5)
غزل برائے اصلاح- یہ لہریں ہی تڑپ کر کیوں نہ لے جائیں کناروں کو
غزل برائے اصلاح- تہِ دریا میں ہے طوفانِ قرار
غزل برائے اصلاح- جلتا ہے جسم آتشِ عشقِ نگار میں
غزل برائے اصلاح----تمہارے ملنے کو جو انتظار کے لمحے
غزل برائے اصلاح---طرب کے پھول سے گلدان کو سجا کے رکھ
غزل برائے اصلاح-بیڑیاں طاقت کے پاؤں میں نہیں
غزل برائے اصلاح-سو بار قفس میں پھڑپھڑائے
غزل برائے اصلاح-قید و بندِ وجود سے نکلیں
غزل برائے اصلاح-نہ پوچھو کہ کس کی خطا ہے
غزل برائے اصلاح-ہم غذائے غمِ الفت پہ پلے
غزل برائے اصلاح........
غزل برائے اصلاح.....................
غزل برائے اصلاح.. نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
غزل برائے اصلاح: فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
غزل برائے اصلاح: ساتھی تو کہاں حسین و جمیل رہ گئی
غزل برائے اصلاح: فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
غزل برائے اصلاح: وقت جو بیت گیا اس کو صداکیا دینا: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل برائے اصلاح: ابھی ہیں راہِ طلب میں تیری ۔۔۔
غزل برائے اصلاح: ادا ہوتا نہیں صدقہ دکھاوے کی سخاوت سے
غزل برائے اصلاح: ان کہی بات بھی اِظہار میں آ جاتی ہے
غزل برائے اصلاح: اُس کی ہر بات میں ابہام کا پہلو پایا
غزل برائے اصلاح: ایک لمحہ کئی صدیوں میں بڑھا ہو جیسے
غزل برائے اصلاح: تانیث بھی خوابوں میں تذکیر ہو جاتی ہے
غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا
غزل برائے اصلاح: دوا درود نہ دو سامنے شراب کرو
غزل برائے اصلاح: دیدۂ اختر فشاں میں اشک اب آئیں تو کیوں؟
غزل برائے اصلاح: زندگی کا سفر ہے بہت مختصر
غزل برائے اصلاح: سبھی الجھنوں کا مٹانا پڑے گا
غزل برائے اصلاح: سنا ہے جام محفل میں پلاتا بھی ہے خود ساقی
غزل برائے اصلاح: عجب سی اک کشش پائی شبِ عزلت کے افسوں میں
غزل برائے اصلاح: فقط احساس ہے میرا، نہیں ہے شاعری میری
غزل برائے اصلاح: مسلسل ۲
غزل برائے اصلاح: مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
غزل برائے اصلاح: میرے گھر میں ہیں بہت آگ لگانے والے
غزل برائے اصلاح: میں ایک خواب نیند میں کھو کر چلا گیا
غزل برائے اصلاح: وہ کئی بار بھول کرتے رہے
غزل برائے اصلاح: چھت ہے تو سر نہیں ہمارے پاس
غزل برائے اصلاح: کہوں بات جو میرے سردار کھل کر
غزل برائے اصلاح: گزرے گا وقت ایسے سہانا حیات کا
غزل برائے اصلاح:- مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا
غزل برائے اصلاح::رات ہونے کو ہے اب رات کدھر جائے گا
غزل برائے اصلاح@الف عین
غزل برائے اصلاح،، مطلع بند،،
غزل برائے اصلاح؛ ہم جو سارا کلام لکھتے ہیں ؛ از، عمران نیازی
غزل برائے اصلاح۔
غزل برائے اصلاح۔
غزل برائے اصلاح۔
غزل برائے اصلاح۔
غزل برائے اصلاح۔ ان کو خوئے وفا نہ ہو جائے
غزل برائے اصلاح۔ دیکھا ہمیں جو راہ میں تو منہ چھپا گئے
غزل برائے اصلاح۔ رہِ وفا میں چراغِ ہوس جلاتے نہیں
غزل برائے اصلاح۔ شور پھر ہے بہار آنے کا
غزل برائے اصلاح۔ صبح کا انتظار کرتے ہیں
غزل برائے اصلاح۔آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
غزل برائے اصلاح۔بارِ گلشن بن گئی فصلِ بہار
غزل برائے اصلاح۔جانِ خستہ درد پر پلتی رہی
غزل برائے اصلاح۔زندگی رشکِ زندگی ہوتی
غزل برائے اصلاح۔مومن کی زمین میں
غزل برائے اصلاح۔ہے کون جہاں میں وہ جسے غم نہیں ہوتا
غزل برائے اصلاح۔۔ ( فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
غزل برائے اصلاح۔۔ نہ دکھ کا دکھ نہ خوشی کا ملال رہتا ہے
غزل برائے اصلاح۔۔دستِ خزاں دراز ہے، فصلِ بہار دے
غزل برائے اصلاح۔۔۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔ اب جو بچھڑوں تو کہانی میں مرا نام ملے۔۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔ دُریاں
غزل برائے اصلاح۔۔۔ قیدی اپنی قید میں جب تھک گیا تھا
غزل برائے اصلاح۔۔۔ لیکن بروز عید مرا دل اداس ہے۔
غزل برائے اصلاح۔۔۔ پر مری قید میں رہنا ہو گا
غزل برائے اصلاح۔۔۔خدا کرے کہ مرا دل وفا شناس نہ ہو!
غزل برائے اصلاح۔۔۔چمن کے عشق میں قفس جلا دیا جلا دیا
غزل برائے اصلاح۔۔۔کہیں ہے رنگِ یگانہ ، کہیں پہ طرزِ میر
غزل برائے اصلاح۔۔۔۔اے بادِ بہاری تجھے غنچے کی قسم ہے
غزل برائے اصلاح۔۔۔۔۔۔
غزل برائے اِصلاح
غزل برائے اِصلاح
غزل برائے اِصلاح و تنقید
غزل برائے تبصرہ "چڑھا ہے یہ کیسا نشہ لکھ رہا ہوں"
غزل برائے تبصرہ و تنقید
غزل برائے تبصرہ و تنقید "طلوع نور دکھاؤ بڑا اندھیرا ہے"
غزل برائے تصحیح
غزل برائے تنقید
غزل برائے تنقید - نوید صادق
غزل برائے تنقید -----
غزل برائے تنقید -----
غزل برائے تنقید -----
غزل برائے تنقید و اصلاح "رات ہے اور خمار باقی ہے"
غزل برائے تنقید و اصلاح "ہم لوگ لا کے ساتھ بہت دور تک گئے"
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح
غزل برائے تنقیدی جائزہ
غزل برائے توجہ و اصلاح
غزل برائے نظر ثانی
غزل برائے پوسٹ مارٹم
غزل برائےاصلاح
غزل براٗٗئے اصلاح
غزل براٗٗئے اصلاح
غزل براٗٗئے اصلاح
غزل براٗٗئے ٓاصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح
غزل براہ اصلاح : جو پھول ہیں وہ پھولوں کا ہار بیچتے ہیں
غزل براہ اصلاح : عمران میں تو پیڑ تھا ،
غزل براہ اصلاح : کس لیے پوچھتا ہے کس کا ہوں ؟
غزل براہ اصلاح : ہر نئے دن کی شروعات سے ڈر لگتا ہے
غزل براہ اصلاح : ہر نفَس رب کی بندگی کرنا
غزل براہ اصلاح : یاں کوئی میرا گرویدہ نہ تھا
غزل براہ اصلاح ،
غزل براہِ اصلاح : بے سبب خود کو بے قرار کیا
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح
غزل براے اصلاح دل کی تلخی کو چھپا کر چل دئے
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید
غزل براے اصلاح و تنقید !!
غزل براے اصلاح؛ ہاے اس بار الگ ہے یہ فسانہ دیکھو؛
غزل براےِ اصلاح و تنقید !!
غزل بعنوان "پاگل" برائے اصلاح و تنقیدی جائزہ
غزل بغدض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرض اصلاح
غزل بغرضِ اصلاح
غزل بغرضِ اصلاح/ رند بے آبرو ہوجائیں گے میخانے میں
غزل بغرضِ اصلاح: پھر سے یادِ یار میں جگنو بلائے جائیں گے
غزل حاضر برائے اصلاح و رائے
غزل حاضر ہے۔۔۔۔۔ تبصرہ ضرور کریں
غزل حقیقی یا مجازی
غزل در زمینِ اقبال
غزل در غزل
غزل سازوں میں ہونے آیا شامل میں
غزل ضرور لکھیں ! مگر زیر نظر تحریر ضرور دیکھیں
غزل ملاحظہ ہو
غزل میری سراب کی سی ہے (برائے اصلاح)
غزل نما خرافات --- اصلاح کے جراحت خانے -- کی نذر
غزل نما - برائے اصلاح
غزل نما : برائے تبصرہ و رائے دہی
غزل نمبر187 شاعر امین شارؔق صاحب لڑیامین شارق تاریخ ابتداءجمعرات بوقت 9:06 شام ٹیگالف عین ،خلیل الر حمن یاسر شاہ اور دیگر اس
غزل ٣
غزل پر آپ کی نظر ثانی چاہیے
غزل پرائے اصلاح #3
غزل پیشِ خدمت برائے اصلاح
غزل کا مطلع اور مقطع تنقید اور اصلاح کے لئی پیش ہے
غزل کو کیسے مترنم پڑھا جائے ؟؟؟
غزل کی اصلاح درکار ہے
غزل کی اصلاح درکار ہے۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح مطلو ب ھے۔۔۔
غزل کی اصلاح کریں مہربانی ہوگی
غزل کی نئی زمین پیش خدمت ہے "کب سر آئے گا جدائی کا فسانہ جانا"
غزل کیا ہے ؟
غزل کے اشعار برائے اصلاح "فرق پر تاج نہیں، ہاتھ میں دستار نہیں"
غزل کے دو مختلف اشعار
غزل کے روپ میں ہم آج زخم دل دکھاتے ہیں
غزل کے چند اشعار برائے اصلاح
غزل ۔ از آسی انصاری
غزل ۔ از آسی انصاری
غزل ۔ از آسی انصاری
غزل ۔ اساتذہ کی رائے درکار ہے
غزل ۔ اساتذہ کی رائے درکار ہے
غزل ۔مثمن سالم مقطوع: فاعلن فاعلن فاعلن فعلن
غزل ۔۔۔ (تیرے حُسن پہ واروں ماہ و شہاب سارے)
غزل ۔۔۔اصلاح ۔۔کی درخواست ہے
غزل ۔۔۔۔اصلاح کی درخواست
غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
غزل – برائے اصلاح
غزل" اسیر الفت" برائ اصلاح
غزل)(تک بندی) برائے اصلاح
غزل- یہ میرے آگے ہیں شمر وُہ میرے پیچھے ہیں یزید
غزل-آئے کسی کے جی میں نہ جو وہ گماں ہیں ہم
غزل.. ہماری تقریباً پہلی غزل.. جو راتیں خوش گزرتی تھیں وہ راتیں اب نہیں باقی..
غزل... جدا سب سے ہیں باتوں میں لب و رخسار کی باتیں .. از محمد ذیشان نصر
غزل: (رمل ) فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
غزل: تیری یادوں کا دیا قلب میں جلتا ہی ہے
غزل: تماشا اب اپنا بناتے نہیں ہیں
غزل: خیالوں کی دنیا بہت خندہ زن ہے
غزل: زیست کی مشکلات کیا جانے::از: محمد خلیل الرحمٰن
غزل: سب تصور مرے دنیا کے کتابی نکلے
غزل: میں تنہا بھرے شہر میں بھی (امجد میانداد)
غزل: میں کہیں، ٹائی کہیں، سوٹ کہیں ہے میرا
غزل: وہ مجھے بھول نہ پائے یہ ضروری تو نہیں
غزل: کوئی بچوں کی شرارت کی شکایت نہ کرے
غزل:: از :: محمد خلیل الرحمٰن
غزل:۔ محمد نواز یاسر :۔۔۔۔ اس کے دو دن کا ساتھ کتنا سہانا تھا
غزل،'' گود میں ماضی کی جانے کب زمانے جا بسے'' براے اصلاح
غزلوں کی سلور جوبلی
غزلِ اصلاح درکار ہےض
غزلِ فوق
غزلِ من
غزلیات برائے تبصرہ
غزلیاتِ نور
غزلیں مختصر بحروں میں
غزلے داغ... "زندگی کو ہے سزا خواب میں بیداری کی"
غزل۔ اس سے پیار کیوں کرتا؟
غزل۔ توصیف زیدی
غزل۔ سوال و جواب کے پیچھے
غزل۔ محبت کے قصے
غزل۔ ۔۔۔میں بھی تھا
غزل۔۔۔اصلاح کی درخواست کے ساتھ
غزل۔۔۔۔۔ہم شکوہِ بیدادِرقیباں نہیں کرتے ۔۔۔ اصلاح مطلوب۔۔!
غزم : ایک نئی صنف سخن
غزہ کے نام (نظم)
غزہ۔۔ یہ سارے درد اپنے ہیں۔۔۔برائے اصلاح
غصہ دلِ حزین پہ اور گھونٹ صبر کے (قطعہ)
غفلت بھری یہ زندگی لگتی ہے ایک خواب
غم رہا
غم سنا کہ اٹھتے ہیں
غم نے ہر طرح سے ستایا مجھے ۔
غم کو سینے سے لگائے بیٹھا ہوں
غم کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں ( برائے اصلاح )
غم کی صورت دیکھ لی ہے۔۔۔برائے اصلاح
غم کی وادی دشمن نےاخیر کر دیا ہے لہو سے کشمیر تر کیا ہے ظلم وستم کی انتہاکرکے پیمانہ صبر کا بھر دی
غم کی کوئی زباں اگر ہوتی (برائے اصلاح)
غم ہجر و لطف وصال کیا ۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
غمِ روزگار
غمِ ہجر کو یوں زیادہ کیا ہے
غنچوں سے بھرے گھر کو بیاباں نہیں کرتے
غیبت کا انجام از محمد خلیل الرحمٰن
غیر حاضری کے بعد
غیروں کا بلاتے ہیں وہ اب اپنے ہی گھر میں
فائدے میں رہتے تھے فائدے سے نکلے ہیں۔۔برائے اصلاح
فارغ بُخاری کا کلام
فاعلات
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن اصلاح درکار ہے
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ ایک شعوری کوشش؟
فاعلاتن مفاعلن فعلن: عشق کو ڈھونگ جاننے والو
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن اصلاح
فاعلن مفاعیلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن برائے اصلاح
فتویٰ۔۔۔برائے اصلاح
فخرِ کون ومکاں آپ کی ذات ہے (نعت)
فراز کی زمین "کے دیکھتے ہیں"میں میری غزل
فراق ، وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے
فرد
فرزند گلستاں جاگ ابھی
فریاد
فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے
فضائے عالم ثنائے احمد سے ہے معطر
فضل قیوم احساس
فعولن کہانی (برائے اصلاح
فعولن کے وزن پرمشق . اساتذہ سے اصلاح کی درخواست
فعولن فعولن فعولن فعولن برائے اصلاح
فعولن فعولن فعولن فعولن جلی جا رہی ہے، دیا اب میری جو، یہی آخری ہے، ہے باقی نہ سمجھو۔
فقط ایک کُن کا سوال ہے، برائے اصلاح و جائزہ
فلک پر قسمتِ عالَم کے تارے جگمگاتے تھے (نعت)
فلک پہ تذکرہ ہر صُبح و شام میرا ہے غزل نمبر 128 شاعر امین شارؔق
فن آئینہ گری شیشہ کردار میں ہو... برائے اصلاح
فن شعرو شاعری - نصابِ تعلیم
فنا بھی ساتھ لائی ہوں
فنا کی رات ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
فنا ہو گیا
فوقؔ
فکرِ نو ۔۔۔ برائے اصلاح
فیس بَک بَک
فیس بُک کی دوستیوں پر ایک نظم ہوئی ہے ،'' اے دوست میں نے جانا تُجھے فیس بُک سے ہے '' اصلاح کے لیے
فیس بکی طرحی مشاعرہ : غزل برائے اصلاح
فیس بکی طرحی مشاعرے کے لئے اک غزل
فیصل کی شاعری
فیض کی اس نظم کی بحر کیا ہے؟
قاتل بھی کیوں نہ قتل پہ مجبور ہو وہاں (غزل برائے اصلاح)
قاتل ہوتا ہے اکثر ۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
قافلے نے مجھے سردار جو مامور کیا۔ ایک نئی کاوش آسی صاحب سے مدد اور اصلاح کی گزارش نذیر احمد قریشی
قافیہ
قافیہ شناسی ۔۔۔
قافیہ کے بارے ایک علمی سوال
قانون اس جہان کا کیسا ہے آج کل(غزل برائے اصلاح)
قبل از نسبت
قدر اور قدر۔۔۔۔
قدرت خدا کی ہر سُو جلوے دکھا رہی ہے
قرآں میں جو بھی ہے وہ رب کی بات ہے
قربتیں اور فاصلے
قرطاس ہو سفید تو ہوتے ہیں یہ سیاہ
قریبِ مرگ پہنچے تو سمجھ آئی زمانے کی ---برائے اصلاح
قسم کھاتے ہیں ہم زمانے کی
قسمتِ یار بھی ہے میرے مقدر کی طرح ۔۔۔ برائے اصلاح
قصئہِ درد یہ لوگوں کو سناؤں کیسے
قصور وار میں بھی نہیں
قصہ رنگین زندگانی کا
قطرہ قطرہ ابر سے ٹوٹا ہوں میں
قطعات
قطعات
قطعات
قطعات زیب
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ ...
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح
قطعہ برائے اصلاح ÷÷÷ ہر ایک لمحہ برستی ہیں رحمتیں تیری
قطعہ برائے اصلاح و تنقید
قطعہ برائے اصلاح و تنقید ۔۔۔ میرے شکار نے
قطعہ برائے اصلاح و تنقید۔ موت
قطعہ برائے اِصلاح
قطعہ ۔ برائے اصلاح
قطعے کی اصلاح چاہئے...
قمر کو جس پہ ناز تھا وہ آسماں نہیں رہا (برائے صلاح ومشورہ)
قندَ وفا برائے اصلاح
قوافی
قوافی کی تلاش
قوافی سے متعلق ایک سوال
قوافی سے متعلق ایک سوال !
قوافی قائم کرنے کے بارے میں اساتذہ سے ذرا رہنمائی کی درخواست ہے۔ شکریہ :)
قوافی کے متبادل ہم قافیہ الفاظ بتائیں
قوم ہے آج جن کے چنگل میں
قوّتِ جاذبہ تھی اِس دل میں۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے۔
قہر ہے خود کا دو جگہ ہونا
قیامت برائے اصلاح
قید
كوئی غزل تو سناؤ، بہت اداس ہوں آج
لا حاصل یاں بے حاصل؟
لا کے پھینکا کوئے غم میں ...
لالہ و گل، مہ و مہر حیران ہے دیکھو
لامکاں
لاک ڈاؤن: ایک پنجابی نظم کا ترجمہ
لاکھ دشمن ہیں مگر کوئی طرفدار نہیں
لب پہ کوئی دعا نہیں آتی
لباس تار تار کو رفو گری سے کام کیا
لحظہ بہ لحظہ دیدنی نام و نشاں تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل برائے اصلاح و تنقید
لرزہ سا اِک بدن میں سِرکتا چلا گیا-ملک عدنان احمد
لفظ ٍٰ ٰ بیعت ٰ ٰ کا وزن اشعار میں
لفظ!!!
لفظوں سے اشکوں تک
لفظوں میں قید مجھ کو جو صیاد کر گئے (اصلاح طلب)
لمحہ لمحہ ملا ہے درد صدیوں کا۔۔۔۔ نور سعدیہ شیخ
لمحہ لمحہ… … غزل
لو اب راز دل کے عیاں ہورہے ہیں
لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں کہانی میری---برائے اصلاح
لوگ کم ہیں جو محبّت کی حقیقت سمجھے
لوگ بستی کے سدا یوں ہی رہا کرتے ہیں---برائے اصلاح
لوگ تو ہیں سب کے سب بے باک سے (اصلاح)
لوگ کرتے ہیں گلہ آزار کا۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
لوگ کہتے ہیں شاعری ہے یہ!
لوگ کیا کہیں گے
لوگ ہنسے ہیں مجھ پر
لوگ یہ چند جو آزاد ہوئے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔
لوگوں سے بات کر کے ہم کو سنا رہے ہیں
لوگوں سے محبّت کا اظہار ہی کرتے ہیں--- برائے اصلاح
لوگوں نے اصل چہرہ اپنا چھپا لیا ہے
لوگوں پہ راز میرا گر یوں عیاں نہ ہوتا
ليلة القدر کی تلاش ۔۔۔۔۔۔۔۔ عابی مکھنوی
لکیریں برائے اصلاح
لگے ہاتھوں ہائکو پر ایک طبع آزمائی
لہروں پہ کوئی خواب روانہ تو نہیں ہے.... بحر ہزج ..... غزل اصلاح کے لئے۔
لیلۃ الہجر میں روشنی کے لئے
لیلیٰ شیریں ہِیر سب ہیں غائبانہ مت کہو غزل نمبر 108 شاعر امین شارؔق
لیڈر سے خطاب۔نظمِ معری برائے اصلاح
لیکچر نمبر 2
لیکچر نمبر 3
لیکچر نمبر 4
لیکچرنمبر1
لے کے چشمِ تر کہاں اب جائے گا؟ غزل نمبر 111 شاعر امین شارؔق
ما ں
مار ہی دے گا چھکے چوکے کوئی ۔
مانا کہ بندگی کا وعدہ نہیں نبھایا
مانا کسی کے ہجر میں جلتے چلے گئے
مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے
مانا کہ اعتبار کے قابل نہیں ہوں میں ۔۔۔ برائے اصلاح۔۔۔
مانتا ہوں کسی کو نہ بھایا ہوں میں ۔۔۔ برائے اصلاح
مانوس یاد ۔۔۔۔۔ نور سعدیہ شیخ
مانگ لو برائے اصلاح
مانگے برائے اصلاح
مانے نہ دل جو پیار پہ ، انکار کیجئے
ماں
ماں ! تیرے نام۔
ماں بیٹا، اور چاند ﴿ایک مختصر مکالمہ )
ماں کا نعم البدل نہیں شاہین (نگاہ کرم برائے اصلاح)
ماں کی دعا
ماہِ رمضان میں بڑھ چڑھ کے عبادت کر لو@الف عین،عظیم،شکیل احمد خان23،محمد عبدالرؤوف،شاہد شاہنواز
ماہِ نو، سالِ نو مبارک ہو
مایوس اس کی رحمتوں سے ہو نہ جاؤں میں
مت ڈال وسوسوں میں مرے چارہ گر مجھے۔ برائے اصلاح
متاعِ زیست لٹا کر جو تنگ دست ہوں میں
متفرق اشعار
متفرق اشعار - اصلاح کے لئے
متقارب مثمن سالم میں ایک کوشش
متمنی اصلاح
مثنوی
مجاہد کی پکار
مجبوریاں ہیں اس کی وہ بے وفا نہیں ہے
مجذوب ہو گئے ہیں یوں چاہت میں آپ کی
مجنوں نظر آئے کوئی تو پتھروں سے ماریے (مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن)
مجھ سے اک دن وہ آ کے یہ کہنے لگے-----برائے اصلاح
مجھ سے ملنے جو یار آیا ہے : برائے اصلاح
مجھ سے نفرت نہ کرنا مرے دوستو---برائے اصلاح
مجھ سے کبھی تو پیار سے الفت کی بات کر
مجھ سے کسی نے آج محبّت سے بات کی
مجھ کو تو انتظار تمہارا ہے آج بھی------برائے اصلاح
مجھ کو جو غم ملا ہے اندر سے کھا رہا ہے------برائے اصلاح
مجھ کو دنیا کی محبّت سے بچانا یا رب---------برائے اصلاح
مجھ کو وفا ملے گی میں نے یہ خواب دیکھا---برائے اصلاح
مجھ کو وفا کے بدلے ہر دم جفا ملی ہے
مجھ کو کسی نے پیار سے جینا سکھا دیا---برائے اصلاح
مجھ کو کیا ہے آپ نے چاہت سے آشنا
مجھ کو ہے تیرے آنے کا انتظار اب تک---برائے اصلاح
مجھ سے بھی آ کے مل تَو ذرا زندگی کبھی
مجھ سے تشنه کو ہے جامِ سرِ کوثر مطلوب ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
مجھ سے دور مت جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہنمائی کی درخواست
مجھ پہ احساں نہ یہ کیا جائے
مجھ کو مشکل نہیں اک پل میں کنارہ کر لوں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ برائے اصلاح
مجھ کو کسی کے پیار کی لذّت نہ مل سکی
مجھکو شب بھر ملال تیرا ہے
مجھے کسی سے پیار تھا جو روگ بن کے رہ گیا---برائے اصلاح
مجھے دولت نہ شہرت کی نہ راحت کی ضرورت ہے---برائے اصلاح
مجھے آج ان کی محبّت ملی ہے
مجھے بات دل میں چھپانی نہ آئی --برائے اصلاح
مجھے بھی دل سے بھلا نہ دینا-----برائے اصلاح
مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں----برائے اصلاح
مجھے تم یاد آتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے تو بس جو چاہئے خدا سے وہ امان ہے-----برائے اصلاح
مجھے تو مار ڈالے گی شبِ ہجراں یہ تنہائی---برائے اصلاح
مجھے تیری محبّت کا زمانہ یاد آتا ہے
مجھے جان کہہ کر پکارا ہے اس نے----برائے اصلاح
مجھے حشر کا غم ستانے لگا ہے-----برائے اصلاح
مجھے لگ رہا ہے مرا سر ہے بھاری---برائے اصلاح
مجھے نہ تیرا جو پیار ملتا---برائے اصلاح
مجھے پیار کرنا سکھایا کسی نے
مجھے کیوں ستاتے ہیں خدشات میرے---برائے اصلاح
مجھے ہی جانا ہے اس جہاں سے کلام میرا یہیں رہے گا-----برائے اصلاح
مجھے یاد تیری جو آنے لگی ہے-------برائے اصلاح
مجھے ایسے مارا نہیں جا سکے گا
مجھے تو لوٹ لیا -تضمین
مجھے تیری یا رب رضا کب ملے گی---برائے اصلاح
مجھے جانے دیا جائے (غزّہ)
مجھے جس سمت سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ (اصلاح کرے پلیز)
مجھے جستجوئے عشق ہے تیری قربتوں کا سوال ہے
مجھے جگ نے جینا سکھا دیا
مجھے دنیا ستاتی ہے مگر تم کیوں ستاتے ہو---برائے اصلاح
مجھے سرمد و قیسِ بدنام کہتے
مجھے عادت ہے چاہے جانے کی - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
مجھے عشقِ وطن دیدے۔۔۔ (کلام بغرض اصلاح)
مجھے لوگ جتنے بھی لگتے تھے پیارے---برائے اصلاح
مجھے پیار بخشا محبّت عطا کی----برائے اصلاح
مجھے کچھ درد دے دو (برائے اصلاح)
مجھے کہنے کو کوئی عنوان دو
مجھے یاد رکھنا دعاؤں کی صورت
مجہول
محاسن و معائبِ سخن
محاکات از کلامِ اقبال
محبت
محبت برائے اصلاح
محبت اپنا شوقِ نارسا تھی
محبت ایک پودا ہے
محبت تو ایک استعارہ ہے لوگو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نورؔ سعدیہ شیخ
محبت تو کرلی جو ہوگا سو ہوگا
محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے
محبت دھوپ جیسی ہے
محبت سے لفظوں کے موتی پرو کر( برائے اصلاح)
محبت عمر بھر اب کون کرتا ہے۔۔ (برائے اصلاح اساتذہ کی نظر کرم کا منتظر۔۔۔)
محبت عمر بھر اب کون کرتا ہے۔۔ برائے اصلاح تنقید تبصرہ
محبت محبت محبت کرو تم(اصلاح کے لیے)
محبت میں بھلا دردو الم کیا کم نہیں ملتا۔۔تازہ غزل برائے اصلاح
محبت میں تو جتنے بھی خسارے تھے ہمارے تھے
محبت میں رہتے رہے ہم
محبت کا ترانہ جانتا ہے غزل نمبر 78 شاعر امین شارؔق
محبت کچھ نہیں ہوتی!!!
محبت کی کہانی میں کوئی ترمیم مت کرنا
محبت کے شراروں سے تو دامن ہی جلا بیٹھے
محبت ہارنے والے۔۔۔۔۔
محبت ہے کی تو خسارے رہیں گے غزل نمبر 70 شاعر امین شارؔق
محبتوں میں امتحان ہوتے ہیں
محبتوں میں نظر سے سلام ہوتے ہیں ۔۔۔
محبتوں کی حقیقت دراز ہے بھی نہیں... غزل اصلاح کے لئے
محبوب مجھ کو رب نے ایسا ملا دیا ہے
محبوب سے جڑی ہوئی ہر یاد محترم ہے غزل نمبر 50 شاعر امین شارؔق
محبوب مل گیا ہے بنا خونِ جگر واہ غزل نمبر 66 شاعر امین شارؔق
محبوب کی محفل میں جب میں نے پڑھی تھی نعت
محبُوب بُھلانا مُشکل ہے غزل نمبر 141 شاعر امین شارؔق
محبّت خدا کی ہے میری کمائی------برائے اصلاح
محبّت دل سے اٹھتی ہے سکھائی جا نہیں سکتی-----برائے اصلاح
محبّت سے ہوئی نفرت ہے تیری بے وفائی سے-----برائے اصلاح
محبّت نہ دنیا سے معدوم ہو گی------برائے اصلاح
محبّت کسی سے نبھا کر تو دیکھو
محبّت کی قسمت میں کیوں ہے جدائی
محبّت ہو گئی تم سے بتانا بھول جاتا ہوں
محترم استذہ اکرام کی خدمت میں ایک غزل برائے اصلاح۔
محترم! غزل کو مکمل کر دیجیے
محشر کو بھول بیٹھے دنیا میں دل لگا کر---برائے اصلاح
محفل میں ہم جہاں کی لگتے ہیں اجنبی سے-----برائے اصلاح
محفل میں ہماری پہلی غزل برائے تنقید و تبصرہ "مثلِ زلفِ شبِ امید بکھر کر دیکھوں!"
محفلوں سے تنگ آکر تخلیے میں کاٹ دی
محفوظ فاصلہ اک ہم سے بحال رکھا... غزل اصلاح کے لئے
محفوظِ انتشار دل و ذہن ہو گئے ۔ برائے اصلاح
محمد جبران ناصر کے نام ========== مجھے معلوم ہے آخر ، یہ بازی تم جیت جاؤ گے
محکوم خیالوں سے آزادی عطا کر دے
مختصر بحر میں ایک کوشش، احباب کی آراء کی منتظر۔۔
مختصر مختصر ایک نظم ۔'' دستک''
مختصر نظم ۔۔ ضد ۔۔۔ اصلاح کے لئے
مختصر نظم ۔۔۔۔ برائے اصلاح
مختصر کوشش
مختلف اشعار برائے تبصرہ و اصلاح
مداوا (نظم )
مدتوں کوستی پشیمانی ÷ برائے اصلاح
مدحتِ حیدر
مدد درکار
مدد درکار ہے۔۔۔
مدینے پاک میں آقا یہ دیوانہ کب آئے گا؟ (مناجات) غزل نمبر 145 شاعر امین شارؔق
مدینے کا منظر نگاہوں میں اترا
مرا بنا ہے دوست جو حسین ہے جوان ہے----برائے اصلاح
مرا حوصلہ آزمانا نہ چھوڑا
مرا گیت نغمہ ِ سرمدی
مراد کو پانے نکلا ہوں
مرحوم دوست کے نام : ایک غزل برائے اصلاح
مرزا تفتہ کے نام
مرزا سلامت علی دبیر صاحب سے معذرت کے ساتھ ۔۔ برائے اصلاح
مرشد ہے میاں پیر ہے سرکار ہے روٹی - فرحان محمد خان
مروّت اگر تاکِ نسیان ہو گی-----برائے اصلاح
مری آج بدلی ہے یہ زندگانی--برائے اصلاح
مری قوم ہے آج غربت کی ماری
مری تقدیر تو پہلے ہی سے لکھ رکھی تھی ۔ برائے تنقید اور مشورہ
مری زمیں ہے ترے آسماں سے الگ۔۔۔۔برائے اصلاح
مری زندگی کا پہلا شعر.
مری غزل میں تغزل ملے گا کیا تم کو
مری قسمت میں ساحل کیوں نہیں ہوتا
مری محبتیں بھی جھوٹ نفرتیں بھی جھوٹ تھیں (برائے تنقید و اصلاح)
مری کہانی اب اور آگے نہیں چلے گی
مری یہ آنکھیں تو جاگتی ہیں
مرے دل میں اپنی محبّت جگا دے
مرے دل میں یا رب ہو تیرا بسیرا-------برائے اصلاح
مرے دل کو روشن تُو کر دے خدایا
مرے دل کو کرو آباد یادوں میں مری آ کر---برائے اصلاح
مرے دل کی دنیا تجھی سے سجی ہے
مرے دل کے آنگن میں آیا ہے کوئی -----------برائے اصلاح
مرے دل کی راحت ہے نامِ مدینہ----برائے اصلاح
مرے سر پہ زلفوں کی تم شام کر دو
مرے ہاتھ سے تیری چھوٹی کلائی ---برائے اصلاح
مرے افکار کو مل جائے گر اظہار کی صورت
مرے حال میں رہا تو ہی تو ۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
مرے دل جگر میں لہو کی کمی ہے
مرے دل میں حسینوں نے یہ کیا اودھم مچایا ہے---برائے اصلاح
مرے دل میں ہے اداسی ترے بن بہار کیا ہے
مرے دل کی دنیا تجھی سے سجی ہے---برائے اصلاح
مرے مردہ دل میں طلاطم بپا ہے ۔۔۔ طلب اصلاح
مرے کمالِ شوق کو کیا کیا کہا گیا
مزاحیہ اشعار برائے پوسٹ مارٹم
مزاحیہ غزل برائے اصلاح
مزاحیہ غزل برائے تنقید:دل میں بس تیرا نام ہوتا ہے
مزدور ۔۔۔۔۔از:عابی مکھنوی
مزہ اور ہی تھا
مزید ایک غزل! "لوگ کہتے ہیں یہ بستی ہے مسلمانوں کی"
مزید غزل، رہنمائی مطلوب ہے
مزید نئی غزل برائے اصلاح
مسئلہ تو یقینا ہے لیکن کیا؟
مستقل درد ۔۔۔۔
مسدسِ بدحالی::از:: محمد خلیل الر حمٰن
مسرور دل ہے جان ہے رمضان آگیا نظم نمبر 41 شاعر امین شارؔق
مسلسل اب میں کچھ بھی کر نہیں پاتا (برائے اصلاح)
مسلسل غزل
مسلسل غزل برائے اصلاح
مسندِ دل پہ ترا عکس بنا لیتا ہوں
مشاعرے کیلئے رہنمائی درکار ہے
مشتركه كوشش
مشورہ
مشورہْ سخن
مشکل کام برائے اصلاح
مشکل ہے بہت دل سے تری یاد بھلانا
مشکل ردیف
مشکل کا مقابلہ کیسے کریں...؟
مشکل ہے در گزر مگر اتنا نہیں ، نہ ہو !
مشہور ہو گئے ہیں محبّت کے باب میں----برائے اصلاح
مصحفِ غم کی تفسیر کوئی نہیں
مصرعے پر گرہ لگائیے!
مصرعے پر گرہ لگائیے!(2)
مصطفٰی ہیں.........
مصطفی مجتبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نعت
مصطفیٰ کے بعد میر کارواں صدیق ہیں
مصیبت در حقیقت شامتِ اعمال ہوتی ہے
مصیبتوں سےتم نہ ڈر خدا ہمارے ساتھ ہے
مضطرب تھا دل مرا بس نیند کیا آتی مجھے
مطلبی دوست
مطلع
مطلع
مطلع برائے اصلاح
مطلع برائے اصلاح
مطلع برائے اصلاح
مطلع برائے اصلاح
مطلع برائے اصلاح
مطلع کا انتخاب۔۔۔
معائبِ سخن : مثالوں کا ذخیرہ
معتبر خود کو کر رہا ہوں میں ..... غزل براہ اصلاح
معذرت کے ساتھ
معرب اور مبنی از محمد خلیل الرحمٰن
معرکہ عشق میں کسی کا خیال کیا کرتے
معصوم رشتے
معمول (نظم از عاطف بٹ)
معنی اصلاح
معیار
مفاعلاتن یا فعول فعلن ------------ صحیح کیا ہے ۔
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفتَعِلن فاعلاتُ مفتَعِلن فِع برائے اصلاح
مفعول فاعلات مفاعیل فعولن
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن کی گردان:کیا نام دیا جائے؟؟؟
مفلسوں کے غریب لوگوں کے کام آؤ سکون آئے گا غزل نمبر 62 شاعر امین شارؔق
مقام تیرا : برائے اصلاح
مقدمےمیں یہ جو لکھا واقعہ ہے ۔۔۔۔برائے اصلاح
مقصد حیات
مقصد گیتی ہے کیا؟ - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
مل گئے ہو اگر دور جانا نہیں----برائے اصلاح
مل جائیں گے سکھ سبھی
ملائکہ کی یاد میں
ملال
ملالہ
ملنگ ایک ہے ( برائے اصلاح )
ملو جلدی کہیں نہ اجنبی تم بن کے رہ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح و تنقید
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہ گیا
ملی اک اجنبی سے میں - نظم برائے اصلاح
ملی نغمہ
ملیں گے تم کو ہم الفت کے میداں میں یا زنداں میں
ملے کیسے سکونِ دل اگر رب کو بھلایا ہے--------برائے اصلاح
مناجات(بحرِ متقارب)۔۔۔برائے اصلاح
منافقت کے سوا دھر سے ملا کیا ہے
منتشر، سستی ہے، روز اک سی ہے اور بےکار ہے
منزل
منزل برائے اصلاح
منزلیں صرف انھیں سے کریں انکار، گریز ! ۔۔ غزل اصلاح کے لیے ۔
منصبِ نعت گوئی کہاں دوستو!!
منصف ہو تو سزا دو
منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے----برائے اصلاح
منظر۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
منقبت برائے اصلاح
منقبت برائے اصلاح
منگیتر کے نام۔۔۔۔
موت آئی جِسم و جان میں کچھ بھی نہیں بچا۔غزل۔193 شاعر امین شارؔق
موت سے اب بھی ہم ڈریں گے کیا؟
موت کو بھی کبھی سینے سے لگانا ہو گا
موت کو راستہ دیا کس نے (اصلاح
موت کو یاد کر ذرا مرے دوست---برائے اصلاح
موجبِ درد بھی راحت کا سبب بھی کوئی ہے
موجودہ حالات پر ایک کاوش
موجوں کے وار مُجھ کو کناروں میں لے گئے غزل نمبر 122 شاعر امین شارؔق
موجِ بحر (۲)
موجِ بحر (شاعری کی اولین کاوش): موج تو بحر میں ہے، شعر کس بحر میں ہیں؟ کچھ بھی علم نہیں۔
مودٔبانہ جسارت (اصلاح کی گذارش)
موسم بدل گیا ہے ترے ساتھ کی طرح غزل نمبر 179 شاعر امین شارؔق
مومن نہیں ہو جس کے لئے دیں کا کاج بوجھ غزل نمبر 86 شاعر امین شارؔق
مومن کا زورِ بازو ہے یا قوت آسمانی ہے غزل نمبر 56 شاعر امین شارؔق عُمرِ
مومن کے مشہور شعر کی تقطیع
مَیِّت کی داستان
مَیں اُس کی نگاہِ ناز کا جب سے دیوانہ ہو گیا : از : جعفر بشیر
مُڑ مُڑ کے مجھے دیکھا، سمجھا، تو بہت رُویا
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں (فعولن فعولن فعولن فعل)
مِرے پاس کوئی دیا بھی نہیں ( فعولن فعولن فعولن فعل)
مٹائے مٹ نہیں سکتا کسی دل سے بھی نام اس کا ۔۔۔۔ برائے اصلاح
مٹھی مِٹھی ہر ویلے اک پیڑ دلے وچ رہندی اے
مٹی کے ساتھ مل کر مٹی بنے گا انساں-----برائے اصلاح
مکمل برائے اصلاح
مگر رکو ذرا تھو
مگر وجود سے بالا و ماورا تو ہے
میر کی بحرِ ہندی
میر کی ہندی بحر، اک نظم، اک غزل، اصلاح، تبصرہ اور تنقید کی درخواست کے ساتھ
میرا دُکھا کے دل نہ پریشان کیجئے---برائے اصلاح
میرا پیغام جو دنیا کو سنایا جاتا-----برائے اصلاح
میرا ایک قطعہ برائے اصلاح
میرا تازہ کلام
میرا مقدر نہیں محتاج میرے ہاتھوں کی لکیروں کا ۔ مکمل شعر کیا ہے؟؟
میرا کس کو خیال آتا ہے (برائے اصلاح)
میرا کچھ بهی نہیں مجھ میں - برائے اصلاح
میرا ہنر ہے جو بهی سچ ہو بول لیتی ہوں - برائے اصلاح
میرا یہ دن بہت اداس رہا - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
میری خوشی کو آپ کبھی جان جایئے--برائے اصلاح
میری ذاتی شاعری بغرض اصلاح
میری زباں پہ آج بھی تیرا ہی نام ہے برائے اصلاح
میری قسمت میں اگر پیار تمہارا ہوتا
میری وفا کے بدلے کرتا ہو جو جفائیں
میری آج اس کے سبب شہر میں پہچان ہوئی
میری آخری غزل
میری آغوش میںآ کر وہ سلاتا آنکھیں
میری آنکھوں میں روانی ہے ابھی تک ( فاعلاتن فعلاتن فعلاتن)
میری اس غزل پر ایک نظر اصلاح کی
میری ایک 'مشکوک' غزل کے چند اشعار برائے اصلاح
میری ایک آزاد نظم"رتجگوں کا سبب"۔ اساتذہ کرام سے اصلاح کی گزارش ہے
میری ایک تازہ غزل ... نویں غزل.کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
میری ایک تازہ غزل برائے اصلاح
میری ایک غزل کی اصلاح درکار ھے تمام اساتذہ سے درخواست ھے کے مدد کریں.۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
میری بے وزن" شاعری"
میری تازہ غزل
میری تمام غزلوں کا عنوان ہیں تیری آنکھیں
میری جنت
میری زندگي کی پہلی نعت
میری سنگت میں چلنا کوئی سہل ہے ہر قدم حسنِ ذوقِ نظر چاہئے
میری شاعری
میری شاعری
میری شاعری ۔۔۔ مجموعہ کلام زیرَ طبع
میری غزل اصلاح کیلئے حاضر ہے۔۔۔۔۔۔
میری غزل لوٹ آنا کے کچھ اشعار
میری قسمت سنور گئی کیسے (براے اصلاح)
میری محبت ان کے لئے ہے غزل نمبر 51 شاعر امین شارؔق
میری مشق
میری منقبت
میری نئی غزل اصلاح کے لئے پیشِ خدمت!
میری وفا کی باتیں سب کو سنا کے روئے------برائے اصلاح
میری پہلی حمد اصلاح کے لیے حاضر ہے ۔
میری پہلی رباعی - برائے تبصرہ
میری پہلی غزل
میری پہلی غزل آپ کے نام
میری پہلی لڑی اصلاح کی منتظر
میری پہلی نثری نظم،“بستہ حیات“
میری پہلی نظم
میری پہلی نظم
میری پہلی نظم
میری پہلی کاوش
میری پہلی کاوش، ایک نظم برائے اصلاح
میری گر شہر میں شہرت ہوگی (برائے اصلاح)
میرے خدا نے آپ کو کیا کچھ دیا نہیں ------برائے اصلاح
میرے خدا کی مجھ پر جتنی ہے مہربانی
میرے دل میں ان کی الفت کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے نبی سا کوئی آیا نہ آ سکے گا
میرے نبی ہیں آقا میں ہوں غلام ان کا----برائے اصلاح
میرے 4 اشعار-جن پر اصلاح درکار ہے
میرے آنسو تری آنکھوں سے نکلتے جاتے ہیں -- برائے اصلاح
میرے ابا نے مجھ کو تہذیب سکھائی چار بجے:: غزل از:: محمد خلیل الرحمٰن
میرے اصلاحی مشورے
میرے بھانجے کی شاعری
میرے بھی دردِ دل کا سامان ہو چکا ہے ( مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن)
میرے تلخ لہجے میں اُس کی خوش بیانی تھی
میرے خدایا میری بہن کو
میرے دل میں، تیرے بُت سے، روحانی ایجاد ہوئی! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے !
میرے دکھ کا حساب مت کیجئے (برائے اصلاح)
میرے ذہن کی ہر اک سوچ پہ اس کی یاد کا پہرہ تھا
میرے شہر کی ہواؤں سے (میری شاعری)
میرے قلم سے
میرے مولا جیہا مہربان نا کوئی
میرے پاس وقت کم ہے
میرے چند اشعار برائے اصلاح و تنقید
میرے کچھ تازہ اشعار ۔تجھ پاس ہے جو چیز، وہ گل پاس نہیں ہے
میرے ہاتھوں سے محبت کی خطا ہوتے ہی - بھول بیٹھا ہے مجھے تْو بھی خدا ہوتے ہی
میٹھا بہت زبان سے دل کا برا ملا - غزل اصلاح کے لئے
میں
میں تجھ سے تجھے اے خدا مانگتا ہوں
میں تیرے لئے خود کو نیلام کر دوں
میں دیکھتا ہوں آج تجھ کو باہوں میں رقیب کی-----برائے اصلاح
میں نے کسی کے پیار میں یہ زندگی گزار دی-----برائے اصلاح
میں چھپائے تھا ایک یاد کے لمحوں کی پوٹلی
میں ہوں بندہ ترا تُو ہے میرا خدا
میں آج بھی جاگتا ہوں
میں آرزو لکھوں کہ کہوں شان آرزو
میں ا ب زخم اپنے دکھانے لگا ہوں
میں اس سے جب ملوں گی - برائے اصلاح، بہت شکریہ!
میں اُسے بھول جاؤں ارادہ تو ہے (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
میں اکثر برباد ہوا ہوں
میں ایسا پُھول ہوں جس کو چمن سے خوف آتا ہے غزل نمبر 101 شاعر امین شارؔق
میں ایک شب ہوں اماوس کی تم ضیا دے دو
میں بات بات تجھکو کہتا تھا زندگی
میں بسمل اک اور بے وزن غزل لیے حاضر ہوں توجہ فرمائیں!!!!
میں بھی ہو جاتا ہوں آقا کے ثنا خوانوں میں...
میں تم سے آگے ہوں مگر(ایک مزاحیہ نظم)
میں تنہا ہوں اگر اس کارواں میں
میں جاننا چاہتا ہوں
میں جب بھی تلاوت قرآن سنتا ہوں تو سوچتا ہوں کیوں میرے سینے سے بھی قرآن کی آواز نہیں آتی
میں جب سے تمہارا دیوانہ ہوا غزل نمبر 37 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
میں جس سے قائم ہوں تُو وہ جوہر نہیں سمجھتا
میں جو تجھے پاکر بھی خوش نہیں ہوں
میں جو خود سے کبھی ملا ہی نہیں---برائے اصلاح
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا ہوا ہوں
میں زمیں زاد ہی سہی لیکن (بحرِ خفیف)
میں سمجھتا تھا یہ، عشق آسان ہے ۔ برائے اصلاح تنقید و تبصرہ ۔
میں محبت میں روایات سے باہر نہ گیا
میں نہیں رہا اب کسی کےگمان میں
میں نہیں ملا خود سے، تْو کہاں سے آ ٹپکا؟ - عشق جا تجھے اب کے، ٰٰثانوی کیا میں نے
میں نے جیون کی ہراک چیز اٹھائی دے دی
میں نے پایا محبت کو فقیری میں ۔۔۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
میں نے کچھ نہیں کیا... تین غزلیں یا سہ غزلہ جو طویل ہے... برائے اصلاح و تبصرہ
میں ٹھہری ایک موم کی عورت از عروہ
میں چادر اوڑھے غفلت کی سوے جا رہا ہوں
میں چپ رہا، میں کھو دوں گا
میں چپ کو توڑ کے افشائے حال کر دوں، تو؟۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
میں کوئ شاعر تو نہیں ہوں لیکن پھر بھی اپنی ایک غزل برائے اصلاح محفل کے گوش گزار کر رہا ہوں۔
میں کہ بیمارِ محبت ہوں دوا دے ساقی - فرحان محمد خان
میں ہوں بجھا ہوا چراغ، کوئی مجھے بجھائے کیا
میں ہوں تیرے حسیں خیال میں گم۔۔۔
میں ہوں منتظر اب بہار کا ، وہ ملے گی مجھ سے بہار میں
مے مغانہ
نئی تہذیب کے رسیا خدا سے دور ہوتے ہیں
نئی تہذیب کے رسیا ہوئے اقدار سے خالی
نئی تہذیب کے رسیا ہوئے اقدار سے ----------برائے اصلاح
نئی غزل
نئی غزل (برائے اصلاح)
نئی غزل (زندگی کے راستے میں پھُول بھی ہیں خار بھی)
نئی غزل (کیدو ولن ہے یا ہیرو)
نئی غزل اصلاح کے لئے پیش خدمت ہے
نئی غزل برائے اصلاح
نئی غزل برائے اصلاح و تنقید
نئی غزل برائے اصلاح و تنقید
نئی غزل برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 10 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 11 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 12 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 13 شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 14 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 15 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 16 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 17 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 5 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 6 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 7 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 8 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی غزل نمبر 9 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
نئی لڑی " گل کے مرجھانے کا ملال ہوا" برائے تنقید و مشورہ
نئی کاوش ،اساتذۂ کرام کی نظرِ عنایت کی التجا
نئی کوشش
نئے سال کی آمد پر ،'' ظلم اور جبر، نئے سال چلا جائے گا ''
ناؤ کو ڈوبنے سے بچائے کوئی ( فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
نادان ہے جو رختِ سفر دیکھتا نہ ہو غزل نمبر 98 شاعر امین شارؔق
نازِ وفا میں طوفاں لایا اتار کیسا....''اک اور غزل''...........
نازکی میں جو پنکھڑی سی ہے : غزل براہ اصلاح
نالہ ہے یا بندگی خاموش ہے
نام ایسا ہے کہ منہ کی مٹھاس بن گئے
نامہ
ناوکِ مژگاں۔۔۔۔۔۔۔
ناچیز کی ایک کاوش، نعت بحضور خاتم الانبیاء ''دھوپ ہے زندگی، سائباں آپﷺ ہیں''
نایاب صاحب کے 12 ہزار مراسلوں کی تکمیل پر کچھ اشعار
نثری نظم
نثری نظم : کہانی
ندامت کے آنسو
نرگَس کے پھول از محمد خلیل الرحمٰن
نصیبوں میں اپنے سہارا نہیں ہے
نظارہ سوز دہکتی فضائیں رہتی ہیں -- غزل اصلاح کے لئے
نظارے پیارے پیارے لگے ہیں......غزل برائے اصلاح
نظر آتی نہیں مجھ کو مروّت اب زمانے میں---برائے اصلاح
نظر کرم کیجیئے!
نظروں میں اس جہاں کی میرے گنہ نہ آئے
نظریں ملا کے آپ نے مسحور کر دیا
نظریں چرا کے مجھ سے یوں جایا نہ کیجئے
نظم
نظم
نظم
نظم
نظم - (برسات)
نظم "اعتراف" برائے اصلاح
نظم "یاد" ----- براہ اصلاح
نظم (اچھے دن آنے والے ہیں) برائے اصلاح
نظم (ایک گھر کی کہانی)
نظم (تہذیب اور محبت)
نظم (رند)
نظم (سردیوں کی ایک دوپہر)
نظم (محبت)
نظم (مرے اظہارِ چاہت کا اثر ایسے ہُوا اُس پر)
نظم - (عیدمبارک)
نظم - خضاب اور شباب - برائےاصلاح
نظم - مرے ساتھیوں پھر عَلم تم اُٹھالو - برائے اصلاح
نظم - میرا خدا ہے لامکاں - برائے اصلاح
نظم --- (آنسُو)
نظم : بچوں کی تربیت برائے اصلاح
نظم اصلاح کے لئے۔۔۔
نظم برئے اصلاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم برا
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح
نظم برائے اصلاح "المسلم جسد واحد"
نظم برائے اصلاح (عنوان:زندگی)
نظم برائے اصلاح (عنوان:وقت)
نظم برائے اصلاح (مسدس ترجیع بند)
نظم برائے اصلاح : کثرت کی بے قدری
نظم برائے اصلاح اور تنقید
نظم برائے اصلاح و راہنمائی
نظم برائے اصلاح: بچوں کا کھیل
نظم برائے اصلاح: بچے اور لال کیڑا
نظم برائے اصلاح: فاطمہ اور فاختہ
نظم برائے اصلاح،
نظم برائے اصلاح۔ مناجات
نظم برائے تنقید و اصلاح
نظم برائے ۔۔۔۔۔
نظم پیار : برائے اصلاح
نظم کا ایک بند
نظم کی اصلاح کی گزارش
نظم کی اصلاح کی گزارش(عنوان: جدائی)
نظم کی اقسام
نظم ۔۔۔۔ برائے اصلاح (فعولن)
نظم ۔۔۔۔۔ اب فرض تو پورا کر لیا ہے
نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "زنیرہ گل"
نظم- ملالہ یوسفزئی کے لئے!
نظم: "ڑ" حرفِ تہجی
نظم: تمھاری یاد کے آنسو
نظم: تیز گرمی میں ٹھنڈا مٹکا : از: محمد خلیل الرحمٰن
نظم: دعاء ثاقب
نظم: غیبت (ماخوذ از حکایاتِ سعدی) از محمد خلیل الرحمٰن
نظم:یادیں
نظم،''ایک سپاہی کا پیغام، مشرف کے نام'' پیش ہے اور حسب معمول اصلاح کی طلب
نظمیں
نعت رسول برائے اصلاح
نعت ... برائے اصلاح
نعت اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے( فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح
نعت برائے اصلاح و تنقید
نعت برائے اصلاح و تنقید
نعت برائے اصلاح و رہنمائی
نعت برائے اصلاح: نگاہِ شوق میں بھر لوں تجلی میں مدینے کی
نعت برائے فنی اصلاح
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نعت شریف
نعت شریف برائے اصلاح
نعت شریف۔تقریباِِ دو سال قبل کہی تھی، رہنمائی کا انتظار رہے گا
نعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم
نعت کی اصلاح درکار ہے۔ اساتذہ نظرِ کرم فرمائیں
نعت کی اصلاح فرمائیں
نعت کے کچھ شعر
نعت، اساتذہ سے اصلاح کی درخواست
نعتَ رسول برائے اصلاح
نعتَ رسول برائے اصلاح
نعتِ رسول برائے اصلاح
نعتِ رسولِ مقبولؐ
نعتِ رسولﷺ
نعتِ رسولﷺ برائے اصلاح
نعتِ رسولﷺ (برائے اصلاح )
نعتیہ اشعار برائے اصلاح
نعتیہ دعا یا دعائیہ نعت
نعتیہ رباعی
نعتیہ کلام - برائے اصلاح
نعت۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب گناہ معاف کریں ۔۔!!!!
نعیم الرحمٰن کی شاعری
نغمہءِ بے صدا-ملک عدنان احمد
نفرت تو نہیں تجھ سے محبّت بھی نہیں ہے
نفرت سے پھول پیار کے کھلتے نہیں کبھی
نفرتوں کی بات سے انکار ہونا چاہئے
نفرتیں سب زمانے کی سہتا رہا------برائے اصلاح
نفس کے تقاضے قضا کر کے دیکھو--------برائے اصلاح
نفس کے جو اسیر ہوتے ہیں
نقشِ اغیار مرے دل سے مٹایا اس نے
نمک
نمکین غزل: مجھے چاہتا کوئی اور تھا، یہ میاں مرا کوئی اور ہے:: از:: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل: ہوئے آج گم، قلب و جاں ، آتے آتے: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل:: دل مضطر فَگار اپنا، تردد کا شَکار اپنا:: از: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزلوں کے موسم میں ایک میٹھی سی غزل،'' آزمانے آئے گا، وہ دل جلانے آئے گا''
ننھی چمگادڑ
نو آموز ہوں ۔۔۔۔ احباب سے حوصلہ افزائی کی درخواست ہے☺
نوآموز شعرا کے لیے داغؔ دہلوی کی طرف سے "پند نامہ"
نوا جرس گل
نوازشیں ہیں، عنایتیں ہیں،خدائے یکتا کی رحمتیں ہیں
نوجوان نسل مجھےمعاف کر دو
نور سا چھا گیا چاندنی ہو گئی (براے اصلاح)
نوشت جو تہہ اعراب ۔۔۔۔ اصلاح کے لئے
نوشتہِ دیوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
نِبھ ہی جاتی جو محبّت کو نبھاتے جاتے-----برائے اصلاح
نِکل جانے کا یہ ارماں بڑی مُشکل سے نِکلے گا غزل نمبر 125 شاعر امین شارؔق
نکالو نفرتیں دل سےمحبّت ڈالتے جاؤ----برائے اصلاح
نگاہوں سے میری نگاہیں ملاؤ
نگاہِ عنایت صنم چاہتے ہیں غزل نمبر 92 شاعر امین شارؔق
نگاہِ کرم درکار۔۔۔۔۔!
نگاہِ کرم میری جاں جاتے جاتے غزل نمبر 75 شاعر امین شارؔق
نگل جاتا ہوں کشتی کو سہارا کیوں سمجھتے ہ (اصلاح)
نہ آئی سمجھ میں مری بے ضمیری--برائے اصلاح
نہ سمجھو مجھے میں غریبُ الوطن ہوں
نہ مرنے پہ میرے یوں آنسو بہانا---برائے اصلاح
نہ آشیاں مرا تنکوں کا یوں ہوا ہوتا
نہ آنکھ ہوگی کوئی حال پر جو تر نہ ہوئی
نہ ایٹم بم نہ توپوں کو چلانے کی ضرورت ہے۔۔۔برائے اصلاح
نہ تلملائے ہوئے ہیں نہ سٹپٹائے ہوئے
نہ تم سمجھو ۔ ایک غزل ایک گیت
نہ تم ہوتے نہ ہم ہوتے، نہ ہوتا درد سینے میں
نہ جانے کیوں دل پتھر ہوگیا ہے سارا کا سارا شہر سوگیا ہے
نہ خزاںنہ بہار میںرہتا ہے۔۔ از گرو تقصیع کے لئے حاضر ہے
نہ خوشی کے نہ انا کے نہ آبرو کے لئے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
نہ روکو مجھ کو الفت میں پھڑکنے دو
نہ زباں کر سکے جس کی مدح و ثنا
نہ طوفاں گرائے عمارت ہوں وہ میں
نہ منزلیں ہیں نہ راستے ہیں ملانے والے
نہ کر باتیں محبت کی محبت اور ہی کچھ ہے ۔۔۔ میری ایک بہت محبوب غزل، برائے اصلاح و تبصرہ
نہ ہوئی ہم سے محبت نہ ہوئی
نہ ہے جدا نہ مرے ساتھ چل رہا ہے کوئی
نہیں ہم میں ہمّت کہ سہہ لیں سزا کو---برائے اصلاح
نہیں زخم دل کا دکھانے کے قابل---برائے اصلاح
نہیں ممکن حقیقت کا بیاں ہے ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
نہیں آتا
نہیں آیا ہے کوئ بھی تازہ خیال ایک مدت سے
نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔۔ برائے تنقید
نہیں محبت کسی سے، غزل برائے اصلاح
نہیں کسی کو بھی میرا خیال قسمت ہے ۔۔۔ اصلاح طلب
نہیں کہ تجھ سے بچھڑنے کا حوصلہ ہے مجھے ۔۔اور ۔۔۔ عشق ہو زندگی کا گزارہ نہ ہو، برائے اصلاح
نہیں گیا تھا جس کی سمت دھیان تک ۔۔۔ برائے تنقید
نہیں ہے شرم تھوڑی بھی ہمارے حکمرانوں میں
نہیں ہے دید بجز اہلِ گلستاں کے لیے ۔ برائے اصلاح
نۃ رھینگے سر
نیا انداز برائے اصلاح
نیا کلام اساتذہ کی خدمت میں۔۔میں پاکستان ہوں تیرا۔۔۔
نیازمند اصلاح
نین سے اور نقاب سے نفرت
نیند نے غم بنا تقصیر دیا ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
نیچےوالے اشعار فاعلاتن مفاعلن فعلن پہ آتے ہیں لیکن آخری شعر یا آخری دو مصرعے اس بحر میں کیسے آیئں گے
نیکی اور بدی (ماخوذ از حکایاتِ سعدی) از محمد خلیل الرحمٰن
وئی تو ہو جو میری روح سے کلام کرے
والدہ مرحومہ کی یاد میں
والدین کا سر پر سائباں بنایا ہے۔۔۔برائے اصلاح
والعصر - اصلاح فرمائیں
والیِ شہر کو جگاؤ تو ( اے وطن کے لوگو )
وبا ناگہانی کہاں سے ہے آئی برائے اصلاح
وحشت زدہ جہاں ہے مرا، اے مرے کریم۔۔۔
وحشت ہے، فراق ہے، جنوں ہے
وحشی درندوں کے نام،'' ایک پگلی سی لڑکی''
وداعِ مولائے کائنات
وراء کے آئینے میں ماوراء ہے
وزن بتائیے
وزن کی درستگی کے لیے مدد درکار ہے
وزن کیا ہے ؟؟؟
وسعتِ دہر میں امکاں ہے کہیں کھو جائیں ... اصلاح طلب
وسعتِ شوق جب دی گئی ...
وسوسے ہیں کہ جان ہی لے جائیں
وصالِ یار کا موسم
وصل میں کیا غم و جدائی کی بات
وصل میں ہیں عدواتیں کتنی
وصل کے امکان سے کچھ آگے تک
وصلِ موجِ سوز نے دیوانہ کیا۔۔۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ
وضاحت کر دیں
وطن کی خاطر--- برائے اصلاح
وطن میں یہ کیسی فضاء چل رہی ہے۔۔۔برائے اصلاح
وطن ڈبورہےہیں ہم کہہ کریہ بڑے فخر کے ساتھ
وعدہ وفا برائے اصلاح
وفا کے بدلے جفا نہ دینا
وفا کرنے سے کترانے لگی ہے، برائے تنقید
وفا کسی کی بھلا نہ دینا
وفا کی راہ چلیں گے ، سکوں لٹانے دے ۔۔۔۔برائے اصلاح تنقید تبصرہ
وفائیں ہار گئیں بے وفائی جیِت گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب
وقت
وقت
وقت اُس سے ملا دے توکیسا رہے
وقت برباد میں نہیں کرتا : غزل براہ اصلاح
وقت بُرا بھی تو ہو سکتا ہے
وقت تھمتا نہ سانس رکتی ہے
وقت پھر سے مجھے آزمانے لگا
وقت چلتا ہے، مگر عمر رکی لگتی ہے۔۔ غزل اصلاح کے لئے
وقت کا ہر اک انگ دیکھا ہے غزل نمبر 69 شاعر امین شارؔق
وقت کی رائیگانی سے ڈرلگتاہے
وقت کی ہر گھات کی ہوں معترف
وللہ فرحاں بس ترا ہوتا
وہ مجھ سے محبّت کا اظہار نہیں کرتے
وہ ڈھک سکے نہ امارت کی وضع کردہ پوشاکوں میں (اصلاح طلب)
وہ کیوں بد گماں ہو گیا ( برائے اصلاح )
وہ آس پاس ہے مرے قریب پر نہیں -
وہ آنکھ کیسی کہ جس میں ذرا سا آب نہ ہو غزل نمبر 164 شاعر امین شارؔق
وہ آی بھی----
وہ اعلٰی ظرف، نگوں ہو کے بھی، جھکا نہ لگے ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
وہ ان کے بات کرنے کی ادائیں یاد آتی ہیں
وہ جب ملے تو نیا سا دکھائی دیتا ہے
وہ جو پھرتا تھا ہتھیلی پہ مرا نام لکھے
وہ جو سکوتِ دو عالم سے ہم کلام نہیں(برائے اصلاح)
وہ خُوشبوئے سر و سمن اب کہاں ہے؟ غزل نمبر 148 شاعر امین شارؔق
وہ دل کی اچھی معصوم لڑکی
وہ زاہد، وہ عابد نمازی ہوا
وہ سانحہ جو گیا گزر ، میری جاں پہ سخت ترین تھا .... رہنمائی فرمائیں
وہ سیدوں کے گھر میں بھی ہو کر بُرا ہوا!
وہ شخص ہی عجیب تھا ( برائے اصلاح )
وہ شخص ایک پل مرا مہماں بھی ہو تو کیا
وہ شخص پوچھتا ہے محبت کا بھی سبب - - برائے اصلاح
وہ ظالم ہیں مجھے ہر دکھ سے یوں مانوس کرتےہیں (اصلاح طلب)
وہ مجھے طعنۂِ مفلسی دے گیا
وہ مجھ۔ے بات مکمل نہیں ک۔رنے دے گا
وہ مری جان ہے
وہ مری کار چرا لائے ہیں بازاروں میں:: پیروڈی از:؛محمد خلیل الرحمٰن
وہ مسیحا مر گیا کیونکر
وہ ملا مگر وہ ملا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح
وہ ملاقات آخری ہائے۔ برائے اصلاح
وہ مکاں جس کو بنانے میں زمانے لگ گئے تھے
وہ پہلے سے سیانے ہو گئے ہیں
وہ کشمیر ہوں میں !
وہ کون تھی
وہ گل ہے مگر گلستاں سا لگتا ہے
وہ گھر ہمارے آئے نہ ہم ان کے گھر گئے : غزل برائے اصلاح
وہ ہم نوا ہم خیال چپ ہے ...
وہی انجان سے رستے وہی گمنام سی منزل -برائے اصلاح
وہی اپنا ہے آڑے وقت پر جو کام آجائے
وہی متاعِ دعائے نا مستجاب کیوں ہے
وی آر جسٹ فرینڈز
ُخاک کی جستجوُ صدائے کن
ّ
٭٭٭دھماکہ٭٭٭ اصلاح فرمائے
ٰٰاک شعر
ٹوئیڈل ڈم اور ٹوئیڈل ڈی
ٹوٹ کر خاک ہوا جاتا ہوں ۔۔۔ ( میری پہلی غزل برائے اصلاح )
ٹوٹے پھوٹے خواب
ٹھیک ہے، اب جو یوں ہے تو یوں ہی سہی
ٹیکنالوجی اور ہم
پا کر کسی حبیب کو کھونا نہ چاہئے
پاس آتے نہیں یاد آتے ہیں کیوں
پاس ایسے بهی نہ آ - غزل برائے اصلاح تبصرہ تنقید
پاس تو آؤ ہمارے اِک دِن غزل نمبر 157 شاعر امین شارؔق
پاس کچھ بھی نہیں ہے کھونے کو
پاسِ یک مردمِ جری نہ کیا
پانی پینے کے آداب (بچوں کے لیے) (نظم برائے اصلاح)
پانی کے پیاسے گھڑے رہ گئے
پاوں ہم جس کے خیالوںمیںابھی چھو آئے
پاکستانی "فن کار"
پاکستانی حکومت کا صحافیوں کوپیغام
پاگل لڑکی: ایک پنجابی نظم کا ترجمہ از:: محمد خلیل الرحمٰن
پر نہیں پر اڑان رکھتا ہوں
پر وہ دے کے اڑان چھینے گا
پرائی آگ میں تو نے اسد جلا لیے ہاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح و تنقید
پرانی غزل نئے انداز سے - تم میرا خواب ہو یا ہو حقیقت- برائے تنقید
پرانی غزل،،
پردیس جا رہے ہیں مجھ کو بتا کے روئے
پردے میں دل کی بات بتانے کے واسطے : غزل براہ اصلاح
پروین شاکر کی زمین میں ایک کوشش
پریشانی۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح
پریم کتھا: براڈوے کے ایک مشہور کھیل کے گیت کا اردو قالب
پلٹ جانے کے یہ سارے عذر کٹتےہی رہیں گے۔۔۔برائے اصلاح
پلیز بتائیں
پلیز تبصرہ اور رہنمائی
پلیز ماہرین تازہ کلام کی اصلاح کریں:
پنجاں سالاں دے وِچ لوکی کی دے کی ہو جاندے نے
پورا کسی نے اپنا پیمان کر دیا ہے
پوری طرح سے اپنا بنا لیجیے مجھے
پوٹھواری شاعر
پِھر مُحبت کا گُماں کرتا رہا غزل نمبر 178 شاعر امین شارؔق
پچھلی خزاں کے پتے (میری ایک نظم)
پھر اسے تیرا کتابوں میں چھپا کر رکھنا
پھر اک زخم کھانے کا سوچا ہے میں نے
پھر ایک غزل (محبت)
پھر خریدارِ جنوں سرمدِ مجذوب ہوا
پھر مرے شہر میں--- برائے تنقید و مشورہ
پھر نئی اک امامت سے گھبرا گیا/چلا --- برائے اصلاح
پھر نیا عشق کر لیا جائے
پھر کوئی آسرا نہ ہو جائے دل جگر سے جدا نہ ہو جائے
پھول رہتا ہی کہاں ہے گل و گلزار کے ساتھ
پھول سارے گرا دیئے، اب ہے
پھول مرجھائے دیکھے تو کہنا پڑا
پھول کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ (نظم برائے اصلاح)
پہاڑی غزل
پہاڑی غزل
پہلی آزاد نظم اراکین اور اساتذہ کی توجہ کی خاطر پیش ہے.... تمھیں اب کیا بتاؤں میں؟
پہلی با وزن غزل
پہلی جسارت
پہلی دفعہ حمد لکھی اصلاح ضرور کریں۔۔
پہلی غزل سے آخری شعر اصلاح کے لئے۔۔۔
پہلی کوشش، اصلاح کی منتظر
پہلے سا سلسلہ نہیں باقی
پہن کر جمہوری قبا یہ کیسا جمہوری نظام دیتے رہے
پی کر نگاہِ ناز سے مخمور ہو گئے---برائے اصلاح
پیار ملتا رہے پیار کرتے رہیں
پیار میرا نہ کبھی دل سے بھلانا ہرگز
پیار کرنا جو سکھایا تو بُرا مان گئے----برائے اصلاح
پیار ہوتا تو تم وفا کرتے
پیار ہوتا تو تم وفا کرتے
پیار بانٹو وفا کو عام کرو
پیار بھی دہشت گردی ہے غزل نمبر22 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
پیار کا سلسلہ نہیں ہوتا۔۔۔ زنیرہ گل (اصلاح طلب)
پیار کا نام بدنام کرتے ہو
پیار کرنے کےلئے بھی حوصلہ درکار ہے برائے اصلاح
پیار کے رنگ
پیاس کا حل کوئی ایسا نکلے
پیاس کا عالم ہے دریا ہے کربلا
پیاس کہتی تھی کہ مجھ سے کوئی دریا نکلے
پیامِ الفت جو دے رہی ہیں جھکی حیا سے تری نگاہیں---------برائے اصلاح
پیامِ مشرِق سے ایک غزل کا ترجمہ
پیر جی۔۔۔۔۔نظم برائے اصلاح
پیروڈی
پیروی دَیر کی اور لب پہ مدینے والے ۔ برائے اصلاح
پیری میں یوں ہوتا ہے جوانی کا تصور غزل نمبر 85 شاعر امین شارؔق
پیٹ بھر کر جو کوئی کھاتا ہے
پیکر خاکی میں اک سوز نہاں رہنے دیا-برائے اصلاح
پیکر نامہ "نظم"
چار اشعار برائے اصلاح
چار اشعار برائے اصلاح
چار اشعار برائے تنقید و اصلاح
چار اشعار برائے تنقید و تصحیح
چار حرفی مقلوب مستوی
چار دن کا ہے یہ جینا زندگی ہے مختصر غزل نمبر 114 شاعر امین شارؔق
چار سو پھیلی خوشی لگنے لگی (اصلاح)
چار سُو حُسن کے دھارے دیکھوں غزل نمبر 137 شاعر امین شارؔق
چار مصرعے برائے اصلاح
چارہ گروں سے الگ میرا چارہ گر نکلا
چاند تاروں نہ چمن زاروں سے غزل نمبر 132 شاعر امین شارؔق
چاند تاروں کو یا پھولوں کو مستعار لیا - برائے اصلاح و تنقید
چاند سحر میں رات ادھوری چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے تنقید و اصلاح
چاند میرے تری، دلکشی بے اثر ! ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
چاند میں نے جو ڈوبتے دیکھا ، برا اصلاح اور تیقید
چاند! کُچھ تُجھ سے دُور چمکیں گے غزل نمبر 135 شاعر امین شارؔق
چاندنی میں نہانے جا رہے ہیں )برا ے اصلاح
چاک دل چاک گریبان لیے پھرتا ہوں
چاہت مِل جانا مُشکل ہے غزل نمبر 143 شاعر امین شارؔق
چاہتوں کے بعد بھی وہ بن گئے ہیں اجنبی---برائے اصلاح
چاہے جو تُو تو ارض کا منظر سنوار دے۔۔برائے صلاح، اصلاح اور تنقید
چراغ طور جلاو ،بڑا اندھیرا ہے(برائے اصلاح)
چراغ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے دل
چراغوں کو بجھایا جا رہا ہے : غزل براہ اصلاح
چراغِ سحر بھی بجھے جارہے ہیں (بغرض اصلاح)
چل اسکول چلیں ہم دونوں
چل ترے خوابوں میں کچھ رنگ نیا لاتے ہیں
چل دیا جو بیچ رستے چھوڑ کر، کہنا اُسے
چل پڑے لے کر دل بےخانماں۔۔۔۔۔بحر رمل میں ایک کاوش
چل کسی طور تو ان کی بھی نظر میں ہیں ہم
چلتے رہیں گے یونہی یہ سلسلے وفا کے-----برائے اصلاح
چلو ترکیب ِ ہستی کو جدا ترتیب دیتے ہیں .
چلو دیکهو ہم الفت کا بهی اب اقرار کرتے ہی -برائے اصلاح
چلو چلتے ہیں اس دیس میں ہم جہاں اپنے اپنے ہوتے ہیں
چلیں آئیں شاعری سیکھتے ہیں
چلیں باتوں میں بہلائے کبھی آئے
چلیں باتوں میں بہلائے کبھی آئے
چلیں گے ساتھ کوئی رہگزر ملے نہ ملے
چمن میں نہ گُل ہے، نہ حسنِ نظر ہے۔۔۔۔ عبدالعزیز راقم
چمن میں پھول کھل جائیں، گلستاں میں بہار آئے
چمکتا درد نظر میں اتر گیا کیسے --- غزل اصلاح کے لئے
چنان سوخت در آتش ہند و دمشق۔۔۔ (فارسی غزل برائے اصلاح)
چند اصلاح طلب اشعار(شکیل احمد خان)
چند اشعار
چند اشعار
چند اشعار (تک بندی) برائے اصلاح
چند اشعار (یا قطعہ؟)
چند اشعار اصلاح کی غرض سے۔۔۔۔
چند اشعار اصلاح کیلیے
چند اشعار برائے اصلاح
چند اشعار برائے اصلاح ۔ اساتذہ توجہ فرمائیں۔
چند اشعار برائے اصلاح - بہت شکریہ!
چند اشعار برائے اصلاح۔۔۔
چند اشعار برائے تنقید و تجویز۔ ”تم بھی حسرتؔ کے محبوب کی طرح ہو“
چند اشعار بغرض اصلاح
چند اشعار بغرض اصلاح
چند اشعار ۔ عین عشق، شین عشق، قاف عشق
چند اشعار۔۔۔۔ کہانی
چند تازہ اشعار برائے اصلاح
چند سوال
چند سوال
چند سوالات
چند سوالات
چند سوالات
چند سُطور برائے اِصلاح
چند شعر برائے اصلاح
چند شعر برائے اصلاح
چند شعر برائے اصلاح
چند شکایات
چند عروض، برائے اصلاح و تنقیدی جائزہ
چند متفرق سوالات
چندرما کچھ دیر ماتھے پر دمکنے دیجئے. ۔ برائے اصلاح
چهیڑتی ہیں رات بهر مجھ کو مری تنہائیاں - برائے اصلاح و تنقید
چٹختی انگلی سے آتی تناؤ کی آواز ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
چھاؤں ہو میرے لئے تم زندگی کی دھوپ میں
چھو لے جو تیرے ہونٹ وہ پانی شراب ہے
چھوٹا سا مگرمچھ
چھوٹی بحر میں کاوش۔ اصلاح کی منتظر
چھوٹی سی بحر میں ایک چھوٹی سی غزل۔۔
چھوٹی سی بحر میں چھوٹی موٹی کاوش،'' کچھ بھی ہو سکتا ہے''
چھوٹی سی چڑیا از محمد خلیل الرحمٰن
چھوٹے بھائی کی ایک تازہ غزل برائے اصلاح
چھوڑ جانے کی بات مت کرنا !
چھوڑ ڈالو کریدنا مجھ کو
چھین نہ مجھ سے فن یہ شیشے کا
چہرے برائے اصلاح
ڈر رہتا ہے اس کی اب ناراضی کا
ڈرا رہے ہیں کسی کو نہ ڈر کے رہتے ہیں
ڈرتا نہیں ہے رب سے کیوں آج کا مسلماں
ڈهلتا ہے گر سورج نئی اک صبح بهی لاتا ہے - برائے اصلاح
ڈوبا مرے وہ سامنے میں دیکھتا رہا----برائے اصلاح
ڈوبتے ہیں سُرخ سورج کے مماثل گھر میں ہم ۔۔ غزل اصلاح کے لیے
ڈوبے ہوئے سورج کا سفر دیکھ رہا ہوں ۔ برائے اصلاح
ڈھالا ہے زندگی کو ہم نے رضا میں تیری
کاسے میں زندگی کے چَونّی پڑی ہے عمر۔ ۔۔برائے اصلاح و تنقید
کاش ، برائے اصلاح
کاش ایسا کبھی ہو مرے دیس میں
کاش ہر دل میں سما جاتی محبت
کاش ہوتا عشق محمد میں فرحاں
کاشانۂ رقصاں میں....
کافی شاہ حسین، اردو آزاد ترجمہ از فرخ منظور (برائے تنقید و اصلاح)
کام بہت دشوار ہے تم سے نہ ہو پائے گا غزل نمبر 32 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
کام مشکل ہے مگر کر دیجئے (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
کاوش
کاوش برائے اصلاح مفاعیلن
کاکے نہیں ہوتے
کب تلک یہ ستم اٹھائے دل
کب تک یونہی روتے رہو گے۔ برائے اصلاح
کب جال بُن رہا ہے مقدر مرے خلاف ۔۔۔
کب نکالا اسلحے کا شوق ہے؟۔۔۔۔۔برائے اصلاح
کبھی اقرار کرتے ہو کبھی انکار کرتے ہو----برائے اصلاح
کبھی اقرار ہوتا ہے ، کبھی انکار ہوتا ہے
کبھی تیری آنکھوں میں آنسو نہ آئیں
کبھی تیری آنکھوں میں آنسو نہ آئیں-----برائے اصلاح
کبھی مجھ سے نظریں ملا کر تو دیکھو----برائے اصلاح
کبھی ان خوش پرندوں کو۔۔۔۔۔غزل برائے اصلاح
کبھی اپنی گردن کا خم دیکھتے ہیں۔۔برائے اصلاح
کبھی ایسا نہیں کرتے... برائے اصلاح
کبھی تھے فاصلے، اب تو فقط کم ہوتے جاتے ہیں۔برائے اصلاح
کبھی جو تری چشم نم دیکھتے ہیں
کبھی جو دل میں کسک تھی، ہے حال ویسے ہی--- غزل اصلاح کے لئے
کبھی شاید بدل جائیں گے دن ہم بد نصیبوں کے
کبھی کچھ رائیگاں جاتا نہیں لیکن۔۔۔ (اساتذہ کی نظر کرم کا منتظر)
کتاب
کتنے رکھواؤں بڑے میں گھر کے دروازے ، بتا؟۔۔ غزل اصلاح کے لئے
کتنے سادہ کتنے ناداں لوگ تمھاری بستی کے۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم
کتنے ہیں کہ چھوڑ کر ھا ئے گئے
کر نہیں سکتا
کر کے کسی سے نیکی دنیا میں بھول جانا--برائے اصلاح
کراچی ہائے کراچی
کرتا رہا انکار میں برداشت مسلسل
کرتے رہو عبادت لیکن ہے وہ ادھوری---برائے اصلاح
کردار بن گئے ہیں فسانوں میں رہ گئے
کرم ہو حج ِ کا مبارک مہینہ ہے -----------نور سعدیہ شیخ
کرمِ کتابی بمع منظوم اردو ترجمہ
کرنا معاف میرے سارے گناہ یا رب---برائے اصلاح
کرو راضی خدا کو تب بدل جاتی ہیں تقدیریں----برائے اصلاح
کرو کوشش تو ملتی ہے زمانے میں پذیرائی---برائے اصلاح
کرو یاد رب کو سویرے سویرے---برائےاصلاح
کروں بات سچی یہ جرئت ملی ہے
کس طرح یار کی جھلک لکھیں غزل نمبر20 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
کس قدر مجھ پہ مہربان ہے وہ
کس قدر پست ہے پیمانۂ افکار یہاں
کس لیے اس نے مجھے رسوا کیا ..... اور... مجھے تم سے محبت ہو گئی کیا..... برائے اصلاح
کس لیے چھپ کے آہ کی جائے ۔
کس پہ کھلتا ہے دیکھو بابِ دل
کسی سے محبّت کسی سے عداوت
کسی نے مجھے آج اپنا بنایا---براءے اصلاح
کسی کا چاند سا چہرہ خیالوں میں جو رہتا ہے--برائے اصلاح
کسی کو محبّت ہے مجنوں بنائے-----برائے اصلاح
کسی کے پیار نے میرا گمان بدلا ہے----- برائے اصلاح
کسی بھی فورم پر میری پہلی غزل
کسی صورت نہیں رکتا ہے یہ دل - برائے اصلاح
کسی عمل میں تو ہوتا اُترا پورا - برائے اصلاح
کسی مستند کُتب و مکتب کی بات کر۔۔۔برائے اصلاح
کسی پہ اعتبار کا کر کے یہ صلہ پایا
کسی کی آبرو کو خاک میں رولا نہیں جاتا - برائے اصلاح
کسی کی آہ ہی نکلی ہوگی (برائے اصلاح)
کسی کی جستجو کتنی حسیں ہے
کسی کے تلخ لہجے پر حلاوت ہو گئی ہم سے۔۔۔۔
کسی کے دامنِ افشاں پہ ایک داغ ہوں میں
کسی کے قرب نے اتنا وقار تو بخشا
کسی کے پیار کو ایسے بھلایا جا نہیں سکتا ----برائے اصلاح
کسی کے پیار کو ہرگز بھلایا جا نہیں سکتا-----برائت اصلاح
کسی گہرے نشے سے زندگانی لُوٹ جاتی ہیں: غزل برائے اصلاح
کسی ہاتھ کو تھامنا چاہتا ہوں
کشمیر ہو، غزہ ہو، یا پھر ہو میانمار
کل رات بڑی مشکل میں تھا غزل نمبر 81 شاعر امین شارؔق
کل میری کتابوں کی الماری سے، کسی کے رونے کی آواز آئی (برائے اصلاح)
کل پھر اک آدمی کو شیرنی نے قتل کیا
کل ہوا کیا کہ یوں مدہوش و پریشاں تھی رات
کلاس روم - Discussion
کلام با وزن ہو پر کسی راٸج بحر میں نہ ہو۔
کلام برائے اصلاح
کلام برائے اصلاح
کلام برائے اصلاح
کلام عامر
کم علم کا مذاق بناتے ہیں چند لوگ ۔
کمالاتی خوبياں تمام خدا کے لۓ -- براۓ اصلاح
کمزور پا کے مجھ کو دنیا ستا رہی ہے
کنواری شب کے آنچل پر ستارے رقص کرتے ہیں
کوئی نہ غم ستائے میری دعا یہی ہے----برائے اصلاح
کوئی استاد محترم غزل تصیح فرما دیں۔۔۔
کوئی امید اب دل میں آتی نہیں (غزل)
کوئی تو لے کے چلے مجھ کو ظلمتوں سے پرے
کوئی جستجو میں ہے لعل کی ، کسی کو گہر کی تلاش ہے (غزل)
کوئی حِس جگانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔
کوئی دکھ ہے نہ کچھ خوشی ہے مجھے ۔
کوئی رستہ ہو اندھیروں کو جلایا جائے
کوئی سندھی عروض جانتا ہے؟
کوئی سورج طاقِ مژگاں پر مرے رکھا ہوا ہے
کوئی شامِ غم مناؤ، مرا دل دکھا ہوا ہے
کوئی مقتول کہتا ہے کوئی قاتل سمجھتا ہے
کوئی نکالے بات سے سو بات، کچھ ھو بات
کوئی وعدہ ترا وفا نہ ہوا ۔برائے اصلاح
کوئی ڈھونڈے طبیب ملّا کے
کوئی گرہ کشا نہیں
کون جانے تری جدائی میں
کون کب سے ہے جدا، بھول گئے ----- غزل برائے اصلاح
کون کم بخت نہ اس حال میں مدہوش رہے
کون ہاتھ کر جاتا ہے پتا نہیں چلتا۔۔۔۔۔برائے اصلاح
کون ہوں ، کیوں ہوں اور کیا ہوں میں : غزل براہ اصلاح
کون ہے پیچھے چلمن کے
کونسی بحر ہو گی
کووڈ ترانہ از محمد خلیل الرحمٰن
کوچۂِ یار سے نکلے تو کدھر جائیں گے
کِیا ہے عہدِ وفا تو پھر ان کے حکم سے انحراف کیسا
کٹ گئے ہاتھ مرے آج مرے پر کی طرح
کچھ - - - - اشعار
کچھ اس دل میں نزاکت بھی تو ہے نا
کچھ اس کی زلف کھلی ' کچھ میرے ارمان کھلے
کچھ اشعار اصلاح کی غرض سے!
کچھ اشعار برائے اصلاح
کچھ اشعار برائے اصلاح
کچھ اشعار برائے اصلاح
کچھ اشعار برائے اصلاح
کچھ اشعار برائے نقد و نظر اور مشورہ جات ۔شیشے کی صداؤں سے ۔۔۔
کچھ اشعار ۔ برائے اصلاح
کچھ اور بغرضِ اصلاح
کچھ ایسی رہ اختیار کرنا
کچھ ایسے زخم ہم نے ان سے پائے ہیں
کچھ بھی نہیں
کچھ تازہ اشعار برائے تنقید و تبصرہ - شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے
کچھ تو قرار پاتے ملتی ہمیں اماں گر
کچھ تو لکھا تھا ہم نے مٹی پر (فاعلاتن مفاعلن فعلن)
کچھ تو ہی کھول یہ کیا رازِ نہاں ہے سائیں
کچھ جوباقی اساس چہرے ہیں
کچھ طرحی اشعار بغرضِ اصلاح
کچھ عجیب سا لکھ بیٹھا ہوں، تنقید، اصلاح اور تبصرہ کے لیے پیش ہے،'' دیکھ آیا ہوں سب اُن آنکھوں میں''
کچھ عجیب سی غزل،'' گلوں کی فصل، بونے کا پتہ دے گی''
کچھ عمل میں فتور ہے ورنہ (برائے اصلاح)
کچھ ماہئے اصلاح و تنقید کیلئے
کچھ محبت کا بھی سوچیں گے اگر دم آیا
کچھ مزاج آپ کے ہم ہی سے حریفانہ رہے
کچھ مقام اپنا بنانا چاہتا ہوں
کچھ نظرِ کرم ہو ادھر بھی
کچھ نہ کرنے کو ہم جہان میں تھے ۔۔۔ بروزن جون ایلیا: ہم کو سودا تھا، سر کے مان میں تھے
کچھ نہ کچھ اس کو بھی جو غم ہوتا دردِ ترکِ وفا تو کم ہوتا
کچھ کرو سرکار دیکھا جائے گا (ابو ظہبی میں پہلی غزل)
کچھ کہو-- برائے اصلاح، بہت شکریہ!
کچھ کیجے بگڑتا ہے۔۔۔ برائے اصلاح و تبصرہ
کچھ ہائکو اصلاح و تبصرہ کی غرض سے
کھل گیا تھا زندگی کا ہم سے دروازہ غلط ! ۔۔۔ اصلاح کے لئے
کھلی آنکھ کا ادھورا خواب (ماں جی کے نام)
کھول دے ہر بند کو جو معجزائے عشق سے، برائے اصلاح
کھویا ہے جسے میں نے نایاب گہر تھا وہ
کھیر۔۔۔۔۔نظم برائے اصلاح
کھیلتے کودتے ہنستے بستے جب اچانک اداسی چھاتی ہے
کہ اب کوئی امید بهی نہیں تو کیا کریں برائے اصلاح تنقید تبصرہ
کہ، العطش کی صدا، لب پہ، جاں گُسِل کے ہے۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے
کہا تم سے بهی کچھ نہیں جاتا...
کہاں جا رہے ہو یوں نظریں جھکا کر---------برائے اصلاح
کہاں یہ قصہ تمام ہو گا (اصلاح)
کہتے ہیں لوگ ....
کہنے کو تو سب دنیا سے لڑ کے تم کو پایا تها - برائے اصلاح
کہو سنو اور دیکھو سچ غزل نمبر 52 شاعر امین شارؔق
کہو نامہ بر کچھ وہاں کی خبر ہے
کہکشاں کے بارے میں میری جان سوچا کر (اصلاح)
کہہ سکیں ان سے جو کہنا ہو ضروری تو نہیں (برائے اصلاح)
کہہ کے مجنوں وہ مجھے سنگ اٹھائے یارو
کہیں وفا نہیں ملی وفا کو ڈھونڈتے رہے
کہیں اب اور چلتے ہیں --- برائے اصلاح
کہیں سے لوٹ کے وہ دور کاش آ جائے۔۔ اساتذہ کی رہنمائی کا منتظر
کہے گا جو دل سنیں گے اک دن
کیا ہے شوق نے مضطر کہ ایک حمد کہوں
کیا یاد رب کو سویرے سویرے
کیا یہ شعر موزوں ہے؟؟؟
کیا یہ مصرعہ موزوں ہے ؟
کیا اس تُک بندی کا فارسی ترجمہ ممکن ہے
کیا ان دو بحروں کو ایک شعر میں لایا جا سکتا ہے؟
کیا بحر موجود ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا بھلا ہے کہ سر دیا جائے
کیا ترکیب درست ہے
کیا تھا میں اور کیا ہوا مرے دوست
کیا س شعر میں ایطائے خفی موجود ہے؟
کیا سبب ہے جو یہ اشکِ رواں نکلتا ہے نمبر 188 شاعر امین شارؔق
کیا عجب سلسلہ رہا دل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب
کیا لفظ 'کُلّیہ' (قاعدہ، اصول) کو بغیر تشدید کے باندھا جا سکتا ہے؟
کیا کروں دل کا اے ستم پرور!!!
کیا کہنے
کیا کیجیے؟؟
کیا یہ بحر ہے؟
کیا یہ شعر درست ہے؟
کیا یہ شعر ٹھیک ہے
کیا یہ غزل اصلاح کے قابل نہیں
کیا یہ غزل صحیح ہے ؟
کیا یہ قطعہ ہے؟ برائے اصلاح
کیا یہ قوافی ہو سکتے ہیں؟
کیا یہ مصرع درست ھے؟؟
کیا یہ مطلع ہو سکتا ہے؟(مفتعلن فاعلن مفتعلن)
کیا یہ نظم کہلا سکتی ہے اور کیا یہ بحر میں ہے- اصلاح کا طالب ہوں
کیسا دھوکا ہے کر کے چار آنکھیں
کیسا عجب تعلق تجھ سے بنا لیا
کیسی رت ہے یہ کیسا موسم ہے - براے اصلاح
کیسی رَنْج و اَلَم کی داستاں چھوڑ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔بے بس ماؤں کو آہ و فُغاں چھوڑ آئے
کیسی کیسی عشق کی رُوداد سنتے آئے ہیں غزل نمبر 105 شاعر امین شارؔق
کیسی ہدف شناس، وہ چشمِ غِزال ہے ! ۔۔۔۔ایک غزل اصلاح کے لئے
کیسے اس رنگ میں غزل کہو گے...برا ئے اصلاح
کیسے اُڑتا کہ پر بھی چِھین لیا غزل نمبر 149 شاعر امین شارؔق
کیسے دکھائے دن دلِ خانہ خراب نے ۔۔۔
کیسے سکوں ملے گا رب کو ہے جب بھلایا---برائے اصلاح
کیسے ممکن ہے اب انساں بننا (برائے اصلاح)
کیسے کہوں کہ عشق کی شددت میں مر گیا (برائے اصلاح)
کیسے کہہ دوں کہ جونؔ ہوں صاحب : غزل برائے اصلاح
کیفیات برائے اصلاح
کیونکہ ابراہیم پر تو پھول برساتی ہے آگ غزل نمبر23 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
کیونکہ ہم روشنی کے مارے ہیں ۔ ۔
کیوں دور جا کے مجھ سے ٹھکانا بنا لیا
کیوں زمانے پر یہ چھایا بے رخی کا راج ہے
کیوں ہماری دعائیں ہوئیں بے اثر----برائے اصلاح
کیوں آج کل جناب کے تیور بدل گئے؟
کیوں اداس ہوتے ہو اداسی کے موسم میں
کیوں زبانوں سے تالے نہیں جاتے اب
کیوں شکایت بار ہر اک اشک ہے اسیر کا
کیوں میرے اب ایماں کی وہ نویت نہیں۔۔۔برائے اصلاح
کیوں وہ کرتے ہیں مگر بات پریشانی کی ۔۔۔ زنیرہ گل (برائے اصلاح)
کیوں پریشان دل دیکھتے - برائے اصلاح
کیوں کرتے ہو تم خامہِ مجبور سے شکوہ؟
گئی رتوں کا ہراک سوگ تو بہار میں ہے
گئے دن بہاروں کے آئی خزاں ہے
گئے وقتوں کا بھولا ماجرا ہوں۔۔برائے اصلاح
گالی۔۔۔۔۔نظم برائے اصلاح
گاہے گاہے وہ ہمیں دیکھ لیا کرتے ہیں
گذارش -برائے اصلاح۔۔
گر تم جفا کرو گے ہم بھی جفا کریں گے-------برائے اصلاح
گر غموں کی ہے ضرورت پیار کرنا چاہئے
گر وہ جفا نہ کرتے ہم بھی وفا نبھاتے-----برائے اصلاح
گر ہے مومن تو تیری یہ پہچان ہو------برائے اصلاح
گر اے ماہی کھڑے کچے بھی ہوں آنا پڑے گا(اصلاح فرمائیے)
گر تو ملے : غزل برائے اصلاح
گر مجھے حاضری ملے، چہرہ بہ چہرہ، رُو بہ رُو
گر کشف دل کو حق کے روز روبرو کرے
گرتی ہوئی دیوار گرانے نہیں آیا
گردشِ دوراں مجھے یوں آزمانا چھوڑ دے
گرم آغوش نرم بانہوں سا ۔۔ ایک غزل اصلاح کے لئے
گرماگرم تبصرے، تنقید اور اصلاح کے لیے ایک طرحی غزل'' کیا ہو انجام، ڈر نہ جائے کہیں ''
گرمی کا موسم آیا ( بچوں کے لیے لکھی گئی نظم)
گرہ لگایئے
گرے ہیں سب تفرقوں کی ذلالت میں۔۔برائے اصلاح
گزارش اصلاح.........
گزاری زندگی ہم نے بنا سوچے بنا سمجھے----برائے اصلاح
گزدجرفئ08
گزر جاتی ہے جب اپنی کہانی یاد آتی ہے
گزر ہوا جو میرا
گستاخی معاف
گل فروشوں نے گرارکھی ہے قیمت گل کی۔۔۔ اصلاح طلب
گلستاں کا وزن
گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ ۔
گلہ ہم سے ہے منہ موڑا ہوا ہے ۔۔۔
گلی سے گزرتی رہیں لڑکیاں
گلے لگا لو اگر تو اپنی بھی عید ہو گی
گم صم کوئی بیٹھا ہے اسے ایک نظر دیکھ
گماں دل میں نہ تھا میرے سمے ایسا بھی آئے گا
گناہ اک افیم ہے ( برائے اصلاح )
گناہ گار پہ مجھ ایسے ہے، کرم اس کا
گناہوں پر ندامت ہے مگر رغبت نہیں جاتی----برائے اصلاح
گنتر گراس کی نظم کا ترجمہ:: از:: محمد خلیل الرحمٰن
گنوا چکے جب حیات ساری تو ہم نے پچھلے حساب دیکھے
گو میں نے راہِ حق کا سفر طے کیا طویل
گوارہ نہیں تو نظر سے گرا دو
گورا کی پہلی غزل
گوہر نایاب ____برائے اصلاح
گُل کے بدلے خار ملا ہے غزل نمبر 103 شاعر امین شارؔق
گڑگڑا کے جو رویا ہوںمیں آج مسجد میں۔۔۔برائے اصلاح
گڑیا۔۔۔۔۔نظم برائے اصلاح
گھر بار سلامت ہے یہی بات بڑی ہے
گھر مل گیا تھا جن کو ، ان کو بام کا مسئلہ رہا۔۔۔برائے اصلاح
گہری ہے اداسی اس دل میں
گیت اصلاح کے لئے
گیت نما - او فنٹر! تو جاتا ہے کدھر - برائے اصلاح
گیتانجلی منظوم ترجمہ از محمد خلیل الرحمٰن
ھم سے انجان ہو کر بھی دلدار ہے
ھمدردی
ہائیکو
ہائیکو
ہائیکوپانی پہ لکھا نام بہتے پانی پہ لکھے نام کی مثل اِن چٹانوں سے سر پٹختی ہوں ہر گھڑی تجھ کویادکرت
ہاں ! اُسے پانے کی حسرت ابھی بھی دل میں ہے
ہاں دل میں مگر عکس رہا کوئے بتاں کا
ہاں میں بھول رہا ہوں تم کو
ہجر کی شب ہے اور اندھیرا ہے---برائے اصلاح
ہجر میں ٹوٹ کے بکھرا تو سمجھ آئی ہے۔
ہجر کی رت میں کوئی شام سہانی لکھتا
ہجرت ۔۔ نظم اصلاح و تنقید کے لئے۔۔۔۔
ہدایت کا رستہ دکھاتا ہے قرآں------برائے اصلاح
ہر بات پر نگاہیں میری ہیں طائرانہ
ہر دم تجھے ہی چاہوں ایسا مجھے بنا دے
ہر سمت محبّت کا چرچا ہے زمانے میں
ہر بات غزل میں تو کہی جا نہیں سکتی -- برائے اصلاح
ہر تمنّا مری، یوں سر کو جھکائے آئی ۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیئے
ہر جا ہو کر آیا دل
ہر رات چھانتا ہوں ترے در کی خاک میں (فارسی غزل کا منظوم ترجمہ)
ہر سانس جبکہ میری ہے اس کے نام اب تک
ہر شخص تھا مدحت کناں جس شام کا ۔۔۔۔ آرا اور برائے تنقید و اصلاح
ہر طرف ہیں موت کی پرچھائیاں (اصلاح(
ہر طرف خوف کے آثار نظر آتے ہیں
ہر عِشق کے پیچھے مُجھے مہ رُو نظر آیا غزل نمبر 126 شاعر امین شارؔق
ہر لمحہ تیری ذات سے وابستگی رہی
ہر گھڑی دید کو ترستی ہیں
ہر گھڑی ہم نے بپا دیکھا ہے محشر اپنا
ہر ہانکنے والے کے حوالے ہوئے ہم لوگ ۔ برائے اصلاح
ہرجائی (برائے اصلاح)
ہرگز کسی غریب کو رسوا نہ کیجئے-----برائے اصلاح
ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات
ہزار الفت كى چاه كى پر
ہزج مثمن اشتر فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
ہفت افلاک سے بھی آزردہ ہوں
ہفت اقسام از محمد خلیل الرحمٰن
ہلکی پھلکی سی ایک غزل، تنقید و راہنمائی کے لیے،'' ذرا فراغ ملے، میری داستاں لکھنا''
ہم نے جو غم سہے ہیں جا کر کسے بتائیں
ہم آج ترے ساتھ ملاقات کریں گے
ہم بنائیں گے وطن کو اک فلاحی مملکت----- برائے اصلاح
ہم بھی ترے ہیں عاشق اتنا خیال رکھنا-----برائے اصلاح
ہم ترے پیار کو دنیا سے چھپائیں کیسے----------برائے اصلاح
ہم تو روٹھے تھے فقط ان کو ستانے کے لئے
ہم تو بدنام ہوئے تم سے محبّت کر کے
ہم رسمِ وفا تم سے نبھائیں گے ہمیشہ
ہم سے نہ ہو سکے گا ہم تجھ کو بھول جائیں
ہم نے الفت کے تقاضوں کو نبھایا ہر دم----برائے اصلاح
ہم نے جو کی محبّت اس کو سدا نبھایا
ہم نے خیال تیرا دل سے بھلا دیا ہے
ہم نے دیکھے ہیں دنیا میں لاکھوں حسیں
ہم نے مانا کہ پیار کرتے ہو
ہم نے چھوڑا تو نہیں تم سے محبّت کرنا------برائے اصلاح
ہم کو بھیجا کس لئے تھا ہم نے آ کر کیا کیا
ہم کو حالات کی دلدل سے نکلنا ہو گا---برائے اصلاح
ہم کو دشمن سمجھ کر ستایا گیا
ہم کو محفل میں اپنی بلاؤ کبھی-----برائے اصلاح
ہم بھی نہیں کسی کے کوئی نہیں ہمارا----برائے اصلاح
ہم ترے خط، پیام بھول گئے
ہم تصور میں جو ان سے دوچار ہیں (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)
ہم دِیوں کو جلا کے چلے جاتے ہیں
ہم رہے یا نہ رہے راہ دکھا دی ہم نے
ہم سفر ہو کے جو رابطے میں نہیں
ہم سے یہ زندگی بسر نہ ہوئی (بحرِ خفیف)
ہم لے کے آ رہے ہیں وہ شاہکار دوستو
ہم نشیں تُو خزاں کی بات نہ کر ۔۔۔ نور سعدیہ شیخ
ہم نوا تو ہے رازداں تو ہے
ہم نہ بھولیں گے کبھی ہم نے جو منظر دیکھے
ہم نے اس قطرۀِ شبنم پہ بہائے آنسو
ہم نے اظہار محبت کا فقیرانہ کیا - برائے اصلاح
ہم نے اِک دِن عجب لڑائی کی غزل نمبر 163 شاعر امین شارؔق
ہم نے بھی بُھولنے کا اِرادہ نہیں کیا غزل نمبر 151 شاعر امین شارؔق
ہم نے بھی کمال کر رکھا تھا (مفعول مفاعلن فعولن)
ہم نے درد جھیلے ہیں
ہم نے دل کی مانی ہے (فاعلن مفاعیلن)
ہم نے سن رکھا ہے کہ کچھ مے کش
ہم نےکاٹی ہیں ہجر کی راتیں
ہم پہ اترے ہیں الم اور طرح کے (فاعلاتن فعلاتن فعلاتن)
ہم چھان چکے ہیں عالم کو تسکینِ دلِ رنجور نہیں
ہم کریں گے پیار کا اظہار دیکھا جائے گا غزل نمبر 81 شاعر امین شارؔق
ہم کو آنکھوں سے گرایا جا رہا ہے کیا کریں
ہم کو تکیہ تھا استخارے پر
ہم کہ سطحِ آب پہ لکھتے رہے
ہم کہ منتظر ٹہرے- درخواست برائے اصلاح
ہم کہ یکتا ہوئے یگانہ ہوئے
ہم کیا لکھیں سیاہی ہے درکار فاطمہ ---رض
ہمارا بکرا خواب میں
ہمارا یہ ارماں سُنو جاتے جاتے
ہماری بے حسی ہم کو کہاں تک لے کے جائے گی---برائے اصلاح
ہماری بے حسی ہم کو کہاں تک لے کے جائے گی---برائے اصلاح
ہماری اس تک بندی کو نظم بنا دیجیے
ہماری جانب بھی ذرا دیکھیے گا۔ اور اپنا تبصرہ ضرور کیجیے گا
ہماری صلاح: ڈاکٹر خورشید رضوی سے معذرت کے ساتھ
ہماری پہلی کوشش۔ برائے اصلاح و تبصرہ
ہماری یاد تو آئی
ہمارے بیچ تو کچھ بھی نہیں اب برائے اصلاح
ہمارے حال سے وہ بے خبر ہے کیا کہیے
ہمارے شہر میں عمران چھڑ گئی ہے جنگ : غزل برائے اصلاح
ہمارے ہیرو:: غالب، محمد حسین آزاد، بوعلی سینا، عبد الستار ایدھی
ہمسفر کی تلاش اور بچھڑنے کا سفر
ہمٹی ڈمٹی
ہمٹی ڈمٹی کا گیت ترجمہ محمد خلیل الرحمٰن
ہمیشہ حُسن والے ٹکڑے ٹکڑے دل کے کرتے ہیں غزل نمبر 97 شاعر امین شارؔق
ہمیں جینا ہے دنیا میں تو چاہت بھی ضروری ہے
ہمیں سر جھکانا نہ آیا کبھی بھی ------- برائے اصلاح
ہمیں کیا خبر ہم کہاں جا رہے ہیں----برائے اصلاح
ہمیں اے حُسن تجھ سے آشنائی مار ڈالے گی غزل نمبر 90 شاعر امین شارؔق
ہمیں بھی زیست کرنا آگیا ہے
ہمیں کیوں دربدر رکھا گیا ہے- برائے اصلاح
ہمیں ہے ننگ یہ سودائے خامِ آزادی
ہمیں یاد کرنا
ہمیں یہ دشت بھی لگتا ہے اب مکاں کی طرح
ہنجو ڈھگن
ہندی الفاظ کی آمیزش سے ایک معصومانہ سی نظم یا شائد گیت ،'' آؤ'' تنقید و تبصرہ کا انتظار رہے گا
ہنس کے اس کم گو نے کر دی، ترجمانی ان کہی .... ایک غزل اصلاح کی درخواست کے ساتھ
ہنس کے سہہ لوں گا ترے نام کی ساری ضربیں
ہو رہی ہو گی ہجو، خیر کوئی بات نہیں
ہو سوزِغم یا سازِطرب راز نہیں رہتا غزل نمبر 30 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
ہو کے بِسمل خموش ہے اب بھی غزل نمبر 138 شاعر امین شارؔق
ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا---برائے اصلاح
ہوئی جب سے مجھ کو محبّت نبی سے----برائے اصلاح
ہوا
ہوا کے رخ پر چلا نہیں ہوں
ہوا یہ سب بتاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
ہواؤں کی قیادت میں بکھرنا چاہتا ہوں میں۔۔برائے اصلاح
ہوتا جو میرے بس میں ، تجھ کو میں بھول جاتا ----برائے اصلاح
ہوتا ہے گماں مجھ کو کہ اُردو ہے کہ تم ہو
ہوتے رہے اداس کنارے تمام شب (اصلاح)
ہوتے ہیں ہم کلام گریبان پکڑ کے غزل نمبر 49 شاعر امین شارؔق
ہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں نمی ہے
ہوں برائے اصلاح
ہوں کیسے دلگداز میری غزلیں
ہُوا شہید تو وہ دِیدِ حق کی چھاؤں میں تھا (منقبت) غزل نمبر 170 شاعر امین شارؔق
ہچکی لگنے کا سبب یاد آیا ۔ (درگت سے درآمد شدہ حسبِ فرمائش خلیل الرحمٰن صاحب )
ہک پنجابی غزل تنڑقید تے راہ نمائی واسطے،'' اکھیاں لا کے کی کرنڑا''
ہیری پوٹر
ہیری پوٹر اور پارس پتھر
ہیری پوٹر کس کس نے پڑھ لی (3) از محمد خلیل الرحمٰن
ہیری پوٹر کس کس نے پڑھ لی(2) ؟ نظم ::محمد خلیل الرحمٰن
ہیری پوٹر کس کس نے پڑھ لی؟ نظم ::محمد خلیل الرحمٰن
ہیکر
ہیں نا تمام حسرتیں ، ہے اس کا نام زندگی---برائے اصلاح
ہیں منتظر نگاہیں بہتے ہیں میرے آنسو------برائے اصلاح
ہیں میسّر جتنے بھی کھلونے شاہین (برائے اصلاح)
ہیں نقش دل پہ مرے حادثاتِ شہرِ وفا
ہیں یوں محبوب تجھے تیرے خیالوں والے
ہے بجلیوں کی زد میں میرا یہ آشیانہ ---برائے اصلاح
ہے خدا کا ساتھ تو یہ زندگی آسان ہے---برائے اصلاح
ہے بے خبری ، خبر کچھ بھی نہیں ہے ۔
ہے تارِ دل کی صدا لا الہ الا اللہ
ہے حالتِ دِل بِن ترے کہرام کی صورت غزل نمبر 121 شاعر امین شارؔق
ہے خوشی غمگین اور غم بھی اُداس غزل نمبر 110 شاعر امین شارؔق
ہے سانس سانس میں اب بیکرانیِ مقتل ۔۔۔۔۔۔
ہے شوق نیم رس ابھی، اور عشق نا رسا
ہے غرض ہم کو بس دعاؤں سے
ہے فلک تلے مرا گھر مگر مرے واسطے ہیں فلک بریں
ہے قدموں کے تلے زمیں نہ سر پہ آسمان ہے..لمبی بحر میں کی گئی دوطویل کوششیں..
ہے موت ہی موت زندگی کیا
ہے کربل ہی میرے خیالوں کا مرکز
ہے کِس قدر عظیم گھرانہ حسین کا (منقبت) غزل نمبر 168 شاعر امین شارؔق
یا رب مجھے دکھا دے اک بار پھر مدینہ---برائے اصلاح
یا خدا اونچی ہے تیری شان جو چاہے کرےغزل نمبر 38 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
یا خدا کردے گناہ سے پاک دل غزل نمبر 25 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق
یا رب کوئی دن یوں بھی مدینے میں بسر ہو۔ برائے اصلاح
یا رب یہ زندگی ہے مری کس عذاب میں
یا چُناں کُن یا چُنیں ترجمہ از محمد خلیل الرحمٰن
یاد آئے گی کبھی تم کو محبّت میری
یاد عہد رفتہ
یاد مضراب کی طرح دیکھی
یاد میں آنکھیں اشکبار ہوئیں غزل نمبر 67 شاعر امین شارؔق
یاد پھر کیا دلا دیا تم نے
یاد کیا ہم کریں کوئی وعدہ نہ تھا،،،،،غزل برائے اصلاح
یادوں کو میں نے تیری دل میں سجا لیا ہے---برائے اصلاح
یادوں نے مٹ جانا ہے
یار کر جاتے ہیں احسان وغیرہ خود ہی (فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن)
یعقوب آسی صاحب کی توجہ کے لئے ۔۔۔
یقیناً کھینچ لائیں گی (آزاد نظم)
یوم محشر
یونہی رستے کو منزل مت سمجھنا
یونہی لہجے میں عزادری نہیں آجاتی
یونیورسٹی کی الوداعی تقریب کے لیے شاعری درکار ہے
یوں دیکھ نہ نفرت سے میں دشمن تو نہیں ہوں
یوں چھوڑ کر نہ جاتا مجھ سے جو پیار ہوتا ---برائے اصلاح
یوں بھی جنت گنوائی جاتی ہے
یوں بے خبر نہ ہو
یوں بے رخی اچھی نہیں، اچھا نہیں غصہ
یوں تنہائی سجائی میں نے
یوں ہو کہ رنگ تم کو، صدا سے سنائی دیں ۔۔ تازہ غزل اصلاح کے لیے۔۔
یّر کر دیا ہےہلکی پھلکی باتیں برائے اصلاح
یک شعر
یک پنجابی نظم اصلاح واسطے '' لُٹیرا لُکیا سی'' اگر کسے کول ٹیم ہووے تے درحواست اے جی
یک پنجابی نظم اصلاح واسطے '' پنجابی بولی'' اگر کسے کول ٹیم ہووے تے درحواست اے جی
یکایک دل کو دھڑکانے سے پہلے : غزل براہ اصلاح
یہ تہذیبِ نو ہے نیا ہے زمانہ----برائے اصلاح
یہ جدائی بهی سهی
یہ سلسلے وفا کے دیکھے نہیں کسی میں---برائے اصلاح
یہ نینا جب سے ساگر ہو گئے ہیں
یہ کیسی جہاں کی فضا ہو گئی ہے------برائے اصلاح
یہ ہی خطا تھی میری دنیا میں دل لگایا
یہ آسماں زمین پر اتار کر تو دیکھیے ( مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن)
یہ ارض وطن آباد رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درخواست برائے اصلاح
یہ اس کا شہر ھے ،تو شہر ہی چھوڑا جائے
یہ بندۂ عاصی ہے دعا کا متلاشی
یہ بڑا ناداں بہت معصوم ہے
یہ بھی نہیں ہے لائی، وہ بھی نہیں ہے لائی
یہ تین مصرعے کیا کہلائیں گے؟
یہ جسم میرا بہار میں ہے
یہ جو موسم پہ بہاروں کی گھٹا چھائی ہے ۔ غزل برائے اصلاح
یہ جہاں عارضی ٹھکانہ ہے
یہ جہاں کیا ہے، اک سمندر ہے ۔۔
یہ حُسنِ یار اور عشقِ یار واہ واہ غزل نمبر 68 شاعر امین شارؔق
یہ خون پیئں گے کب کب تک (محترم اساتذہ سے آصلاح کی درخواست)
یہ دل ہر طرح کوشش کر رہا ہے
یہ دنیا کس کی ہوئی یہاں
یہ دھوکہ ہی دینے کو سیاست سمجھتے ہیں۔۔برائے اصلاح
یہ دھیان تیرا جو منتشر ہے
یہ رات ختم ہو یا میری ذات ختم ہو (اصلاح درکار ہے)
یہ زمیں ہے صورتِ شاہکار میرے سامنے غزل نمبر 95 شاعر امین شارؔق
یہ ستم بھی
یہ سوچتی ہوں کیا کیا اس نے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ
یہ شاعری
یہ شعر میں نے خود لکھا ہے دوستوں کیا یہ غلط ہے یا صحیح؟
یہ شعر کس شاعر کا ہے
یہ شعر کس شاعر کا ہے
یہ شعر کس کا ہے؟
یہ عشق والہانہ کیا ہوا ہے برائے اصلاح تنقید تبصرہ
یہ عشق پیار الفت سب خام سا لگتا ہے غزل نمبر 63 شاعر امین شارؔق
یہ عشق کا ہے داغ مٹایا نہ جائے گا
یہ عِشق والوں کے قِصے عجیب لگتے ہیں غزل نمبر 184 شاعر امین شارؔق
یہ عید جو آئی ہے ،ہم کیسے منائیں گے
یہ غزل کس بحر میں ہے؟
یہ محبتوں کا کمال ہے ۔۔۔۔۔ برائے اصلاح و تنقید
یہ موت کی آہٹ ہے کہ۔۔۔۔
یہ میرے قوم کے سردار جھوٹ بولتے ہیں
یہ نگاہِ قاتلِ روح و دل میں عجیب کچھ تو ضرور ہے!!!
یہ کرم ہے تیرے فراق کا، کہ جواں ہیں میری یہ خَلوتیں۔۔۔برائے تنقید و اصلاح
یہ کس شاعر کا کلام ہے۔
یہ کس کی بات کرتے ہو صدا آئی ہے جنت سے
یہ کس کے ہجر میں اب تک یوں جاگے جا رہا ہوں میں ---- برائے اصلاح
یہ کلام کس بحر میں ہے اور بحر کے ارکان کیا ہیں ؟
یہ کوئی بلا ہے کیا ہے آخر؟ ( مفعول مفاعلن فعولن)
یہ کون سی بحر ہے
یہ کون سی بحر ہے ؟
یہ کون سی بحر ہے؟
یہ کونسی بحر ہے ۔۔۔؟
یہ کچھ آہوں کی لڑیاں ہیں ۔۔ غزل اصلاح کے لئے
یہ کیسی غزل ہے: جز عشق کہیں سچا Relation نہیں کوئی
یہاں جذبات بکتے ہیں یہاں ارمان بکتے ہیں
یہاں تک کیسے پہنچایا گیا ہوں-ملک عدنان احمد
یہاں تیرا گماں ہے اور ہم ہیں ۔۔۔ برائے اصلاح
یہی خیال ہے جس کے سبب اڑان میں ہوں ۔ برائے اصلاح تنقید و تبصرہ ۔
یہی گمان رہا : برائے اصلاح
۔
۔
۔غزل برائے اصلاح استاد محترم جناب الف عین سر کی خدمت میں
۔۔۔۔۔۔ ایمان سے
’نہیں آتا نظر کوئی ‘ اور ’کبھی یہ سوال نہ پوچھنا ‘ برائے تبصرہ
’’ جانِ من، سائباں تم ہی ہو ‘‘
’’ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ‘‘
’’.....جون میں بھی زلف اس کی شبنمی ہے ‘‘
’’آبروئے ملت ِ بیضا بہن مسکان ہے‘‘
’’جنگل بک‘‘ کی اس فائل کو دیکھ کر اپنی قیمتی رائے دیجئے
’’حضرتِ دل آپ ہیں کِس دھیان میں‘‘
’’دُھویں‘‘ میں سب اُڑائے جا رہا ہوں میں
’’میر کی ہندی بحر کی حقیقت‘‘
’’نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ‘‘
’’کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد‘‘
“بحر مُتقارب مثمن سالم” ایک کتاب
“مَیں” مارنا
“نَے” کا استعمال
” کیا نظارا تھا مجسم تھی حیا، دیکھ آیا ” ایک کاوش اصلاح کیلیے
”علمِ عروض“از شکیب ؔ احمد- ایک غیر تکمیل شدہ کتاب
”فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن“ کا کھیل
”فعولن فعولن فعولن فعولن“ کا کھیل
﴿کر گیا صد پارہ جو پل میں دلِ نخچیر ہے﴾
تمام زمرے دیکھیں »