آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)
ابھی تک 3379 موضوع محفوظ ہوئے ہیں
" دقت " کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ محمد وارث صاحب کی خدمت میں
" سانحہِ ساہیوال "
"بکرا" ایک ادھوری نظم جیسی تیسی نظر محفل
"دسمبر"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں" ۔ از ۔ محمد احمد
"فقط اک وہم"
"مجھے تم سے محبّت ہے" - (نظم)
"کل کی طرح" غزل
"ہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا"
"ہمیں تم سے محبت ہے"
"یاد"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(غزل) ایک اک چیز دھواں بن کے بکھر جانی ہے
(غزل) خار ِِ رہ کے واسطے ہم آبلہ ہوجائیں گے ۔ از ۔ کاشف اختر
(گیت) اجازت
***بیادِ پروفیسر الیف الدین ترابیؒ***
***رات***
*غزل*
*۔۔۔۔اگر۔۔۔۔* اپنی ایک مختصر نظم
............پنچھی ...........
12مئی
1992 کی ایک غزل
2013
: عشق کی پائی انتہا نہ کبھو!:
Charter "OFF" Democracy
Ghazal
Gum" "
Indoor Plant
Taza kalaam
deeda-e-soug
e=mc2 (نظم از عاطف بٹ)
feelings of the heart
×× غزل ×× تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
،، زباں کھولے ،،
آ سوئے فلسطیں چل
آ کبھی ہم خوشی کو صدا دیں ذرا،غزل
آ کر قریب دیکھو نظاروں کے آس پاس
آؤ آواز کی رفتار سے ہم چل کہ کہیں
آؤ اتنی مجال کر دیکھیں
آؤ اللہ سے بخشش کی دعائیں مانگیں
آؤ اک پیماں باندھیں
آؤ مجھے رلا دو
آؤ پھر اختلاف کرتے ہیں ... !
آئی ڈونیشن! ایک نظم از فاتح الدین بشیرؔ
آئینہ
آئینہ گر کے دُکھ
آبدیدہ تھا جو میں۔۔۔۔۔۔ آصف شفیع
آبلے پھول ہوئے گرچہ نہ پائی منزل
آتشِ رنج و الم ، سیلِ بلا سامنے ہے
آتشِ ہجر میں کوئی جلتا رہا
آج اُس کو اُس کے جیسا وہی پر دکھا غزل، احمدوصال
آج تھوڑی شراب ہو جائے
آج کا شعر
آج کا قطعہ
آج کی رات ہم پہ بھاری ہے
آج کی طرحی غزل
آج کے نوجوان!
آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا
آخر نامہ
آخرش کیا ہے رازِ بود و نبود
آخری بات ڈھونڈ لیتے ہیں
آخری غزل
آدمی کِتنا ٹوٹ جاتا ہے
آدھی تمھیں مبارک(قطعہ)
آدھی رات اور آدھا چاند
آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے - منیب احمد فاتحؔ
آرزوؤں کا نشانہ ہوگیا
آرزوئے روشنی۔۔۔
آرزوہے کہ کبھی تُم کو سجاؤں جاناں! - (غزل)
آرزوے باراں
آزاد تکبندی
آزاد نظم
آزاد نظم : "Compulsion" : از : م۔م۔مغلؔ
آزاد نظم با عنوان : ’’شاعری‘‘ :از: غزل نازغزلؔ
آزادنظم: ہے میرا مایۂ زریں!
آزماتے ہیں
آسان لگتی ھے ،،
آسمانی تھے
آسماں پر سحاب حیرت ہے - منیب احمد فاتحؔ
آشاوٴں کی ہاٹ پر تن بکتا ہے آج
آشنائی کبھی ہوتی نہیں چلتے چلتے۔ آصف شفیع
آغاز تیرے نام سے انجام تیرے نام
آن رہ جائے گی تمہاری بھی۔ ۔ آصف شفیع
آنا جانا
آنکھ کھل جائے جب تو کیا کیجے
آنکھ کھل جائے گی۔ آصف شفیع
آنکھ یہ پُرنم نہیں،لب پر گلہ کوئی نہیں
آنکھوں سے اپنی شوقِ نظارا نہیں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
آنکھوں سےفکرِ ذات کے منظر چلے گئے
آنکھوں میں اب یقین کی جنت نہیں رہی
آنکھوں میں جو دیا تھا بجھایا نہ جا سکا
آنکھوں میں خواب جلتے ہیں
آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
آنکھوں پہ بٹھانا مرا دستور نہیں ہے - منیب احمد فاتحؔ
آنکھیں
آنکھیں
آنے لگا ہے راس غمِ عاشقی مجھے
آواز کی دلیل خموشی ہوئی اگر
آواز۔ ۔ ۔ ۔
آپ اپنا ہی احتساب ہوں میں
آپ اگر مل جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آپ بابا کا اعتبار کریں
آپ بھی اللہ اللہ کرتے، ہم بھی لیلیٰ لیلیٰ کرتے
آپ بے کل دکھائی دیتے ہیں ماتھے پہ بل دکھائی دیتے ہیں
آپ کی سادگی بہانا ہے، اسامه جمشيد ؔ
آپ کے جو قریب ہو جائے
آپ ھی سے ہیں رابطے اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
آپ ہیں دانا، ہر کوئی نادان ہے کیا؟
آگاہ تو ہو
آگہی
آگہی سو غموں کا اک غم ہے
آہ جنید جمشید مرحوم.
آہ نیم شبی ؎۱
آیئے نعتیہ دوہے لکھیں
آیا جو میرے سامنے تو چھوڑ کے نہ جا مجھے
آزاد خیالوں میں اک آزاد نظم۔۔۔ آڈیوبھی ملاحظہ فرمائی
ا ۔۔۔۔۔۔۔ فغاں
اب ایسا ظلم تو اے حضرتِ صیّاد مت کیجے
اب ایسا ظلم تو اے حضرتِ صیّاد مت کیجے
اب بھی جذبوں میں جان ہے پیارے!
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
اب تو اندر کا کوئی کردار بولے
اب عاشقی میں رب کو گواہ کر چکے ہیں ہم
اب مرے پاس مرے خواب کہاں رہتے ہیں۔۔۔ محمد بلال اعظم
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
اب چھوڑ کے تنہا مجھے بیٹھا ہے کہیں وہ
اب ڈھونڈ شہر بھر میں کوئی جاگتا ہؤا
اب کہاں وہ
اب کی بار مل کے یوں سالِ نو منائیں گے ۔ فاتح الدین بشیر
اب کے راہ وفا کر
اب ہم سے کوئی کام کیا بھی نہ جائے گا - منیب الف
اب ہمیں درد دل کی دوا چاہیے (غزل)
ابھی بھی جاننا چاہو گے مسئلہ دل کا؟
ابھی سے کاسے پلٹ گےء ہیں ابھی سے ساغر بہک گیا ہے
اتائی ڈاکٹر
اتنا سوچ لینا تم
اتنی جلدی بھی کیا ہے جانے کی؟
اجازت
اجازت
اجازت ہو تو کیا کہہ دوں؟
اجل کی دھند
احتجاج ہونا تھا
احساس
احساس کا کاندھا تو کبھی جھٹکا نہیں ہے
احساس۔۔۔ پہلی نظم
احمد نثار کی غزل
احوالِ ملاقات ۔۔۔۔ فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ۔ (تضمین)
اخفائے راز و ضبطِ غمِ بے بہا کا نام
اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا
ادا کاری کریں
ادا کر کے۔
ادائے تو
اداس مرغی
اداسی
اداسی شام کی دل کے دریچے میں اتر آئی
اداسی۔۔۔۔
اذانِ مَہر
ارتقا (evolution)
اردو غزل
اردو غزل
اردو محفل ہے نام میرا
اردو محفل میں فارسی اشعار شائع کرنے کی جسارت۔۔۔۔۔۔
اردو محفل کا امتیازی شاعر بنے کا امتیاز کون حاصل کرے گا؟
اردو محفل کا یہ کیا خوب ہے تانا بانا!! (قطعہ)
اردو محفل کو سلام
اردو محفل کی آٹھویں سالگرہ
اردو محفل کے نام - ایک پیغام
اردو محفل کے نام - منیب احمد فاتحؔ
اردو ہماری جان
اردو ہماری جان (ترمیمی)-
ارضِ وطَن کو پھر سے لہُو کا خراج دو ۔ فاتح الدین بشیر
ارضِ ہستی کے کناروں کو ہِلایا جائے۔
ازراہِ دلبری ہمیں آنے دو اپنے پاس
اس بزم میں ہر شخص ہی مصروفِ فغاں ہے
اس جہانِ آرزو میں اور کیا کیا دیکھیے۔ ۔۔
اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو
اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں
اس زندگی کے رنگِ تماشا کی بات ہو
اس سے پہلے کہ چاندنی ہو سیاہ ۔ فاتح الدین بشیرؔ
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اس نے کیا تھا مجھ سے بس یہ سوال فاتح ۔ فاتح
اس کا چہرہ۔ میری غزل
اس کو احساس کی خوشبو سے
اس کو بھی میری طرح نیند کدھر آتی ہے
اس کی آنکھوں میں مچلتی، بے زبانی، ان کہی ۔۔ ایک غزل
اس کی بھی ہر اک راہ میں شامل تھا کبھی میں
اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں
اس کی خاطر سوال ہے بابا
اس گلی کے کنارے
اس گھٹن کے عالم میں، حق نہیں نہاں رکھنا
اسکے نام پے بیٹھی ہے
اسی کے ملنے سے تعبیر زندگی ملے گی
اسے سوچ کر
اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت
اشرفیاں لٹیں کوئلوں پر مہر
اشعار
اشک آنکھوں میں گر نہیں ہوتا
اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
اصلاح سخن : ’’فسانہ مرا زیرِ گردش ہے ساقی ‘‘
اصلاح و تبصرہ کے لئے ہے یہ غزل۔
اصلاح و نقد
اصلاح: تجدیدِ وفا کرلو
اصلاحِ سخن: ’’نہ مانیں گے ہرگز نہ منظور ہوگا ‘‘
اضطراب
اضطراب
اظہار کے لفظ(رائے بھی دیئں آپ)
اعتبار
اعتدال اپنا۔
اعری
افسوس یہی ہے
افسوں گری
افلاس
اقبال اور فرشتے
اقبال اور ہم ۔ نئی پیروڈیاں
اقبال کی وصیت
اقبال ہمارا شاعر ہے::نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن
الاؤ پگھلتا ہے سینے میں لیکن
البم سے کئی عکس پرانے نکل آئے
الجھن
الحاد پسند مسلمان ... !
الفاظ کے پردے میں اگر تُو نہیں نکلے
الفت کے گنہگار تجھے یاد کریں ہیں - مرثیہ عمران شاہدؔ
الل ٹپ غزل ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمدؔ
اللہ ہُو ۔۔۔
الوداع
الگ زباں
الگ ہوئی
الہڑ خوشبو
امام حسین خدا کی بارگاہ میں
امتزاج۔
امن ایمان کی باتیں!
امن ایمان۔ ۔ ۔شاعری اور آپکی یاد
امن کی تلاش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امید:خستگی کی داد پانے کی-غزل
ان آبلوں کے زعم میں پاؤں تلے بھی دیکھ۔۔۔۔ ہماری ایک غزل
ان آنکھوں سے نمی جاتی نہیں ہے
ان سے دیکھا نہ گیا مجھ سے دکھایا نہ گیا
ان کا یہ کہنا ہے اب
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
انا کی جنگ جاری ہے - عمر سیف
انبالہ ہؤا ہے
انتظار
انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام (عمران شناور)
اندھی آنکھوں والا راجہ گدھ مورے گھر آوے گا
اندھیری رتیاں
انمول
انڈا - پیاسا صحرا
انگریزی ترجمہ - اے خدا، اے خدا، جس نے کی جستجو، مل گیا اس کو تو، سب کا تو، رہنما
انگریزی میں غزل لکھنے کے طبع آزمائی
انگریزی کے مشہور میٹا فزیکل شاعر جان ڈن کی مشہورِ زمانہ نظم ’صبح بخیر‘ کا دو عشروں قبل کیا نثری ترجم
اور چپ رھے ،،،،
اور کیا ہے غزل بس ان کا خیال- اک نئی کاوش
اوٹ پٹانگ غزل :)
اوڑھ لیں سب گلوں نے قبائیں نئی، کونپلوں پر عجب اک نکھار آگیا
ايك شعر ارباب ذوق کی نذر :
ايك مسجد ايك صف اور پھر بھي نفرت
اَب اور آپ کے احساں کا کیا صلہ دیتے - (اَدُھوری غزل)
اَب کُچھ اَور بھی تَنہا مُجھ کو چھوڑ چُکی ہے - (غزل)
اَلمیہ - (نظم)
اُجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج
اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ
اُجڑنا چاہیے تھا --- جِس طرح --- اُجڑا نہیں ہوں - (غزل)
اُداس شامیں۔
اُداس لمحوں کو آخر تمام کر دوں گا۔
اُس بوریا نشین سا مختار لے کے آ
اُس نے آنکھوں سے پلائی رات بھر از روحانی بابا
اُس کو اُسی کا عکس دِکھاتا رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
اُلجھے ہوئے لفظوں کے معانی کی طرح ہوں ( غزل )
اُٹھایا جو میں نے یہ پہلا علم ہے!
اِبتدا ہو کے اِنتہا ہونا - (اَدُھوری غزل)
اِس شہر کی اِس رات کے اِس پہر کا منظر از محمد حفیظ الرحمٰن
اِس لِیے تو سب چراغوں کو بُجھا رہنے دیا
اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا
اِمروز کا یہ عالم
اِن غزالوں کو بھلا کس کے ٹھکانے کی خبر
اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
اِک رُوح مِری رُوح میں تَحلِیل ہُوئی ہے
آئی ٹن ما شاء اللہ ہٹ، شفیق استاد اخترؔ عثمان صاحب کی بیٹھک۔ ۔ ۔
آشنائے غم پایا‘ رازدانِ دل پایا
اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو
اٹھائو آفتابِ رخ سے پردہ
اپنا بھی تو مسلک تھا وہی کم نظری کا
اپنوں نے بھی منّت کی ، غیروں نے بھی سمجھایا
اپنی مٹی کو مقدر کا ستارہ کر لو
اپنی افتاد کا اندازہ کریں
اپنی اوقات یاد آئی مجھے ۔
اپنی تو ہجرتوں کے مقدر عجیب ہیں
اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہوئے گزری۔۔۔ (غزل از عاطف بٹ)
اپنی رسوائی کا بازار سجا ہے ہمدم
اپنی غلطی مان لو
اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا
اپنی ہستی کو میں افلاک نما کیوں جانوں
اپنے سر تیرے تغافل کا بھی الزام لیا ہے
اپنے بس کی بات نہیں ہے
اپنے راحیلؔ میاں مفت گنہگار ہوئے!
اپنے عاشق کا امتحاں لیجے
اپنے پہلے شعری مجموعے " روپ کا کندن " سے ایک غزل احباب کی نذر
اپنے ہاتھوں سے چراغوں کو۔۔۔۔۔۔۔ آصف شفیع
اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا
اپنے ہی دوست جب مرے غم آشنا نہیں
اپنے ہی گھر کے در و بام سے جھگڑا کر کے
اک شاخ ِ محبت سے لپٹا ہوا پتہ ہوں
اک اور غزل آپ کی بصارتوں کی نذر ۔
اک بات کہہ رہا ہوں لہجے بدل بدل کے
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
اک بار دیکھ کر جو وہ دیوانہ کر گئے
اک تازہ غزل
اک تازہ غزل پیش خدمت ہے
اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتھوں میں
اک تصور سے دل کو شاد کریں-نئی غزل
اک تماشہ بنا لیا دل کو۔ تازہ غزل
اک جہانِ رنگ و بو اعزاز میں رکھا گیا
اک حرف نیم رس کی تگ و تاز دیکھنا
اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ
اک درخت آسیبی
اک شخص شہر ِ ہجر میں گمنام مرگیا
اک عجب لمحہءِ سفر آیا
اک عکسِ لاوجود سے لپٹا ہوا ہوں میں
اک قطعہ
اک لطف نا تمام بڑی دیر تک رہا
اک لمحہ سفینے میں تو اک لمحہ لہر میں
اک موڑ تیری راہ کا سب سے جدا ملا۔ ۔۔ غزل
اک نظر تازگیِ دل کا سبب تو دیکھو
اک پرانی غزل
اک پل کا سہارا دے جاؤ
اک گل تازہ میان قریہ مہتاب تھے
اک گلہ
اک ہی مضمونِ یاوہ گوئی ہے
اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دلِ ما را ۔ تضمین بر حافظؔ (از فاتح الدین بشیرؔ)
اگر تم لوٹ آؤ تو
اگر دنیا سے پیہم اس طرح انکار ہو جائے
اگر ذوقِ تماشا ہے تو جانے دو
اگر کُچھ رَابطہ بَاہر سے بَنتا جَا رَہا ہے - (غزل)
اگر ھو سکے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
اگر یہی ہے ادب ، قہقہے لگائے جائیں ۔
اگرچہ نکتہ چینی ہو رہی ہے
اہلِ اظہار نہیں چاہنے والے مجھ کو، کس کے ہونٹوں سے گروں کون سنبھالے مجھ کو
اہلِ دل چشمِ گہربار سے پہچانے گئے
اہلِ ذوق کی نذر۔۔۔
اہلِ نظر کو کیا پتا قبلہ قلوب کا
اہلیہ کی چھٹی برسی پر
اہلیہ ۔ پیروڈی نظم
ایدھی .!
ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں
ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے
ایسا ہے انگ انگ تو میرا ہے کیا قصور!
ایسی تو کوئی بات نہیں
ایسی ہستی خدا کی ہستی ہے ----غزل
ایسے رخصت ہوا تو محفل سے (وارث بھائی کے نام)
ایك غزل
ایوارڈ یافتہ نظم
ایک اور غزل
ایک غزل آپ کی بصارتوں کے حوالے
ایک قطعہ آپ لوگوں کی نظر
ایک lدھوری نظم۔۔۔۔۔۔
ایک آزاد نظم - وقت
ایک آزاد نظم ---- ’’ گزشتہ سے پیوستہ ‘‘ ------ (تازہ کلام)
ایک آنسو بھی نہ چشم ر
ایک ادنی سی غزل: جامِ نگاہِ یار میں رازِ جہاں ملا
ایک الف بے بالو رے - تازہ نظم از میم الف
ایک انکشاف رہا
ایک اور ادھوری نظم ۔۔۔۔
ایک اور تازہ غزل
ایک اور تازہ غزل
ایک اور جسارت !
ایک اور غزل
ایک اور غزل لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ کی (دو منٹ کی) توجہ کا طالب بسمل شیخ
ایک اور پرانی غزل :ریت ہم کو بھی یہ نبھانی ہے
ایک اُلجھن میں ہوں گھِرا جاناں
ایک اپنی غزل
ایک بات کہنی ہے
ایک بھولی بھٹکی غزل
ایک تازہ حمد
ایک تازہ شعر از ۔ محمد حفیظ الرحمٰن
ایک تازہ غزل
ایک تازہ غزل
ایک تازہ غزل آپ کی باذوق بصارتوں کی نظر
ایک تازہ غزل - آرزوئے بہار لاحاصِل
ایک تازہ غزل - منیب احمد فاتح
ایک تازہ غزل آپ سب کے نام
ایک تازہ غزل آپ کی ادبی بصارتوں کی نذر
ایک تازہ غزل اور حاضر ہے آپ کی خدمت میں از: بسمل
ایک تازہ غزل سے چند اشعار ““حضرت الف عین““ کی نزر
ایک تازہ غزل ہوئی ہے آپ کی خدمت میں پیش کر دیکھتے ہیں
ایک تازہ غزل ۔ڈبو کے چھوڑے گا تم کو یہ زعم یکتائی
ایک تازہ غزل ۔۔۔پڑ گیا کس سے واسطہ میرا
ایک تازہ غزل۔ کوہ کن کے خمار کی باتیں
ایک جگنو مری وحشت کا سبب ہوتا تھا
ایک حالیہ غزل۔جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں
ایک حماقت کا ازالہ-ترمیم شدہ غزل
ایک خاص موقع پرکسی بہت خاص ہستی کے لیے کہی گئی ایک اور مسلسل غزل
ایک سوال
ایک سوال
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر
ایک شعر عرض ہے
ایک شعر قندیل بلوچ کو خراج عقیدت
ایک شعر ۔۔
ایک شعر۔۔۔
ایک شعر۔۔۔
ایک شعر۔۔۔۔۔
ایک طوفاں ہے بے حیائی کا ۔
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل
ایک غزل - ہوتا ہے ہر اک صبح ہی جینے کا اعادہ
ایک غزل - اس کے کردار کی اس کے گفتار کی
ایک غزل : اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
ایک غزل : دل کی بات زباں پر لا کے دیکھو تو
ایک غزل آپ کی بصارتوں کی نذز
ایک غزل آپ کی نذر
ایک غزل احباب کی نذر
ایک غزل احباب کی نذر (سر رہ جب کبھی جو زلف یار من کا خم نکلے)
ایک غزل اردو محفل میں پہلی بار
ایک غزل تبصرہ کے لئے
ایک غزل جیہ صاحبہ اور الف عین صاحب کی نذر
ایک غزل سے اک شعر
ایک غزل سے چند اشعار ۔۔۔
ایک غزل وارث بھائی کے نام۔
ایک غزل پیش خدمت ہے
ایک غزل پیش کرنے کی جسارت: رقیبو تمہاری دعا چاہتا ہوں
ایک غزل چند اشعار کے اضافوں کے ساتھ
ایک غزل کے کچھ اشعار
ایک غزل ۔ بیادِ خواجہ میر درد ۔ کوئی بتلائے کیا یہ غم کم ہے
ایک غزل ۔۔۔ آپ کی آراء کی منتظر
ایک غزل ’’ جشنِ آزادی کے موقع پر ‘‘
ایک غزل۔۔ احباب کے ذوقِ نظر
ایک غیر مطبوعہ نظم ۔۔۔۔۔۔ " دعا "
ایک قصہ اک کہانی رات دن
ایک قطرہ بھی الفت سے خالی نہ تھا
ایک قطرہ ہے دَروں ہے نہ بَروں ہے یوں ہے
ایک قطعہ
ایک قطعہ
ایک قطعہ
ایک قطعہ از : محمد حفیظ الرحمٰن
ایک قطعہ از : محمد حفیظ الرحمٰن
ایک قطعہ اور اس کی انسپریشنز
ایک قطعہ..... جو خدا سے مکالمہ کہا جاسکتا ہے
ایک قطعہ:: از ::فرحان سموں فرحان
ایک قطعہ۔۔۔۔۔۔۔
ایک قومی المیہ ، ایک قطعہ
ایک لوری: پھر سے سونے کا وقت آیا ہے
ایک مختصر تازہ نظم
ایک مختصر نظم
ایک مختصر نظم
ایک مختلف مکالمہ
ایک مزید غزل ( نہیں کچھ قصور اس مری جان کا)
ایک مشاہدہ
ایک مصرع میری زُباں سے
ایک مصرعہ
ایک مطلع اور دو اشعار
ایک معریٰ نظم - بے غََرض
ایک مفرد شعر
ایک منظر پس ِ منظر بھی دکھایا جائے
ایک نئی غزل - تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
ایک نئی غزل - نہ سِرا ملا ہے کوئی، نہ سُراغ زندگی کا
ایک نئی غزل : ہیں محوِ حیرتِ دنیا دماغ کتنے ہی
ایک نطم - میری کتاب " تیرے نام کی آہٹ" میں سے
ایک نطم کی ہے "سارنگ" .
ایک نظم -- عالمِ نو
ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔------------- ایک سوال
ایک نظم "خلائی اڑان"
ایک نظم 'جینے کا عزم'
ایک نظم (عمران شناور)
ایک نظم - مسکراہٹ اور آنسو از نویدظفرکیانی
ایک نظم : بہلاوے:
ایک نظم :اندیشے:
ایک نظم تواتر حاضر خدمت ہے
ایک نظم ۔۔۔ یہ شہر بیمار ہے طبیبو!
ایک نظم-- معجزہ ۔۔۔ نوید صادق
ایک نظم: نوشتہء پس ِ دیوار
ایک نظم۔۔۔ تکمیلِ شکست ۔۔۔۔ نوید صادق
ایک وحشت ہے اس قرینے میں- نئی غزل
ایک وقت ہوتا ہے.....
ایک ٹھوکر پہ وہ ناداں سر بازار گرے (غزل)
ایک پرانی غزل جو ہم پہ اتری۔۔۔
ایک پہیلی کے اشارات میں رہتا ہے وہ
ایک چھوٹے سے دل نے غم ہزار پالے ہیں
ایک چہرہ
ایک چہرہ بدلنے والے کے نام۔
ایک چہرہ بدلنے والے کے نام۔
ایک کاوش
ایک کاوش: شیون و فغاں لکھا اہلیت کے خانے میں
ایک کاوش: دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا
ایک کہانی بہت پرانی۔ ۔ ۔ ۔
ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی
اے خدا مجھ کو آزمانا کیا
اے خُدا تو نے کہا تھا
اے زندگی
اے سوزِ ناتمام اذیّت نہ دے مجھے --- محموداحمد غزنوی
اے شب فراق
اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں
اے عقلِ کم شناس! ہوئی کارگر نہ چال
اے غمِ عمرِ رواں، طولِ ستم کی حد بھی ہو گی
اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا ۔ فاتح الدین بشیر
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اے ماں تجھے سلام۔۔شاعرہ فائزہ رضوی
اے محفلِ رنگ و نور رخصت
اے مری معصوم بہنا ...!
اے مرے سد پارہ- ایک خراجِ عقیدت
اے وقت ذرا تھم جا ، یہ کیسی روانی ہے
اے کاش مرے پاؤں میں کانٹے ہی اُگ رہیں
اے ھواؤ سال نو پہ میرے دیس جاؤ
اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟
اے ہمارے رب ::از محمد خلیل الرحمٰن
اے یار سنبھلنا کہ بہت تیز ہوا ہے
بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟
بات اب دار و رسن سے بھی بڑھے گی آگے
بات جو دل میں نہیں ، لب سے ادا کیسے کروں
بات خود سے ہی کچھ بنا لی جائے ۔
بات ساری اسی کے بارے کی: نئی غزل
بات سُریلی بانسری ، رُوپ سجیلا چاند
بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
بادشاہ کا راز (ماخوذ از حکایاتِ سعدی) از محمد خلیل الرحمٰن
بادِ نسیم ہیں وہ سبک رو ہوا نہیں
بارش کا بہانا ہے
بارش کا گیت
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر ۔ فاتح الدین بشیر
بالآخر ہم نے بھی محفل جمالی ہے
بام و در
بام پر نہیں ہوں گے
بانٹ لیتے ہیں۔
باوفا کوئی کوئی ہوتا ہے
بتا بتا کر ستا رہے ہو
بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا
بجیا چلی گئی ہیں روایت چلی گئی ۔۔۔ !
بحر ھزج میں میرا یہ شعر
بدل گیا وہ ٹھکانہ مرے برابر سے
بدگمانی سی بدگمانی ہے۔۔۔۔توارد یا مصرع طرح؟؟
بدیسی پیڑ
بر صلیبِ آرزو، رات، تنہائی، دیا!
برائے اصلاح
برتھ ڈے (نظم)
برسات رہے
برستے موسم
برکھا رت آئی ( گیت از خاور چودھری)
برگد جیسے لوگوں کے نام
برگد سے کچھ باتیں . .
برہنہ سچ
بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے
برے حالات اور موسم
بزبان عافیہ صدیقی :از عابی مکھنوی
بزمِ انجم میں قمر اب نہ بلایا جائے - از سلمان حمید
بزمِ ہستی میں عجب انجمن آرائی ہے۔
بزمِ یاراں نہ رہی ، شہرِ تمنا نہ رہا
بس اتنی سی کہانی ...!
بس ایک عہد وفا ہے ، نبھا رہا ہوں میں
بس بہت ہوگئے نیلام ، چلو لوٹ چلو
بس حال کا پوچھنا غضب تھا ۔۔۔
بس محبت سے پیش آیا جائے ۔
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
بس میرا اضطراب وہیں ختم ہو گیا
بس میں نہیں کہ شوقِ محبت بڑھاؤں میں
بسلسلہ یوم اقبال ۔۔۔۔ از:عابی مکھنوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسنت کے حوالے سے ایک نظم
بسکہ پورے کیجئے مقدور تک - رائے دیجئے
بشیر بھی ہے غزل خواں خدا خدا کر کے۔ فاتح الدین بشیر
بطور تبرک زیارت کو آیا کرو ۔ ۔
بعد عشق
بعد میں شور و غل بھی وہاں سے اٹھا
بغاوت ------ایک نظم
بلا عنوان
بن کے بدن میں روح سمایا چلا گیا
بنا کے رکھے گا مجھ کو پاگل حسین چہرہ گلاب تیرا حسین صورت، ذہین فطرت، نہیں ہے کوئی جواب تیرا بروز
بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم
بنامِ روزِ وفا (ویلنٹائن ڈے)
بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی
بندہ پرور خدا نہ ہو جائے
بوند بھر بات
بَرَنگِ سُرخئِ زَنگارِ شَام کا مَاتَم - (غزل)
بَلا کی بھیڑ مِیں تُجھ کو پُکارَتے سَائیں - (غزل)
بَلا کے ہَاتھ مِیں اَب اَور زِندگی نَہیں رَہی - (غزل)
بِنا لیلیٰ کوئی مجنوں دیوانہ ہو نہیں سکتا
بٹ گیا ہوں میں کتنے خانوں میں- تازہ غزل
بڑا اندھیر ہے ظلمات کے علاوہ بھی ۔۔۔
بڑھا جاتا ہوں پچھلا سب بھلا کر
بڑھتاہے حسنِ یار ملن کے خیال سے
بڑی دیر سے چپ ہوں۔ نذر شاذ
بڑی لمبی کہانی ہے ۔ایک نظم
بڑی گہری اداسی ہے ۔۔ زھراء علوی
بڑے بھائی کی وفات پر۔۔۔۔
بکِھرتے رَنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں - (غزل)
بکھرا ہوا ہوں ضبط کا یارا نہیں رہا
بکھرے ہیں اس طرح سے سمیٹے نہ جائیں گے ۔۔ زھراء علوی
بھتہ خور اور دوکان دار
بھروسا جس پہ کِیا تھا اسی نے توڑ دیا
بھری محفل میں وہ تنہا رہا ہے
بھری ہے دل نے آہ جو لکھی تو شاعری ہوئی ۔
بھول جائے گا میرے ساتھ تماشہ کرنا از روحانی بابا
بھول کر بھی تجھے بھول پائیں گے کیا
بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں (عمران شناور)
بھوک کم کم ہے پیاس کم کم ہے ۔۔۔۔ عمران شناور
بھوکا بُرا لگا ، کبھی روٹی بری لگی
بھڑک اٹھے گا کسی دم ابھی غبارِ دلم
بھیڑ کی تَقلید مِیں گھر سے نِکل کر کھو گئے - (غزل)
بہ نوک ِ خارِ مغیلاں ہے زندگی اپنی ( غزل ۔ از سید نصرت بخاری)
بہار آئی تھی ایک پل کو
بہار رت بھی ہے اداس زندگی لیکن : شہزاد سائل
بہاروں سے بھرا پیشہ۔ منصور آفاق
بہانہ بھی نہیں۔
بہت نادان لڑکی ہے
بہت انجان یہ محبت ھے
بہت اوج پر ہے ستارہ ہوا کا
بہت دل جلایا بہت آہ کی ۔
بہت عرصے بعد ایک تُک بندی
بہت ہنستا ہوا چہرہ بہت ویران لگتا ہے ۔ از ناعمہ عزیز
بہروپیا
بہنیں۔۔۔۔۔۔
بہکا دیا تھا دِل کو غریبانہ حال نے
بیاد جنید جمشید بھائیٌ
بیان کرتی ہیں سب کچھ یہ حالتیں اپنی از خرم شہزاد خرم
بیانِ خود، دہانِ خود۔۔۔چند اشعار
بیاں سے اس لئے بھی آج ماورا دکھ ہے، غزل، احمد وصال
بیتاب کررہا ہے تیرا پھول سا لہجہ
بیماری
بین السُّطور
بے سود سفر
بے اماں لمحوں کا کرب
بے باک نِگاہوں میں کیا بات نِہاں دیکھی
بے بسی !!!!!
بے تابیاں
بے دام ہم بکے سر ِ بازار عشق میں
بے ربط تحریر ھی سہی، مگر بے اثر تو نہیں،!!!!
بے رخی
بے رُخی پر تری ہم آج کُچھ ایسا روئے۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔ ش زاد
بے زبانوں کو
بے سمت کاوشوں کا ثمر دائرے میں ہے
بے غرض کرتے رہو کام محبت والے
بے قرار لمحوں کے
بے لباسی لباس والوں کی
بے نسب درہم و دینار کا ورثہ کیسا
بے چینی کے لمحے، سانسیں پتھر کی
بےبہا نکتے بےصدا باتیں
تا قیامت بھی باقی رہے نام کیا
تا قیامت کھُلا ہے بابِ سخن
تاریک دیاروں میں اُجالے کا پتہ ہیں
تازا ترین واردات
تازہ غزل : اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدہء شوق
تازہ غزل : رنگِ دنیا دیکھتا رہتا ہوں میں از نویدظفرکیانی
تازہ ترین
تازہ غزل
تازہ غزل
تازہ غزل
تازہ غزل
تازہ غزل - الجھے ہوئے گیسو میں گرفتار کا عالم !
تازہ غزل :
تازہ غزل : دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
تازہ غزل : تیرا ارماں مرے دل کا حصہ ہوا - از نویدظفرکیانی
تازہ غزل : کیسے سمے کو چیر کر نکلا ہے رستہ چاند کا از ۔ نویدظفرکیانی
تازہ غزل کے چند اشعار ..!
تازہ قطعہ ...!
تازہ نظم : میں تنہا نہیں از :- نویدظفرکیانی
تازہ نظم ۔ پچھتاوہ از : نویدظفرکیانی
تازہ کاوش
تازہ کاوش - کس کی آئی ہے یہ صدا دل میں
تازہ کاوش: جو ہو سکے تو مری رات کو سحر دے دے
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
تاویل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نظم
تجھ سے مل کر بھی دل اداس رہا ۔ سعید الرحمن سعید
تجھے اے تقدیر اب روؤں کیا (میری شاعری)
تجھے دیکھا، غزل نئی لکھی
تجھے ملا ہی نہیں ہوگا پالکی میں بدن
تحلیل ہوئی جاتی ہے
ترجمہ
ترس ہم پر اگر وہ کھا رہے ہیں
ترک ِ تعلقات کا وعدہ نہ کر سکیں
ترکِ یقین کرکے اُس کو بھلا رہا ہوں
ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
ترکِ وطن
تری آنکھوں میں تارہ بن کے چمکوں گی
تری آہٹ تھی یا باد صبا تھی
تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں
تری نیند مختصر ہو، ترے خواب ہوں زیادہ!
تری چاہت کا کچا رنگ
تری چاہت کے موسم کی برستی دوسری بارش
تری گلی میں رات کو
ترے حسن کا قصیدہ......
ترے خیال کی مہک لیے لیے جدھر چلی
ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
ترے لہجے کی لکنت نے، ترے نظریں چرانے نے
ترے کوچے میں جاکے دیکھتے ہیں
ترے ہمراہ چلنا ہے- آصف شفیع
تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں
تشخص
تشنہ یاد --- ایک نظم
تشہیر کرنا۔
تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے
تصویر بولے گی ،،
تصویر یوں دل میں ہے سمائی ترے در کی
تضمین
تضمین (قطعہ): مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
تضمین بر کلام حضرت خواجہ غُلام فرید صاحب ۔!
تضمین بر کلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ گولڑہ شریف
تضمین بر کلامِ مولانا مُحمد جلال الدین رُومی قُدس سِرہُ السامی
تضمینِ حالیؔ:ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی
تعلق
تعلق کا بھرم رکھنا ضروری ہے
تعمیرِ وطن کا خواب
تفریق ہو بھی کس طرح اب خاص و عام کی
تقریبا تین دہائیاں پرانی ایک غزل- میں تھا غم تھے اور شبِ تنہائی تھی
تلاش
تلاش بستی میں
تلاش شیشے کی۔
تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے۔ فاتح الدین بشیر
تلخیِٔ ایام سے کچھ یوں کنارا ہو گیا
تم آؤ ,,,
تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے
تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو، حد کرتے ہو
تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو
تم جہاں جاؤ تمہیں میری دعا خوش رکھے
تم خوبصورت ہو
تم سے رشتہ شراب ہے شاید
تم مجھے بھول جاؤ گے صاحب؟
تم میرا عکس بنو
تم نہ رویا کرو!
تم نہیں میں رہو کہ ہاں میں رہو ------------- ایک غزل آپ کی بصارتوں کی نذر
تم کناروں کی بات کرتے ہو از روحانی بابا
تم کو پابند وفا ہم نہیں کرتے اے دوست
تم کو کیسے کہوں پھر، میں آزادی مبارک!
تم کہتے ہو
تم ھو نا ،،،،
تم ہوتے ہو جہاں حماقت ہوتی ہے (جاوید اختر سے معذرت کے ساتھ)
تمام دن جسے فرصت نہیں لطیفوں سے
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
تمام رات پڑاؤ میں جاگنے والے
تمام رنگ وہی ہیں ترے بگڑ کر بھی
تمثیل دراز ہو گئی ہے
تمناؤں کی نیلی چاندنی میں
تمھاری آنکھوں سے بہتے آنسو کوئی کہانی سنا رہے ہیں
تمھاری گلیوں میں پھر رہے تھے اسیرِ ِ درد و خراب ِ ہجراں
تمھارے آنے کا پیش خیمہ بنا کرےگا
تمہاری یاد
تمہاری یاد کا لمحہ
تمہارے نام
تمہارے چاہنے والے۔۔۔۔ (دو اشعار)
تمہارے چہرے پہ خوبصورت چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے-غزل
تن زہر میں بجھے ہوئے ، دل آگ میں جلے ہوئے
تن کا سودا کر لیتے ہیں ، من سے ہیں بے گانے لوگ
تنِ تنہا سوئے منزل رواں ہوں
تنکا
تنہا سا ہوں بہت
تنہا کہیں بیٹھا ہوا پر تول رہا ہے
تنہائی۔ ۔ ۔
تو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر (عمران شناور)
تو اگر ہو سامنے سب استعارے معتبر
تو بھی شہرت کمانا چاہتی ہے
تو جو بولا تو بلندی ترے قد میں نہ رہی
تو عشق ھے صحرائے محبت ہے ترا دیس
تو مجھ سے کہنا تری داستانِ غم نہ ہوئی
تو نور تو میں دھنک ہوا ہوں ۔۔۔
تو نے مٹی پہ خدا ! نقش ابھارے کیا کیا !
توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے
تَوَلّا--------- (نظم)
تُمھاری آنکھوں مِیں خَواب اُترے، خُدا کرے یہ - (غزل)
تُو تو شبنم کو بھی کانٹے پہ نچا دیتا ہے
تُو شریکِ سفر ہُوا نہ مگر،،،،تیری خوشبو ہے ہمسفر میری
تُو ہی بتا کہ اور زمانے میں کیا کروں
تُو ہی تُو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تڑپ كر كچھ نهيں ملتا
تک بندیاں
تک بندی۔۔۔۔ !
تکبندی
تکلف برطرف ہوگا خطاب آہستہ آہستہ
تھا کبھی خود پہ اختیار مرا
تھام کر ہاتھ بات کی اس نے
تھرتھراتا ہوا لب عقدہ کُشا ہو جیسے -- ایک غزل
تھوڑا تھوڑا سچ کہتے ہیں تھوڑا جھوٹ ۔۔۔
تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے
تھی گرمئ خیال بیابان جل گئے
تہمتِ زر سے تہی کیسہ و کاسہ نکلے
تیرا اک مسئلہ خوبصورت ہے تو
تیرا میرا ساتھ ہو
تیرا کوئی حُکم صادر چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔غزل
تیری الفت اگر نہیں ہوگی
تیری رفعت کا الٰہٰی جو خیال آتا ہے
تیری صورت کی بات کرتے ہیں- آصف شفیع
تیری ہی یاد تیرا ہی ارمان چاہئیے
تیری یادوں سے لو لگائی ہے
تیری یادوں سے لو لگائی ہے
تیرے بن
تیرے بن
تیرے جمال سے ہے انجمن میں آگ لگی
تیرے در پر ہم حاضر ہیں لے کر دستِ دعا مولا
تیرے دل سے اتر چکا ہوں میں ۔۔۔۔ عمران شناور
تیرے سب حوالوں کو (خاورچودھری)
تیرے لیے خیال چمن گفتگو خواب (خرم شہزاد خرم)
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔۔
تین اشعار فی البدیہ: کیا غضب کا نشاط باقی ہے!
تین اشعار...
تین اور دو پانچ ہوتے ہیں ہمیں معلوم ہے: غزل از:: محمد خلیل الرحمٰن
تین درویش
تین شعر
تین شعر محفل کی نظر
جا مرے جملہ خطوں کو بھی جلا دے جا کر
جا چکی جبکہ میری بینائی
جائزہ
جام هيں آج بھي ايك جم نا رهے
جان واری ہے جہاں، دل بھی تو ہارا ہو گا
جان کیٹس کی شہرہ آفاق نظم کا نثری ترجمہ (25 سال قبل کیا)
جانا ہے ایک روز حقیقت یہی تو ہے
جاناں
جانباز قید ہے
جانتا ہوں کہ جوش بہتر ہے
جانے عقب سے تیر تھا کس کی کمان کا
جانے من ، جانِ من ، جان اے من
جانے چمک اٹھا ہے، کیوں ہم نورد میرا
جانے کتنے راز چھپے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی میں
جانے کہاں پہ دل ہے رکھا
جانے کیا اس میں بھید بھاؤ ہے- نئی غزل
جاگیر میں شامل
جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا۔ تازہ غزل ۔ منصور آفاق
جب تک ہے جان اس کی ہی باتیں کریں گے ہم
جب حقیقت مجاز ہوتی ہے
جب سے دل کی آگ بجھی ہے
جب سے سیکھا ہے گفتگو کرنا - عمر سیف
جب سے میرے یار دشمن ہو گئے (عمران شناور)
جب عمر بھر نہ آئیں نبھانی محبتیں۔۔۔ محمد بلال اعظم
جب مرے زخم مرا اپنا مقدر نکلے۔۔۔۔۔۔غزل
جب میں اپنے آپ پر افشا ہوا۔۔۔!
جب کبھی ڈھونڈنے نکلے تھے خوشی کا چہرہ
جبر و قدر
جبراً ہم اپنی کھال میں ہی بھر دیے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
جتایا شوق میں دنیا سے اپنا پن کیسا
جتنے بھی ٹوٹے خواب ہوتے ہیں
جدا کیا ہو گئے تم سے نہ پھر یکجا ہوئے خود سے - سعید الرحمن سعیدؔ
جذبہء عشق جوانی سے نکلتا کب ہے
جرم۔۔۔۔۔۔ (نظم) ظہیر احمد ظہیر
جس خاک سے بنے تھے ہم اُس خاک پر گرے
جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں
جس نے سوچا ہے خود کُشی کر لے (اسد اقبال)
جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے
جس پہ آ کر تری نظر ٹھہرے
جس پہ آغاز کی تہمت ہے وہ انجام ہی ہے - منیب احمد
جس کا اللہ رقیب ہوتا ہے از روحانی بابا
جس کے ہاتھ میں پتھر دیکھا
جسم
جسے تمیز نہیں مجھ سے بات کرنے کی
جشن آزادی مبارک ۔۔۔۔۔
جشن تیرہ شبی منانا ہے ۔ فاتح الدین فاتح
جفا کا نام مت لے ، یاں وفا سے کام چلتے ہیں
جلوہء دید پہ ہر آن ہے حیراں___
جن جبینوں میں صرف سجدے ہوں
جنازہ نکلا ہے تہذیب کا
جنوری کی دھندلی سردی ( ایک شعر )
جنوں آسیب بن کر کھا گیا ہے
جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک
جو استعاروں کو موت آئے تو میں بھی - معنی کا رنگ دیکھوں!
جو بات ہماری تھی وہ بات ہی کب کی ہے
جو بھی اس ذات میں پھیلا ہوا اچھا دیکھوں
جو بھی جھُوٹا تھا وہی خَواب دکھایا خُود کو - (غزل)
جو بھی ہم ہیں جیسے بھی ہیں ویسا ہم کو دکھنا ہے--غزل
جو تارِ ہست سے اتار کے قبا چلے
جو تری قربتوں کو پاتا ہے (عمران شناور)
جو تھی باقی رہی سہی کر لی ! ۔۔ ایک غزل
جو جان سے پیارا تھا وہی جان کو آیا ہے
جو خستہ دل میں جا کردی
جو سالِ نو کا حساب لکھنا
جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں۔۔۔۔ محمد بلال اعظم
جو سچ کہوں بہ غمِ انتظار گزری ہے
جو مجھ سے ہیں شاعر ، وہ یوں شعر کہتے
جو ناز تھا کبَھی وُہ ہوتا ہے چُور چُور اَب۔۔!
جو گزری ہے اس پر لکھی ہے
جو ہوتی دیس میں عزت ہنر کی
جو یاد میں باقی ہے
جوانی کی ایک غزل تقریبا 1993 کی
جوش ملیح آبادی اور فیس بک ۔۔۔ تحریف در غزلِ جوش
جوٌلای کا امتیازی شاعر کون ہوگا
جَب اَپنا کوئی نہیں ہے تو دِید کیا ہوگی - (غزل)
جَب سے وَطن کے لوگ قَبِیلوں مِیں بَٹ گئے - (غزل)
جِیون مِیں جَب دُکھ سے اَپنے دِن اور رَاتیں لِکھّوں - (غزل)
جگر ميں پھنس گيا هے جو وه كانٹا اب كهاں نكلے
جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں
جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں
جھوٹی انا کی پالی دُنیا۔۔۔۔۔۔۔ایک مُسلسل غزل
جھیل آنکھوں میں شفق اتارے ملنا ۔۔۔
جھیل میں لمس کی تحریر
جہان بھر کے مسائل ہیں اک سفر میں مُجھے۔۔۔۔۔غزل
جہانِ حسن و نظر سے کنارہ کرنا ہے
جہاں سے گزرتے ہیں ہم دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سیدہ مدیحہ گیلانی
جہاں ميں ہے رونق انهی كی دعا سے ، أسامه جمشيد
جہاں پر آبِ رواں سے چٹان ملتی ہے
جہاں پہ خواہشیں پلتی تھیں
جی ایم علی کی شاعری
جی جی جیہ صاحبہ کی نذر دو شعر
جی سی میں آخری سال - منیب الف
جی میں آئے جو کچھ کہا جائے ۔
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دن(شکیل احمد خان)
جیسے گدڑی میں لعل رکھتے ہیں
جینا ترے لیے ہے نہ مرنا ترے لیے
جیون کالی رات
حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام --------محمود احمد غزنوی
حاصلِ زیست ۔ ۔۔ آزاد نظم
حال جو دل کا سمجھ آئے کہا کرتے ہیں - منیب الف
حالات حاضرہ کے پهپهولے
حالات ہو گئے ہیں کتنے عجیب صاحب - منیبؔ احمد
حالیہ دنوں حیدرآباد(ہند) میں بارش کی تباہ کاری پر منظوم اظہار تاسف احباب محفلین کی نظر
حبسِ جاں رونے سے کچھ اور گراں ہوتا ہے
حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
حرفِ گم
حساب غرق ہوا، آفتاب غرق ہوا ۔ از فرخ منظور
حسابِ عمر میں گزری شبِ سیاہ تمام
حسرت ان مطلعوں پہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حسرتِ انتظار ہے، دیدۂ اشکبار ہے
حسن ایسا کہ تجلی کو مچلتا دیکھوں ۔ فاتح الدین بشیر
حسن تھا یا کمال تھا، کیا تھا
حسن والوں کے نام ہو جائیں
حسن پر عشق کا اثر کر دوں
حسیب آؤ کہ اس سے مل کر آئیں
حسین روزِ عاشور اکبر کے ساتھ
حسین رضی اللہ عنہ
حشر ہے دل میں بپا عید منائیں کیسے
حصارِ درد۔
حصولِ اقلیمِ تخئیل
حضرت لقمان کی وصیت
حضرت ناصح وعیدیں ہم سمجھ پائینگے کیا
حضرت ِ اقبال کی زمین میں میری اک غزل
حق گو منصف ۔۔ نزہت وسیم
حقیقت یہ ہے کہ اپنا خسارا کون کرتا ہے (اسد اقبال)
حلقہء یاراں
حلیفِ ظلمتِ شب تار ہم نہیں ہونگے
حمد
حمد باری تعالٰی
حمد باری تعالی
حمد نعت منقنت و مرثیہ
حمدِ بارئ تعالیٰ. بسمل کے اشعار. اور آپ کی توجہ
حمدِ باری تعالیٰ
حمدِ باری تعالیٰ (موضوع: عفو) ٭ محمد تابش صدیقی
حَضُور! جِسم پہ رہتے سَدا جو پھُول ہَرے - (غزل)
حُسین مولا شہیدِ اعظم سلام میرا قبول سائیں۔۔۔۔
حکیم مومن خان مومن کی زمین میں کی گئی ایک ادنی' کاوش
حیدر کرار کا تها وہ تو اک ادنی غلام
خائف و تائب کی ذاتی تخلیق کردہ شاعری
خامشی کے نام۔۔۔۔
خاموش ہیں ششدر ہیں پریشان بہت ہیں- فرحان محمد خان
خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک --- ایک ہجو
خاکسار کی ایک غزل
خدا قسم لوگ کہہ رہے ہیں کہانی حیدر کی باطلی ہے
خدا تو بندوں پہ مہرباں ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے ۔ از : ناعمہ عزیز
خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے
خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں۔۔۔ نوید صادق
خریدی آپ نے ہے
خزاں آ کر ہی رہتی ہے
خزاں آئی گلستاں میں
خساروں بھری تجارت
خسارہ کیوں ہو۔
خشکی میں جیسے ناؤ چلاتا ہوں روز ہی
خضر سے
خلاف ذوق محفلوں میں حاضری محال ہے(غزل)۔،
خلعتِ رسوائی لے کر جا بجا پھرتا رہا
خلق میں ایک ہی تو نام نہیں
خمار ہو تم، بہار ہو تم
خموش نگری میں
خواب
خواب آنکھوں میں کئے ایسے کسی نے روشن
خواب میں محوِ خواب میرے ساتھ ۔ فاتح الدین فاتح
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
خواب کا دریا۔ناعمہ عزیز
خواب کدے میں
خوابِ وصل
خواہش
خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے
خواہشِ وصلِ دائمی نہ گئی
خواہشِ وصلِ دائمی نہ گئی۔۔۔ ایک غزل
خوب ہوا ناراض ہوا اب ہوش ٹھکانے آئیں گے
خوبصورت سماں تھا بچپن میں
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ--نوید صادق
خود اپنے لیے بیٹھ کے سوچیں گے کسی دن
خود اپنے گھر کے در و بام اجنبی سے لگے:: از :: محمد حفیظ الرحمٰن
خود سے بہت خفا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ نوید صادق
خود سے خود کو روز گھٹانا پڑتا ہے
خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں
خود كو مارا ہے كے مارا ہے كے پھر مار لیا
خود پہ تھوڑی سی مشقت کر لیں، غزل، احمد وصال
خود کش دہماکہ
خود کشی
خود کلامی
خود کلامی
خود کو ایسی بھی سزا دیتا ہوں ۔ عمر سیف
خود کو سمجھ رہا ہے جو ہر شخص محترم
خود کی تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نظم
خود ہی کانٹوں کا تمنائی رہا یہ دل مرا
خودشناسی
خوشبو بدوش (غزلیات/نظمیں)
خوشبو نے کیا پھول سے ناتہ تھوڑا ہے
خوشبو ہوگی یہاں کی مٹّی میں
خوشی کے سرخ پھول
خیال
خیال و خواب میں جو آ ر ہے ہو
خیال کی سرگوشیاں
خیالِ خاطر ِاحباب ہمسفر رکھنا
خیالِ یار کے جب گھیرتے ہیں سائے مجھے
خیر چھوڑیں، یومِ آزادی مبارک ہو جناب!
دائرہِ خواب میں رہنا پڑا - غزل
دائرے
دائرے کا سفر
داستاں گو
داغ فراق ۔۔۔۔۔ غالب سے معذرت کے ساتھ۔۔۔
داغ کی زمین میں ایک غزل
دامن ِ دل نگاہ سے تر ہے
دامن ہاتھ اور لغزش پیارے
دبیز ہوتی ہوئی اک خفا خفا سی ہنسی
در بدر میں ہوں اگر حکمِ سفر اس کا تھا
در جو کُھلتا ہے تو دیوار نظر آتی ہے
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
دراصل جِس کا عکس ہے یہ ساری کائنات
درد دل درد لا دوا تو نہیں
درد یہ عمر بھر نہ ہو جائے
درد آزاد ہیں صحرا کے سزاواروں میں - سعیدالرحمن سعید
درد اٹھ کے دل کی جانب مستقل جاتا ہے روز
درد تھا وقتی مسلسل ہو گیا - منیب الف
درد جب بے قرار کرتا ہے
درد پیہم ہے کوئی ساعتِ راحت ہی نہیں
درد کے دن بھی کسی طور گزر جائیں گے
درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے
درد، تجھ سے تو آشنائی ہے - ایک نئی غزل
درس دیتے رہے نصابوں سے ۔۔ زنیرہ "گل"
دریا
دستِ دولت تیری اوقات پہ خاک
دسمبر
دسمبر استعارہ ہے!
دسمبر جاتے جاتے یہ مِری فریاد سُن جانا۔۔۔۔۔۔از زبیر قمر عباسی
دسمبر عاشقانہ منتخب ھو
دسمبر فیصلہ کردے ۔۔۔
دشت سے صحرا سے كهيں دور ميں بيٹھا تها هوا
دشت میں جیسے کسی ابر کا سایہ وہ شخص
دشت و دریا چھان کے چپ رہ گیا ۔۔۔۔۔ از خاورچودھری
دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں ۔منصور آفاق کی تازہ غزل
دعا
دعا
دعا
دعا
دعا ۔ سید ابوبکر مالکی ۔ بھٹکل
دعائے محبّت
دعوت کا مزہ اور ہی کچھ ہے
دل بھی تاثیرِ محبت سے بدل جاتا ہے
دل تو كل بھي رويا تھا
دل تو پتھر ہوئے ، غم پھر بھی کسک دیتے ہیں
دل جلے جلتے ہیں کیسے، دل جلا کر دیکھئے
دل دھڑکتا ہے تو ہوتا ہے گماں عید کے دن.... (عید کے حوالے سے نظم نما غزل)
دل سُلگتا ھے۔
دل سے لے کر آنکھ تک
دل سے کرنے کا مول ہوتا ہے
دل سے کس کا خیال گزرا ہے - سعید الرحمن سعید
دل شب ِ وصل کیِ لذت کا شناسا ہے اسے ۔ سلمان دانش جی
دل قلندر ہے جگر عشق میں تندور میاں
دل مرا کٹ گیا ہے
دل میں اب تک ہے کہیں تیرے آنے کا گماں
دل میں جو اک گمان تھا سو اب نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہزاد سائل
دل میں شوقِ سفر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
دل میں کھل جاتا ہے میخانہ غزل : سیدہ سارا غزلؔ ہاشمی
دل میں ہے دوست کا مکان بھلا
دل نذیر آ گئے۔
دل نکلتا ہے جان سے آگے
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں۔ آصف شفیع
دل پر جو ترے عشق کا سایہ نہیں ہوتا
دل کا بوجھ اتارا جائے
دل کو خوش رکھنے کا طریقہ سیکھ لیا
دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی
دل کو لگی
دل کو ٹٹولئے ، کوئی ارمان ڈھونڈئیے
دل کھرچ لیا
دل کی بات
دل کی حالت جسے سنانی ہے !
دل کی دنیا بدلتی رہتی ہے
دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہے کون آیا ہے دیکھو تو ۔ سیدہ سارا غزل
دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی
دل کی لگی کو آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دل کی ہر ہر تمنا دھواں ہوگئی
دل کے برگد تلے
دل کے کیا حالات میاں؟
دل گیا ہے عظیم کا جب سے
دل ہی دل میں کسے بلاتے ہو۔۔۔
دل ہی دلبستگی کے درپے ہے
دل یہ کرتا ہے کہ چوکھٹ پہ سجا دوں آنکھیں " زنیرہ گُل"
دلوں میں حبس کا عالم پرانی عادتوں سے ہے ۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی
دلوں کو لگتی ہے لوگوں کے صرف اچھی بات ۔
دلِ بے خبر ترے ہاتھ سے مرے سب قرار چلے گئے ۔ از : ناعمہ عزیز
دلِ مسمار سے کیا لینا ہے ۔ غزل برائے اصلاح
دلِ مضطر تجھے کس طور سنبھالا جائے
دلِ ویراں میں اے ہمدم چراغاں کون کرتا ہے - غزل برائے اصلاح
دن اور ہی کچھ کہتے ہیں شب کہتے ہیں کچھ اور - منیبؔ احمد
دن جوانی کے گنوا کر رو دیئے
دنیا سے جدا کیسی یہ اپنی طبیعت ہے
دنیا میں مل گئے ہو تو جنت میں جائیں کیا؟
دنیا کو ملا چین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے جب طلسم سے آزاد ہو گئے - منیب احمد فاتحؔ
دنیا، دنیاداروں کا گھر، اپنا کیا
دو اشعار
دو اشعار
دو اشعار ( پابند بحور شاعری میں )
دو اشعار ۔
دو جہاں میں اس کی وقعت ہو گئی
دو دل جلے باہم جلے تو روشنی ہوئی
دو رباعیات
دو شعر
دو شعر
دو شعر
دو شعر عاطف چوہدری
دو شعر۔
دو غزلہ : رات بھر سوچتے رہے صاحب ۔۔۔ محمد احمدؔ
دو غزلہ: ستائش سن کے اِترانے سے پہلے
دو غزلہ: ’لہروں سے لڑتے لڑتے کنارا تو کٹ گیا‘ اور ’موسم کتابِ زیست کے اوراق الٹ گیا ‘
دو نظمیں
دور تک اک سراب دیکھا ہے
دور کے ڈھول ...!
دوری ہے اور تجھ سے طبیعت اداس ہے
دوست کا سارا بھرم صرفِ نظر جائے گا :: اسلام عامر سیتاپوری
دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی
دونوں سرے ہی کھوگئے ، بس یہ سرا ملا
دوہا ( خاور چودھری )
دَرِ سُخَن مُجھے وَقتِ قَبُول وَا نہ مِلا - (غزل)
دَلیل - (نظم)
دُعا بھی دیتا ہے اور بَد دُعا بھی دیتا ہے - (غزل)
دُعا نہیں تو کِسی بَد دُعا کی زَد مِیں ہے - (غزل)
دِل دھڑکتے کسی نے دیکھا ہے
دِل پر بنی رہی کبھی جاں پر بنی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دِلبرانہ آپ سے
دکھ درد کی حدوں سے نکل جاؤں گا کبھی
دکھ کوئی نہ
دھماکا
دھنک سے روپ میں ، (غزل)
دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے
دھواں دھواں ہیں نگاہوں کی بستیاں کیا کیا ۔۔ سعید الرحمن سعید
دھول کر ہی لیا
دھوپ چھاؤں کا کھیل
دھوپ ہے‘ دیوار کا سایا بھی ہے
دہشت گردوں کے نام
دہشت گردوں کے نام - تبصرہ
دیا اک نبردِکُہن چھوڑ کر
دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک
دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے
دیر لگتی ہے کہاں خاک کو پتھر ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
دیوار میں در رکھنا
دیوتا علامت ہے
دیکھ اپنی کمی
دیکھ تو لو۔
دیکھ تو لو۔
دیکھ کے تیری شوخ ادا
دیکھتا ھوں ,,,
دیکھنے میں ہے کائنات بڑی
دیکھو کوئی وعدہ نہ کرو، بھول جاؤ گے
دیکھے گا کون۔
دے تلے آسمان نے مارا
ذائقہ کڑوا لگا
ذرا ذرا سا نہیں بے حساب تم سا ہے
ذرا ذرا سا نہیں بے حساب تم سا ہے۔۔۔
ذرے سے بھی کم ہے کیا اپنا وجود
رات بھر انتظار کرتا رہا (غزل از عاطف بٹ)
رات بھی کچھ گہری گہری ہے درد بھی گہرا گہرا ہے
رات جو آنکھوں میں چبھا کرتی ہے
رات پِھر۔
رات یہ ساری میری ہے
رات۔
راحت
راز درپردۂ دستار و قبا جانتی ہے
راز کی بات کوئی کیا جانے ۔۔۔۔۔۔ عمران شناور
راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے
راہوں کا خوف ہے نہ مجھے فاصلوں کا ڈر
راہیں تھیں سنگ لاخ،شناسائی بھی نہ تھی (غزل)۔،۔،۔،،،
رب کے علاوہ کوئی خدا کی قسم! نہ تھا (قطعہ)
رباب زیست
رباب زیست کا بودا تھا ہر ساز
رباعی
رباعی
رباعی
رباعی :مقامِ اردو - فرحان محمد خان
رباعی | جو اشک بہاتے ہو وہ پی کر دیکھو - منیب احمد
رباعی از فرحان محمد خان
رباعی: اب کس سے کہیں کیا ہے اداسی کا سبب
رباعی: اس طرح کے سوءِ ظن میں کیا شاد رہوں
رباعی: اک لحظہ نہ تھا قرار کس سے کہتے
رباعی: تجھ تک خبرِ یار آنے سے رہی
رباعی: تجھ کو سببِ خونِ وفا سمجھیں گی
رباعی: توڑے گا ہزار خواب جاتے جاتے
رباعی: جب تک کہ نہ آیا تھا تہِ دامِ اجل
رباعی: دل بجھ سا گیا ہے تیرے نہ آنے سے
رباعی: دل درد کا پابند ہوا جاتا ہے
رباعی: دل رنج سے بے حال ہو گیا ہے
رباعی: رس گھول رہے ہیں نغمہ ہائے بلبل
رباعی: شکوے سے وہ ہو جائے ہمارا مشکل
رباعی: عالم یہ ہوا کہ تنہا غم میں اکثر
رباعی: غم خانہء ہست و بود میں کیوں لے آئے
رباعی: لایا ہے بہ منزل گہِ غم جادۂ شب
رباعی: چاہت کو تری دل سے مٹایا کب تھا
رباعی: چہروں پہ جمی گرد ہے تو ہے میں ہوں
رباعی: کب واقفِ اسرار ہوا میرا دل
رباعی: کیا آ گئی گلشن میں حریفِ بلبل
رباعی: گر بحرِبلائے عشق ساحل ہوتا
رباعی: ہر لمحہ غمِ نو میں گرفتار نہ تھا
رباعی: ہر چند فغاں گیر ہوں مانندِ جرس
رباعی: ہر گامِ رہِ نگار منزل ہوتا
رباعیات
رباعیات : کشمیر - فرحان محمد خان
رباعیات از فرحان محمد خان
رتجگے کرتی ہوئی
رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
رخسار و لب کا رنگ کہ زلفوں کے خم ہوئے
رخصتی
ردی
رسم و رواج ِ شہرِ بتاں جانتا ہوں میں ۔ سعید الرحمن سعید
رسم کارو کاری پر سندھ کی ہوا چپ ہے
رسمِ اُلفت
رسمِ دار و رسن بدل ڈالو : چند سال پرانی غزل
رشک کی شاعری
رشک کی شاعری، اردو غزل، نسلِ نو کی شاعری، کلاسیکی شاعری
رقص کرتا ہے جو آنکھوں میں شرارے کی طرح ۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی
رمزِ اَخلاق
رنگ بھردو میرے فسانے میں از روحانی بابا
رنگ شفق سے لے کرجیسے رُخ پہ مَلی ہے شام
روح کی حقیقت ہے لا الہ الا اللہ
روزنِ دیوار میں
روزِ حساب
روشن سی لگ رہی ہے مری کائنات اب ۔
روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے
روشنی پھیلتی گئی مجھ میں
رونقیں کیا نہیں لگائی گئیں
روٹھ کر مجھ سے جا رہی ہے عید
روٹی کپڑا اور مکان
رُسوائی کا اب کےامکان بہت ہے
رکھ رہا ہوں میں زمینوں میں شجر کی امید
رہبری کے زخموں کا چارہ گر نہیں ملتا
رہنے دے میرے حال پر اے چارہ گر مجھے!
رہو گھر میں شفا مانگو خدا سے
رہِ شوق ہے جب، تو دشوار ہو گی ۔
ریت گھڑی
ریت۔۔۔۔۔
رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت پر
زباں تک کون جائے گا
زبیر قیصر کا شعری مجموعہ "ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے" ۔۔ اور شاہدشاہنواز کے اشعار، کچھ مماثلتیں
زخم اس کو دکھانے جارہے ہو
زخم تازہ ہوا ہے مرہم کا
زخم کھاتا ہوا میں زخم لگاتا ہوا تُو
زخم ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں بیمار ترے
زرد رُت
زرداری کے دورے
زمانہ ہوں میں
زمیں آسماں
زنجیر کس کی ہےکہ قدم شاد ہوگئے
زندگانی ہے منجدھار کے درمیاں۔
زندگی اک نامکمل نظم کی مانند سہی مگر -------- از : ہانی
زندگی بہتر بنانے کے لیے
زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن
زندگی جیسی تُو چاہے اسے ویسا کر لوں
زندگی جیسے گزرتی ہے گزر جانے دے
زندگی دشتِ انا ہے یہاں کس کا سایا
زندگی رقصِ شرر ہو جیسے
زندگی میں کمی سی لگتی ہے ۔ غزل سید ابوبکر مالکی
زندگی نے تو گزرنا ہےگزر جائے گی
زندگی کس کی نگاہِ بے پنہ کا تیر ہے : سیدہ سارا غزل ہاشمی
زندگی کو وہ سانحہ سمجھے
زندگی کی آرزو میں زہر پیتے ہیں میاں (اسد اقبال)
زندگی کی اساس کچھ بھی نہیں
زندگی کے رنگوں سے بام و در سجانے میں
زندگی ہے کوئی سزا تو نہیں (غزل)
زندہ حقیقتوں سے چھپایا گیا ہمیں
زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے
زندہ ہوتے تو !!!
زوال زیست کو میں لازوال کرتا پھر
زَر کی بَجائے پِیار کی اِیسی بولی رَکھّی جَائے - (غزل)
زُلفِ پریشاں ایک ساتھ
زِیست بار جیسی تھی
زیرِ بامِ گنبدِ خضرا اذاں؟
زیست ادھوری ہے مگر موت تو کامل ہوگی
زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے
زیست پہ یہ کرم نہ کر
سائبانوں کو جو امر کر دے
سائے کی طلب کیا۔
ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ
ساتھ یہ زمیں جائے... ساتھ آسماں جائے.... ایک غزل....
ساحل فخر ۔ اردو محفل میں ۔
سادگی ہوئی رخصت ، زندگی کہاں جائے
سارا سفر ہے کرب ِ مسلسل کی قید میں
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
ساقی کے ہاتھوں پینے کے دوران بک گئے
سال کی کوکھ میں پلتے ہوئے دن - ( سال 2010 کی پہلی نظم)
سانحہ احمد پور شرقیہ کے نام
سانحہ سیالکوٹ
سانحہ لال مسجد
سانحہِ پشاور
سانحۂ پشاور - ۱۶ دسمبر ۲۰۱۴ (قطعہ)
سانحۂ پشاور۔۔۔۔۔۔۔۔مرا شہرِگل خزاؤں کی زد میں !!
سانس لینا چاہتا ہوں۔ ایک نئی کاوش
سانپوں کا شہنشہ ۔۔۔ ایک سیاسی نظم
ساون کے نام - منیب احمد فاتحؔ
ساگر حیدر عباسی
سایوں کی بھتات
سایۂ نخلِ ثمر بار نہیں آیا پھر
سب کاروبار ِ نقد و نظر چھوڑنا پڑا
سب بِکتے ہیں۔۔۔!
سب جانتے ہوئے بھی انجان بن کے رہنا - غزل
سب سوالوں کا اک جواب ہے عشق
سب کچھ اچھا چل رہا ہے جان من !
سب کے سر میں جنوں سمایا تھا
ستاتي هے جھلك همكو خبر ان كي نهيں آتي۔ از اسامه جمشيدؔ
ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے (عمران شناور)
ستارے ہی ستارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل
ستم تھے زندگی کے ھر سفر میں
ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا
سجا کہ برقع لگا کہ خوشبو وہ آج محفل میں آ گئے ہیں
سحرشعیل
سخن رہے گا ، سخنور بھی کم نہیں ہونگے
سخنورانِ محفل کے شعری فن پارے۔۔۔!
سدومِ دل
سر ِ خار ِ جہاں دیوانگی کا رقص کرتا ہوں - سعید الرحمن سعید
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟
سر پہ رکھے گا مرے دستِ اماں کتنی دیر
سربستہ راز
سرحدِ شہر ِقناعت سے نکالے ہوئے لوگ
سرخ پھولوں کا فسوں
سرخ پھولوں کا فسوں
سردی کے نام ایک شعر
سرسری قطعہ
سرِ جادہ وہی منزل کا نشاں ہے کہ جو تھا
سرکار کے افسر ہیں
سرگِرانی۔
سفیرِخوشبو۔۔۔۔۔۔۔ایک نظم نذر پروین شاکر
سلام
سلام یا حسین :: گوشۂ چشم جس نے نَم رکھّا :: از : م۔م۔مغل ؔ
سلطان محمد فاتح کی وصیت
سلطان کبھی اور کبھی دربان پڑھیں گے
سمندر خان
سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے
سمندر کے اُس پار ۔ سلمان دانش جی
سموگ زدہ لاہور کی ایک بارش کے بعد
سن ری چنچل مادھوی
سنبھالا جائے
سنبھالا گیا
سنو اے چارہ گر میرے۔۔۔۔۔
سنگ آئے کہ کوئی پھول ، اٹھا کر رکھئے
سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے
سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا
سنہرا لہجہ
سو سو طرح سے کاش میں ذکرِ خدا کروں ۔
سو فیصد
سوائے تیرے بھلا کیا ہے اور میرے پاس
سورج رستہ بھول گیا تھا
سورج کہاں اٹھانے لگا روشنی کا دکھ ----------------- تازہ غزل
سورج کی طرح کوئی سلگنا بھی تو چاہے
سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
سوشل ڈسٹینسنگ (شکیل احمد خان)
سوچ کس کی ہے دھیان کس کا ہے
سوچ کو سیڑھیاں نہیں ملتیں - منیب احمد
سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر
سوچا نہ تھا جو ہو گیا، سوچا تھا جو ہوا نہیں
سوچا ہے یہ ہم نے تمہیں سوچا نہ کریں گے
سوچتے سوچتے خیال آیا
سوچتے کیا ہو؟
سوچتے ہیں ،،،
سَانس کی آگ مِیں ہر دَم جلنا، یہ جیون ہے - (غزل)
سَر گُذشت۔۔!
سپاہی ہو تو کیسا ہو
سپنے دیکھو، پَر اپنے دیکھو
سچ ہے نُقصان ہی اُٹھائیں گے
سچ ہے کہ میرے واسطے اندھا جہان ہے ۔
سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے ۔۔۔
سکتا تھا۔
سہیلی کے نام
سی ویو (sea view ) -----ایک نظم
سیاست
سیاست میں آئیے ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمدؔ
سیاہ آنکھیں
سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ
سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا - عُمر سیف
سیلاب ، بھوک، پیاس
سیلاب کی صورت حال پر ایک نظم- آصف شفیع
سیلَ حوادث ۔ ایک قطعہ
سیکنڈ ائیر میں کہی ایک غزل آپ کے لئے
سیہ نظم: کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟!
شائِد یہ رنگِ خونِ جگر کی نمود ہے
شاد نہیں کرنا
شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
شاعر ۔۔۔۔۔۔(ایک نظم از ندیم حفی)
شاعرِ محفل 2009ء
شاعرِ محفل 2009ء تبصرہ جات
شاعری
شاعری
شاعری کرنا ہمارا شوق ہے
شاعری کی اِک طِفلانہ کاوش !!
شام
شام زمستاں
شام کی گفتگو ،ہو تم شائد
شام کے غم رات کی شہنائیوں میں بہہ گئے
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
شان محمد است
شاہ اللہ دتہ
شاہؔ صاحب ہنوز گھر میں ہیں ------------غزل
شاید میں کچھ کر سکتا تھا - منیب الف
شب بھر کا خواب ہے زندگی
شب معراج کے حوالے سے چیند اشعار- آصف شفیع
شب ِ قدر
شب گذیدہ سحر!
شبنم افشانی ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمد
شبِ عاشور سکینہ اپنے والد سے
شبِ مہ
شبِ ہجراں میں ستارہ سر_مژگاں دیکھا
شجر ِ ممنوعہ
شرارت
شراروں كو هوا ديكر شرارت كر گيا كوئي
شرط۔
شرمندہ تعبیرمیرا۔۔۔۔
شعاعِ نورِ حرم ہے نئے چراغوں میں
شعر
شعر
شعر
شعر
شعر
شعر میرا نکھر گیا ہوگا
شعر و سخن سے باز نہیں آنے والا
شعر کہنے سے باز آؤں کیوں ۔
شعر کہنے نہیں آتے ہیں مگر پھر بھی حسیب
شعر۔۔۔!
شعر۔۔۔!
شعلے ہی بتیوں میں مقدّر تھے موم کے - منیب الفؔ
شمشاد نہیں کرنا
شمع امید جلائے رکھنا۔۔
شوق انتظار
شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا
شُہرہ آفاق بددُعا ہے مجھے
شِکوہ لب پہ کے
شک
شکاری اب نیا اسلوب صید ایجاد کرتے ہیں
شکایت
شکایت ہے نہ ہی کوئی گلہ تم سے
شکرقندی کا المیہ - مرتضیٰ برلاس سے معذرت کے ساتھ
شکریہ ریسکیور!
شکستگی ۔۔۔۔ آصف شفیع
شکل دیکھی نہ شادمانی کی۔۔ آصف شفیع
شکل رکھتے ہیں دلبروں والی
شکوے مرے بھی سن کبھی اپنے گلے بھی دیکھ ۔ فاتح
شگفتہ کی فرمائش پر
شہر آشوبِ پشاور
شہید ملت
شیر کی دعوت
شیفتہ خانماں خراب نہیں
صاد
صاد ۔ دیباچہ
صاد۔ طویل نظم کی باقی ماندہ قسطیں
صاد۔۲ گذشتہ سے پیوستہ
صبر کا نام زندگی ہے کیا
صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام
صحرائے تھر سے تازہ ترین خبر پر ایک پُرانی نظم
صحنِ دل میں تماشا کیسا ہے ( ایم اے راجا)
صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں
صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
صورت وہ نظر میں یار کی ہے۔۔ سلمان دانش جی
صورِ سرافیل سے پہلے۔ احمد اقبال ترمذی
ضبط غم ہاتھ سے چلا جائے
ضبط کو تو ہے بہت دٰعوائے دِل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
ضبط کہتا ہوں کسی آنکھ کی ویرانی کو
ضبط کی ہم نے سیکھ لی ہے ادا
ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں
ضربِ تیشہ سے اک اعجاز کی صورت جاگے
ضربِ وقت
ضروری علان سب کے لیے
طالبِ دیدار کی ہمت ہی ہے
طبیعت کوئی ٹونا کر گئی ہے
طرحی غزل
طرحی غزل
طرحی غزل
طرحی غزل
طرحی غزل بر مصرع راحت اندوری مرحوم
طرحی غزل بر مصرع راحت اندوری مرحوم
طرحی کلام برائے آن لائن مشاعرہ
طرز ِ کلام، تلخیء گفتار ہے عجب
طلسمی بلور
طلوع سحر
طوفان میں جزیرہ ملا ہے ، زمیں ملی
طوفانِ تمنا سے پرے دور کہیں ہیں
ظالم پانی (سیلاب کے حوالے سے نظم)
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ظاہرا صاف ہے، اندر سے مگر صاف نہیں
ظریفانہ غزل از حیوانِ ظریف : اُڑاتے روز تھے انڈے پراٹھے
ظلمت کدے کے سارے خداؤں کے فیصلے
ظہیر احمد کا غیر شائع شدہ کلا م ۔۔۔۔۔ خاکدان کے بعد کی کاوشات
ظہیراحمد ظہیرکی شاعری
عادتاً وحشتوں میں جیتا ہوں ۔ فاتح الدین بشیر
عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا
عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟-----------غزل
عبدالرحمٰن جامی کی رباعی کا منظوم اردو ترجمہ
عبداللہ احمد کی غزلیں
عبیر و عنبر و مشکِ ختن کی بات کرو
عجب اک دائرہ ہے زندگی
عجب سی کیفیت دل کی ۔ عمر سیف
عجب نہیں کہ ہمارا یہ حال ہونے لگے
عجیب تر ہے مرا تماشا میں آپ اپنا تماش بیں ہوں
عجیب قاعدے ہجرت تری کتاب میں ہیں
عدم سمونے میں لگ گیا ہے - منیب الف
عذاب جبر کے ٹوٹے ہیں جان پر اکثر:از: منیر انور
عذابِ ہجرتِ پیہم سنبھلنے دے
عربی شاعری ۔ابو العتاھیة ۔ ترجمہ۔نظم۔الشباب۔
عربی شاعری ۔ترجمہ : قصیدہ علی بن ابی طالب رض ۔
عرصہء زیست جاودانی ہے۔ آصف شفیع
عرصۂ خواب کے پردے میں چھپا لگتا ہے۔۔۔۔ محمد بلال اعظم
عرض کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیزم
عشق
عشق زادوں کو محبت کی نشانی دے گیا
عشق تمہارے میں (اردو ماہیے/خاورچودھری)
عشق جس دن سے بے اصول ہوا
عشق حائل ہو گا یہ وجدان کب تھا (اسد اقبال)
عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟
عشق محبت افسانے ہیں
عشق میں لُٹتے ہیں دو گھر زیرِ پا بالائے سر
عشق میں پہلے ڈرتے تھے بربادی سے ۔۔ آصف شفیع
عشق نے کیا کیا کام لیے ہیں۔ آصف شفیع
عشق کرتا ہوں جان سے جاؤں ( غزل )
عشق! پھر سے مجھے نیا کر دے
عشقِ بہاراں
عظمتِ بندۂ خاکی کا میں منکر تو نہیں
علی الاعلان ہو گا۔
علیؓ کے جانشیں خالدؓ کے پیروکار ہیں ہم سب
عمار ضیاء خاں کی شاعری
عمر ساری تری چاہت میں بتانی پڑ جائے
عمر کو نقدِ جان سمجھا تھا
عمل پرست سیاستدانوں کا قتل
عوام سے خطاب (پاکستانی اداروں کا)
عَبَث یہ پَانی تَڑپتا نَہیں ہے دَھارے پَر - (غزل)
عکس سے گفتگو - عمر سیف
عہد وفا کی آشا تجھ سے دوام تھی
عہدو پیمان کی کریں تجدید
عید الاضحی کے روز ۔۔۔میری ایک اور تازہ غزل -ماہ نے تجھ کو لب ِ بام سنبھلتے دیکھا
عید الاضحیٰ مبارک ۔۔۔۔
عید الفطر مبارک
عید مبارک
عید مبارک
عید مبارک .!
عید مبارک….
عید کا چاند
عید-1443ھ- کے دن میری ایک غزل۔ عشق نے پوچھا امتحان میں کیا!
عین دا گُھنڈ۔
عین ممکن ہے وہ ادھر دیکھے ۔
غالب کی زمین : تازہ غزل
غالب کی زمین اور ہماری قافیہ پیمائی
غالب کی زمین میں ایک حقیر سی کاوش۔۔۔
غذا ہائے تَبَر دِکھتا نَہیں ہے - (غزل)
غذاؤں میں (قطعہ)
غریب در در بھٹک رہے ہیں وطن کے جواد سو رہے ہیں
غزالی غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل
غزل (شکیل احمد خان)
غزل : دیکھنے والو مری سمت کبھی تو دیکھو
غزل صبح کے دھوکے میں پھر شام اٹھا کر لے آئے از ۔ محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : ہے کون دھنک کے رنگوں میں لپٹا ہوا محوِ خرام میاں
غزل ۔ لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
غزل - آدمی پتھر کے ہیں
غزل : چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا
غزل : سب ماہ جبیں حسنِ سراپا نہیں ہوتے از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : فلک پر چاندنی ہے اور ستارے رقص کرتے ہیں
غزل : وقت پھر چال چل رہا ہوگا : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : چمن میں نعرہء یاہو ہے کیسا از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : جنگل میں بس ایک ہی رستہ جس پر بیٹھا کالا ناگ : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ
غزل ۔ مرے رات دن کبھی یوں بھی تھے، کئی خواب میرے دروں بھی تھے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ آسی انصاری منڈیروی
غزل ۔ الگ تھلگ رہے کبھی، کبھی سبھی کے ہو گئے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔ موسموں کا مزاج اچھا ہے ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل !!
غزل ( دکھ )
غزل - پھر کسی چاند کی آہٹ
غزل - آئینہ دیکھ لو - منیبؔ احمد
غزل - احباب کی بصارتوں کی نذر
غزل - احباب کی بصارتوں کی نذر
غزل - اللہ رے! اشارہء ابرو کا اعتبار
غزل - بند رکھنے لگا ہوں فون بہت - منیبؔ احمد
غزل - بہت سی سازشوں کے درمیاں ہوں -
غزل - تمھاری فتح کا اعلان کرنا چاھتا ہے
غزل - تیغ اب اٹھائیں گے یا قلم اٹھائیں گے
غزل - جب سمندر میں ہوا تیز ہوئی
غزل - جسے دار و رسن کا خوف ہو، وہ بندگی کیوں ہو
غزل - جہان بنتا عدن تو کیسے؟ - منیب احمد
غزل - حبس کا عالم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے ۔ از : نویدظفرکیانی
غزل - خواب ہے یا خیال ہے دنیا
غزل - در دیکھنا کبھی، کبھی دیوار دیکھنا
غزل - دریائے غم کا راہ سے ہٹنا محال ہے
غزل - دل کی دھرتی پہ یوں اُترتا ہے
غزل - دولت پہ ہر ایک نے نظر کی -- شاہین فصیح ربانی
غزل - دہوپ سے بچنے کی خاطر سائباں رکھا گیا از: نویدظفرکیانی
غزل - رُخسار ترا مشعلِ سوزاں نظر آئے - منیب احمد فاتحؔ
غزل - سوچ لے
غزل - عہدِآلات ختم ہوجائے--- ایس فصیح ربانی
غزل - منیب احمد فاتح
غزل - نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے ۔ محمد احمدؔ
غزل - نہ پوچھو حالِ دِل دِل سے، کہ دل سچ سچ بتا دے گا
غزل - پریت احمد
غزل - پھول ہیں یا کہ خار ہیں ہم لوگ
غزل - کراہتے کیوں ہو؟ - منیبؔ احمد
غزل - کچھ غم کی نہیں بات، یہ صدمات کا ہونا
غزل - ہو گئی ہیں لہو لہو آنکھیں
غزل - ہوائیں چلنے لگی ہیں سمندروں کی طرف
غزل - یک رنگیِ حیات نے تڑپا دیا مجھے
غزل -- دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے
غزل -----
غزل ----- ہے محبت کیا
غزل ---تیرا کردار یوں میری کہانی کو امرکر دے
غزل -یہاں لوگ ہیں سیدھے سادے کئی
غزل : لے آئی ہم کو گردشِ دوراں کباڑ میں : از محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : شبِ تاریک ، اک دیا اور میں
غزل : میرا ہر زخم میری سوچ سے گہرا نکلا : از : سید ابوبکر مالکی
غزل : چراغ جان کے یونہی جلا لیا گیا تھا
غزل : اُن تک میری آہوں کا اثر کیوں نہیں جاتا از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : اپنے گھر کو میں اگر بھول گیا از: نویدظفرکیانی
غزل : ملے سفر میں ہمیں لوگ جا بجا تنہا از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : میرے ڈر میں سانپ ہیں : از : نویدظفرکیانی ؔ
غزل : نہ ساقی ہے نہ پیمانہ ہے باقی از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : آنکھ کس کے واسطے دریا کریں - فرحان محمد خان
غزل : اب میسر اک سہولت ہو گئی ہے
غزل : ان کے پہلو میں بھی کچھ کمی رہ گئی- فرحان محمد خان
غزل : اندھیروں میں کھڑا ہوں سوچتا ہوں از: نویدظفرکیانی
غزل : اِس قدر اضطراب دیوانے؟
غزل : بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے
غزل : تا عمر مرے دیدۂ نمناک میں رہنا - فرحان محمد خان
غزل : تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی
غزل : تیرگی سرِ مژگاں جگنوؤں کی آسانی : از : م۔م۔مغل
غزل : جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے ۔ محمد احمدؔ
غزل : جذبۂ عشق! نہاں ہو کہ عیاں، تف بر تو : از : فاتح الدین بشیر
غزل : جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا سب بھلا ہوا
غزل : حاصلِ کُن ہوں بقا کے سلسلے میں قید ہوں ۔ فاتح الدین بشیرؔ
غزل : خط میں ممکن نہیں جواب لکھوں
غزل : خوابوں کی کرچیاں ہیں واللہ زمینِ دل پر ۔ فرحان محمد خان
غزل : دشت میں کیا بھلا پُھول چنتا کوئی
غزل : ذکر تیرا جہاں، وہاں ٹھہرے
غزل : راتوں میں کھڑکیوں کو بجاتا تھا کون شخص : از : منصور آفاق
غزل : رحم ہم پر شتاب کر دیجے
غزل : رنج دل سے نکل گئے سارے
غزل : رنگِ شب ہجراں بھی بہ اندازِ دگر ہے از :- نویدظفرکیانی
غزل : سب کے حصے میں غزل گوئی کہاں آتی ہے - فرحان محمد خان
غزل : ستارۂ سحری نظرِ شام ہوگیا ہے : از: م۔م۔مغل
غزل : ستم گو ان گنت ڈھائے گی دنیا
غزل : شامِ غم یوں صدا نہیں ہوتی : ندیم حفی ؔ
غزل : شعر کہنا اگر سزا ہوجائے : (نذرِ جون ایلیا) : م۔م۔مغل ؔ
غزل : عشق جب بن کے خدا دل کے قریں رہتا ہے
غزل : عشق میں تخت و تاج کیا کرتے
غزل : فقط ہم کو یہ درد و غم نہیں ہیں
غزل : لبِ دریا کوئی ملا ہی نہیں از: نویدظفرکیانی
غزل : مانگ بھی لیتے اگر ہم تو دعا کیا دیتی - فرحان محمد خان
غزل : مت ناچ سر پہ دیکھ کے تاج اختیار کا - فرحان محمد خان
غزل : محبت اب بھی میرا حوصلہ ہے از: نویدظفرکیانی
غزل : محبتوں کا تری اعتراف میں نے کیا
غزل : پانی ہمیشہ بہتا ہے ڈھلوان کی طرف : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : پندار کے اس صنم کدے میں : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل : پھر اندھیرے نور کا دہوکہ پہن کر آئیں گے - از نویدظفرکیانی
غزل : چندا بولا پچھلی رات : از : صبیح الدین شعیبیؔ
غزل : چھن گئے خود سے، تمھارے ہو گئے : از : راحیل فاروق ؔ
غزل : گراں عہدِ وفا کی پاسداری کون کرتا ہے از نویدظفرکیانی
غزل : گو کہ درویش ذرا خاک بسر ہے سائیں - فرحان محمد خان
غزل : ہم لوگ کبھی نوکِ سناں تک نہیں آتے - فرحان محمد خان
غزل : یونہی بے ساختہ دیکھو کہ شعوری صاحب
غزل : یوں نہ دل کو جلائیے صاحب
غزل : یہ صبح تاریکیوں کو گردوں سے عاق کرتی کہ رو دیا میں : از : دانش نذیر دانی
غزل : یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے !
غزل : یہ ناممکن نہیں ہے یار ایسا ہو رہا ہے
غزل :: دنیا کے لوگ خوشیاں منانے میں رہ گئے :: سید ابوبکر مالکی ؔ
غزل :: دہر میں کس کی آبرو ہے اب :: سید ابوبکر مالکی ؔ۔ بھٹکل
غزل :: سرنامۂ وحشت ہوں مہجورِ رفاقت نئیں :: از : م۔م۔مغل ؔ
غزل :: ہو جاتا تھا اکثر جھگڑا ہم دونوں کے بِیچ : از : رشید حسرت
غزل ::دل دیکھ رہے ہیں کبھی جاں دیکھ رہے ہیں ::
غزل ::کبھی کبھی وہ حال ہمارا یاد تمھاری کرتی ہے ::
غزل _ زلفِ لیلیٰ کا خَم نکلتا ہے
غزل ،،،،،، نجم الحسن کا ظمی
غزل برائے اصلاح
غزل برائے اصلاح
غزل بھی میری طرح ناتمام ہے شاید
غزل سرا ہے جو لڑکی ہماری مَنٌ سی ہے
غزل سید ابوبکر مالکی
غزل میرا قائد تھا شاہکار بندہ
غزل نما : صورتِ حالات گر یوں ہو تو کیا مالی کریں : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل ِ آخر ، سلام ِ آخر، بروئے محفل
غزل ِ درویش
غزل ٹھوکر لگی تو کوئی سہارا نہیں ملا
غزل کے بعد غزل ہاشمی لکھی تم نے!
غزل کے کچھ شعر: نہیں کر حدود کے تذکرے (حجاز مہدی)
غزل یکم جنوری 2019 کو لکھی
غزل ۔ زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
غزل ۔ پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اب کس سے کہیں کہ کیا ہوا تھا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اسے ڈھونڈے بنا اک پل گزارا ہی نہیں تھا
غزل ۔ اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اور کیا زندگی رہ گئی ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اک عجب ہی سلسلہ تھا،میں نہ تھا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ اگر فرمائے جانا ہے یونہی مجھ پر کرم اکثر : از نویدظفرکیانی
غزل ۔ بجھے اگر بدن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ تشنگی بھی سراب ہے شاید ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ جا کے پچھتائیں گے، نہ جا کے بھی پچھتائیے گا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ جائے گا دل کہاں، ہوگا یہیں کہیں ۔ محمد احمد
غزل ۔ جز رشتۂ خلوص، یہ رشتہ کچھ اور تھا ۔ محمد احمد
غزل ۔ دور جاتے ہوئے قدموں کی نوا میں گُم ہوں از نویدظفرکیانی
غزل ۔ رابطہ جب مہ و اختر سے ہوا
غزل ۔ راہ میں مرے آگے جب وہ خوبرو آئے۔ از کاشف اختر
غزل ۔ روح کے اندر تھے سناٹے بہت : از نویدظفرکیانی
غزل ۔ زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے ۔ محمد احمد
غزل ۔ زعمِ عہدِ سلف میں رکھا ہوا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ زندگانی کا بنا لیجے چلن حُسنِ سُلُوک ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ شہر سے دور کیوں بیٹھے ہو اٹھو اور چلو : از نویدظفرکیانی
غزل ۔ صلیبیں یوں تو رستوں میں گڑی ہیں: از نوید ظفرکیانی
غزل ۔ عرصہء خواب میں رہا جائے
غزل ۔ عکس عالم کے ہمارےآئینوں میں قید تھے از: نویدظفرکیانی
غزل ۔ مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت ۔ از ۔ محمد احمد
غزل ۔ ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ پھول ، خوشبو ، صبا نہیں کہنا
غزل ۔ پھیکی ہے زیست اتنی ادائیں پہن کے بھی از: نویدظفرکیانی
غزل ۔ چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ کون اس داستان سے نکلے
غزل ۔ کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا ۔ محمد احمد
غزل ۔ ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔ یوں پسپاکب ہوئے تھے معرکہٴ ذات سے پہلے از: نویدظفرکیانی
غزل ۔ یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے ۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔ کون آسیب آ بسا دل میں ۔۔۔۔نوید صادق
غزل ۔۔۔ اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔ اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔ نظر سے گزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔ وہ تشنگی کا دشت جب سراب رکھ کے سو گیا ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔ ہر نفس مضطرب گزرتی ہے ۔۔۔نوید صادق
غزل ۔۔۔آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند ۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل ۔۔۔خفا ہیں؟مگر! بات تو کیجیے۔۔۔ محمد احمد
غزل ۔۔۔۔ آپ کی آراء کی منتظر
غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کے لیے
غزل- آصف شفیع
غزل- از منذر
غزل- وصل کافی نہیں ہے ندیم ، اب
غزل---جسم صحرا کی طرح تپتا ہے
غزل---دل ہےتو دھر مرے کلام پہ کان
غزل---شاید مرا مونس، مرا غمخوار نہیں تھا
غزل---لوحِ احساس کی صورت سرِ قرطاس بھی آئے
غزل-کیوں کر کروں شکایتِ آزارِ نقشِ پا
غزل. بہت مشکل حقیقت کا بیاں ہے!
غزل... جب ہونٹوں پہ پیار ترانے آجاتے ہیں...نجم الحسن کاظمی
غزل/ گھومتا پھرتا ہے میرے ذہن میں وہ نام کیوں
غزل: کس موج مین اُس خواب نگر جاتا ہوں اکثر از نویدظفرکیانی
غزل: اچھا نہیں لگتا ہے سیہ دور سحر ہو
غزل: تراخیال سراسر بنا رہا ہے مجھے -- از: م۔م۔مغل
غزل: جادۂ راہ ہے منزل تو نہیں
غزل: جلیں گے کتنے چراغ تم سے ، چراغ اک تم جلا کے دیکھو
غزل: جینے کو اے خدا رہا کیا ہے۔۔۔
غزل: دلوں میں فاصلے ہوں تو
غزل: دو قدم ساتھ چل کے لوٹ گئے : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غزل: کب کہاں کوئی ارماں زندگی میں نکلا ہے
غزل: کسی کو کیسے بتائیں ہم اتنے کاہل ہیں
غزل: ہم شکوہءدامان وگریباں نہ کریں گے : از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل: آ، نئے سال کو یوں عمر میں لایا جائے
غزل: آئینہ مجھ کو پس و پیش میں تکتا کیوں ہے
غزل: آج یہ کون مرے شہر کا رستہ بھولا
غزل: آخری بار تجھ سے مل رہا ہوں!
غزل: آدم کے ساتھ اتری تھی حوّا بھی کل یہاں
غزل: آدھی رات کی تنہائی کا ۔۔۔
غزل: آرزوؤں کا شجر اک ہم کو بونا چاہیے ٭ تابش
غزل: آنکھیں تھیں سرخ ، زَرْد مرے رخ کا رنگ تھا
غزل: اب تو یارا ہماری باری ہو!
غزل: اب جو ممکن ہی نہیں وصل کا امکاں جاناں
غزل: اتنا با اختیار ہو گیا ہوں (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: افق کی کوکھ سے سورج کا نور نکلے گا
غزل: الٰہی کیوں نہیں جاتا یہ میرے جی کا غم؟
غزل: امیدیں ختم ہونے تک، تمنا ختم ہونے تک
غزل: اور اس کے بعد ہمیشہ مجھے عدو سمجھے
غزل: اور اک بار ہو گئے زندہ (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: اولِ عشق جو وقت گزرا حسیں ۔۔۔
غزل: اُس پریشاں زلف سے جب سامنا ہوجائے گا (منہاجؔ علی)
غزل: اُس کی منزل تاریکی ہے،میری منزل رات۔ایک ہی بات - منصور آفاق
غزل: اُن کے جلوے سحاب ہیں جیسے
غزل: اِسی میں الجھا رہا، عادتیں بدلتا رہا
غزل: اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
غزل: آگئے ہیں تنگ اب، اے آسماں، آلام سے ۔۔۔
غزل: اٹھے خدا کا نام لیا اور نکل پڑے (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: اپنے دل پر لگا لیے چرکے
غزل: اپنے رب کا نشان چاہتا ہوں (مہدی نقوی حجاز)
غزل: اپنے پیارے ساتھ چلیں تو
غزل: اچھی ہے ان سے سلام اور دعا (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: اک جرم عزیمت کی سزا کاٹ رہے ہیں
غزل: اگر تو طے ہے یہی حشر پھر بپا ہوگا۔۔۔
غزل: اگرچہ آرزو لمبی بہت ہے
غزل: ایسا نہیں کسی نے تقاضا نہیں کیا (غزل)
غزل: ایک دن، اک عدد لڑائی کی
غزل: ایک معمولی سا انسان ہمارے جیسا (حجازؔ مہدی)
غزل: اے سالکِ راہِ دل ذرا سن
غزل: اے یادِ رفتگاں! مجھے جینے کا چھوڑیو
غزل: بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے ٭ محمد تابش صدیقی
غزل: بننی تھی بات کیا بتِ صاحب جمال سے
غزل: بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل ٭ تابش
غزل: بھولنے والے خدا کا فضل ، ہائے یاد کر
غزل: بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں ٭ تابش
غزل: بے سبب اپنی آنکھوں کو ۔۔۔۔
غزل: بے وفا آپ کو کہا صاحب
غزل: تاخیر تم نے کی ہے جو خط کے جواب میں
غزل: تغافل سرخئِ خوں کے لئے وجہِ جفا کیوں ہو
غزل: تم بھی عینِ خمار ہو گئی ہو
غزل: تم محبت سے کبھی مجھ کو منانے آتے۔۔۔ ورنہ دو چار نئے زخم لگانے آتے
غزل: تمنا ہے کہ اپنی زندگی بھی خوبصورت ہو ۔۔۔۔
غزل: تمہارا ہو تو گیا تھا، میں تم پہ مر نہ سکا
غزل: تو بھی ایک انساں ہے آج کے زمانے کا
غزل: تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد
غزل: تکتا ہوں جو یہ غور سے ہر اک کھنڈر کو میں
غزل: تھک گیا تھا سفر میں لمحوں كے
غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا ٭ تابش
غزل: جاہل سے قیادت کی امید نہیں کرتے
غزل: جب سے آہِ دلِ مغموم اثر مانگے ہے
غزل: جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
غزل: جب کبھی ہم بھی محترم ہونگے (ترمیم شدا)
غزل: جبکہ میخانے کا میخانہ نظر سے نکلے
غزل: جذبۂِ دل میں یہ کمال توہے
غزل: جس دن گلیوں میں سنّاٹا لگتا ہے
غزل: جس کی آنکھوں میں غمِ ہجر کا تارا ہوگا
غزل: جس کی خاطر خود میں اپنے آپ سے کٹتا رہا
غزل: جفاؤں کی بپھری ہوا میں چراغِ وفا رکھ رہا ہوں، جسارت تو دیکھو ٭ تابش
غزل: جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں
غزل: جو دل کو خواہشِ تسخیرِ جادۂ غم ہے
غزل: جو پھول میں کوئی جلوہ دکھائی دینے لگا (حجازؔ مہدی)
غزل: جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطب ٭ تابش
غزل: جہان غرق ہراسِ فضا ئے تار میں ہے
غزل: جیسے جیسے ہوا ہے اندھیرا (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: حالِ دل ان کو سنایا دیر تک
غزل: حصارِ ذات سے گر ہَم نکل نہیں سکتے
غزل: خالق سے رشتہ توڑ چلے ٭ محمد تابش صدیقی
غزل: خشک ماحول اور بھیگی بارشیں
غزل: خموش، سوختہ، آزردہ، غم گزیدہ ہے ۔۔۔
غزل: خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو
غزل: خوش نہیں ہو زندگی سے، جی رہا ہوں عادتاً (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: داستاں کا کاش یوں انجام ہو ۔۔۔
غزل: درد دِل میں جو بیتی رات سے ہے
غزل: درِ مخلوق پہ سر اپنا جھکاتا کیا ہے ٭ تابش
غزل: دعائے وصل بہ دشتِ وفا کہے کوئی
غزل: دل لگانے کی کیا ضرورت ہے
غزل: دل کی بستی میں لوگ تھوڑے تھے
غزل: دل کے پردے گرا دیئے ہیں
غزل: دل ہائے گرفتہ کو خوشا کون کہے گا
غزل: دلِ مضطر میں وہی سوزِ نہاں ہے کہ جو تھا
غزل: دِل کی باتیں مت مانو دِل جھوٹا بھی ہو سکتا ہے
غزل: رات دل نشیں رہی
غزل: رات كے ڈھلنے پہ کچھ ایسے اجالا آئیگا
غزل: راز کہتی ہے رات کان میں کیا؟
غزل: رب سے ملتی ہیں اُن کی یہ عادات
غزل: رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے ٭ تابش
غزل: زخم ہر دِل میں پائے جاتے ہیں
غزل: زعم رہتا تھا پارسائی کا ٭ محمد تابش صدیقی
غزل: زلفِ عشق کے پیچ و خم
غزل: زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا
غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے ٭ تابش
غزل: زمانے کو اپنا بنانے سے پہلے
غزل: زندگی بیت رہی ہے یوں ہی دیوانوں کی (حجاز مہدی)
غزل: زندگی تو ہے۔
غزل: ستاروں کو ہم رات بھر باندھتے ہیں
غزل: سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں ٭ تابش
غزل: سوچتا ہوں وصال سے آگے
غزل: سکونِ شب میں میسر سہانے خواب نہیں ٭ محمد تابش صدیقی
غزل: شکوہءِ یارِ فتنہ خو کہیے
غزل: شہر دل دشت ہوا ہے تو ہوا رہنے دو
غزل: صبح آئی تھی مگر کانچ اٹھاتے گزری ...
غزل: صبح ہوگی ، رات کالی جائے گی
غزل: صرف دھرتی پہ نہیں، نیل گگن سے آگے...
غزل: صورت زخم دل و درد جگر آتا ہے
غزل: طلوعِ صبح کا پیغام آیا ٭ تابش
غزل: طواف اس زندگی کا کیوں کریں ہم
غزل: ظلمتِ شب میں اجالے کا نشاں کوئی نہیں ۔۔۔
غزل: عبث ہے دوڑ یہ آسائشِ جہاں کے لیے ٭ تابش
غزل: عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
غزل: عکس تیرا نظر میں باقی ہے
غزل: غموں سے جنگ رہی جاں بدن میں رہنے تک
غزل: فنا ہے میرا وجود اُن میں حضور میں بھی غیاب بن کر
غزل: قدر میں ہیں، نہ ہی قضا میں ہیں
غزل: قصیدہ لکھ رہا ہوں میں
غزل: قیامت کا قیام کرنا از روحانی بابا
غزل: لاؤں میں ایسے لفظ کہاں سے ترے لیے
غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا ٭ تابش
غزل: مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش ٭ تابش
غزل: مجھ کو ہونے لگی پریشانی
غزل: مجھے تو اپنی ہی پس ماندگی نے قتل کیا ۔۔۔ از امین عاصمٓ۔
غزل: محبت میں فنا ہونے کی نوبت آ ہی جاتی ہے...
غزل: محفل میں کبھی میرا جو ذکر آئے اچانک
غزل: مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے
غزل: مری آنکھوں سے جانے کیوں
غزل: مرے نالے کو شکوہ مت سمجھنا!
غزل: مرے نیمۂ گم شدہ لوٹ آؤ
غزل: مسند نشین کے نہ کسی تاجدار کے ۔۔۔
غزل: مصوّر کا اگر شہکار ہوں میں
غزل: منفعل ہو کے برسنے کو نہ ٹھہرے بادل
غزل: موجِ مے گر رہے رواں ساقی
غزل: مہتاب و کہکشاں کی مثالوں كے باوجود
غزل: میخانہ میں نہ رقص کی محفل میں
غزل: میں اپنی جنت اور اپنی دوزخ میں ایک ہی پل میں جی رہا ہوں
غزل: میں تو گریز پا تھا
غزل: میں جس کسی کو بھی دل تک رسائی دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنامِ عشق و محبت خدائی دیتا ہوں
غزل: میں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹھکانہ ملے
غزل: مے تُمہاری دی ہُوئی، مے کش تُمہارا، جام بھی :: از رشید حسرت
غزل: نالۂِ غم سے لبِ خشک چھڑا لے دامن
غزل: نجانے کب سے ویرانی کی کا ڈیرا تھا جہاں میرا
غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے ٭ تابش
غزل: نظر بہ مہر و وفا از سرِ ندامت ہے
غزل: نفرتوں کی ہوا
غزل: واسطہ کیا نشانِ منزل سے
غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
غزل: وفاداری کا ملتا اب صلہ نئیں!
غزل: وہ بتِ بیباک گر جلوہ نما ہو جائے گا
غزل: وہ جب ملے تو نیا سا دکھائی دیتا ہے
غزل: وہ جو وفاؤں میں اپنی مثال رکھتا ہے ۔۔۔
غزل: وہ مجھے یاد کرے اب یہ ضروری تو نہیں
غزل: وہ پیار پیار میں کیا کیا خرید لاتا ہے (حجازؔ مہدی)
غزل: وہی صبح ہے، وہی شام ہے ٭ محمد تابش صدیقی
غزل: وہی قصہ پرانا ہے
غزل: ٹوٹ چکا ہے، ہار گیا ہے ۔۔۔
غزل: پاتے نہیں چراغِ تمنّا سے سود ہم
غزل: پت جھڑ کے زمانے ہیں۔۔۔
غزل: پرندے کو ٹھکانہ چاہیے ہے!
غزل: پلٹ کر کی خبر گیری، نہ رکھا رابطہ کوئی
غزل: پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر
غزل: پیار کرنا تمھیں سکھا دیتے
غزل: چھپے ہیں کعبۂ دِل میں بتانِ وہم و گماں
غزل: ڈھونڈتا ہوں کوئی روشنی میں! (مہدی نقوی حجاز)
غزل: ڈھونڈے ڈھونڈے نہ جہاں سایہ ء دیوار ملے
غزل: ڈھونگ اور منافقت کی روایات پر ہنسوں
غزل: کبھی آب و خاک دیکھی کبھی کہکشاں سے گزرے
غزل: کبھی نگاہ وہ مجھ پر نہ حسبِ حال رہی
غزل: کتنا بھی راہ میں ہو خطر ، جانا چاہیے
غزل: کتنے غنچوں نے جان ہاری ہے:ُ: از: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل: کس لئے سیکھیں بھلا اپنی پرائی دیکھنا ۔۔۔
غزل: کوئی نہ یہاں نشّۂ پندار میں آئے
غزل: کوچہ کوچہ نگر نگر دیکھا!
غزل: کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے
غزل: کچھ سفر زندگی کا باقی ہے
غزل: کچھ پس انداز بد انجام وفا رکھی ہیں
غزل: کہتے ہو تم کہ حشر بپا ہو نہ جائے گا
غزل: کیا چین سے بیٹھوں کہ سکوں دل کو نہیں ہے
غزل: کیا کریں تن کو لباسوں میں چھپانے والے
غزل: کیسے بھولوں میں مقدر کی ستم رانی کو: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل: کیوں ہے ہم سے خدا خفا مت پوچھ ٭ تابش
غزل: گر مقدر میں گرانی اور ہے
غزل: گر چہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا : مزمل شیخ بسملؔ
غزل: گرچہ گلشن میں کھلا ہر سو گلابِ تازہ تھا
غزل: ہاں، ملاقات ہو گئی صاحب! (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل: ہجومِ غم سے کہاں تک فرار ڈھونڈینگے
غزل: ہمارے پاس رہ جاؤ تو بہتر (حجازؔ مہدی)
غزل: ہمیشہ مضطرب موجوں کو رکھنا ہے سمندر نے ۔ از: نویدظفرکیانی
غزل: ہو تیری خیر مرے یار تیرے گاؤں کی خیر (مہدی نقوی حجاز)
غزل: ہوا ختم ہر جہاں سلسلہ۔۔۔
غزل: ہوں دونوں ہاتھ خالی، تن پر قبا شہانا
غزل: ہوں شراب و کباب کی باتیں
غزل: ہوں چمن میں مگر قرار نہیں
غزل: ہے کسی ماں کی طرح نخلِ ثمر دار کا دکھ
غزل: یوں تو رگوں میں خون ہے، پانی نہیں کوئی
غزل: یہ جاہ ہوتی نہیں، یہ حشم نہیں ہوتا...
غزل: یہ جو کہتے ہو، بیانِ سوزِ غم کو روک لو
غزل: یہاں پر چین کیا ، آرام کیا ہے
غزل: ۔۔۔ چلے جانا ۔۔۔
غزل: ۔۔۔میں نہیں جانتا
غزل:- مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
غزل:: از :: محمد حفیظ الرحمٰن
غزل:: بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو:: از رشید حسرت
غزل:: سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے:: از رشید حسرت
غزل::دیکھا نہ کبھی تُم نے سُنا، دیکھتا ہوں میں::رشید حسرت
غزل::وہ بھلے سِتمگر ہوں، تلخ کیوں رکُھوں لہجہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا:: رشید حسرت
غزل::وہ چلا بھی گیا زمانہ ہوا:: از: محمد خلیل الرحمٰن
غزل:تصویر ہے جو دل کے شیشے میں اک پری کی - فرحان محمد خان
غزل:زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا...
غزل:عکس اس کا کہ مرا حرفِ دعا ہے
غزل:قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف
غزل:مجھ پہ پوری جو تو کھلی ہوئی ہے (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل:پیار سارا دکھا نہیں دیں گے! (مہدی نقوی حجازؔ)
غزل:کِسی کی جُستجو ہے اَور مَیں ہُوں
غزل،
غزل، احمد وصال۔۔
غزل،،یہ دل تو ابھی تک ہے تمہارا، اُسے کہنا،،،نجم الحسن کاظمی
غزل،ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے،احمد وصال
غزلی پیش بصارت احباب است، یہ غزل لکھتے میں کیوں کہ بطور کامل زبان فارسی سے آزادی نہیں حاصل کرسکا ۔۔۔
غزل۔
غزل۔
غزل۔
غزل۔
غزل۔برفاب رُت میں ہم ہی نہیں تھے جمے ہوئے: از۔ نویدظفرکیانی
غزل۔یہ طے کرلو جو جیون کا سفر ہے: از نویدظفرکیانی
غزل۔۔ ۔اوس کہتی ہے رات روئی ہے۔۔۔ محمد احمدؔ
غزل۔۔۔ اتنا شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہو کر ۔۔۔ میری اور والد صاحب کی مشترکہ کاوش
غزل۔۔۔بن پڑے تو چہرہ پڑھ،یہ کتاب سچی ہے
غزل۔۔۔وہ خال و خد سرِ قرطاس آنے کیسے کیسے
غزل۔۔۔۔۔۔۔دینا چاہئے
غزل۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزٌ ل : جاں لے کے چلے ہیں کہ کہیں وار ہی دیں گے : از : محمد حفیظ الرحمٰن
غسلِ دسمبر
غلامی ترانہ
غم
غم سے مفر کسے یہاں، دیکھے جگر کے زخم کون؟
غم سے نظریں چرائے پھرتا ہوں
غم نہیں غیر کی ریائی کا ۔۔ غزل از محمد ذیشان نصر
غم نہیں غیر کی ریائی کا ۔۔ غزل از محمد ذیشان نصر
غم نیا تھا تو نیا عہدِ وفا رکھنا تھا
غم پلے سینے میں ہوٹوں پر ہنسی ہے رقص میں
غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا ۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے ! ۔۔۔ ایک غزل
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی
غم کے مارے کب سوتے ہیں ( اسد اقبال )
غموں کی آگ میں لپٹا دکھائی دیتا ہے۔ عُمر سیف
غمِ حسین کا صدقہ اُتار کر آنا
غمِ حسینؑ کا صدقہ اتار کر آنا
غمِ دوراں سے دور بیٹھا ہوں
غَموں سے ہی مجھے فُرصت نہیں ہے۔
غٖزل: اے جہانِ خراب میں نے بھی (مہدی نقوی حجازؔ)
فاتحِ عالم! پڑی ہوئی تھی ہوس بھی سالی جھولی میں ۔ فاتح الدین بشیرؔ
فارسی نعتیہ کلام بمعہ ترجمہ
فراغت کیسی ہوتی۔۔۔!
فراق و وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے
فراق ِ یار
فراقِ یار میں ایسا کمال آیا'----------- غزل
فرخ منظور کی تک بندیاں
فرد
فرزانہ نیناں - نیا کلام
فرقت سے مگر خالی
فرہاد! دن گیا تو ہے، اچھا نہیں گیا
فریب کھا کر بھی
فضل و کرم کے اے خدا .....
فعولن فعولن فعولن فعولن 2 (آؤ مثنوی بنائیں)
فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
فقط اک سال بدلے گا؟
فقط دل ہے محبت کی صدا کوئی نہیں ہے
فقط دل ہے محبت کی صدا کوئی نہیں ہے
فقہِ محبت
فقیر آدمی ہوں مری لو دعا
فلاڈیلفیا کی ایک رات
فلک پر جو سدا کی روشنی ہے۔۔۔۔۔۔۔غزل
فلک کو کس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف شفیع
فَرازِ اَرض بَنوں، پَستیوں مِیں کھو جَاؤں - (غزل)
فکر و نظر کا معرکہ فکر و نظر میں ہے
فکریں
فہیم ملک جوگی کی شعری کاوشیں
فی البدیہہ
فیصلہ کر دیا جنازوں نے ... !
فیض کا پیغام
قاتل سامراج کے پروردا غداران ِ ملک و ملت کے نام
قانونِ حق کو بسملؔ ٹھکرانا زندگی کا۔۔۔ از بسملؔ
قتل گاہ۔۔
قحط الرجال (ایک مختصر نظم )
قدامت پرست
قدموں میں سفر ٹہر کیوں نہیں جاتا
قرآن کہا جائے نہ تفسیر کہا جائے
قرنطینہ ۔ کچھ تازہ واردات ۔اشعار ۔قرنطین
قسم
قسمت کہ جیسے گھومتا پنکھا مئی کا ہے
قصّہ تھا کیا عجب، میں بہت دیر تک جلا
قصّہ مرا بھی تشنہء انجام رہ گیا
قصّہ گو
قصہ و داستاں نہیں ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔ ش زاد
قصے یہ ہجر کے چھوڑیں اب۔۔۔
قطبی رات ۔ ایک نظم
قطعات
قطعات
قطعه: برما بھی جائیے
قطعہ
قطعہ
قطعہ
قطعہ: جل بجھے ہم تو ہوا ایک زمانہ واقف
قطعہ: حوصلہ قافلے والوں کا بڑھاتے رہنا
قطعہ: ہر لمحہ زہرِ نو کوئی پی کر دکھائے تو
قطعہ: وہاں اک موجِ بے حس ہے کہ آنکھیں نم نہیں کرتی
قطعہ: ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قطعہ: ترسا ہے بے خودی کو مِرا دل بجائے خوں
قطعہ: دل کیوں ہوا اسیرِ غم و رنج اب نہ پوچھ
قطعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس ِ رنگ سے نکلےتو کدھر جائیں گے ۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی
قلب ہوجائے جو پتھر تو بشر پتھر کا
قمر جب جگمگاتا ہے تو ان کی یاد آتی ہے
قندیلِ مفتی۔
قیامَت سی باہر یہ کیا گِری ہے - (اَدُھوری غزل)
قیس و فرہاد سے، صحراؤں بیابانوں سے
كاله برقع وه كالي آنه
كبھي تم شاد كرليتے كبھي ناشاد كرليتے
كبھی روٹی نہيں ملتی يتيموں كو : اسامه جمشيدؔ
كرے مغفرت حق مرے كفر كى
لاتعلقی (نظم)
لب پہ شکوہ بھی نہیں ، آنکھ میں آنسو بھی نہیں
لب پہ آئے تو کچھ دعا مانگوں
لب پہ لیکن کوئی فریاد نہیں
لبوں کی جنبش !
لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے
لفظوں کی بے کسی کو بھی دیکھا کرے کوئی
لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب --- عمران شناور
لو! اپنی خواہشوں کو آخر دبا دیا ہے
لوٹ آؤ
لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ - منیبؔ احمد
لوگ مصروف ِ خدائی ہیں خدا کے گھر میں
لوگ ٹوٹے ہوئے ، سالم درودیوار کے بیچ
لوگ پابندِ سلاسل ہیں مگر خاموش ہیں ۔۔۔۔عمران شناور
لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری، پاگل! :: فوزیہ رباب
لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
لوگ کیا کیا گفتگو کے درمیاں کھلنے لگے
لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے
لوگوں میں تھے
لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا
لوگوں کے درمیاں بھی تنہا رہا کروں کیا
لَفظوں کا دُکھ کیا ہوتا ہے، ہَم سے پوچھو - (غزل)
لَو چراغوں کی بہت کم ہے خدا خیر کرے
لڑکپن کی ایک کاوش تقریباََ 1986 کی
لڑکپن کی پہلی کاوش
لکھ کے اُس دل پہ مرا نام،مجھے لوٹا دے۔۔ تازہ غزل
لگا لو شجر۔ نظم ۔ نزہت وسیم
لگتا ہے جب کہ رات کا کٹنا محال ہے
لگتا ہے مل گیا مجھے مقصد حیات کا
لگتا ہے کہ تم ہو
لگتا ہے کہ چپ رہنے سے کچھ کام نہیں ہے
لگتے ہو کسی قہر میں لُٹے ہو جیسے سحر میں
لگتے ہیں سبھی پھول مگر خار ہیں ہم لوگ۔۔۔۔۔
لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے
لہو لہو گلشن ..!
لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی
لیجئے ہم دوبارا ایک غزل کا ٹوکرا لیے حاضر ہیں.
لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک
لے آیا مرا ذوق جنوں مجھ کو یہاں تک
لے لے سکون قلب بھی، جو چاہے دے سزا مجھے
لے لے کے تمہارا نام صبا پیغام تمہارا دیتی ہے
مات دینے کا ارادہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔ آغا نثار
مار ڈالا تری محبت نے
ماسوا محبت کے باقی سب اضافی ہے، احمد وصال
مال نہیں تو جینا ناحق
مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم
مانوس اجنبی
ماں
ماں
ماں جی سے
ماں کی تربت پر
ماں کی دعا
ماں کی رضا
ماہ اپریل کا منتخب شاعر کون ہوگا ؟ - شاعری کا مقابلہ
ماہِ سعید آ گیا ماہِ سلام آ گیا…..
مبارک مسکراہٹیں (ایک خوبصورت نعت)
مبارک ھو
مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
مت پوچھئیے۔ ۔۔ ۔
متاعِ حاصلِ یک لحظہء وصالِ دوست ----- نوید صادق
مثل ِ گلاب (ک م یاؔزر)
مثنوی اردو محفل - اردو محفل کو سالگرہ مبارک
مثنوی(دل چسپ قصوں کا مجموعہ)
مجبورِمحبت ہوں، گنہ گار نہیں ہوں!
مجبوری میں شعر کہے جاتے ہیں کیا
مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس ۔ فاتح الدین بشیر
مجھ سے حالات نے چھینا ہے نہ جانے کیا کیا
مجھ سے نفرت تھی انھیں (قطعہ)
مجھ سے گزری ہی نہیں ہجر کی لمبی راتیں
مجھ کو تو ایسا شخص درندہ دکھائی دے
مجھ کو جینے کا لطف آنے لگا
مجھے آنکھوں پہ کیوں یقیں نہیں ہے؟
مجھے ابھی کافی ضروری کام کرنے ہیں
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے شاید محبت ہو گئی ہے
مجھے مرنے کی چاہت ہے
مجھے نوحہ گر کی تلاش ہے
مجھے پسند کیا آپ کی نگاہ نے واہ ! ( تازہ ترین )
مجھے پھر سے مت رلاؤ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے کچھ درد دے دو
مجھے کھول دے میری ذات پر۔ ناعمہ عزیز
مجھے ہے فخر ، جنت کی بشارت ایک عورت ہے
مجھے یقین ھے تعلیم عام کردے گی ،،،
مجھے یہ طعنہ دیا ڈوبتے ستارے نے
محاوَرے نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن
محبت
محبت آپ ہی اپنی تباہی کھینچ لیتی ھے
محبت تھی یا رقابت
محبت خواہشوں کی آخری دنیا
محبت دھوپ جیسی ہے
محبت سے۔۔۔۔اپنی ایک مختصر نظم
محبت مری زندگانی میں ہے
محبت میں جیا جو وہ مرا ہے ۔ سعید الرحمن سعید
محبت چھوڑ دے، محنت کیا کر
محبت کا دین .
محبت کا کسی کی آج کل دعوی بھی کیا کرنا
محبت کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
محبت ہو کہ رہتی ہے ۔۔ تازہ آزاد نظم
محبت ہو ہی جاتی ہے ………میری پہلی آزاد نظم
محبت ہی مری ابدی سزا ہے
محبتوں کے جام
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
محبت۔۔۔۔ ایک نظم ۔۔ محمد ذیشان نصر
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
محفل کا بہترین نیا شاعر 2008- نامزد امیدوار، تعارف، نمونۂ کلام اور نتائج
محفل کا ترانہ
محمد شمیل قریشی - مارچ 2006 میں اردو محفل کے پسندیدہ شاعر
محمد وارث صاحب کی خدمت میں اصلاح کیلئے
محمود غلط حماد غلط
محنت کش
مختصر
مختصر عالمِ کُن فکاں معذرت
مختصر نظم ۔۔۔ دل ۔۔۔ محمد احمدؔ
مختصر نظم ۔۔۔| نیا دور، نئے طور |۔۔۔ محمد احمدؔ
مختصر نظم ۔۔۔ | جوئے شِیر | ۔۔۔ محمد احمد
مختصر نظم: خواب
مختلف غزلوں کے کچھ اشعار!
مداری
مدتوں تک اہل دل کو یاد آئے گی غزل
مدحت رسول صل اللہ علیہ وسلم ... !
مدحتِ یار کی دَوا کیا ہے
مدرس ڈے - فوزیہ رباب
مر کر نصیب ہو گیا شداد کو اِرم
مرا کمال غلط تھا، مری مثال غلط ۔۔۔ نوید صادق
مرا یار مرا ہم نشینِ محفل قریب سے گزر گیا چپ کر کے
مرا یہ واہمہ بالکل بجا ہے
مرحلے ہم پہ آسان ہو بھی گئے
مرحومہ والدہ کے نام
مرنا تو کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا
مرکز بھی تو محیط بھی تو دائرہ بھی تو
مرگ ِ بہار
مرہموں کی آس میں
مری تو ایسے قبیلے میں سانس رکتی ہے
مری حیا ہے یہ سبز پرچم !
مری حیات محمد کے نام ہو جائے
مری حیاتِ گزشتہ کا ماحصل شاید
مری خامشی میں بھی
مری خاموشیوں میں گونجتا ہے
مری خوبیاں مری خامیاں سبھی بھول کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
مری نظر سے ترا انتظار اترے گا
مری پہلی غزل - مجھے کچھ اے مرے ساقی پلاؤ
مری کہانی کے باب سارے- ایک پرانی غزل تصحیح کے بعد
مرے سینے میں دوزخ پَل رہی ہے
مرے آس پاس تھے آپ بھی میں جہاں جہاں سے گزر گیا
مرے ارماں وصیت لکھ رہے ہیں
مرے بھائی، مرے بچے، تمھیں واپس بھی آنا تھا
مرے دل میں عشقِ رسول ہو۔ ۔ ۔ نعت
مرے دم میں دم ہے اسی کے ہی دم سے
مرے ساتھ ساتھ رہا کرے مرے سارے درد سنا کرے
مرے شہر ِ ذرہ نواز کا وہی سرپھرا سا مزاج ہے
مرے عزیز مرے ہم سفر مرے ساتھی
مرے چارہ گر۔۔۔۔۔۔!
مرے گناہوں سے معصیت بھی اب اپنا دامن جھٹک رہی ہے۔۔۔مزمل شیخ بسملؔ
مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی
مزاحیہ شاعری ۔ پاسِ وفا کا مان ‘ ارے
مزاحیہ شاعری، مزاحیہ نظم
مزاحیہ قطعہ بعنوان: تحفہ
مزدور ...
مزن بر دل ز نوک غمزہ تیرم- منظوم ترجمہ
مسئلہ ہے کہ سوچتا ہوں بہت۔۔۔ محمد بلال اعظم
مسئلہ یہ بھی تو درپیش ہے اس بار
مسافر ۔
مسافر بھول مت جانا۔۔۔۔
مسافر جا چکا کب کا مسافر یاد آتا ہے
مسافرانِ محبت ہیں ، سنگِ راہ نہیں
مستقل بے کلی سی رہتی ہے
مسدسِ انقلاب کلام ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاء۔ گوجرہ
مسلسل زلزلے ہیں
مسلک عشق ... !
مسند نشیں ہے شہر میں دربار کا فقیہ
مسکرانا حرام کر دیجے
مسیحا: سر ساحرؔ سے معذرت کے ساتھ
مشعلِ حرف لئے نور بکف ہوجائیں
مشعلِ دل جلا کے لائے ہیں
مشق سخن
مشکل گہے کہنا، گہے آسان میں رکھنا
مصرع طرح "بعد مدّت پھر ہوا ذوقِ غزل خوانی مُجھے" پر ایک کاوش ( اسد اقبال)
مصرع طرح "شراب ہاتھ میں ہے اور پِلا نہیں سکتے" پر ایک کاوش ( اسد اقبال)
مصرع طرح "عروجِ فن مری دہلیز پر اُتار مُجھے" پر ایک کاوش ( اسد اقبال)
مضطر و بے کس و لاچار رہا کرتے ہیں
مظلوم شوہر: ساحر لدھیانوی کی غزل میں کچھ تصرف کے ساتھ
معاش چھوڑے تو جائیں پلٹ کے گھر اپنے
معاف کیجیے
معافی نامہ ----------- ایک نثم
معذرت تجھ سے بے انتہا معذرت۔ فاتح الدین بشیر
معما
معمہ۔۔۔اپنی ایک مختصر نظم
معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے
مقفل ہی سہی لیکن نظر کے اسم ِ اعظم سے : سیدہ سارا غزل ہاشمی
مل بھی جایا کرو۔
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
ملول خاطر و آزردہ دل ، کبیدہ بدن
ملیں گے رہنما ایسا نہیں ہے
مناجات
مناجات ۔۔۔۔چند دعائیہ اشعار
مناجات: میرے پیارے بھائی کی پہلی کاوش
منتخب اشعار - "کیا کمی تھی" - عؔلی خان
منجمد محبت
منحصر ہے ترے انداز بیاں پر نوشی !
منزلِ عشق تک نہ چاہ نہ راہ
منصور آفاق کی تازہ غزل
منصور آفاق کی تازہ غزل ۔آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا
منصور آفاق کی شاعری
منصور آفاق کی شاعری(ردیف ے) ۳
منصور آفاق کی غزل
منظر سے ہٹ گیا ہوں میں ، ایسا نہیں ابھی
منظر وہی پرانا ہے ، موسم نیا نیا
منظرِ دشتِ تگ و تاز بدل کر دیکھا
منظوم ترجمہ رباعیاتِ سرمد
منقبت حضرت حسین رضی اللہ عنہ
منقبت درشان اہلبیت
منیب فاتح کی آخری غزل
موت سے مت ڈرا مجھے، نیند سے مت جگا مجھے ۔ فاتح الدین بشیر
موت کا خوف
موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
موجہء خواب پہ اک نقش ۔ ۔ ۔ آصف شفیع
ميري چند نظميں اور غزليں
مَیں سحرِ نَا گہاں مِیں کھو گیا تھا - (غزل)
مُتفرق اشعار میری بیاض سے۔۔۔۔۔۔۔ش زاد
مُجھے اُسکی کوئی خبر مِلے
مُحبت تو فسانہ ہے ہی نہیںنا!
مُسکان تیری اکھیوں کی جب یاد آئے ہے-------ندیم حفی
مِثلِ عُمرِ خَبرِ* نَو جَب زِندَگی رِہ جَائے گی - (غزل)
مِرا ُدشمن مِرا سایہ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش زاد
مِرا دِل ہی نِشانے
مِری شاعری سے پریشان سب
مٹی سنوار کر مری ، دیپک میں ڈھال دے
مٹی سے پیار کر تو نکھر آئے گی زمین
مٹی کے خاموش بتوں کے نام :
مچل جاتی ہے دنیا
مژدہء سحر
مکان اور مکین
مکمل " غزل" اردو محفل میں پہلی بار
مکیں زمیں کے ہیں نہ آسماں کے باسی ہیں
مگر افسوس کہ دل پیاس کا خوگر نکلا ۔
مگر بہار ہے اور دل ہوا کی زد پر ہے۔
مہتاب کا وہ عالم
مہدی نقوی حجاز سے معذرت کے ساتھ :( :)
مہندی رَچا کے ہاتھ میں دُلہن نہ میں بَنی - (اَدُھوری غزل)
مہنگائی بم
می گردم
میرا ایک شعر
میرا بھالو، گول کچالو :نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن
میرا حرفِ تکلف ہی میری کہانی نہیں
میرا ماضی جو حال ہو جائے - رائے دیجئے
میرا مزاج تلخ ہے ، میرا کلام دکھ
میرا مزاج شاعروں میں مِیرؔ سے مِلا
میرا ہمسفر اور میری زندگی ساتھ میں ڈیزائنگ بھی
میراکلام اردو ترجمے کے ساتھ
میری اک تازہ غزل آپ کی نگاہ کی منتظر
میری ایک تازہ غزل
میری ایک تازہ غزل - افرشتہ ءِ اجل نے مری نیند کی خراب
میری ایک تازہ غزل ...کوئے بتاں میں تیرا نشاں ڈھونڈتے رہے
میری ایک تازہ غزل ۔تجھ پاس ہے جو چیز، وہ گل پاس نہیں ہے
میری ایک رباعی
میری ایک غزل ۔ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
میری ایک غزل اور اسکے وزن پر بحث
میری ایک غزل تری نسبتوں کا نشاں چاہیے
میری ایک غزل ۔۔۔ غزل ۔ ہم تو ہیں دیوانگی کا سلسلہ
میری ایک غزل-آصف شفیع
میری ایک نئی غزل - چھیڑ دل کے تار پر، کوئی نغمہ کوئی دُھن
میری ایک پرانی غزل ...2012 دسمبر۔شعلہ جب جسم و جاں سے اٹھتا ہے
میری تازہ غزل ۔ قیودِ زیست نے مشکل میں ڈال رکھا ہے
میری تازہ غزل - ایک ادنی سی کوشش۔۔۔
میری خواہش ہے مرا رب تجھے اچھا رکھے
میری دسویں غزل۔بجلیوں کا وہی نشانہ ہے
میری دوسری غزل -
میری شاعری
میری شاعری ، استاد محترم سے اصلاح کے بعد ۔
میری شاعری میری ڈیزائنگ
میری شاعری پڑھ کر اپنی آرا سے نوازیں
میری شاعری کا مجموعہ
میری غزل
میری غزل
میری غزل - جلا ہوں عمر بھر سوزِ نہاں میں
میری غزل - رازِ معراجِ ظاہرا کیا ہے
میری غزل - نہ دل کو ہے نہ جاں کو ہی قرار اب
میری غزل -شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے
میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے
میری غزلیں اور میری نظمیں
میری غزلیں تو گنگناؤ گے۔۔غزل
میری فارسی زبان کی ایک غزل ۔ منصور آفاق
میری محبت اس کے حوالے جس نے محبت پیدا کی
میری پستی کو بھی لکھّا گیا رفعت آلود ......... ایک غزل احباب کی خدمت میں
میری پسندیدہ غزلوں میں سے ایک
میری پہلی رباعی
میری پہلی غزل "محفل" کی نذر
میری پہلی کوشش
میری چاہت
میری ہستی قبول ہوجائے از روحانی بابا
میری ہچکیاں میری سسکیاں
میری یادوں میں تیری یاد کی کھڑکی کا کھل جانا
میرے ابو کا اردو کلام
میرے ابو کی شاعری
میرے ابو کی شاعری 2
میرے اطراف میں اک آگ کا دریا پایا
میرے ایک دوست کے نام
میرے خیال
میرے عشق نگر
میرے محتسب۔ از ناعمہ عزیز
میرے مُحسنوں کو خبر کرو!
میرے چند تازہ اشعار پیشِ خدمت!
میرے کم سن پیا ۔۔۔
میرے کچھ تازہ اشعار ۔ پیمان آرزو
میرے ہمدم نے مرے ساتھ عداوت کر دی (طرحی غزل)
میرے ہونٹوں کی ہنسی لے کہ اُڑا ہے
میسر بھی نہیں چلو بھر ڈوب کے مرجانے کو
مینڈک او رے مینڈک! نظم:: از۔ محمد خلیل الرحمٰن
میٹھا سچ اور کڑوا جھوٹ
میڈیا آزاد ہے ..
میکدے میں شام کو
میں
میں اس کی بزم سے کل رات کپڑے جھاڑ کر اٹھا
میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں - غزل پیشِ خدمت ہے
میں اپنی آگ میں کندن بنا تو ڈرنے لگا۔سعید الرحمن سعید
میں اپنے آئینہ ء دل کے روبرو بیٹھا
میں اپنے زمانے کی چڑھتی ہوئی لہر ہوں- سلمان دانش جی
میں اہم تھا - یہی وہم تھا
میں ایک فٹبال ہوں
میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا
میں تجھے یار باندازِ دگر چاہتا ہوں (الزبتھ بیرٹ براؤننگ سے ماخوذ) ۔ فاتح الدین فاتح
میں تم سے کہہ نہیں سکتا
میں تم کو یاد کرتا ہوں نظم
میں تو جیسے تم ہوں
میں تُجھ کو کروں یاد یا تُو مُجھ کو کرے یاد
میں جانتی ہوں کہ ہوں ناگزیر اس کے لئے
میں جب سے اب تک وہیں کھڑا ہوں
میں جب چمن میں اپنےطوفان دیکھتاہوں
میں دیوانہ ہوں دیوانے کا کیا ہے
میں روز اپنے لئے ضابطے بناتا ہوں
میں زندہ ہوں!
میں سمجھتا تھا کہ دنیا گول ہے ۔
میں شہرِ ذات سے نکلا تو دربدر بھٹکا
میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں
میں قلم کو اپنے سیاہئ شب تار دوں تو غزل لکھوں
میں مطمئن تھا کہ میں نے تجھ کو اب اپنے دل سے مٹادیا ہے
میں مقدس تو نہیں!
میں نے بچپن دیکھا ہے
میں نے تمھارے ہجر کی یوں دیکھ بھال کی
میں نے خواب دیکھا ہے
میں نے خوشیوں کے دیس جانا ھے
میں وہ حادثہ ہوں جو ٹالا گیا تھا
میں پلٹ کر وار کرتا ، حوصلہ میرا بھی تھا
میں کنودہوں، میں عجول ہوں،میں ظلوم ہوں،میں جہول ہوں
میں کون ہوں
میں کچھ بھی نہیں
میں کہ اک شب کا ہوں سفر جیسے
میں کہ ممنونِ بتاں بھی نہ ہوا
میں کہاں ہوں کوئی بتلاؤ مجھے
میں کہیں ، یاد کہیں ، خواب کہیں ہے میرا
میں کہیں، ٹائی کہیں، سوٹ کہیں ہے میرا
میں کیا کروں کہ مری نسبتیں علیؑ سے ہیں
میں گر چاہوں تو وہ آنکھیں
میں گلابوں کی تجارت کا نہیں ہوں قائل
میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا (عمران شناور)
میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے
میں ہوں وہ خاورِ دردیاب ( غزل۔از خاور چودھری)
میں ہوں چہرہ تری خواہش کا ، مرے بعد تو دیکھ
نئی زندگی سے متعلق ایک غزل
نئی صدی کا پیغام
نئی غزل
نئی غزل
نئی غزل
نئی غزل نمبر 13 شاعر امین شارؔق
نئی غزل: لوٹ آئی ہیں پھر وہی راتیں
نئی غزل۔ گھر بنایا تھا جو مکان کے ساتھ
نئی غزل۔۔ احباب کے لئے
نئے امکاں، تری کوشش سے نکل سکتے ہیں
نا آشنا سا دیکھتا ہوں بام و در کو میں
ناخداؤں کے کھلے کیسے بھرم پانی میں
نادان لاہوری
ناراضگئ دوست
نارسائی ہے
ناریل کا پیڑ
ناز برداریوں میں کچھ بھی نہیں - منیبؔ الف
ناصحوں کو کیا خبر کیا لطف مے خانے میں ہے
ناطقہ ------------ عجلت میں لکھی گئی ایک نظم
نالئہ شب کی آبرو کیا ہے؟ - غزل
نامہِ عشق لئے کون پیمبر آیا :تازہ غزل
نبیل کی نذر
نت نئے مراسم بڑھانا اسکی عادت ہے
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن
نجوم اچھے نہیں لگتے قمر اچھا نہیں لگتا
نحیف جسم پہ ہجرِگران ٹوٹ پڑا
ندائے وقت برائے مسلم
نذر ِ جون ایلیا
نری ٹانگیں
نس جا بش اب ہولے ہولے (بہت عرصہ پہلے لکھی نظم)
نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو
نشانہ آزمایا جا رہا ہے
نشانی
نصیب ہو جو کبھی اُس کی آرزو کرنا
نصیب ہو جو کبھی اُس کی آرزو کرنا
نظام _ خلق مری زندگی کو کھیل کہے
نظر آئے جو آئینہ، عزاداری میں رہتے ہیں
نظر آلودہء گردَ سفر ہے : از۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی
نظر میں بس گئے جس کی اسے غرور نہ ہو
نظم
نظم
نظم ۔ رشک بھرے دو سوال ۔ محمد احمد
نظم - تاریخِ اردو زباں
نظم : کشمیر : از : محمد حفیظ الرحمٰن
نظم ۔ بے حِسی ۔ محمد احمدؔ
نظم "روح کا پتھر"
نظم - آگہی کے طلسم کی حس --- نوید صادق
نظم - دوکان رمضان -------- (تضمین از محمد احمدؔ)
نظم - صحارا
نظم - ہاں زیست کا امکاں اور نہیں - پیاسا صحرا
نظم : ۔۔۔۔۔ خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔ از : محمد احمد
نظم : ”نفرت‘‘ ۔۔ از : فاتح الدین بشیر محمود ؔ
نظم : (ماں کی یاد)
نظم : ابھی آزاد ہیں قاتل ( اپنے دیور کے نام) از : زرقا مفتی ؔ
نظم : شہر کی بلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیم (کراچی کے حالات پر)
نظم : کشمیر جل رہا ہے - فرحان محمد خان
نظم :: ’’ دائرہ ‘‘ -- از : م۔م۔مغلؔ
نظم :یہ جہاں نہیں ہے جنّت (اپنی بیگم کی نذر )
نظم از رِدا فاطمہ
نظم ایک چھوٹی سی۔۔۔سیدانورجاوید ہاشمی
نظم بعنوان تذبذب
نظم ِ نو آ گیا ، انصاف نرالا دیگا
نظم ۔ انسان کائنات میں
نظم ۔ ایک خیال کی رو میں ۔۔۔ محمداحمدؔ
نظم ۔ بنام جارج واشنگٹن
نظم ۔ زندگی ۔ زندگی جینے نہیں دیتی مجھے
نظم ۔ منزل تمھاری ہے ۔ محمد احمد
نظم ۔ میں اردو زباں ہوں
نظم ۔۔۔ سرگوشیاں ، از : منصور آفاق ؔ
نظم ۔۔۔ شاعری ۔۔۔ از محمد احمدؔ
نظم ۔۔۔آنگن۔۔۔از محمد احمدؔ
نظم ۔۔۔۔ منظر سے پس منظر تک ۔۔۔ از : محمد احمدؔ
نظم: ہے بہشتِ بریں ماں کے قدموں تلے : از : محمد حفیظ الرحمٰن
نظم: ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ کا منظوم مفہوم) ٭ تابش
نظم: ایسا بھی تو ہوتا ہوگا (حجازؔ مہدی)
نظم: ایک مجبور مسلمان کی مناجات ٭ محمد تابش صدیقی
نظم: ایک منظر ایک فسانہ!
نظم: ایک مکالمہ
نظم: بطونِ خاک سے باتیں!
نظم: بِنائے امید ٭ محمد تابش صدیقی
نظم: تیری ہمراہی کے چند سال (فاطمیہ بوائز اسکول کے نام)
نظم: خاموشیِ شب
نظم: رقابت (نذرِ مہدیِ موعود)
نظم: زنگ آلود بینچ ٭ محمد تابش صدیقی
نظم: شہرِ ناپرساں
نظم: عشقِ درماندہ
نظم: فریبی
نظم: قرآن کا مہینہ
نظم: مثال عشق
نظم: مجھے انجان رہنے دو ٭ محمد تابش صدیقی
نظم: مگر پھر چوک ہو جاتی ہے مجھ سے (مہدی نقوی حجازؔ)
نظم: میں جس سے پیار کرتا ہوں (مہدی نقوی حجاز)
نظم: میں مسلم ہوں مجھے حالات سے کچھ ڈر نہیں لگتا
نظم: میں کن ویرانوں میں گم ہوں؟
نظم: وجہِ تخلیق
نظم: وہیں لے چل
نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش
نظم: پیغامِ آخر
نظم: ڈر لگتا ہے۔۔۔ محمد بلال اعظم
نظم: کہ میں اک بانجھ لڑکا ہوں (مہدی نقوی حجاز)
نظم: کیا لکھوں ،کیسے لکھوں
نظم: گزرا سال
نظم: ہجراں میں ہم مریں کہ جئیں، آپ جائیے!
نظم: یادِ وطن
نظم: ’’اہلِ فلسطین‘‘
نظم: ’’موڑ‘‘
نظم:: جب ہم چھوٹے ہوتے تھے:: از: محمد خلیل الرحمٰن
نظم۔۔۔۔ عارف عزیز
نظم۔۔۔““ہم تم جھیل کنارے جاتے““۔۔۔ش زاد۔۔۔5 جنوری 2000
نعت
نعت
نعت --- آصف شفیع
نعت ۔۔۔۔۔
نعت از کاشف اختر
نعت رسول برائے اصلاح
نعت رسول اکرم
نعت رسول اکرم ﷺ از قلم۔آسیؔ منڈیروی
نعت رسول مکرم ( از خاور چودھری)
نعت رسولِ مقبولﷺ ۔۔۔ خالق تری تعریف میں خود محوِ ثنا ہے
نعت رسولِ مقبولﷺ۔۔۔ تا ابد چمکیں گے یہ نور کے ہالے تیرے
نعت ِ رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نعت ِ سرور ِ کونین (ص)
نعتِ رسولِ مقبول
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
نعتِ رسولِ مقبول، بسلسلہ عیدِ میلاد
نعتِ رسولِ ممدوحِ رب (برائے تبصرہ)
نعتیہ دوہے ( از خاور چودھری)
نعتیہ ﷺ کلام ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاء ؔ (گوجرہ)
نغمات تمہیں کوئی
نفرت کا قاعدہ
نفرتوں کے سائے میں پیار کے بول بولتے رہے
نمکین غزل (ہزل):لے جو بیگم حساب، ہنستا ہے
نمکین غزل : اک غولِ بیابان ہے گویا مرے آگے : محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل : ہم گھر کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے : محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل ۔۔۔ ہماری ہزار پوسٹس مکمل ہونے پر
نمکین غزل: ان کا مزاج رُخ پہ دِکھائی نہیں دیا: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل: غزل اَک سنانے کو جی چاہتاہے:: از:: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل: نہیں ہے اب مجھے فرصت میاں! کتاب پڑھوں ٭ تابش
نمکین غزل:اب ڈوبنے والے کو ہے تنکے کا سہارہ: از: محمدخلیل الرحمٰن
نمکین غزل:تھا وہی میری کہانی اور وہی عنواں بھی تھا: از: محمد خلیل الرحمٰن
نمکین غزل:ہوئے آج گم ، جسم و جاں آتے آتے:از: محمد خلیل الرحمٰن
ننھی زینب
نو بائیکاٹ......نظم
نوازشیں ہیں، عنایتیں ہیں ، خدائے برتر کی رحمتیں ہیں
نوجوان شاعری
نوحہ
نوحہ …………از خاورچودھری
نوید کی کاوش
نَہیں رَہوں گا یَہاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے - (غزل)
نَہیں ہوں، مَیں کِسی کا بھی نَہیں ہوں - (غزل)
نکالدہ
نگاهوں سے اڑتے هوئے جب كبھى
نگاہ خود پہ جو ڈالی تو یہ ہوا معلوم
نگاہوں میں کسی کی ڈوب جانے کی تمنا ہے
نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے - منیب احمد فاتحؔ
نہ آستین میں کچھ ہے ، نہ منہ پہ تالا ہے (طرحی فی البدیہہ غزل)
نہ تو مجنوں ، نہ میرا نام لیلی ہے
نہ جانے کیا دل ۔ خانہ خراب چاہتا ہے
نہ جانے کیسی کرامت ہوئی صدا سے مری
نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ
نہ در پہ دی کبھی دستک نہ دی صدا میں نے
نہ دل ہوتا تو دیوانا نہ ہوتا
نہ دیکھا ہم نے۔
نہ رہے کوئی بھی دل میں تو بسا کرتا ہے
نہ ساقی کی نگہ سے اور نہ پیمانے سے ملتی ہے
نہ سیم و زر نہ گہر بیچ کر ادا ہوگا
نہ مجھ سے کہنا پھر۔
نہ ملے تم ، تو ملا کوئی تمہارے جیسا
نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر
نہ میں دید ہوں نہ میں طور ہوں، نہ ہی منظروں میں تلاش کر
نہ وہ ملول ہوئے ہیں ، نہ ہم اداس ہوئے
نہ کلیوں اور پھولوں کی مہک ہے ۔۔ ذوالفقار نقوی
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
نہ کوئی میرا رَفیق ٹھہرا نہ کوئی میرا حَبیب ٹھہرا
نہ کھاتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
نہیں تو
نہیں موجود پر مثل ہوا ہے چار سو ہے
نہیں کہ بعد تِرے۔
نہیں کہ جینے کی حسرت نہیں رہی مجھ میں-ملک عدنان احمد
نہیں ہوتی وہاں رحمت خدا کی
نہیں ہے گھر کی فضا اس مکان میں نہیں ہے ۔۔۔
نیا دور نئی مسلمانی
نیا سال
نیم در نیم ہوا ، ریت میں سوکھا دریا
نین نقشوں کی عمدگی نے مجھے
نیند میں جا چکی ہے رانی بھی ۔ ۔ آصف شفیع
نیکی کر دریا میں ڈال
نے باغ میں بلبل ہے نہ خوشبو نہ کلی ہے
نے شکر کا لمحہ نہ شکایت کی گھڑی ہے
هم اپني شب كو كسي كے دن ميں شمار كرديں هماري مرضي
وادئ سوات
وادیٔ بدر میں ہے آج بھی انوار کا حسن
وادیٔ بدر میں ہے آج بھی انوار کا حسن
وارداتِ دل سے تنگ آکر گزشتہ رات اک
واعظ نے اپنے زورِ بیاں سے بدل دیا
واقعہ آپ نے پورا تو سنایا ہی نہیں
والد
والد مرحوم کے نام ۔۔۔۔
واہ واہ ....!
وبا کے ہیں یہ دن…
وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی
ورثہٴ درد ہے تنہائی چھپالی جائے
وسعتِ تحریر میں صحرا سی پہنائی نہ تھی - منیب فاتحؔ
وصل تیرا ادھار کر بیٹھا
وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟
وطنِ عزیز میں حکومت کی تبدیلی پر
وفا سے پوچھ کے آؤ سکھاتی ھے محبت کیا
وفا کا، لطف کا، غم کا حساب کیونکر ہو
وقت
وقت بیتا محبت پرانی ہوئی
وقت نکلا جائے ہے تدبیر سے
وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے
ولا تفرّقُو۔
ووٹ پِھر نہ ڈالنا۔
وَقت گُذر جاتا ہے سب کا اور یادیں رِہ جاتی ہیں - (اَدُھوری غزل)
وہ ابھی آزمائے جاتے ہیں از روحانی بابا
وہ اتنا حسیں،اتنا حسیں، اتنا حسیں ہے
وہ اک اداس شخص تھا
وہ ایک شخص دو عالم کی سروری والا
وہ ایک شخص کہ سب جاچکے تو یاد آیا
وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
وہ بھی بدل کے رنگ فضاؤں میں ڈھل گیا
وہ بھی نہیں
وہ بھی نہیں
وہ تو چل دیے
وہ جو خوشیوں کی آس ہوتی ہے
وہ جو کر رہے تھے ساقی
وہ حیلہ جُو بھی کمال کا تھا جو لڑکھڑایا تو مسکرایا
وہ خوف مِیں یُوں نہ جانے کِس کے ڈرا ہوا تھا - (غزل)
وہ سب جانتا ہے کہ کیا مانگتا ہے
وہ طرہءِطرار ،کیا کہیے ------- فرقان مغل
وہ قدم رکھیں جہاں
وہ مجھ سے پوچھنے آئے تھے مجھ کو ۔۔۔
وہ مرنا چاہتی تھی
وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا
وہ میری آرزو ، وہ میری جستجو ۔۔۔۔۔ از منصور
وہ میرے ہاتھ سے۔
وہ پاک ہے کہ ہمیشہ قصور وار ہیں ہم
وہ پیلے پیڑ
وہ چہرہ جب تلک دیکھا نہیں تھا
وہ کبھی اپنے سے جدا نہ کرے
وہ کتنا بد نصیب ہے کہ جس کو تُو بری کرے
وہ کسی کا میری جانب مسکرا کر دیکھنا-----مزمل شیخ بسملؔ
وہ کلاہِ کج ، وہ قبائے زر ،سبھی کچھ اُتار چلا گیا
وہ کون ہے کہ کبھی سامنے بھی آتا نہیں
وہ کیسے خواب لمحے تھے۔ آصف شفیع
وہ ہیں دلنواز ہوا کریں
وہی اک شخص انکاری بہت ہے( غزل از خاور چودھری)
وہیں تو عشق رہتا ہے
ویلنٹائنز ڈے (نظم)
وے ماہی ۔۔۔!
ٌلڑکپن کے زمانے کی ایک غزل
ٓآسرے توڑتے ہیں ، کتنے ستم توڑتے ہیں
ٹوٹ جاؤں گا
ٹوٹا مندر دیکھے کوئی
ٹھوکر لگی جو آیا کسی کی نگاہ میں
ٹھہرنا پڑے گا زمانے کو اک دن، زمانے کی بے نور آنکھوں میں آخر
ٹی وی اینکرز ۔ از ۔۔۔ محمد احمد
پابند بحور شاعری کی لڑی میں میری پہلی غزل۔شیشے کی صداؤں سے بندھا ایک سماں تھا
پاداش
پانچ حصوں میں ایک غزل : از : منصور آفاق
پاک و صاف وطن ... !
پاکستان کا بن لادن
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نام
پت جھڑ
پتھر کا آسمان مرے سر پہ آ گرا
پتھر کی لڑکی
پتھر کی لڑکی
پتھروں کا سامنا ہونا ہی تھا (عمران شناور)
پتھروں کو جواب ... !
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
پرانا سلسلہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
پرانی رسم
پرانی غزل
پرانے رنگ میں اشک ِ غم ِ تازہ ملاتا ہوں
پردیس میں بسنے والے والدین کا المیہ
پردیسیوں کی دعا
پرسشِ احوالِ عشق ان سے کرے کون
پروانہ
پروین کمار اشک کی زمین میں لکهی گئی غزل
پسِ پردہ سب تھے حریفِ جاں ،کبھی روبرو تو عدو نہ تھے
پشاور حملہ
پل میں دل توڑ دے کسی کا- آصف شفیع
پل پل تیری یاد ستائے نیند نہ آئے از روحانی بابا
پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے
پورے چاند کا جادو
پَتہ تَبدیل ہوتا جا رہا ہے - (غزل)
پچھلی باتوں کو بھول جاؤ عظیم
پڑتا ہے گلنا۔
پڑی تھی کمرے میں شامِ ملال تہہ بہ تہہ
پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا
پھر آ گئے ہیں نہ آنے کی ٹھاننے والے
پھر اسی آنکھ کا نظارا ہے۔۔۔۔ آصف شفیع
پھر اپنے آپ سے میں مجبور ہوگیا ہوں
پھر ایک غزل. ”نیم بسمل چھوڑ کر جاتے ہو تم افسوس ہے“
پھر بھی مری حیات کا پھیکا سا رنگ ہے
پھر بھی مسکراتے ہو ؟
پھر زقند اُس نے بھری ہے مجھ میں
پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف
پھر معصوموں کا خون بہا، پھر آگ لگی ہے گلشن میں
پھر نورِ محبت لئے خورشید ِ بہاراں
پھر نیناں کیسے ضبط کریں؟!
پھر وقت نہ ہو گا..... (ایک مکالماتی نظم )
پھر وہی ضد کہ ہر اک بات بتانے لگ جائیں ۔۔۔۔۔ نوید صادق
پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے
پھول سارے گرا دیئے
پھول سارے گرا دیے، اب ہے
پھول چننے کے بعد ایک نظم
پھِر ہوا ہے درد دامن گیر کُچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
پہاڑ ، دشت ، سمندر ٹھکانے دریا کے
پہلی جسارت
پہلے آ نکھوں میں خواب اترے ہیں
پہلے آ نکھوں میں خواب اترے ہیں
پہلے خود سے جدا ہوا ہوں میں
پہلے دشمن کو للکارا کرتے ہیں -----عمران شناور
پہلے نظم کی تمہید
پیا ر کرنے کی ہمیں توفیق ہونی چاہئے (زیشان مہدی)
پیا ملن کی چاہ
پیار آتا ہے دشمنوں پر بھی
پیار کچھ ایسے خواب دیتا ہے از روحانی بابا
پیروڈی : اہلیہ کا مزاج اچھا ہے
پیروڈی: بےدردی٭ تابش
پیروڈی:عمر گزرے گی امتحان میں کیا (برائے اصلاح)
پیسا اچھا لگتا ہے - منیبؔ احمد
پیغام
پیمانہ زنیم
پیمانہء عمر بھر چکا تو تقدیر کی شرافت نظر آئی
پیڑ ہرے جب پڑ گئے کالے' چلی جو گرم ہوا صاحب ۔ سلمان دانش جی
پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے ۔ فاتح الدین بشیر
چادر
چادر اوڑھے موم کی پتھر گھوم رہا ہے
چار اشعار سخن ورانِ محفل کی نذر
چارہ گروں کا نسخہ کوئی کارگر تو ہو
چاند رات
چاند مانگو تو مل نہیں جاتا
چاند مُبارک۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ش زاد
چاند نکلا ہے چاندنی ہو گی
چاند ہماری دیکھا دیکھی چھپن چھپائی کھیل رہا تھا
چاندنی رات میں (ک م یاؔزر)
چاندنی رات کسی وصل پرانا منظر
چاک گریباں ہم نہیں کرتے پتهر ہم نہیں کهاتے ہیں ...
چاہت۔۔۔۔۔۔۔
چاہیے تھا
چبھی ہے دل میں وہ نوکِ سنانِ وہم و گماں
چراغ ِ شب
چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے
چراغِ شام جلا ہے کہ د ل جلا کوئی
چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا
چشمِ فلک بتا یہ کہاں کا رواج ہے
چلو کوئی فیصلہ تو ہو
چلے آؤ گے کیا بلانے پر؟
چلے تھے گھر سے مگر راستہ سَفر مِیں نہ تھا - (اَدُھوری غزل)
چمکتے چاند ستارے ۔ فرزانہ نیناں
چند اشعار ۔ جب اتفاقی شاعر تھا
چند اشعار ۔۔ زھراء علوی
چند اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند تازہ اشعار ...!
چند تازہ رباعیاں، بلاگ کے حوالے سے
چند خبروں کو ادب میں گوندھ کر
چند شعر
چند شعر آپ کی بصارتوں کی نذ ر
چند متفرق اشعار
چند مزید شعر آپ کی بصارتوں کی نذر
چند ٹکّوں کے۔
چوڑیاں
چَشمِ تَر سے آنسوو٘ٔں کا فاصلہ اچھّا نہیں - (غزل)
چپ چاپ جی رہے ہیں ، تماشہ نہیں بنے
چپ ہوں کے مگر بات اشاروں میں کریں گے - سعید الرحمن سعید
چھاؤں چھاؤں
چھوٹی بحر میں چھوٹی سی غزل -از - محمد احمد
چھوڑ جاتے ہی۔
چھوڑ دی پھر میں نے کرنی آرزوے زیست
چھوڑ کر اس کی راہ گھر جاؤں ۔
چھوڑ کر ہاتھ، سر بزم اکیلا کرتا
چھپ کے کوئی جیسے گھر کو جاتا ہے
چیل کووں نے پڑھے مرثیے گلزاروں کے
چین سے وہ بھی تو ظالم نہ رہا میرے بعد ۔ فاتح الدین بشیر
چین کس کو ہے, یہاں پر شاد کون !
ڈاکٹر عافیہ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر نعیم چشتی کی غزلیات
ڈاکٹر کا شکوہ: اجر میں تجھ سے مانگتا ہی نہیں
ڈربن کے نارتھ بیج پر
ڈرتا ہوں کسی دن نظروں کا دھوکا نہ کہیں ہو جاؤ تم
ڈرتا ہے تو ... !
ڈر۔۔۔۔۔
ڈیجیٹل شاعری - فوٹو
ڈیژا وُو
کئی روز
کئی زمانوں کا راستہ تھا۔ آصف شفیع
کار گاہِ زندگانی کو زیاں سمجھا تھا میں
کارگاہِ عناصر میں لائے گئے
کاسنی رنگ مجھ پہ ٹھہرا ہے ۔۔ زھراء علوی
کاش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی نظم
کاش بدلے ملال کا موسم
کالی رات
کالے خواب
کام لکڑی سے لیا ہے آپ نے تلوار کا.... نعت شریف
کام کیا دنیا میں مجھ بیمار کا
کامل کی شاعری
کان ہو گئے
کانچ کے اس شہر میں کوئی بھی شیشہ گر نہیں
کاوشات۔۔۔۔۔ اصلاح و تبصرہ ۔۔۔۔۔درخواست گزار عابی مکھنوی
کاپی، کٹ اور پیسٹ
کب بڑی ھو گی
کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے
کب سوچا تھا
کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں
کب کسی قیل و قال میں گم ہوں
کب کوئی جان وار دیتا ہے ۔ ایک اور غزل
کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے
کبھی تم بھی
کبھی تم بھی۔ ۔ ۔
کبھی تو اس کم سخن کی جانب سے ہو ہمیں بھی کوئی اشارا
کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی۔۔!
کبھی جو ہم فراغت میں (غزل)
کبھی زمین کھینچ لی کبھی پگڑی اچھال دی
کبھی ساحل تو کبھی سیل ِ خطر ٹھہرے گی : از سیدہ سارا غزل ہاشمی
کبھی وقت ملے تو آجائو۔ آصف شفیع ۔ روزنامہ نئی بات میں 22 مئی کو شائع ہوئی
کبھی کچھ بھول جاتا ہوں کبھی کچھ یاد کرتا ہوں
کبھی یوں بھی ہوکہ
کتابوں سے محبت ... !
کتابِ حسرت میں خاص ہو گا، کمالِ حسرت کا یہ فسانہ
کتنا رنگیں تھا ہر منظر تیرے بعد - - محمد امین
کتنے بن جلائے گی ، اک شرار کی وحشت ------- تازہ غزل --- م۔م۔مغل
کتنے غم آگئے ہیں عید کے بھیس میں
کتنے قضیوں کے یوں ہی حل نکلے------- غزل
کتنے مہان لوگ جہاں سے گزر گئے --غزل
کتنے چراغ جل اٹھے ، کتنے سراغ مل گئے
کتنےلفظ سوچےتھے
کثرتِ رنج مرے جی کا ضرر کیوں نہ ہوئی
کج سانوں مرن دا شوق وی سی --تضمین
کر نہ بے رحم سمندر کےحوالے مجھ کو-ملک عدنان احمد
کراچی ۔ ٹارگٹ کلنگ پر ایک قطعہ
کرب کا سفر
کربلا میں حسین
کرتا نہیں ہے ہم کو گوارا کوئی یہاں
کرنی ہے تو کر لو ورنہ معاف کرو
کرنے ہیں نچھاور تجھے کچھ لعل و گہر اور
کریں گے بات نہ اس کی یہ ہم نے ٹھانی ہے
کس طرح دیکھوں خواب میں اپنی بھلائی کا ۔
کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں
کس عجب کنجِ انکشاف میں ہوں!
کس قدر ہے مزا جوانی میں
کس کس کی زد پہ ہوں مجھے معلوم تو ہوا
کس کو دنیا میں غم نہیں ہوتا
کسک اٹھی ہے کہیں دل میں آ چکی ہو کیا؟
کسی بھی طور شب غم کی پھر سحر نہ ہوئی
کسی بھی عشق کو ہم حرزِ جاں بنا نہ سکے
کسی سے بھی نہ کبھی بستہ لب کی بات کرو
کسی نے آج یہ پوچھا ہے مجھ سے، میرا کیا ہے وہ
کسی پر جوش جذبے تک ہمیں خاموش رہنا ہے
کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے
کسی کے عکس میں
کشتی ِ دین ِ خدا کے نا خدا شبیر ہیں
کل دسمبر کے آخری پہر کی اداسی۔۔۔
کل شب شبِ خیال تھی۔ ۔ ۔آزاد نظم
کل عید کا ہو عالم۔۔۔۔
کلام ارمان
کلام از عبدالجبار
کلام زویا
کلام زویا
کلام ضیاء مجبوری
کلام فیصل عظیم فیصل
کلام فیصل عظیم فیصل تبصروں کے لیے دھاگہ
کلام نور - دعا - کاوش : نون میم ۔ نورمحمد ابن بشیر
کلام کرتا رہا۔
کلام کرتا رہا۔
کلام: مدارجِ سلوک الی اللہ
کلامِ تازہ آپ کی محبتوں کی نذر
کلامِ حفی۔۔۔۔متفرق
کلامِ شاعر بقلمِِ شاعر
کلامِ ضیاء قائداعظم پر دو نظمیں شاعر: ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاء
کلامِ ضیاء : اطاعت و اتباعِ رسول ﷺ
کلامِ ضیاء: صنفِ آہن
کلامِ ضیاء: مسدسِ انقلاب
کلامِ ضیاءؔ : غزل:چمک رہے ہیں زمانے میں قربتوں کے ایاغ
کلامِ ضیاءؔ: غزل
کلامِ ضیاءؔ: غزل ٢
کلیاتِ تفسیر پر آپ کا تبصرہ
کمال بھول گیا اور زوال بھول گیا
کمال وقت کے دستِ ہنر میں دیکھا ہے
کمرے میں کوئی آنکھیں میچے بیٹھا تھا
کمپیوٹر اور شوہر
کمیاب بہت ہے
کن آندھیوں نے زور دکھایا تھا رات بھر ؟ -- ایک غزل احباب کی نظر
کنجِ غزل میں ہم نے جہاں کو بسا دیا
کوئی بھی آگ ہو شانہ بشانہ جلتا ہے
کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
کوئی اس دل میں ترے بعد نہیں آئے گا
کوئی اگر مر جائے تو؟
کوئی بتلائے گا کہ کیا کیجے
کوئی تو ہو ناں۔۔۔
کوئی تھا چاند ، یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے
کوئی جنگل ضرور اُس پار ہوگا
کوئی خوشی سے مر گیا قسمت سے ہار کر
کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل
کوئی دم بخود تھا وہ ہموا مری دسترس سے نکل گیا
کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم
کوئی سراغ کوئی راستہ نکل آئے
کوئی سوز ہو کوئی ساز ہو
کوئی لمحہ ایک گلاب سا تو ہو
کوئی ہوگا ہمارے جیسا بھی
کور چشموں میں آئینے
کورا کاغذ
کورونا سے سنبھلتے ہوئے
کورونا وائرس
کوزہء چشمِ تر بھرا نہ گیا
کوشِش - (نظم)
کون و مکاں میں قید۔۔!
کون کس حال میں پھرتا ہے وہ سب جانتا ہے
کَانٹوں پہ کِیسے چَلنا ہے، یِہ چَل کَر پَتا چَلا - (غزل)
کَدی ویکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کُچھ تازہ مری بیاض سے۔۔۔۔۔۔۔۔ ش زاد
کِتابِ وقت کا مُڑا ھؤا ایک ورق۔
کٹی کس طرح اپنی میکدے میں شب، خدا جانے
کچه ہو گئی ہے راہ اب آسان جائیے
کچھ آج طبیعت بوجھل ہے
کچھ اسکی کج ادائی کچھ میری بےنیازی
کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں
کچھ اشعار۔۔۔۔۔۔
کچھ الگ سا شعر
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں!
کچھ ایسے لفظ لکھتے ہیں
کچھ باتیں میں خود ہی خود سے کر جاتا ہوں
کچھ تغافل ان کا، کچھ موسم کی رعنائی گئی
کچھ تو اے یار! علاجِ غمِ تنہائی ہو --- عمران شناور
کچھ تو کرنا چاہیے _______):):):
کچھ تکلف اے دل بیتاب ہونے چاہئیں
کچھ جرم نئے اور مرے نام لگادو
کچھ حال اپنے سے عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں
کچھ دن سے جو گھر میں آ پڑا ہوں۔۔۔۔۔۔ نوید صادق
کچھ دیر کو رسوائی ِ جذبات تو ہوگی
کچھ سُنائی دیتا نہیں۔
کچھ مناجات روز کرتا ہوں
کچھ نئی شاعری۔۔ منصور آفاق
کچھ نظمیں۔۔۔۔۔۔۔کچھ باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش زاد
کچھ نہ کچھ کہنے کو اکساتا ہے دل : غزل
کچھ واہموں کی شوخیِ پرواز دیکھنا
کچھ کم کریں حجاب، نظر میں سما سکیں
کھلا دریچہ
کھلا ہے مجھ پہ کہ دنیا میں کیا کیا جائے
کھوج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ جب سے وہ جانِ جہاں بھا گیا ہے
کہ جب میں ٹوٹ-----
کہ شہرت یار تک پہنچے- آصف شفیع
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر
کہاں آنکھوں کو تر کر دیکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
کہاں انکار سے، اقرار سے باندھا گیا ہے
کہاں ممکن تھا میں دل سےتری یادیں مٹا دیتا ::غزل
کہتے ہیں لوگ وہ ہرجائی ہے
کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا!
کہیں سنیں گے تو بھیدی بھی گھر کے نکلیں گے!
کہیں مسجد نہیں بنتی کہیں مینار بنتے ہیں
کہیے کچھ اس جہان میں حضرت خراب ہے ؟
کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر
کیا جہاں سے گزر گیا کوئی
کیا روگ لگا بیٹھے دل کو اک پل بھی چین قرار نہیں
کیا سخن تھے کہ جو دل میں بھی چھپائے نہ گئے
کیا شکوہ کریں اپنی اس زندگی سے
کیا ضروری ہے؟
کیا لکھوں
کیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو ۔۔۔۔۔ عمران شناور
کیا مشترکہ غزل ہوسکتی ہے؟
کیا ملال اب کے دھریں سینۂ پُر خار کے پاس ۔ فاتح الدین بشیرؔ
کیا کمی تھی - (نظم)
کیا کوئی گیت گا رہا تھا میں
کیا کہیے کہنے کو کوئی بات نہیں
کیا ہی تپتا ہے، سلگتا ہے، دھواں دیتا ہے
کیسا لگا؟
کیسی تاویل مِرے دوست، بہانہ کیسا
کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے
کیسی ہدف شناس، وہ چشمِ غِزال ہے ! ۔۔۔ ایک غزل احباب کے لئے
کیسی ہیں آپ عافیہ؟، ہم عافیت سے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل
کیسے دکھائے دن دلِ خانہ خراب نے ۔۔۔
کیسے پتھر سے ٹکرائے ہو اطہر
کیسے پرلطف ہوا کرتے تھے وہ پیار کے دن(غزل)
کیسے ہیں لوگ
کینوس جا بجا پھٹا ہوا تھا - ایک نئی کاوش
کیوں آج دلِ ناداں؟
کیوں اُس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے
کیوں بھلا ایسے در بدر ہوتے :: غزل از:: محمد حفیظ الرحمٰن
کیوں شکایت بار ہر اک اشک ہے اسیر کا
کیوں لگے ہے مجھ کو اکثر یہ جہاں دیکھا ہُوا
گام گام خواہشیں ۔۔۔۔ عمران شناور
گاہ بے پایاں خلا تو گاہ تارا کر دیا
گاہے گاہے کی رسائی دی تمھیں مژگاں تلک
گر خدائی تری یگانہ ہے
گر ساتھ میں ہو تم تو
گر پھول غزل گائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
گرتے پڑتے ہیں، چلتے جاتے ہیں - منیبؔ احمد
گرد بیٹھنے نہ دینا!!
گرمئ شہر ِ ضرورت سے پگھل جاؤ گے
گرنے دے گرگئی اگر دستار::::غزل
گرچہ پاس اپنے جائداد نہیں
گرچہ کہ پراثر نہیں
گرچہ گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی
گزر ہی جائے گی جیسے بھی زندگانی عظیم
گزرا آنکھوں سے مری وہ گلِ لالہ اکثر
گزرا ہوا وقت
گل برہنہ ہے یہ پوشاک تری دلکش ہے
گل فروش
گلوں کی پالکی۔
گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ ۔ کاشف اختر
گم گشتہ کشتیوں کو درکار ہے کنارا (نظم)
گنتی کے دُکھ
گنجلک
گو اس کے ہجر میں پل بھر کبھی جیا بھی نہیں (غزل از عاطف بٹ)
گو جلوہ گاہِ ناز کا پردہ نہیں رہا
گو عکس ہے انکھوں میں فقط کوئے بتاں کا
گوشوارہ
گُلاب اور کوئی۔
گُلکاریاں ادبی فورم کے ۲۷ ویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۴ مئی ۲۰۱۳ کے لئے میری غزل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
گھر نہیں گھر مگر کسی کسی کا
گھر کا نام سرائے رکھنا
گھٹن
گھپ اندھیرا اَور جنگل ، مَیں اکیلا ہی چلا
گیت
گیت ( خواب کہاں رکھوں ) از خاور چودھری
ھمارا ظرف۔
ھواؤں سے پوچھتی ھوں میں احوال اسی کا
ہائیکو
ہائے اس موڑ پہ جینے کی دعا دی کس نے
ہائے غصے میں اسے کتنا سنا دیتے ہو
ہائے میں اَس کا منتظَر ہی نہیں- ایک نئی غزل
ہائے وہ شمع علم و اَدب بجھ گئی!
ہائے کیاکہئے کہ دل کے ساتھ کیا کیا جائے ہے
ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے
ہاتھ ملتے ہیں ہم ہاتھ خالی ہوئے
ہاتھوں میں لئے سنگ کی سوغات چلی ہے
ہار، جیت
ہارنے کے بعد۔
ہارنے کے بعد۔
ہاں حسن کو پھر جاننے والا نہیں ملتا
ہاں خدا لگتی، برملا کہیے
ہتک ہونے نہ دینا تو
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے ۔ فاتح الدین بشیر
ہجر ِ آتش فشاں بھی آ پہنچا
ہجر کی راتیں نہ کٹتی تھیں کسی تدبیر سے
ہجراں میں بس یہ مرحلہء دل شکن نہ ہو
ہجراں میں دربدر ہوئے ہم قربتوں کے بعد
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے
ہدیہء اشک ملے ، درد کی سوغات ملے
ہدیہءعقیدت بحضور امامِ عالی مقام ّ۔ ۔ ۔ ۔ شاعرہ فائزہ رضوی
ہر اک دیوارو در اچھا لگے ہے
ہر حقیقت خیال تھا پہلے۔۔۔۔
ہر دل عزیزی آجکل منافقت میں ہے
ہر دوا بےاثر ہے بجز شاعری
ہر روز تازہ حادثہ جب ہو گیا کہیں
ہر روز غنیمت ہے ہر رات غنیمت ہے: اسامه جمشيدؔ
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر (نظم)
ہر رہگزر گردِسفر....اسد قریشی
ہر سویرا خوش نصیبی ڈھو رہا تھا
ہر سِتم پر، چُپ ہیں میرے لَب مِیاں!
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی
ہر صورت میں چہرہ اس کا دیکھا ہے
ہر لفظ احساس ہو گیا ہے
ہر لمحہ سر پر منڈلاتی رہتی ہے
ہر مشکل کے بعد ہے آسانی بھی دوست
ہر وقت چاہیے مجھے ساتھ آپ کا جناب !
ہر پل دلِ ناشاد تجھے یاد کرے ہے
ہر کسی سے نا دل لگایا کر۔ عمر سیف
ہر کسی سے نبھانی پڑتی ہے
ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا
ہر گھڑی گویا اذیت ہے مجھے
ہرنی کی چیخ اور غزل کی تعریف کے قصے میں کتنی سچائی ہے؟
ہستی کو تو نے اپنی اگرچہ چھپا دیا (صوفیانہ غزل)
ہم کتاب عشق کے ورقے سنبھا لیں کب تلک
ہم ایسے مردہ دلوں کو ملال کچھ بھی نہیں
ہم بھکاری نہیں
ہم بھی عجیب لوگ ہیں---غزل
ہم بے ٹہرے ، اب دلیلیں پیش کیا کریں
ہم ترا ذکرِ طرحدار لکھا کرتے تھے
ہم ترے قرب میں جینا چاہیں
ہم جسے اَن کہی سمجھتے تھے
ہم خاک نشینوں کو نئی خاک ملی ہے
ہم خود ہی ہو گئے ہیں خاموش میمؔ صاحب
ہم دل والے
ہم روایت شکن، روایت ساز
ہم سارے سپنے ہار گئے
ہم سخن کہتے ہیں شاید حسرتِ اظہار میں
ہم سنگ رہگزرنہ کسی آسماں کے ہیں
ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی
ہم لوگ اصولوں کی تجارت نہیں کرتے
ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے
ہم نہ بھی ملے تو
ہم نے خیالِ خام کا چرچا نہیں کیا
ہم نے زندگانی کو کر دیا تھا نام اس کے
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح
ہم پسِ زندانِ تنہائی رہے تو کیا ہوا
ہم کو اس پار کے منظر بھی دکھائے کوئی
ہم کو حصارِ حلقہء احباب چھوڑکر
ہم کو عادت ہے جھک کے رہنے کی
ہم کو نسبت نہیں ہے میر سے کیا؟
ہمارا عشق بھلا لازوال تھوڑی ہے
ہمارا پیارا سا اسکول (نظم) از :: محمد حفیظ الرحمٰن
ہمارا ہر عمل جب تابعِ قرآن ہوتا تھا
ہماری ایک اور غزل۔۔۔ یہ بھی شاید تک بندی ہی ہے :)
ہماری ایک بہت پرانی غزل !
ہماری تک بندیاں
ہماری داستاں ، لکھتے ہوئے گزر جائے --------- ایک غزل نقد و نظر کیلیے
ہمارے غور کرنے کو ہَوا ہے
ہمسفر
ہمہ تن گوش ہوں، ہمہ تن گوش
ہمیشہ تربیت ناقص نہیں ہوتی
ہمیں جا جا کے کہنا پڑتا تھا ہم ہیں یہیں ہیں
ہمیں نسبت جو کسی در سے نہ دربار سے ہے
ہمیں یہ سیکھنا ہو گا
ہو جائے کسی طور جو تکمیلِ تمنّا ۔ محمد بلال اعظم
ہو درد اور درد کا درمان بھی نہ ہو (عمران شناور)
ہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدۂ محشر کھلے ۔۔۔ عمران شناور
ہو سکتا ہے - منیب احمد
ہو مبارک خس و خاشاکِ گلستاں ہونا
ہو نہیں پایا وہ جو ہونا تھا - ملک عدنان احمد
ہو کوئی تدبیر، خوئے یار سمجھیے
ہو کوئی محفل میں مجھ جیسا تو دکھلانا مجھے
ہو کے ہم با ہوش دھوکا کھاگئے۔ ایک غزل محفل کی نذر از: بسمؔل
ہوئے مسند نشیں پھر ملک و ملت بیچنے والے
ہوا سب ہو گئے ہیں خواب میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش زاد
ہوا غالبؔ کی زمیں میں جو منور سہرا - فرحان محمد خان
ہوا کُچھ جاگتی، کُچھ سو رہی ہے - (اَدُھوری غزل)
ہوا کے شور کو
ہواؤں کی زد پہ دیا زندگی کا
ہوائے مہر ومحبت سوادِ جاں سے چلے
ہوش و خرد ، غرورِ تمنا گنوا کے ہم
ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ
ہوں مگر بےنشان ہوں میں بھی
ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا
ہَم کو دَر پیش رات کا غَم ہے ۔
ہکلی غزل
ہیں راہِ شوق کے اہلِ صفا ہم
ہیں زیورِ افلاک کہن مردہ ستارے
ہیں غریبوں کی دعائیں گر کہیں، تو عید ہے
ہے ایک ہی علاج بصیرت کی بھول کا
ہے دعا تجھ سے میرے رب ہر شب
ہے فیض ترا جاری شاہان و گدا بھی ہیں
ہے مزہ کھانے کا یارو بانٹ کے
ہے مشغلہ جسے مرا کردار دیکھنا ۔ فاتح الدین بشیر
ہے کائنات کی کتاب اسکا روئے خوبرو
ہے کون کون اہل وفا دیکھتے رہو
ہے کچھ اور بھی ممکن، ممکنات سے آگے
یا رب مری آنکھوں کو کچھ اشکِ ندامت دے
یا علی مدحت میں تیری کیا لکھوں کیا چھوڑ دوں
یا محمد صَلَّی اللَّهُ عَلَیْہِ وَاٰلِه وَسَلَّمَ کہا اعتبار آگیا
یاد
یاد : ایک تازہ غزم
یاد دہانی۔۔پشتو نظم ترجمے کے ساتھ
یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
یاد ماضی کی نہ بن جائے عذاب
یاد کرنے میں مجھے کل شب یہ دشواری رہی
یاد کے درِیچے۔
یاد کے دریچے۔
یاد کے چور دریچے سے
یادوں کا سنسار۔
یادوں کی خاک
یادوں کے اک چراغ کو روشن کیے ہوئے
یادوں کے خطوط
یادوں کے سینوچ
یادوں کے گھونٹ... ایک تازہ اور آزاد نظم احباب کی بصارتوں کی نظر...
یادِ ماضی
یادیں ہیں ، حسرتیں ہیں ، تمنائے خام ہے
یار تم لوگ چاہتے کیا ہو؟ (مہدی نقوی حجازؔ)
یار سَجنڑ۔۔۔!
یاس کے سائے میں کیا کہنا پڑا (غزل)
یقین: ایک آزاد نظم (کبھی مایوس مت ہونا)
یقینِ نور ہو دل میں تو شب گوارا ہے
یوم آزادی مبارک ہو (نظم)
یوم خواتین
یومِ اساتذہ پر اساتذہ کے نام ۔۔۔۔۔
یومِ اقبال :: نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
یونہی کیا دل کو بہلانا پڑے گا
یوں ترے پیار کی عادت نے بگاڑا ہے مجھے
یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا
یوں تو اِس راہ میں زمانا ہوا
یوں تو دشوار بھی نہیں آئی
یوں تو دیکھی ہیں بے شمار آنکھیں ۔۔۔۔۔ عمران شناور
یوں تو کیا کیا حسیں نہیں ملتا ۔۔۔
یوں ساغرِ حیات کا اکرام کیا ہے
یوں نہ بولو بیچ میں بے کار خرم چپ رہو
یہ جیون بوجھ ہے مُجھ پر ،گذر جائے تو بہتر ہے
یہ جو آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں - تازہ کلام
یہ ادائے قاتلانہ چھوڑ دے
یہ الزامی سیاست ہے ۔۔۔ یہاں سچ بولنا کیسا
یہ الگ ہے
یہ انسانوں کی بستی ہے یہاں انسان رہتے ہیں (زنیرہ "گُل")
یہ انساں یہ انساں کے سامان سب
یہ اپوزیشن مری یہ حکمراں
یہ اک غنچہ جو مہکایا گیا ہے
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
یہ اہتمام ہے کس موجِ بے کراں کے لیے
یہ بالاکوٹ کی نگری شہیدوں کی نشانی ہے ۔ سعید الرحمن سعید
یہ بھٹکنا فقط بہانہ ہے۔۔ آصف شفیع
یہ بھی ایک اداسی ہے (غزل)
یہ بھی تو بچے ہیں - اِبنِ اُمید
یہ جولانی کہ قدموں کو رہ پرخار دیتی ہے
یہ حادثہ کبھی ہوتا کہ وہ وفا کرتا
یہ حقیقت ہے تو خواب کیوں نہیں ہو جاتی۔ از ناعمہ عزیز
یہ دل درگاہِ الفت ہے یہاں نذرانے آتے ہیں
یہ دل نثار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
یہ دنیا کم ہی کبھی شادمان ہوتی ہے
یہ زندگی جو بِتاؤں تو مارا جا ؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل
یہ سارا کھیل تماشا اسی بشر سے ھے کیا ؟
یہ سانسوں کے رشتے بھی نبھائے نہیں جاتے
یہ سمندر ہے نہ صحرا کی طرح ہے اے دوست
یہ سنگ واں كے تو رو رہے ہیں
یہ سوچتا ہوں کہ بابِ فرقت میں لکھوں کوئی کتاب یاروں! (غزل)
یہ شاعری تو نہیں ہماری ، یہ روزنامہ ہے ہجرتوں کا
یہ شورِ نغمۂ زنجیر التجا ہے مری
یہ طبیعت مجھے اپنا نہیں بننے دیتی
یہ عنوانِ جفا چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں (اسد اقبال)
یہ قیس دشت میں رو کر دہائی دیتا ہے
یہ مرا غم کسی صورت نہیں گھٹنے والا
یہ مرے حرف یہ مری آواز
یہ معجزہ بھی کسی روز۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ آصف شفیع
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں ۔۔
یہ میری شعلہ بیانی۔
یہ میری نظمیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،!
یہ ناممکن نہیں ہے یار ایسا ہو رہا ہے...
یہ پر یقین کے تو ملے بعد میں مُجھے
یہ چاند تارے فدا ہوں تجھ پر، الٹ دے تُو جو نقاب جاناں
یہ کب کہا کہ نہ تیور تُو اس غزال کے دیکھ
یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے
یہ کیسی بات کا اِقرار کر دیا مَیں نے - (اَدُھوری غزل)
یہاں آہ و سنگ نہیں۔۔۔
یہاں سے چلے ہم، لو جی ۔۔ غزل
یہی اہلِ دہر کی ہے روش یہی میکدہ کا اصول ہے
یہی بہت ہے، کہ معلوم ہو گیا ہے مجھے
یہی سوچا کہ آخر کیا کریں گے اتنی رسوائی
یہی ہے داستاں میری
۔ ۔ ۔ سیاست کر لو لاشوں پر۔ ۔ ۔
۔۔مرے ساتھ چل
۔۔۔۔اور اِس خرابے کو اُجڑا دیار کہتے تھے(غزل۔۔۔۔شکیل احمد خان)
۔۔۔۔۔یہ آنکھیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔رحم کی اپیل ۔۔۔۔۔۔۔
’’ خود کُشی ‘‘ میری پہلی نثری نظم
’’ شور ‘‘ ۔۔۔ ایک آزاد نظم ۔۔۔ از : م۔م۔مغل
’’خواب سفر‘‘ میری پہلی نظم آپ کی ادبی بصارتوں کی نذر
“ منزل “ اک نظم
”اک بشارت ہے“ کا جملہ مجھ کو بھاتا ہے بہت (قطعہ)
ﭘﺎ ﺑﮧ ﺯﻧﺠﯿﺮ
تمام زمرے دیکھیں »